اس دیس میں بڑی گھٹن ہے

Posted on 13/11/2009. Filed under: متفرق | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , |

مسجد مسجد یہ نمازی
سجدے میں پڑے یہ غازی
گردن تو اٹھا کر دیکھیں
نظریں تو بچار کر دیکھیں
منبر پر نہیں کوئی ملا
مسجد میں نہیں کوئی قبلہ
وہاں اک ٹینک کھڑا ہے
اور ٹینک کے منہ میں گن ہے
اس دیس میں بڑی گھٹن ہے

پاکستانی فوج کے ہاتھوں بنگال کے قتل عام پر لکھی ہوئی فہمیدہ ریاض کی یہ نظم

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

المیہ مشرقی پاکستان اور زبان کا مسئلہ ۔ ایک جائزہ

Posted on 15/12/2008. Filed under: پاکستان, تاریخ | ٹيگز:, , , , , , , |

قیام پاکستان سے قبل ہی بہت سے بنگالی دانشوروں اور سیاستدانوں نے انگریزوں سے خود مختیار اور آزاد بنگال کا مطالبہ شروع کر دیا تھا ان کے ذہن میں اول دن سے یہ بات تھی کہ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان میں رہنے والے ایک قوم نہیں بلکہ دو قومیں ہیں۔ بنگالی مسلمانوں کی زبان اور ثقافت مغربی پاکستان میں رہنے والوں سے یکسر مختلف ہے اور صرف اسلام کے نام پر وہ متحد نہیں رہ سکتے اس تعصب کو فروغ دینے میں بنگال میں رہنے والے ہندوؤں نے اہم کردار ادا کیا۔ ١٩٤٠ء میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں پیش کی جانے والی قرارداد میں خود مختار ریاست کے تصور پیش کئے گئے اور قرارداد میں ‘علحیدہ اور خود مختار ریاستوں‘ کا مطالبہ کیا گیا تھا جبکہ ١٩٤٦ء میں قرارداد لاہور میں لفظ ریاستوں کو حذف کر دیا گیا اور مغربی اور مشرقی پاکستان بطور ایک ریاست شامل کیا گیا۔ بنگالیوں نے اپنے ہاں علحیدگی اور الگ خود مختار ریاست کا خواب دیکھا تھا اس لئے حسین شہید سہروردی نے اپنی ٢٧ اپریل ١٩٤٧ء کی پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا تھا کہ ‘ہمیں تقسیم شدہ ہند میں ایک خود مختار، علحیدہ اور متحدہ بنگال چاہیئے‘۔ تقسیم کے وقت بنگالیوں کی اکثریت کی خواہش تھی کہ بنگلہ کو پاکستان کی قومی زبان کا درجہ دیا جائے لیکن قائداعظم محمد علی جناح نے ١٩٤٨ء میں ڈھاکہ جا کر اعلان کیا کہ ‘پاکستان کی واحد قومی زبان اردو اور صرف اردو ہو گی‘۔ بدقسمتی سے قائداعظم جلد ہی ہم سے جدا ہو گئے ان کی وفات کے بعد لیاقت علی خان مشرقی پاکستان میں زبان کے مسئلے پر اٹھنے والے اختلاف کو دبانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے قوم پرست بنگالیوں نے مشرقی پاکستان کے عوام کو مغربی پاکستان کے خلاف خوب بھڑکایا۔ لسانی بنیادوں پر فسادات شروع ہو گئے یہ پاکستان کا ابتدائی دور تھا ابھی آئین کی تشکیل کا کام باقی تھا لسانی اختلاف کا یہ نتیجہ نکلا کہ مشرقی پاکستان کے مقامی رہنماؤں نے مغربی پاکستان کی قیادت پر بھی عدم اعتماد کرنا شروع کر دیا اور یہ کہا جانے لگا کہ مغربی پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور رہنما کسی صورت مشرقی پاکستان کے رہنے والوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کریں گے۔ ١٩٥١ء کی رائے شماری کے مطابق مغربی پاکستان کی کل آبادی تین کروڑ تیتیس لاکھ انتیس ہزار اور مشرقی پاکستان کی آبادی چار کروڑ بیس لاکھ ٹریسٹھ ہزار تھی۔ مشرقی پاکستان کا موقف تھا کہ مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں پنجاب، بلوچستان، سرحد اور سندھ میں چار مختلف قومیں ہیں ان کی زبانیں علحیدہ علحیدہ ہیں اردو ان میں سے کسی صوبے کی زبان نہیں جبکہ بنگالی چار کروڑ انسانوں کی زبان ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے ڈھاکہ میں اپنی تقریر میں ان خدشات کا اظہار کر دیا تھا جو مشرقی اور مغربی پاکستان کی علحیدگی کا سبب بن سکتے تھے۔

‘میں اس صوبے کے لوگوں کو مشورہ دینا چاہتا ہوں، ایک خاص طبقہ میں قابل افسوس رحجان نظر آ رہا ہے یہ طبقہ نومولود آزادی کو اپنی آزادی نہیں سمجھ رہا جس سے ایک طرف اگر عظیم مواقع پیدا ہوئے ہیں تو دوسری طرف عظیم ذمہ داریاں بھی عائد ہوئی ہیں بلکہ وہ اسے بے معیار آزادی سمجھ رہے ہیں انہیں اس امر کی مکمل آزادی ہے کہ وہ آئینی ذرائع اور اپنی منشا کے مطابق حکومت بنائیں تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اب کوئی گروہ غیر قانونی طریقوں سے اپنی مرضی ٹھونس سکے میں آپ سے صاف صاف پوچھنا چاہتا ہوں کہ جن ہندوستانی اخبارات اور سیاسی اداروں نے پاکستان کی تخلیق روکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا وہ یکایک مشرقی بنگال کے مسلمانوں کے ‘منصفانہ مطالبات‘ کے اتنے ہمدرد اور علمبردار کیوں ہو گئے ہیں۔ کیا یہ شیطانی صورتحال نہیں؟ کیا یہ بات واضح نہیں ہے کہ مسلمانوں کو حصول پاکستان کی جدوجہد میں ناکام نہ کر سکنے کے بعد اب یہ ادارے پاکستان کو اس طرح سے اندر سے تباہ کرنا چاہتے ہیں کہ اپنے شرانگیز پروپیگنڈے سے مسلمان بھائی کو دوسرے مسلمان بھائی سے لڑا دیں ؟ اسی لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ صوبائی عصیبت کے اس زہر کے بارے میں ہوشیار رہیں جو دشمن ہمارے ملک میں پھیلانا چاہتا ہے‘۔

قائداعظم کی اس تاریخی تقریر کے بعد لسانی تحریک کا زور کم ہو گیا۔

حصہ دوم

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...