قومی مورال

Posted on 08/09/2009. Filed under: پاکستان, تاریخ, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , |

جذبہ حُریت ہی قوموں کو بیدار رکھتا ہے، آزادی کی تڑپ ہی دِل میں ولولہ پیدا کئے رکھتی ہے۔ جنگیں جدید ہتھیار سے لیس ہو کر یا تعداد کی کثرت سے نہیں، جذبوں سے جیتی جاتی ہیں۔ ملک کا دفاع ایسے ہی ہوتا ہے، جیسے اپنی بقاء کی جنگ۔ آج جنگ میں ہولناک ہتھیار، الفاظ کا پروپیگنڈہ ہے۔ جس قوم کا مورال گِر جائے، وُہ نفسیاتی طور پہ ہمت ہار بیٹھتی ہے۔ مورال قوم کے جذبوں میں خود اعتمادی اور ولولہ کو، حوصلہ اور برداشت کے ساتھ، برقرار رکھتے ہوئے بڑھاتا ہے۔ جس قوم کا مورال بڑھ جائے، وُہ کاغذ کے نقشہ پر بظاہر ہاری ہوئی بازی بھی جیت لیتی ہے۔
قومی مورال کیا ہی؟ ١٩٤٠ء سے لیکر ١٩٤٧ء تک کا سفر قومی مورال کی تشکیل کا مرحلہ تھا۔ اِسکا واضح عملی مظاہرہ ١٩٦٥ء کی جنگ کے شاندار ایام ہیں۔ پاکستانی قوم کا مورال اُن ساعات میں کچھ یوں تھا:
٦ ستمبر کی تاریکی میں بھارت نے لاہور پر اچانک تین اطراف جسٹر، واہگہ اور بیدیاں سے حملہ کر دیا۔ دشمن بھاری مقدار میں جدید ترین اسلحہ سےلیس تھا۔
ملک بھر میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا گیا۔ ریڈ کراس کے مرکزی دفتر میں خون دینےوالوں کا بے پناہ ہجوم جمع ہوگیا۔ ریڈ کراس کے مراکز میں خون دینےوالوں کے ہجوم میں دھکم پیل یہ تھی کہ ہر کوئی دوسرے سے پہلےخون دینا چاہتا تھا۔ باوجود اسکےکہ ان ہجوموں میں بہت سےلوگ (مرد اور عورتیں) پہلے بھی خون دے گئے تھے۔ ایک روز ڈاکٹر نے زرد رو عورت کا خون لینے سے انکار کر دیا تو وُہ میک اَپ کر کے ”تندرست“ ہو آئی اور ڈاکٹر کو دھوکہ دے کر خون دےگئی۔
کمسن لڑکے وزن پورا کرنے کے لیئے پتلونوں کی جیبوں میں لوہے کے ٹکڑے ڈال لاتے اور خون دے جاتےتھے۔ کہیں ڈاکٹر نے کسی نو سالہ بچی کا خون نہ لیا تو بچی نےگھر جا کر بلیڈ سے اپنی رگ کاٹ ڈالی اور خون سے پیالی بھرنےلگی۔ گھر والوں نے بر وقت دیکھ لیا اور بچی کا خون روک لیا۔ ہائی کورٹ کے ججوں نے ایک روز مل کر خون دیا۔ خون دینے والوں کی قطاریں روز بروز بڑھتی رہیں، گجرات تک کےلوگ خون دینے لاہور آتے۔ شہری محاذ کا یہ عالم ہوا کہ ریڈ کراس والوں نے اندازہ لگایا ہے کہ پانچ دِنوں میں قوم نے اس مقدار سے کہیں زیادہ خون دے دیا ہے جتنی پچھلے پورے سال میں فراہم نہیں ہوسکی تھی۔
لاہور ”جہاد جہاد“ اور” پاکستان زندہ باد“ کےنعروں سےگونج رہا تھا۔ شہر بھارتی توپوں کے پھٹتےگولوں اور اپنی توپوں کےدھماکوں سے بلتا۔ روزمرہ کی زندگی ہیجانی کیفیت کے باجود روزمرہ کی طرح رواں دواں رہی۔
”داتا دربار عورتوں کی دعاؤں سےگونج رہا ہے۔ آج کوئی عورت داتا سے بیٹا نہیں مانگ رہی، سب آج دوپٹے پھیلائے، رو رو کر قوم کے ان بیٹوں کی سلامتی اور فتح کی دعائیں مانگ رہی ہیں جو بی آر بی کےکنارے ان کی آبرو پر جان کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔“
مغرب پسند خیال اور مشرقی ماحول کی لڑکیاں ایک ہی محاذ پہ کفر کے مقابلے میں سینہ سپر ہوگئی ہیں۔ عورتیں گھروں سے نکل آئیں اور نرسنگ، فرسٹ ایڈ اور شہری دفاع کی تربیت گاہوں میں جمع ہوگئیں۔ گھروں میں وُہ غازیوں اور کشمیری مجاہدین کےلیئےسویٹریں بننے لگیں۔ چٹاگانگ میں ایک نوجوان لڑکی فوج کے بھرتی دفتر میں گئی اور درخواست دی کہ وُہ بھرتی ہونا چاہتی ہے اُسےبتایا گیا کہ فوج میں لڑکیوں کو نہیں رکھا جاتا تو اُسکے آنسو نکل آئے۔ ایک بھکارن نے دِن بھر کا مانگا ہوا آٹا اور پیسے قوم کے حوالے کر دیئے۔ کئی عورتوں نے زیورات اور بیٹیوں کےجہیز دفاعی فنڈ میں دے دیئے۔
دیہات میں لوگوں نے اناج کی بوریاں اور بعض دودھ والی گائے، بھینس دے دیں۔ قوم غازیوں کے لیئے خون کے تالاب اور روپے پیسے کے انبار جمع کر چکی تھی۔
پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں ریڈ کراس کےمراکز میں لوگوں نے خون کے علاوہ سگریٹوں، صابن، خوشبودار تیل، تولیوں، کتابوں، رسالوں اور اس نوع کی ضروریات کی چیزوں کےڈھیر لگا دیئے۔ ٹرانسسٹروں کےانبار الگ تھے۔ دفاعی فنڈ کےاعداد و شمار تیزی سے بڑھتے جا رہے تھے۔ اسی طرح بنکوں اور ریڈ کراس کے بلڈ بنک میں روپیہ، دیگر عطیات اور خون دینے والوں کا ہجوم اور زیادہ بڑھتا ہی گیا۔ بعض افراد کا کہنا تھا کہ ”دفاعی فنڈ اور خون کے ذخیروں میں حیران کن رفتار سےاضافہ ہو رہا ہے“ لیکن پاکستانی حیران نہ تھے کیونکہ زندہ قوموں کے ایثار کی رفتار یہی ہوا کرتی ہے۔
مال بردار پرائیویٹ ٹرکوں کی ایسوسی ایشن نے جنگ کے اگلے روز ہی سارے ملک میں سے چالیس ہزار ٹرک حکومت کے حوالے کر دئیے ان ٹرکوں کی ڈرایئور سینہ تان کر مورچوں تک جنگی سامان پہنچانے میں مصروف ہوگئے تھے۔ ٹرکوں کے علاوہ اس ایسوی ایشن نے مجاہد فنڈ کے لیئے چالیس ہزار روپیہ بھی دیا۔
مغربی اور مشرقی پاکستان میں فضائی حملوں کے بعد شہریوں میں جوش و خروش بڑھ گیا تھا۔ کسی چہرے پر خوف اور گھبراہٹ نہ ہوتی۔ پاکستانیوں کے چہروں کے تاثرات یکساں تھے، جیسے ہر چہرہ بزبان خاموشی سےکہہ رہا ہو پاکستان میرا ہے۔ پاکستان کا دفاع میری ذمہ داری ہے۔“
سکول اور کالج ٦ ستمبر کو ہی بند ہوگئےتھے۔لیکن بچےکھیل کود سے بےنیاز، اے۔آر۔پی کی وردیاں پہنےگلیوں، بازاروں اور میدانوں میں خندقیں کھودنے میں مصروف ہوگئے۔ یہ بچےایک دن میں جوان ہوگئے تھے۔ جن ننھے ننھے بچوں کو اور کچھ نہیں سوجھتا، وُہ ”ہندوستان مردہ باد“ اور ”پاکستان زندہ باد“ کے نعرے لگاتے پھرتے تھے۔ والدین شام کے بعد بچوں کو ڈھونڈتے پھرتےلیکن بچےگلی محلوں میں بلیک آؤٹ کرانے کے لیئے بھاگتے دوڑتے اور وسلیں بجاتے پھرتےتھے۔
بچوں کو طیاروں کی قسمیں، بموں کے وزن، راکٹوں کی مار، توپوں کی قسمیں اور گولوں کے وزن زبانی یاد ہوگئے۔ وُہ طیارے کی آواز سن کر بتا دیتے تھے کہ یہ طیارہ اپنا ہے یا دشمن کا۔راولپنڈی میں ایک لڑکے نےدوسرے کو چاقو مار کر لہولہان کر دیا کیونکہ اُس نےاُسے شاستری کہا تھا۔ چاقو مارنے والےلڑکےنے پولیس کو بیان دیا ہے کہ یہ مجھےہٹلر کہا کرتا تھا لیکن میں نےکبھی برا نہ منایا کیونکہ ہٹلر جنگجو تھا مگر ”شاستری“ جیسی گالی میں برداشت نہ کرسکا۔
گلیوں میں اور سڑکوں پر فلمی گیت الاپنے والے ٹیڈی قوم کی آبرو کے امین بن گئے۔ فلمی گیت مرگئے، دیس کی فضا میں مِلی ترانے اور رزمیہ گیت گونجنےلگے۔ کس قدر ولولہ ہے ان نغموں میں۔ ایک ایک لفظ اور ایک ایک انگ روح میں اتر رہا ہے۔ قوم کو ان نغموں کی کس قدر ضرورت تھی؛ تب پتہ چلا۔
لوگ سڑکوں پرمنتظر کھڑے رہتے۔ پاک فوج کا کوئی مجاہد یا کوئی گاڑی نظر آجاتی تو وُہ اُسےگھیر لیتےتھے۔ ہر کسی کی خواہش ہوتی تھی کہ وُہ اپنےغازیوں کو چائے یا شربت پلانےمیں پہل کرے۔ ہر کوئی انہیں سر آنکھوں پر بٹھانے کو بےتاب ہوتا تھا۔ لیکن جوانوں کو فرصت نہیں کہ دم بھر کر رُک جائیں۔ شہر کےلوگ چلتے ٹرکوں میں مشروب کی بوتلیں، فروٹ، کھانا اور پھول پھینک دیتے ہیں۔ لاہور سیکٹر میں جہاں تک شہریوں کو جانےکی اجازت تھی۔ وہاں انہوں نے فروٹ کے ٹوکروں، زردہ پلاؤ کی دیگوں اور کھانے کے انبار لگا دیئے ہیں۔ وُہ ہر روز ان انباروں میں اضافہ کر آتے۔ سیالکوٹ اور لاہور سیکٹروں میں جو بڑی توپیں پیچھے نصب ہوئیں اُن کےتوپچیوں کو دیہات کی عورتیں کھانا، پانی اور لسی پہنچاتی رہتی۔ توپچی انہیں روکتے۔ کیونکہ انہیں سرکاری طور پر کھانا پہنچتا رہتا تھا۔ اس کےعلاوہ وہاں خطرہ بھی ہوتا تھا لیکن لوگ انہیں ایک ہی جواب دیتے تھے۔”کیا تم کسی ماں کے بیٹے نہیں؟“ لوگ تو اپنی رگوں کا خون نچوڑ کر ان غازیوں کی رگوں میں ڈال دینےکو بےتاب ہوتے۔
ہسپتالوں میں محاذوں کے زخمی مجاہد، ڈاکٹروں اور نرسوں کے لیئے پریشان کن مسئلہ بن گئے ہیں۔ وُہ ہسپتالوں میں رُکنا نہیں چاہتے تھےمحاذ پہ پہنچنا چاہتے تھے۔
ایک روز لاہور والوں نےفضائی جھڑپ دیکھی ۔بھارتی فضائیہ کے چار نیٹ اور دو ہنٹر طیارے پاکستان پر کہیں بمباری کرنے آئےلیکن ہمارے دو ہوا بازوں نے انہیں لاہور کے اوپر ہی روک لیا۔ فضا میں چھ اور دو کا معرکہ ہوا اور زمین پر لاکھوں تماشائیوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ چھتوں اور سڑکوں پر میدانوں اور باغوں میں”پاک فضائیہ زندہ باد“۔ ”وُہ مارا، وُہ مارا“ کےنعرے لگا رہے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں بھارت کا ایک طیارہ جلتا ہوا شالامار سے پرے جا گرا۔ دشمن کا ایک اور طیارہ مجروح ہوا جسے بھارت کی طرف گرتے ہوئے دیکھا گیا۔
کھلے میدانوں میں لاہوریوں کا ہجوم در ہجوم جمع ہو جانا جنگی حماقت تو تھا کہ یہ ہجوم اپنے ہوا بازوں کے لیئےبھی رکاوٹ بنا رہا تھا۔ لیکن اہل شہر کا جذبہ بے پناہ تھا۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ وُہ کونوں کھدروں میں چھپ گئے تو اپنے ہوا باز فضا میں اکیلے رہ جائیں گے اور ان کی ”ہلا شیری“ کرنے والا کوئی نہ ہوگا لاہور والےتماشائی تو نہیں تھے۔ وُہ اس فضائی معرکے میں برابر کے شریک تھے۔
٨ ستمبر کے روز جب ریڈیو نےاعلان کر دیا تھا کہ بھارت پاکستان کے مختلف شہروں میں چھاتہ بردار جاسوس اُتار رہا ہے تو اُس رات پاکستان بھر میں کوئی بھی نہیں سویا۔ لوگ چاقو، چُھریاں، کلہاڑیاں شکاری بندوقیں اور ڈنڈے اُٹھائے رات بھر گلیوں، میدانوں، باغوں اور ریلوے لائنوں پر بھاگتے دوڑتے رہے۔ عورتیں اور بچے بھی ڈنڈوں اور چاقوؤں سے مسلح ہو کر صحنوں میں اور چھتوں پر گھومتے پھرتے رہے۔ تب قوم کو نیند نہیں آتی تھی اور دشمن کو شکست دینے تک قوم کو نیند نہیں آئی۔
نظم و نسق ایسا تھا کہ کوئی فرد بھی کھلےمیدان میں سگریٹ تک نہیں سلگاتا تھا۔ لوگ بلیک آؤٹ کا ”احترام“ دِل و جان سے کر رہے تھے۔ قوم احکام اور ہدایات کا انتظار نہیں کرتی تھی۔ تب بچہ بچہ جان گیا تھا کہ اُسے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ کس قدر منظم ہے یہ قوم! بازاروں سےکوئی شے غائب نہیں ہوئی نہ مہنگی ہوئی۔
ملک بھر میں کسی کو خیال نہ تھ اکہ اتوار چھٹی کا دِن ہوتا ہے۔ دفتر بھی کھلے تھے اور بازار بھی قوم بے آرام تھی، بیقرار تھی، بپھری ہوئی تھی، محاذ پر لڑنا چاہتی تھی۔
جمعہ ١١ستمبر قائد اعظم کا یوم وفات تھا ، اُس روز مسجدوں اور گھروں میں قرآن خوانی ہوتی رہی اور ملک کی فضا مجاہدوں کی سلامتی اور فتح کی دعا سےگونج سے رہی تھی توپیں اور طیارےگرج گرج کر اپنے محبوب قائد کی روح کو سلامی دے رہے تھے۔
آج کیا ہم یوم وفات قائد پر قرآن خوانی اپنےگھروں میں کرتے ہیں؟
عرب اپنے مسلمان بھائیوں کے لیئے مرمٹنے کے لیئے بیتاب ہیں۔ خانہ کعبہ میں دعائیں مانگ رہے ہیں اور مالی امداد بھیج رہے ہیں۔
جنگ ختم ہوئی توتمام مساجد میں خدائے ذوالجلال کے حضور شکرانے ادا کیےگئے۔ قوم نے اپنے شہیدوں کی قبروں پر پھول چڑھائے۔ ہسپتالوں میں زخمی مجاہدوں کےگرد تحفوں کے انبار لگا رہے تھے۔ لوگ ایک دوسرے کو مبارک بادیں دے رہے تھے۔ اس لیئے نہیں کہ جنگ ختم ہوگئی تھی۔ بلکہ اس لیےکہ قوم خدا کے حضور سرخرو ہوگئی تھی ۔
رات کی تاریکی میں ، مکمل بلیک آؤٹ میں پاکستانی قوم نے وُہ رموز پالیے تھےجو انہیں اجالوں میں کبھی نظر نہ آئے تھے۔

یہ تمام ایسے واقعات ہے جنھوں نے اس قوم کی تاریخ کو انمول بنا ڈالا۔ ہر فرد نے اپنے حصہ کا وُہ کردار ادا کیا، جو وُہ کر سکتا تھا۔ آج ہمیں اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ وُہ کیا عناصر تھے، کہ اس قوم پاکستان میں ایثار کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ یہ وُہ معاشرتی تاریخ ہے، جس نے پاکستان کو قومی تشخص عطاء کیا۔ قوموں کی عظمت ایثار سے قائم رہا کرتی ہے۔ ١٩٦٥ء میں ہر فرد کا کردار افسانوی کہانی نہ تھا، حقیقت تھا اِس عہد کا کہ اس وطن کی خاطر ہم جان کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ایسی ہی لازوال قربانیاں قوم پاکستان کو تا قیامت زندہ و جاوید رکھنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں گی۔ آج ایک بار پھر ایسا وقت آن پڑا ہے کہ ہمیں ایسے ہی اَن مٹ ،اَن گنت جذبوں کی ضرورت ہے۔ ہمارا وطن ایک بار پھر بیرونی سازشوں کا شکار ہے، اندرونی طور پر کمزور تر کیا جا رہا ہے اور اب تو اس ملک کا دفاع بھی خطروں کی زد میں محسوس کیا جانے لگا ہے۔ اَشرافیہ ہوش کے ناخن نہ جانے کب لیں گی؟ شائد یہ باتیں کھوکھلے نعروں تک محدود ہو چلی۔ ممکن ہے کوئی اس بناء پر خاموش ہو کہ اُس کے منظر سے ہٹنے کے بعد پچاسوں افراد اُس کی جگہ وفاداری ثابت کرنے کے لیے تیار موجود ہیں۔ اُسکے باغی ہونے سے حالات مزید نازک ہو جائیں گے۔ ہم مسلسل برسوں سے خطروں میں گھرتے چلے جا رہے ہیں، بلی کےشکار کی زد میں ہونے پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ خطرے کے وقت، شتر مرغ کی طرح سر ریت میں دبائے ہوئے ہیں۔حالات کا سامنا نہیں کر رہے، حالات کو واقعات سے ٹال رہے ہیں۔ آخر کب تک؟ ایک دن سامنا کرنا ہے۔ عام فرد اپنے حصہ کا کردار ادا کرنے سے ڈرتا ہے۔ حقائق جان کر وُہ کئی سوالوں کی زد میں ہوتاہے۔ ذات کے سوالوں کےجواب میں؟ تحفظ کا خوف ہمارے سروں پر چڑھ دوڑا ہے۔
مجھے ایک فرد نے خصوصی ملاقات میں دفاع پاکستان پر لکھنے کے لیے کہا، بلکہ عملی طور پر١٩٦٥ء کی جنگ کا مواد مہیا بھی کیا، جو ١٩٦٦ء میں مضامین، یاداشتوں، ڈائری کی صورت میں چھپا۔ مگر میں راضی نہ تھا، کہ کیا لکھوں! لوگوں کے دِلوں پر باتیں اثر نہیں کرتیں۔ میں وُہ لکھنا چاہتا ہوں کہ دِل پر چوٹ پڑے۔ پڑھنے والے کے اندر وطن عزیز کی محبت جاگ پڑے۔ مگر لوگ آج صرف واہ، واہ تو کر سکتے ہیں مگر بات سمجھتے نہیں۔ اگر سمجھ لیں تو عذر ہزاروں پیش ہو جاتے ہیں۔ خیر میں نے ماضی کے وُہ حقائق پیش کیے جو شائد وقتی طور پر آپکےخیالات پر اثر تو کر جائیں گے، مگر عمل وہی رہےگا جو آپکا مزاج ہے۔ یہ سوچ کر میں نے یہ مضمون ترتیب دے ڈالا۔ آخری پیرا لکھنا ہنوز باقی تھا کہ کسی کا پیغام موصول ہوا۔ ہم اپنے لیئے ایس ایم ایس کا فیصلہ واپس لے سکتے ہیں، تو کیا اس ملک پر منڈلاتےخطرات کے فیصلے دُرست نہیں کروا سکتے۔ میں تب بھی یہ سطور لکھنے کو تیار نہ تھا۔ مگر میرے دِل کو چین نہ آیا، میرے ضمیر نےمجھےجھنجھوڑا۔ میں قومی مورال پر اتنی باتیں لکھتا ہوں ، اور اس ملک کے بقاء کے لیئے ڈر رہا ہوں، اسی اثناء میں مجھےخیال آیا ۔١٩٦٥ء والے جو جذبات عوامی سطح پر افراد میں تھے، وُہ کیوں تھے؟ اُنکے جذبوں میں ڈرنا اور سوچنا معنی نہیں رکھتا۔ اُنکو بس اللہ پر یقین ہوتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان لیبارٹریز کے قریب ١٨ ایکڑ جگہ امریکی سفارت خانہ کی توسیع کے لیئےخریدی گئی ہے، جہاں ٧٠٠ میرین موجود ہیں، ١٠٠٠ میرین کی آمد ہیں۔٢٠٠ گھر اسلام آباد میں کرایہ پر حاصل کر کے جدید سیٹلائیٹ سے لیس کیےگئے ہیں۔” امریکی غنڈہ لشکر“ کالا پانی اپنی سیاہ حرکات کے لیئے چارسدہ کےقریب شب قدر میں زمین حاصل کر چکا ہے۔ افسوس! آج آگاہی کے باوجود بدقسمتی سے، ہمارا ایٹمی اثاثہ سازشی چنگلوں کا شکار ہو رہا ہے۔ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم سلطنت روم کے ماتحت اسرائیلی گورنر ہے، جو ابنیاء کو بھی قیصر روم کے حکم کے ماتحت رہتے ہوئے سولی پر چڑھا ڈالتے تھے۔ کبھی کبھی حالات کو دیکھتے ہوئے سوچتا ہوں، ہمارا حال بنی اسرائیل والا ہی ہے۔ ہم حقائق سے نابلد ہیں۔ مایوسیوں میں اس لیئےگھرتے جا رہے ہیں کہ عملی کوششیں ترک کر چکے۔ اے اللہ اس ملک کے ہر فرد میں موجود جذبہ حب الوطنی کو عملی دھارا بھی عطاء فرما، ہمیں مایوسیوں سے بچا اور وطن کو تحفظ فرمانے میں ہماری مدد فرما۔(آمین)

ایسے موضوعات پر میں لکھنےسے ہمیشہ اس قدر گریز کرتا ہوں کہ کسی کا اصرار بھی مجھ پر اثر نہیں کرتا۔ مگر آج میرے دِل پر چوٹ پڑی اور میں لکھنے پر مجبور ہوا۔ اُس پیغام میں یہ بات بڑی اہم تھی۔ ایس ایم ایس کا ٹیکس ختم ہو سکتا ہے تو کیا ایسے فیصلےدرست نہیں ہوسکتے۔ آج اس قوم کو قومی مورال کی ضرورت ہے۔’ہم زندہ قوم ہے‘، نعرہ لگاتے ہیں، اےاللہ ہمیں زندہ قوم بنا دے۔ ہمیں باضمیر اور غیرت مندی عطاء فرما دے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

عظیم جناح، نہرو اور گاندھی

Posted on 17/08/2009. Filed under: تاریخ | ٹيگز:, , , , , |


ربط

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

واہگہ بارڈر کی یادگار تصویریں

Posted on 22/02/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , |

Read Full Post | Make a Comment ( 8 so far )

کشمیر بنے گا پاکستان

Posted on 05/02/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

٥ فروری کشمیری مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کا دن قرار پاہا ۔۔۔
اس دن بے ہمتی اور بزدلی کی چادر اتار کر متحد اور منظم ہو کر اپنے جذبات کا بھر پور اظہار کریں ۔۔۔۔۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلماناں کشمیر کے ناحق بہنے والے خون کی ذمہ داری آپ کے سر آ جائے!!!
٥ فروری کو اگر ہم یوم تجدید کہیں تو غلط نہ ہو گا۔ جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں کئی اہمیت کے دن اور بھی ہیں جن میں

١٦ مارچ ١٨٤٦ء کا وہ مخصوص دن جب ‘معاہدہ امرتسر‘ کے تحت کشمیر کو ٧٥ نانک شاہی سکوں کے عوض مہاراجہ گلاب سنگھ کو فروخت کر دیا۔
١٣ جولائی ١٩٣١ء کو یومِ شہدائے کشمیر منایا جاتا ہے۔ اس روز سرینگر میں بائیس فرزندان توحید نے جامِ شہادت نوش فرما کر تحریک حریت کشمیر کو اپنے انقلابی دور میں داخل کیا۔
١٤ اگست ١٩٣١ء کو علامہ اقبال کی تحریک پر یوم کشمیر منایا گیا۔
٣٠ اکتوبر ١٩٣١ء کو آزادی کشمیر میں پہلا پنجابی (پاکستانی) مسلمان شیخ الہی بخش چنیوٹی شہید ہوا۔
یکم جنوری ١٩٤٨ء کو بھارت مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل میں لے کر گیا۔
اگست ١٩٤٨ء اور جنوری ١٩٤٩ء کو سلامتی کونسل نے کشمیر میں رائے شماری کرانے کی قراردادیں منظور کیں۔
دسمبر ١٩٦٩ء میں موئے مبارک کی تحریک چلی۔
جنوری ١٩٦٥ء بھارت نے شیخ محمد عبدللہ کو گیارہ سال کی اسیری کے بعد رہا کیا۔
شیخ محمد عبداللہ کا دورہ پاکستان ١٩٦٥ء میں ہوا، غیر ملکی دورہ اور وطن واپسی پر گرفتاری
٥ فروری ١٩٨٦ء میاں نواز شریف وزیراعظم پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے ہڑتال کی اپیل، اس کے بعد اسی روز جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے ٥ فروری کو ہر سال یوم یکجہتی منانے کی اپیل کی۔ اس وقت سے ہر سال پاکستان آزاد جموں و کشمیر اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے سرکاری اور عوامی حلقے ہڑتال کرتے ہیں۔
آج ٥ فروری کشمیری مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کا دن قرار پاہا ۔۔۔
اس دن بے ہمتی اور بزدلی کی چادر اتار کر متحد اور منظم ہو کر اپنے جذبات کا بھر پور اظہار کریں ۔۔۔۔۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلماناں کشمیر کے ناحق بہنے والے خون کی ذمہ داری آپ کے سر آ جائے!!!
٥ فروری کو اگر ہم یوم تجدید کہیں تو غلط نہ ہو گا۔ جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں کئی اہمیت کے دن اور بھی ہیں جن میں
١٦ مارچ ١٨٤٦ء کا وہ مخصوص دن جب ‘معاہدہ امرتسر‘ کے تحت کشمیر کو ٧٥ نانک شاہی سکوں کے عوض مہاراجہ گلاب سنگھ کو فروخت کر دیا۔
١٣ جولائی ١٩٣١ء کو یومِ شہدائے کشمیر منایا جاتا ہے۔ اس روز سرینگر میں بائیس فرزندان توحید نے جامِ شہادت نوش فرما کر تحریک حریت کشمیر کو اپنے انقلابی دور میں داخل کیا۔
١٤ اگست ١٩٣١ء کو علامہ اقبال کی تحریک پر یوم کشمیر منایا گیا۔
٣٠ اکتوبر ١٩٣١ء کو آزادی کشمیر میں پہلا پنجابی (پاکستانی) مسلمان شیخ الہی بخش چنیوٹی شہید ہوا۔
یکم جنوری ١٩٤٨ء کو بھارت مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل میں لے کر گیا۔
اگست ١٩٤٨ء اور جنوری ١٩٤٩ء کو سلامتی نے کشمیر میں رائے شماری کرانے کی قراردادیں منظور کیں۔
دسمبر ١٩٦٩ء میں موئے مبارک کی تحریک چلی۔
جنوری ١٩٦٥ء بھارت نے شیخ محمد عبدللہ کو گیارہ سال کی اسیری کے بعد رہا کیا۔
شیخ محمد عبداللہ کا دورہ پاکستان ١٩٦٥ء میں ہوا، غیر ملکی دورہ اور وطن واپسی پر گرفتاری
٥ فروری ١٩٨٦ء میاں نواز شریف وزیراعظم پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے ہڑتال کی اپیل، اس کے بعد اسی روز جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے ٥ فروری کو ہر سال یوم یکجہتی منانے کی اپیل کی۔ اس وقت سے ہر سال پاکستان آزاد جموں و کشمیر اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے سرکاری اور عوامی حلقے ہڑتال کرتے ہیں۔

آج ٥ فروری ہے پوری قوم سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے۔
کشمیریوں کی جدوجہد ہماری قومی غیرت اور جذبوں کا نشاں ہے۔ ہمارے بھائی، بہنیں، بچے اور بوڑھے سر پر کفن باندھے اپنے لہو کا نذرانہ دیکر وقت کی کربلا میں رسم شبیری ادا کر رہے ہیں۔
شہیدوں اور غازیوں کی منزل قریب ہے، وہ دن دور نہیں جب ہم کشمیر کو آزاد دیکھیں گے۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ایک خدا اور ایک رسول کے ماننے والے زیادہ دیر تک غلامی کی زنجیریں نہیں جکڑ سکتیں۔
کراچی کے ساحلوں سے کشمیر کی لہو رنگ وادیوں تک مکمل ہڑتال، تمام جماعتوں، تنظیموں اور ہر طبقہ فکر بھارتی مظالم کے خلاف سراپا احتجاج بنا ہوا ہے، پوری قوم یک زبان ہے کہ

کشمیر بنے گا پاکستان
Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

پاکستان کا وجود بھارت کے لئے سنگین خطرہ ہے

Posted on 11/01/2009. Filed under: پاکستان, سیاست | ٹيگز:, , , , |

بشکریہ سنڈے میگزین روزنامہ جنگ

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

ممبئی حملے، ثبوت اور پاکستانی شہری

Posted on 10/01/2009. Filed under: پاکستان, سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , , |

کچھ دن پہلے ممبئی حملوں کے ثبوت جو بھارت نے امریکہ کے ذریعے پاکستان کو فراہم کئے ہیں کے بارے میں بھارت کا کہنا ہے کہ یہ ناقابلِ تردید ثبوت ہیں اور پاکستان ان ثبوتوں کو جھٹلا نہیں سکتا۔ ان ثبوتوں کے بارے میں اگر بات کی جائے تو دفترِ خارجہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ان میں ممبئی حملوں کے دوران بنائی گئی وڈیو ریکارڈنگز، دہشت گردوں کی میڈیا کیمروں سے لی گئی تصاویر اور وہ نیٹ کالز کے نمبرز شامل ہیں۔ معلومات کے مطابق ان میں سے ایک نمبر امریکہ کا ہے اور دوسرا نمبر آسٹریا کا (واقعی ناقابل تردید ثبوت ہیں، تردید کی ضرورت ہی نہیں)۔ ممبئی حملوں حملے میں استعمال کیا گیا اسلحہ جس کا تعلق ایک ایسی پاکستانی آرڈیننس فیکٹری سے جوڑا جا رہا ہے جو پاکستان ہے ہی نہیں (ہے نا مزے کی بات)  سب کو معلوم ہے کہ پاکستان چھوٹے ہتھیاروں کا ایکسپورٹر ہے جسے وہ بہت سے ممالک کو فراہم کرتا ہے اور ویسے بھی کیا بھارت کے پاس پاکستانی اسلحہ نہیں ہو سکتا؟ اس طرح کا اسلحہ جس پر میڈ ان انڈیا لکھا ہوا ہے ہمارے پاس بھی بہت ہے ہم چاہیں تو ان کے سیریل نمبر بھارت تو دے سکتے ہیں تو کیا اس بنا پر بھارت کو دہشت گرد ملک تسلیم کر لیا جائے گا (کیا بچگانہ ثبوت ہیں، بھارت میں ذہن سے نہیں سوچا جاتا شاید اس لئے ان احمقانہ ثبوتوں کو ناقابل تردید کہا جا رہا ہے)۔ اس کے علاوہ جن چھے لوگوں کا تعلق پاکستان سے جوڑا گیا ہے ان  بے چاروں کے چہرے  یا پھر ان کی تصاویر اس قدر مسخ کر کے بنائی گئی ہیں جنہیں کوئی پہچان ہی نہیں سکتا کہ دراصل یہ ہیں کون۔ اس کے علاوہ  آٹا، میڈی کیم ٹوتھ پیسٹ، ٹچ می کریم اور اسی طرح کی دوسری چیزیں جنہیں بطور ثبوت پیش کیا گیا ہے (اب بندہ پوچھے کہ یہ وہاں دہشت گردی کرنے گئے تھے یا پکنک منانے اور ساتھ میں رنگ گورا کرنے والی ٹچ می کریم ۔۔۔ سبحان اللہ) باقی تو خیر مگر ان دہشت گردوں کو اپنے ساتھ کراچی آٹا لیکر جانے کی کیا ضرورت تھی۔ شاید انہیں معلوم نہیں تھا کہ بیچارے بھارت کے پاس پہلے سے یہ سب چیزیں موجود ہیں یا پھر وہ بھارت کے آٹا خوار نہیں بننا چاہتے تھے یا پھر بھارت میں پاکستانی اشیاء کی مانگ بہت زیادہ ہے۔ بھارت اس لئے بھی پاکستان کے ساتھ تجارت کے ڈھونگ رچاتا رہتا ہے کہ تجارت کے تحت آئی ہوئی ان اشیاء کو ہر دہشت گردی کے بعد بطور ثبوت پیش کر سکے۔
اس سارے واقعہ میں واحد زندہ مبینہ پاکستانی دہشت گرد اجمل قصاب کا ہندی میں لکھا ہوا خط (یہ ہندی اُس نے کہاں سے سکیھی، میرے خیال میں تو اسے ٹھیک طرح سے اردو نہیں آتی ہو گی)  کا اعترافی بیان جس کی قانونی حیثیت ہی مشکوک ہے۔ اس کے علاوہ ڈی این اے رپورٹ جو پکار پکار کے بھارت والوں کو کہہ رہی ہے کہ یہ پاکستانی خون ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اجمل قصاب پاکستانی ہے مگر بھارت یہ کیوں چھپا رہا ہے کہ اجمل قصاب کو کب، کیسے اور کہاں سے اغوا کر کے اس بھونڈے ڈرامے کا اہم کردار بنایا گیا ہے۔ بھارت اصل صورتحال سب کچھ واضح کرے پھر ہی بات آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔ پاکستانی حکومت بھی اب آئیں بائیں شائیں بہت کر چکی، اب بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو دو ٹوک جواب دے اور دنیا پر واضح کرے کہ اجمل قصاب کو کب اور کہاں سے اغوا کیا گیا ہے جس کا ریکارڈ وہاں کی عدلیہ میں موجود ہے۔
دنیا کا کوئی بھی ملک ہو وہ اپنی شہری کو پہنچنے والی گزند پر آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے، پاکستان پر یہ سارا نزلہ صرف اس لئے گرا ہے کہ کوئی بھی پاکستانی حکومت اپنے شہریوں کا تحفظ نہیں کرتی۔ اگر اجمل قصاب کے اغوا کے وقت ہی شور مچایا جاتا تو یہ سب بکھیڑا کھڑا ہی نہ ہوتا۔ حکومتیں ہی اپنے شہریوں کے تحفظ کی ضامن ہوتی ہیں جب شہریوں کو کوئی پوچھنے والا نہ ہو پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر اللہ حافظ ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

واعتصمو بحبل اللہ جميعا و لاتفرقوا

Posted on 13/12/2008. Filed under: پاکستان, دنیا بھر سے, عالم اسلام | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

اس وقت عالم اسلام کو مخلص قیادت کے ساتھ ساتھ آپس کے سیاسی نفاق کا بھی سامنا ہے جس کی وجہ سے کبھی عراق ایران کے ساتھ آٹھ سال لڑتا ہے تو کبھی کویت پر حملہ کر دیتا ہے۔ کبھی سعودی عرب کے تعلقات ایران سے بگڑ جاتے ہیں تو کبھی ایران اور پاکستان کے تعلقات خراب ہو جاتے ہیں۔ پاکستان آزاد ہوتا ہے تو افغانستان اسے اقوام متحدہ میں تسلیم ہی نہیں کرتا اور پھر جب افغانستان پر بُرا وقت آتا ہے تو پاکستان تیس لاکھ افغانیوں کو اپنے ہاں پناہ دے دیتا ہے۔ لیکن شمالی اتحاد کی حکومت سارے اقدامات ماننے سے انکاری ہوتی ہے اور پاکستان کے مقابلے میں بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھاتا ہے، افغانستان کی دوبارہ تعمیرِنو میں زیادہ تر ٹھیکے ہندوؤں کو مل جاتے ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالٰی واضح طور پر ارشاد فرماتا ہے۔
‘‘واعتصمو بحبل اللہ جميعا و لاتفرقوا‘‘
کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور تفرقہ نہ ڈالو ”
لیکن اس کے باوجود مسلمان آپس میں متحد نہیں ہو رہے ہیں۔
نفاق کی حد تو یہ ہے کہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر کئی پاکستانی فوجیوں نے ایرانی ساخت کے بم بھی پکڑے ہیں جبکہ (او، آئی، سی) اسلامی سربراہی کانفرنس کے تقریباََ چونتیس ممالک بھارت سے دوستی اور تجارت کی پینگیں بڑھاتے نظر آ رہے ہیں، کچھ عرصہ پہلے ایران اور بھارت کے درمیان جنگی معاہدے کی بازگشت بھی گردش میں رہی ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کے مسئلے پر عربوں کا ساتھ دیا جبکہ خود یاسر عرفات مرحوم اور ان رفقاء بھارت کے حامی ہیں اور سابق مرحوم عراقی صدر صدام حسین کی طرح یاسر عرفات نے کشمیر کے بارے میں کبھی پاکستان کی حمایت نہیں کی بلکہ الٹا بھارت سے دوستی بڑھاتے نظر آئے۔
پاکستان اسلامی نظریہ کے اصول پر معرض وجود میں آتا ہے تو مصر کے حکمران ہنس پڑتے ہیں کہ پاکستانیوں کو دیکھو اب یہ ہماری رہنمائی کریں گے لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وہی پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا اور واحد ایٹمی ملک بن گیا۔
بھارت کے شہر ممبئی میں دو ہوٹلوں پر حملہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے پاکستان کا نام لیا جاتا ہے پھر جماعت الدعوۃ کر اس میں ملوث کیا جاتا ہے۔ اس کے فوراََ بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوتا ہے اور اس میں جماعت الدعوۃ کو دہشت گرد قرار دے کر اس پر پابندی لگا دی جاتی ہے اور پاکستان کو حکم دیا جاتا ہے کہ ان کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے۔ جبکہ اس کے برعکس بھارت میں گجرات اور دیگر علاقوں میں ہزاروں مسلمانوں کو مار دیا جاتا ہے، سینکڑوں کو زندہ جلایا جاتا ہے، ہندو انتہا پسند تنظیم اس سارے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتی ہے لیکن اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔ سلامتی کونسل چپ سادھ لیتی ہے۔
ان سارے واقعات کی روشنی میں بتائیے اس وقت پاکستان کہاں کھڑا ہے۔ عالم اسلام میں مخلص قیادت نہ ہونے اور آپس کا نفاق مسلسل پاکستان اور خود عالم اسلام کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

آئیے ماتم کریں

Posted on 20/01/2007. Filed under: اسلام, سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ظلم اپنے عروج پر ہوتا ہے تو مظلوم کی آہ سوزاں ہمیشہ اس کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ ظلم مٹنے والی چیز ہے کیونکہ
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
جبکہ مظلومیت مٹ کر اپنی بقا کو پہنچتی ہے۔ ابتدا کائینات سے ہی ظالم اور مظلوم کی جنگ جاری ہے۔ قابیل سے لیکر آج کے قاتلین تک کا ایک ہی کردار رہا ہے اور ہابیل سے لیکر آج تک کی مظلومیت ایک ہی صف میں کھڑی نظر آتی ہے۔
دنیا میں جتنے بھی جابر و ظالم گزرے ہیں ان کے ظلم کے خلاف ماتم کیا گیا۔ ماتم مظلوم کی حمایت اور ظالم سے نفرت کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے تاکہ ظالم کا چہرہ دنیا کے سامنے آ سکے۔ اس لئے ۔۔
آئیے ماتم کریں! ہر ظالم کے خلاف چاہے وہ کسی بھی روپ میں چھپا ہو اور
آئیے نفرت کا اظہار کریں! اہل کوفہ والوں سے جہنوں نے امام حسین کو خط تو لکھے مگر وفا نہ کی۔
آئیے نفرت کا اظہار کریں! ابن زیاد سے جس نے امام حسین کے بارے میں کہا ‘اگر وہ اپنے آپ کو ہمارے حوالے نہیں کرتے تو پھر بلا تامل حملہ کرو، خون بہاؤ، لاشیں بگاڑو۔
آئیے نفرت کا اظہار کریں! یزیدی فوج سے اور
آئیے لعنت بھیجیں! کربلا کے بہتر شہیدوں کے قاتلین پر
آئیے لعنت بھیجیں! حرملہ پر
آئیے لعنت بھیجیں! شمرذوالجوشن پر
آئیے لعنت بھیجیں! علی اصغر کے حلق میں تیر مارنے والے پر
آئیے لعنت بھیجیں! سنان بن انس پر جس نے امام حسین کا سر تن سے جدا کیا
آئیے لعنت بھیجیں! امام حسین کے جسم مبارک کو روندھنے والوں پر
آئیے لعنت بھیجیں! امام حسین کے لبوں پر چھڑی مارنے والوں پر
آئیے لعنت بھیجیں! ہر یزیدی عمل پر اور یزید کے ہر پیروکار پر
آئیے ماتم کریں ظالموں کے خلاف اور خراج تحسین پیش کریں کربلا کے شہدا کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! غفاری و جابری لڑکوں کی بہادری اور فداکاری کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! علی اکبر بن حسین کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! قاسم بن حسین کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! اہل بیت اور بنی ہاشم کے مقتولوں کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! اس لڑکے کو جس نے کربلا کے میدان میں حضرت امام حسین کو دشمنوں کے سامنے اکیلا دیکھ کر مدد کو دوڑ پڑا اور حضرت کے پہلو میں جا پہنچا عین اسی وقت بحر بن کعب نے آپ پر تلوار اٹھائی لڑکا فورا چلایا ‘او خبیث! میرے چچا کو قتل کرے گا‘ سنگدل حملہ آور نے اپنی تلوار لڑکے پر چھوڑ دی معصوم جان نے اپنی جان سے بے پرواہ ہو کر تلوار کے وار کو اپنے ہاتھ پر روکا، ہاتھ کٹ گیا ذرا سی کھال لگی رہ گئی۔
آئیے خراج تحسین پیش کریں! علی کے سورما بیٹے حسین کو
وہ حسین! جس کے لبوں کی خشکی دیکھ کر فرات کی موجیں آب آب ہو کر رہ گئیں۔
وہ حسین! جس نے اپنے نانا کی امت کے چراغ کو بچانے کے لئے اپنے گھر کے تمام چراغوں کو بجھا دیا۔
وہ حسین! جو موت کے سامنے اس حقارت سے مسکرایا کہ خود موت کی نبضیں رک گئیں۔
میدان کربلا میں کوئی اقتدار کی جنگ نہ تھی بلکہ حق و باطل کا معرکہ تھا جسے حسین نے سر کر لیا۔ وہاں حسین کمزور تھا اور یزید طاقتور، قانونِ فطرت کے مطابق یزید حسین کو مٹا دیتا لیکن حسین نے اپنی مظلومیت کی ایک ہی ضرب سے قاتلین کو مٹا دیا۔ حسین ہار کر امر گیا، یزید جیت کر فنا ہو گیا۔ حسین آج بھی کروڑوں دلوں میں راج کر رہا ہے، ان دلوں میں یزید کے لئے نفرت ہی نفرت ہے اور حسین کے لئے پیار ہی پیار۔
کربلا کی داستان کو زندہ رکھنے کا اصل مقصد یہی ہے کہ جب بھی ظالم سر اٹھائے، سر کچل دیا جائے۔ واقعہ کربلا سے یہی سبق ملتا ہے کہ ظالم کی اطاعت کسی صورت میں جائز نہیں بلکہ اس کے خلاف آواز بلند کی جائے اور اسکے گھناؤنے چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے۔ اس لئے
آئیے عالمی قاتلین سے نفرت کا اظہار کریں! جہنوں نے کشمیر و فلسطین، عراق اور افغانستان میں قتل و غارت گری اور خون خرابے کا بازار گرم کر کھا ہے۔
آئیے خود کو سپر منوانے والوں سے نفرت کریں! جن کے دل و دماغ مسلمانوں کو تباہ برباد کرنے میں لگے رہتے ہیں۔
آئیے ماتم کریں! ان لوگوں کا جو بے وقت کی موت مارے گئے۔
آئیے ماتم کریں! کشمیر و فلسطین، عراق اور افغانستان میں خون میں لت پت تڑپتی لاشوں کا اور آنسو بہائیں ان بیگناہوں کا جو بے خبری کی موت مارے گئے۔
آئیے ماتم کریں! لیکن کس کس کا ماتم یہاں تو ہر گھر سے بینوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔ یتیم بچے آسمان کی طرف منہ اٹھائے دھاڑیں مار کر پوچھ رہے ہیں کہ آخر ہمارا قصور کیا ہے؟ کس جرم کی سزا ہے کہ ظالموں نے پل بھر میں ہنستے کھیلتے گھر کو ماتم کدے میں تبدیل کر دیا۔
اے خون کو پانی کی طرح بہانے والو!
اے ڈالروں کے پجاریو!
اے غیرملکی اشارے پر ناچنے والو!
اے فرعون کے جادوگرو!
اے نمرود کے خزانو!
اے ابوجہل کے ساتھو!
اے شداد کے جنتیو!
اے ابو طاہر قرامطی کے شیدائیو!
اے حسن بن صباح کے فدائیو!
اے یزیدی لشکر کے سردارو!
اے چنگیز خان کے چمچو!
اے ہٹلر کے جانشینو!
اے اسرائیل کے گندے دماغو!
اے بھارت کی سہنو!
اے امریکہ کی فوجو!
اے خفیہ جگہوں سے ہٹ کرنے والو!
ڈرو اس وقت سے جب تمھارے ہاتھوں میں مارے جانے والے بیگناہوں کے یتیم بچوں کی چیخیں آسمان سے ٹکرائیں گی۔ یتیم بچوں کے ننھے منے ہاتھ اوپر اٹھیں گے۔ جب ان کی توتلی زبان سے تمھارے لئے بدعا نکلے گی اور تمھیں خوب معلوم ہے کہ خدا کسی مظلوم اور یتیم کی آواز جلد سنتا ہے اور پھر تمھیں زمین و آسمان میں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ خدا کا قہر آخرکار تمھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ دنیا میں بھی تم ذلیل و خوار ہو گے اور آخرت میں یہ یتیم بچے تمھیں گریبان سے پکڑے گھسیٹتے ہوئے خدا کے حضور پیش کریں گے اور چیخ چیخ کر کہیں گے کہ یہی ہمارے قاتل ہیں، یہی ہمارے مجرم ہیں تو اس وقت تمھاری کوئی پش و پیش اور کوئی بہانہ تمہیں نہ بچا سکے گا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

عوام کے تابع نظام

Posted on 04/04/2005. Filed under: سیاست | ٹيگز:, , , , , , , |

محترم جناب صدر جنرل پرویز مشرف ! آپ نے جو نظام اس ملک کو دیا ہے آپ اس پر ہمیشہ اپنی ہر بات اور ہر تقریر میں فخر کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ محترم صدر ! گستاخی معاف ، آپ نے کبھی اپنے اس نظام پر غور کیا ،کبھی عوام سے پوچھا کہ آپ کے اس نظام کے تحت ان کی عزت و آبرو،جان و مال کس حد تک محفوظ ہیں ؟ نہیں جناب آپ کوتو کچھ بھی معلوم نہیں، آپ کو بس سب اچھا ہے کی روپورٹ مل جاتی ہے۔خدارا آپ ذرا پریذیڈنٹ ہاؤس سے باہر نکل کر دیکھیں یہاں کسی کی بھی عزت و آبرو، جان ومال محفوظ نہیں۔ ہر طرف اندھیر نگری مچی ہوئی ہے، گھر سے باہر نکلو تو واپسی کا کوئی پتہ نہیں کہ انسان واپس گھر پہنچتا بھی ہے یا نہیں، اگر گھر میں بیٹھو تو بھی کچھ معلوم نہیں کہ کس وقت کوئی آفت کہاں سے ٹوٹ پڑے،امجد علی طاہر کے بھائی کا کیا قصور تھا وہ بیچارہ تو ہنسی خوشی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ شادی کی تقریب سے واپس آ رہے تھےمگرظالموں نے انہیں گھر تک پہنچنے کی مہلت بھی نہ دی، اس جیسی روزانہ سینکڑوں وارداتیں ہوتی ہیں، صرف ایف آئی آر درج ہوتی مگر کسی بھی واردات میں قاتل آج تک نہیں پکڑےگئے۔ یہ کیسا نظام ہےصدر محترم جو صرف قاتلوں کی پست پناہی کرتا ہے؟ ۔

عورت ہے تو اس کی عزت و آبرو کہیں بھی محفوظ نہیں، علاج کے نام پر مسیحا،انصاف کے نام پر قانون کے محافظ، تعویز اور ٹونے ٹوٹکے کے نام پر جعلی پیر،حصول علم کی خواہش پر اساتذہ عورت کو بےآبرو کر دیتے ہیں، آج بازار سے لیکر ہسپتال تک اور کالج سے لیکر گھر کی چار دیواری تک کہیں بھی عورت کی عزت محفوظ نہیں رہی آخر آپ کا یہ نظام کتنی مختیار مائیاں پیدا کرنا چاہتا ہے۔
محترم صدر! آپ اپنے قیمتی وقت میں سے تھوڑا سا وقت عوام کے لئے بھی نکال لیں، مگر آپ کے پاس ان فضولیات کے لئے وقت کہاں، آپ نے ابھی کالا باغ ڈیم کے بارے میں سوچنا ہے، بلوچستان کا مسئلہ حل کرنا ہے اور سب سے بڑی بات کرکٹ میچ دیکھنے بھارت بھی جانا ہے آپ کے پاس ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے وقت کہاں، آپ بھی اگر ان معمولی کاموں میں لگ گئے تواتنے بڑے بڑے کام بھلا کون کرےگا۔ محترم صدر! اگر آپ کوئی بڑا کام کرنا ہی چاہتے ہیں، کوئی نظام دینا ہی چاہتے ہیں تو اس ملک کی عوام کے لئے صرف ایک معمولی سا کام کر دیں، اس ملک کے اداروں کو مضبوط کر دیں، انہیں عوام کے تابع کر دیں اگر آپ یہ کر دیں تو یہی آپ کا سب سے بڑا کام ہو گا، یہی سب سے بڑا نظام ہو گا۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...