کربلا کا پیغام

Posted on 20/01/2008. Filed under: اسلام | ٹيگز:, , , , , , |

آج یوم عاشور ہے، آج کے دن کربلا میں کرب و بلا کی ایک انمٹ داستان رقم ہوئی تھی۔ میرا عقیدہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ایک بار جنم لینا تھا لیکن یزید بار بار جنم لیتا رہے گا، کیونکہ اس کے نصیب میں بار بار رسوائی لکھی ہوئی ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے جان نثاروں کی قربانی انسان کے عظمت کردار کی ایک ناقابل فراموش گواہی بن کر ابد تک مینارہ نور رہے گی۔ جبکہ یزید کے حصے میں جو رسوائی آئی اس کے نقوش بھی رہتی دنیا تک تاریخ انسانی کے سینے پر ثبت رہیں گے اور ہر دور کا یزید بالآخر دائمی ہزیمت سے دوچار ہو گا۔
امام عالی مقام اور خانوادہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم قربانی آج بھی مصحلت کوش دنیاداروں کو حیران کرتی ہے انہیں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ یزید کی ایک معمولی سی خواہش پوری کر دینے سے جب پورے قافلے کی جانیں بچ سکتی تھیں، تو حضرت امام حسین نے ایسا کیوں کیا؟ ہم جس دنیا میں جی رہے ہیں اس میں اصول پرستی اور سچائی کی اہمیت نہیں رہی، بلکہ اس کی جگہ ڈپلومیسی نے لے لی ہے۔ ڈپلومیسی درحقیقت منافقت کا دوسرا نام ہے۔ حضرت امام حسین نے تو جان تک بچانے کے لئے یزید کی بیعت نہیں کی تھی، موجودہ عہد میں تو اقتدار بچانے کے لئے یزید وقت کی بیعت سے انکار نہیں کیا جاتا۔ اگر تاریخ انسانی کے دامن میں کربلا والوں کی قربانی نہ ہوتی تو آج انسانیت یکطرفہ طور پر ایک گھٹیا نظریہ حیات کی مالک ہوتی، مگر اس عظیم قربانی کے باعث انسانیت اور حیوانیت کے درمیان ایک ناقابل تنسیخ لائن کھینچ دی گئی ہے۔ جس کے ذریعے قیامت تک حق و باطل میں تمیز کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔
حضرت امام حسین اور خانوادہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ قربانی نہ کسی وقتی فیصلے کا نتیجہ تھی اور نہ تاریخ کے پاس اس سے پہلے اور نہ واقعہ کربلا کے بعد کوئی ایسی قربانی ہے جس کے ذریعے اس عظیم نظریے کو زندہ رکھنے کے لئے رہنمائی ملتی ہو جسے حق کے لئے کٹ مرنے کا نام دیا جاتا ہے۔ فوری اور وقتی فیصلے بھی صرف جان بچانے کے لئے کئے جاتے ہیں جان دینے کے لئے نہیں۔ جان دینے کے لئے تو مصمم ارادے اور دائمی جذبے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس قربانی میں تو فنا فی الذات ہونے کا عمل پیش نظر تھا۔ جب کوئی ہستی اپنی ذات سے بالاتر ہو کر اللہ تعالٰی کی خوشنودی اور اپنے نظریے کی حفاظت کے لئے جان نثاری کا راستہ اختیار کرتی ہے تو اس کا عمل سوائے کربلا والوں کے اور کسی کے مماثل نظر نہیں آتا۔
یزید حضرت امام حسین اور اس کے جان نثاروں کو شہید کر کے کتنے برس جی لیا یا حضرت امام حسین وقتی مصحلت کی خاطر یزید کے ہاتھ پر بیعت کر کے مزید کتنے برس جی لیتے، چاہے کتنے ہی برس جی لیتے لیکن آج ہمارے دلوں میں محبت و عقیدت کا سرچشمہ بن کر موجود نہ ہوتے، دوسری طرف یہ بھی نہ ہوتا کہ یزید ہمارے دلوں میں نفرت کا استعارہ بن کر اسی طرح معتوب کردار ہوتا، جیسا کہ اب ہے۔ اس سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں اول یہ کہ حضرت امام حسین نگاہ بصیرت سے مالامال تھے اور دوسرا یہ کہ یزید کوتاہ نظر تھا۔ حضرت امام حسین کو اپنے قافلے والوں کے کٹے ہوئے سروں کی فکر نہیں تھی بلکہ فکر یہ تھی کہ جس دین کی حفاظت کا بار ان کے کاندھوں پر آن پڑا ہے اس کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے، وہ اپنے فیصلے کو کربلا کی زمین تک محدود نہیں رکھ رہے تھے بلکہ ان کی نظر آنے والے زمانوں پر تھی۔ وعدہ معاف گواہوں، لوٹوں، وفاداریاں تبدیل کرنے والوں اور امریکہ کی گیڈر بھبھکیوں سے ڈر کر بزدلانہ فیصلوں کے جس دور میں ہم زندہ ہیں اس میں حضرت امام حسین کے اس فیصلے کی آسانی سے سمجھ نہیں آتی۔ اس میں دنیاداروں کے اندر رہ رہ کر یہ سوال سر ابھارتا ہے کہ کربلا میں یزید کی اطاعت قبول کر کے حضرت امام حسین نے اپنی جان کیوں نہ بچائی اور یزید سے بدلہ لینے کے لئے کسی مناسب وقت کا انتظار کیوں نہ کیا؟ اگر خدانخواستہ حضرت امام حسین ایسا کر گزرتے تو آج انسانی تاریخ کے دامن میں کچھ بھی نہ ہوتا۔ حضرت امام حسین نے قربانی دیکر نہ صرف اپنے عظیم المرتبت نانا کے دین کی لاج رکھی بلکہ انسانیت کو بھی ندامت اور شرمندگی سے بچا لیا۔
آج اگر کمزروں کی طرف سے وقت کے یزیدوں کے خلاف مزاحمت جاری ہے تو اس کا درس بھی واقعہ کربلا نے دیا ہے یہ قربانی نہ ہوتی تو دنیا میں یزید غالب آ چکا ہوتا۔ ہر دور میں اس کی بیعت کرنے والے دست بستہ اس کے سامنے جھک جاتے۔ یہ حضرت امام حسین کی عظیم قربانی کی ہی اعجاز ہے کہ یزید چودہ سو سال پہلے بھی شرمندہ تھا اور آج کا یزید بھی بظاہر فتح یاب ہونے کے باوجود شرمندگی سے دوچار ہے۔ واقعہ کربلا کا یہ پیگام بھی دائمی ہے کہ ہر دور کا یزید طاقت کے لحاظ سے برتر ہو گا۔ مگر اس کی اخلاقی اور اصولی طاقت حسینیت کے پیروکاروں کی نسبت انتہائی کمتر ہو گی۔ وہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر ممکن ہے فتوحات حاصل کر لے مگر وہ اپنے مخالفین کو سر جھکانے پر مجبور نہیں کر سکے گا۔ آج ملت اسلامیہ کے مقابلے میں وقت کا یزید کون ہے؟ ظاہر ہے یہ کردار تقدیر نے امریکہ کو سونپ دیا ہے لیکن قابل غور نکتہ یہ ہے کہ وہ زمینوں اور ملکوں کو فتح کرنے کے باوجود مسلمانوں کو اپنی بیعت پر مجبور نہیں کر سکا۔ سر کٹانے والے اس کے سامنے کسی بھی حالت میں سر جھکانے کو تیار نہیں۔ آج نہیں تو کل یزید وقت نے بھی اسی ذلت و خجالت سے دوچار ہونا ہے جو اصل یزید سے لیکر اس کے پیروکار یزید وقت کا مقدر رہنی ہے۔ یہی واقعہ کربلا کا پیغام ہے جو کل بھی سچ تھا، آج بھی سچ ہے اور آنے والے کل میں بھی اسی طرح سچ ہو گا۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

حضرت پیر عادل

Posted on 29/07/2005. Filed under: عشق ومعرفت | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , |

آپ کا اصل نام سید سلطان غیاث الدین تھا۔ آپ کی ولادت مشہد میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم مشہد سے حاصل کرنے کے بعد آپ بغداد تشریف لے گئے اور شرف الدین ابو اسحاق شامی کی بیعت کی اور ان سے خرقہ خلافت حاصل کیا۔ اپنے مرشد کی ہدایت پر تبلیغ اسلام کے لئے رخے سفر باندھا اور اپنے خاندان کے ہمراہ ہندوستان کا سفر کیا۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے پہلا پڑاؤ حسن ابدال کے قریب کیا پھر آپ جمن شاہ تحصیل و ضلع لیہ میں وارد ہوئے اور لوگوں کو اسلام کی تبلیغ کرنے لگے۔ انہی ایام کے دوران آپ کے فرزند سید علی شاہ المعروف سید سیدن شاہ اپنے دوستوں کے ہمراہ شکار کی غرض سے نکلے۔ تواریخ ڈیرہ غازیخان کے مصنف منشی حکیم چند اس واقعے کے متعلق لکھتے ہیں کہ سید علی شاہ اپنے دوستوں کے ہمراہ جنگل میں شکار کھیلنے گیا اس نے ایک چرواہے سے بکرا مانگا اس نے نہ دیا تو سید علی کے ملازموں نے جبراَ بکرے کو ذبح کر دیا۔ اسی دوران چرواہے نے سید علی پر وار کیا سید علی نے جوابی وار کے کے چرواہے کو مار ڈالا۔ چرواہے کی ماں سید سلطان کے پاس فریاد لےکر گئی۔ سید سلطان نے سید علی کو چرواہے کی والدہ کے سپرد کر دیا اور کہا کہ خون بہا لیکر سید علی کو چھوڑ دو کیونکہ میرا ایک ہی بیٹا ہے۔ اس کو مارنے سے تیرا بیٹا زندہ نہیں ہو جائےگا لیکن وہ نہ مانی اور وارثان نے سید علی کو قتل کر دیا۔ اس وقت سے سید سلطان پیرعادل کے لقب سے مشہور ہوئے۔ اس واقعہ کے متعلق ایک روایت یہ بھی ہے کہ سید علی شاہ دوستوں کے ہمراہ شکار کے لئے جنگل میں گئے اور شکار کھیلتے ہوئے ایک تیر غلطی سے چرواہے کو جا لگا جو جنگل میں اپنی بکریاں چرا رہا تھا اور وہ چرواہا اس تیر کے لگنے کی وجہ سے ہلاک ہو گیا- اس چرواہے کی ماں سید سلطان کے پاس فریاد لےکر آئی۔ آپ نے بہت افسوس کیا اور بڑھیا نہ مانی اور کہا کہ خون کا بدلہ خون ہونا چاہیے۔ سید سلطان نے اپنے اکلوتے لڑکے کو تلاش کرنا شروع کر دیا۔ حاحبزادہ خوف کے مارے ایک درخت کے کھوکھلے تنے چھپ گیا۔ سید سلطان تلاش کرتے ہوئے اس کے درخت کے قریب سے گزرے۔ ناگہاں قمیض کا ایک ٹکڑا درخت کے تنے سے باہر نظر آیا۔ سید سلطان نے لڑکے کو باہر نکال لیا اور اپنے اکلوتے بیٹے کو گڈریے کے خون بہا میں قتل کرا دیا۔
بیان کرتے ہیں کہ سید سلطان نے اپنے بیٹے کی لاش کو صندوق میں بند کیا اور جمن شاہ سے بھی رخت سفر باندھا اور قصبہ بدھان پور (بعض کتب میں بدھان پور کو برھان پور لکھا گیا ہے جو کہ صیحیح نہیں ہے) کے قریب پڑاؤ ڈالا اور سید علی شاہ کو دفن کیا۔ اس کے بعد آپ نے لوگوں میں تبلیغ اسلام کا سلسلہ شروع کر دیا۔ لوگ جوق در جوق آپ کے پاس آنے لگے اور اسلام قبول کرنے لگے۔ اس علاقے کے سردار بدھان کو یہ بات ناگوار گزری جب حضرت پیرعادل نے بدھان کو قبول اسلام کی دعوت دی تو اس نے نہ صرف حق کو ٹھکرا دیا بلکہ آپ کے خلاف جنگ پر آمادہ ہو گیا۔ بالآخر آپ کو بدھان سے جنگ کا سامنا کرنا پڑا جس میں آپ کے تین بھائی شہید ہوئے تاہم بدھان کو شکست فاش ہوئی اور وہ جنگ میں مارا گیا۔ یہ علاقہ جو کبھی بہت سے خداؤں کے ماننے والوں کا گڑھ تھا آپ کی آمد کے بعد اسلام کا مرکز بن گیا۔
میرانی بلوچوں کی تاریخ کے مصنف ارشاد احمد خان عباسی تحریر کرتے ہیں کہ غازی خان دوئم کی یہ خواہش تھی کہ کسی مرشد کامل کی بیعت کی جائے، چنانچہ اس نے چاروں اطراف گھڑسوار روانہ کئے اور انہیں ہدایت کی کہ کسی کامل پیرطریقت کا کھوج لگائیں۔ غازی خان دوئم گھڑسواروں کے پیچھے ہاتھی سوار بھی روانہ کر دیئے اور انہیں حکم دیا کہ جس آستانہ ہر کوئی ہاتھی بیٹھ جائے اس کو فوری طور پر اطلاع دی جائے تاکہ وہ بیعت کے لئے وہاں حاضر ہو۔ بہرحال ایک ہاتھی آستانہ پیرعادل میں جاکر بیٹھ گیا غازی خان دوئم کو اس کی اطلاع دی گئی تو وہ اپنے چند ملازموں کے ہمراہ آستانہ پیرعادل آیا۔ جب غازی خان دوئم حضرت پیرعادل کے حجرے میں داخل ہوا اور سلام عرض کیا تو دفعتاَ حضرت پیرعادل کا ہاتھ مبارک لحد سے باہر نمودار ہوا اور غازی خان دوئم دست بیعت ہوا۔ بیان کرتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد بہت عرصہ تک آپ اسی طرح ہاتھ مبارک لحد سے نکال کر لوگوں کو بیعت کرتے رہے۔ بالآخر حضرت سلطان سخی سرور نے آپ کے مزار پر حاضر ہر کر درخواست کی کہ آپ قبر مبارک سے ہاتھ باہر نکال کر بیعت کرنا ختم کریں اور پھر یہ سلسلہ بند ہوگیا۔ آپ کی لحد مبارک میں وہ سوراخ اب تک موجود ہے جہاں سے آپ نے ہاتھ باہر نکالا تھا۔
آپ لاولد فوت ہوئے۔ آپ کا وصال ٤٦٥ھ میں ہوا جبکہ ایک روایت میں ٣٧٠ھ بھی آپ کے وصال کا سال بتایا جاتا ہے۔ آپ کا مزار مبارک ڈیرہ غازی خان کے شمال میں تقریباَ ١٥ میل کے فاصلے پر قصبہ پیرعادل میں مرجع خلائق ہے۔ نواب غازی خان دوئم نے حضرت پیرعادل کا بہت خوبصورت اور شاندار روضہ تعمیر کرایا اور اس کے ساتھ ہی آپ کے فرزندارجمند سید علی شاہ المعروف سید سیدن شاہ کا بھی پختہ مزار تعمیر کرایا۔
حضرت پیرعادل کے مزار کی تعمیر ٨١٥ھ ماہ رمضان کے آغاز میں شروع ہوئی اور ٨١٩ھ محرم الحرام میں پایہ تکمیل کو پہنچی۔ مزار کی تعمیر کے سلسلہ میں اینٹیں اور دوسرا تعمیراتی سامان کہنہ ڈیرہ غازی خان چھاؤنی سے ہاتھیوں سے اٹھا کر لایا جاتا تھا۔ مقبرہ غازی خان اول اور مقبرہ پیرعادل فن تعمیر کے بہترین شاہکار ہیں اور ان کی طرز تعمیر بھی ایک جیسی ہے۔ نواب غازی خان دوئم کو اس کی وصیت کے مطابق دربار حضرت پیرعادل کے قریب دفن کیا گیا۔ یہ قبر آج بھی دربار کے جنوبی دروازے کے باہر موجود ہے اور قبرستان بھی موجود ہے جبکہ مزار کی مشرقی سمت ایک بڑا سا احاطہ ہے جس میں سیمنٹ کا فرش لگا ہوا ہے اور کچھ کچی قبریں بھی موجود ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...