حقیقتِ زمانہ

Posted on 31/05/2009. Filed under: تاریخ, تعلیم, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , |

نشوونما ایسا باقاعدہ عمل ہے، جو کبھی ٹھہرتا نہیں۔ مسلسل اپنی مخصوص رفتار سےچلتا رہتا ہے۔ قدرت کےعوامل میں ٹھہراؤ بالکل نہیں۔ اِن کےمشاہدہ کےلیئے نگاہ کا ٹھہراؤ ضروری ہے۔نشوونمائی عمل کو اگر روکا جائے تو وُہ بگاڑ لاتے ہیں۔ ایسی رکاوٹیں بربادی کا سبب بھی بن جایا کرتی ہیں۔ یہ ایسےعوامل ہیں جو قدرت کےرنگوں میں زندگی کی دانش کو سمجھنے کے لیئے لازم ٹھہرے۔ بیج کا پودا بننا ہر موسم میں ایک سا دِکھائی دیتا ہے مگر ہر دانہ ایک ہی ذائقہ نہیں رکھتا۔ یونہی بیرونی موسم اور حالات بھی افزائش پر اثر انداز ہوتےہیں۔
انسان کی نشوونما اُسکے مخصوص حالات کےمطابق ہو رہی ہے۔ جیسا کہ بیشمار نباتات مصنوعی ماحول سے مصنوعات کی بہترین صورت بن چکی ہیں۔ اسی طرح قدرتی ماحول سے ناواقفیت، مخصوص پیدا کردہ نظریات اِنسان کی افزائشی سوچ کو مخصوص اور محدود کر رہے ہیں مگر نتائج اُلجھنوں، بیماریوں اور رکاوٹوں کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔
گنوار اقوام عروج حاصل کر کےمہذب ہوجایا کرتی تھی، نئی تہذیبوں کا جنم ہوا کرتا تھا۔ آج کی مہذب دُنیا وحشت سے دہشت پیدا کر رہی ہے۔ حقیقی تہذیبیں ختم ہو رہی ہیں۔ اِنکی موت اَصل دانشور کی موت ہے۔ دانشور اپنی حکمت سے ہر دور میں تہذیب کو حالات کے تحت نئی روح بخشتا ہے۔ یوں وُہ اقوام اپنی بنیادوں پر ٹھہرتے ہوئےتعمیری مراحل سےگزرتی ہیں۔
آج کا intellectual دانا و بینا نہیں رہا۔ وُہ اپنی intellectual ہونے کے زعم میں اسقدر مبتلا ہے کہ وُہ قوم کو تعمیر نہیں بخش رہا۔ وُہ انوکھی بات پیش کرنے کی عادت سے ملت کو مایوسی اور اضطراب دے رہے ہیں۔
تجزیہ خیالات کو فروغ دیتا ہے، دروغ پن چاشنی کے باوجود بیزاری پیدا کرتا ہے۔ واویلے حکمت سے عاری ہوتے ہیں۔وُہ بس سامعین کی رائے بدلتے ہیں۔ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ ایک سچ کہتا ہے ننانوے کچھ اور ہی کہتے ہیں، حقیقت حقائق سے کچھ اور ہی حقیقت بن جاتی ہے۔ پیش آنےوالی نہیں، پیش کی جانے والی افواہ بیش بہاء انداز سے کی جاتی ہیں۔ آج انسان حقیقت سے محروم ہو رہا ہے، حقیقی چہرے معدوم ہو چکے ہیں۔ ہم کیا جانے حقیقی خوشی، حقیقی غمی کیا ہیں؟
ہم اصل حقائق سے بےخبر رکھے تو گئے ہی ہیں، اب غافل بھی ہو چکے ہیں۔ آزادیِ خیال ہی غلامیِ افکار ثابت ہوئی ہے۔ اِنسان آزادی کا خواہاں رہا ہے مگر آج ہنگامی خبر کی سرُخیوں نے انسانی سوچ کو مائوف کر ڈالا ہے۔ منفی پروپیگنڈہ کا رجحان انگریز نے برصغیر میں یوں پیدا کیا کہ جس قبیلہ نے انگریز کی غلامی قبول نہ کی، اُسکو معاشی و معاشرتی بدحالی سے دوچار کیا، جرائم پیشہ اور نکمے افراد حالات سے پیدا کیئے، ذاتوں کی تحقیق کے نام پر ایسے قبائل کےخلاف منفی اور غیر حقیقی آراء پیش کیں۔ مزید معاشرہ میں کردار کشی اور مکروہ القاب کےذریعہ سے اُنکے لیئےایسے حالات پیدا کر ڈالے کہ انگریز کا یہ افسانہ حقیقت کا روپ دھار گیا۔ آج بھی ہم ایسے پروپیگنڈہ کا شکار قبائل سے نفرت، اُنکی مسخ شدہ تاریخ سے کرتے ہیں۔ جبکہ اصل تاریخ سے ہم ناواقف ہو چکے ہیں۔ کھرل سپت رائےاحمد خان کھرل صاحب کی انگریز کے خلاف مزاحمت کا سامنا آج بھی کر رہے ہیں۔
پروپیگنڈہ expire ہو کر بھی کسی اور انداز سے سامنے آیا ہے۔ رِیت وہی رہی، مذہب کے نام پر اپنے مفاد کی جنگ، دین کی اشاعت کے نام پر اقتدار کی ہوس، حصول تخت کی خاطر مستحکم سلطنت کے نام پر نامزد ولی عہد بھائیوں کا قتل، آج جارحیت کے نام پر ہر طرح کی جارحیت۔ نعرے بدل چکے، امن اور سکون کے نام پر نیندیں کروٹیں بدلنے لگیں۔
جب ہم کسی کا سکون تباہ کرتے ہیں تو اپنا سکون بھی برباد کر ڈالتے ہیں۔ سوال تو اب یہ آن ٹھہرا ، اِن حالات میں امن، محبت، بھائی چارہ اور رواداری کا درس دینے والوں کے ہاں اب خیال کیا پرورش پائےگا؟ انقلاب یا انتقام جو بھی نتیجہ ہو تعمیر نہیں غارت گری ہے۔ ”صوفیاء کی سرزمین تعمیر“ کے حالات ہٹلر یا نپولین پیدا کرنے چل پڑے ہیں۔ منصوبہ ساز بہت کچھ طے کر چکے ہیں، جبکہ تقدیر ملت کچھ اور ہی طے ہے۔ (فرخ )

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...