نیاسالِ مبارک

Posted on 20/12/2009. Filed under: اسلام, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , |

سالِ گزشتہ ہم نےسیکھا، زندگی مرضی کا نام نہیں
لمحوں کی خوشی، لمحوں کی غمی سراپا زندگی ہوئیں
ہر آمدِ سال پہ، اِک نیا پیغام پیش کیا جاتا ہے
اختتامِ سال پہ، حالات ایک ہی پیغام دیتے ہیں

ہم یومِ سال مناتے ہیں۔ ہر روز کوئی نہ کوئی دِن منسوب کر کےگزارتے ہیں؛ عقیدت، جذبات اور احترام سے۔ ہر گزرنے والا دِن یادوں، غموں اور خوشیوں کےنقوش اذہان میں مرتب کر رہا ہے۔ ہم ہر نئے سال کے لیے جدا جدا پیغام ایک دوسرے کے لیے بھیجتے ہیں، نیک تمناؤں کا پیغام۔
ہمارا نیا سال جذبات سے بھرپور ہوتا ہے۔ مگر کبھی سوچا سال کا آغاز اور اختتام کیا ہوتا ہے؟ ہم اپنےعزیز و اقارب کو ایسےمواقع پہ یاد رکھتے ہیں۔ کیا اللہ کے حضور کوئی دعا، کوئی نفل ۔۔۔۔ ادا کرتے ہیں؟ کوئی صدقہ و خیرات غرباء میں اپنی استطاعت کےمطابق تقسیم کرتے ہیں؟ ہاں لوگ ایک کام ضرور کرتے ہیں، Wish!۔ نیت ہی حسن عمل ہے۔ آج کچھ جملے پیش ہوتے ہیں۔ایک ہی بات کئی طرح کےلوگ کہتے ہیں۔ آپکے دِل کے تار ہر مرتبہ مختلف طرح سےحرکت کرتے ہیں۔ شاید ایسی شاذونادر صورتحال کو کیفیت کہتے ہیں۔
ہماری زندگی میں بیک وقت کئی سال محو ِسفر ہیں؛ دنیاوی سال، مذہبی سال، قومی سال، پیدائشی سال۔ یہ انفرادی سال جدا جدا اپنےانداز ِزمانہ میں چل رہے ہیں۔
پیدائشی سال ہر فرد کا اپنے منفرد انداز سے چلتا ہے۔ اُس روز لوگ تعمیر و ترقی کے لیئے دُعائیں دیتے ہیں۔کچھ لوگ اُس روز اللہ کےحضور سر بسجود ہوتے ہیں، اللہ کی راہ میں خیرات تقسیم کرتے ہیں، سائل کو خصوصاً اُس روز خالی ہاتھ جانے نہیں دیا جاتا، قرآن خوانی کا اہتمام ہوتا ہے، غرباء میں کھانا تقسیم کرتے ہیں۔
قومی سال کےموقع پر تمام اقوام قومی سطح پر احتساب کرتے ہوئے مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرتی ہیں۔ مقصد؛ یوں قومیں طےکرتی ہیں کہ منزل کی بنیادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقی و تعمیر کی شاہراہ پہ آگے کا سفر۔
مذہبی سال کا اختتام بھی قربانی کا درس اور آغاز بھی (حج اور محرم کےمواقع)۔ دونوں قربانیاں عظیم ہستیوں نے اللہ کی راہ میں صبر اور رضائےالٰہی کی خوشنودی کے لیے دیں۔خوف خدا بھی ایک درس ہوا۔
سالِ نو کا تہوار ”روش ہشنہ“ یہودی مناتے ہیں۔ اس تہوار کا آغاز استغفار اور اختتام کفارہ سے کرتے ہیں۔ آغاز سال کے روز خصوصی دعاؤں اور آنے والے سال کے لیے اچھی اُمید میں مٹھائی کھانے کے ذریعہ منایا جاتا ہے۔
دنیاوی (شمسی) سال تمام دُنیا کےلو گ مناتے ہیں۔ نیک دعاؤں کے پیغامات ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں ، بغیر کسی امتیاز کے۔
برصغیر کے بادشاہ بھی ہر نئے سال کےآغاز پہ عوام میں اپنے ذاتی خزانہ سے کچھ مال تقسیم کرتےتھے۔ جہانگیر اپنی خود نوشت تزک جہانگیری میں لکھتا ہے:
”اول میں سونےسے تلا تین من دس سیر چڑھا۔ ہندوستانی حساب سے پھر باقی فلزات (دھاتیں) اور اقسام خوشبویوں اور مکیفات میں بارہ دفعہ تلا اور اسی طرح سال میں دوبار میں اپنا وزن کرتا ہوں کہ ہر بار سونا چاندی اور باقی فلزات اور ریشم اور عمدہ کپڑوں میں اور اقسام غلہ سے وزن کرتا ہوں۔ اول شروع سال شمسی میں دوبارہ قمری میں اور نقدی اور سامان اپنےتلنےکا الگ تحویلداروں کو دیتا ہوں کہ فقراء اور حاجت مندوں کو تقسیم کر دیں۔“
آئیے ہم سب بھی نئےسالوں کا آغاز بانٹنے کےعمل سےکریں۔ محبت، خوشیاں، غموں، تجربات کو بانٹیے۔ اپنی زندگیوں کو منفی و تخریبی سوچ سے بچاتے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن رکھیے۔ ہر سال اپنے اعزہ، اقربا و احباب کو نیک خواہشات اور دعاؤں میں یاد رکھیے۔ ایسےخوبصورت عمل جذبات کے ساتھ جاری رہیں۔وقت سے پہلی، سب سے پہلےدُعا کا پیغام دینا یا دیر سے پیغام دینا معنی نہیں رکھتا، ہاں! دُعا اہم ہوتی ہے۔
(فرخ نور)

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

حج اور عمرہ کرایوں میں اضافہ

Posted on 04/06/2008. Filed under: پاکستان, اسلام | ٹيگز:, , , , , , |

پی آئی اے کے ایم ڈی اعجاز ہارون نے کہا ہے کہ رواں سال حج اور عمرے کے کرایوں میں سو فیصد اضافے کا امکان ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قرار دیا ہے۔ اس بارے انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے پہلے ہی خسارے میں ہے اور مزید خسارہ برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
پی آئی اے کے ایم ڈی اعجاز ہارون کا یہ بیان انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے کہ حج اور عمرے کے کرایوں میں سو فیصد اضافہ ہو گا اور ان کی یہ منطق بھی سمجھ سے باہر ہے کہ یہ سب کچھ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہے جو انتہائی غیر معقول اور ناقابل قبول ہے۔ موصوف سے پوچھنے والا کوئی نہیں کہ تیل کی قیمتوں تو ابھی ایک دو ماہ سے بڑھنا شروع ہوئی ہیں اور پھر ان میں کمی کا اندیشہ بھی بدستور موجود ہے۔ آپ ان سے آج کی بڑھی ہوئی تیل کی قیمتوں سے کرایہ وصول کر رہے ہیں جبکہ حاجیوں کی روانگی چھے ماہ بعد ہو گی۔
ابھی یکم مئی کو پی آئی اے نے عمرہ کرایوں میں ٦٣٠٠ اور اس کے بعد ٢٦ مئی کو ٧٨٠٠ روپے کا یکمشت اضافہ کیا ہے۔ جس کی وجہ سے عمرہ کرایہ ٣٤٠٠٠ سے بڑھ سے ٤٨٠٠٠ ہو گیا ہے اور ٹھیک انہی دنوں میں پی آئی اے کے ایم ڈی کا یہ کہنا کہ کرایوں میں سو فیصد اضافہ یعنی ٤٨٠٠٠ کا دگنا ٩٦٠٠٠ کر دیا جائے، انتہائی ظالمانہ سوچ اور استحصالی نظام کی عکاس ہے۔ جو پی آئی اے کے ارباب و اختیار کی لوٹ مار اور کرپشن کو واضح کرتی ہے۔
حیران کن بات یہ کہ بنگلہ دیش کی ائیرلائن بیمان ائیر اور انڈیا کی ائیرلائن ائیرانڈیا بھی اسی مارکیٹ اور آئل کمپنیوں سے تیل خرید کرتی ہیں جہاں سے پی آئی اے کرتی ہے مگر ان ائیرلائیز کا کرایہ پاکستان سے انتہائی کم ہے جبکہ سفر پاکستان سے بہت زیادہ۔ انتہائی اہم بات یہ بھی کہ انڈیا نے گزرے سال میں ایک لاکھ دس ہزار عازمین کو حج کے لئے روانہ کیا اور اس پر تین ارب کی سبسڈی دی جو پاکستان جیسے اسلامی ملک کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ خود میں بارہ سال سے اس فیلڈ سے منسلک ہوں۔ ان بارہ سالوں میں میں نے لندن، پیرس، نیویارک اور دیگر سیکٹر کے کرایوں میں اتنی تیزی اور تسلسل سے اضافہ کبھی نہیں دیکھا جتنی تیزی سے حج اور عمرے کے کرایوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
کیا تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت کا اطلاق صرف حج اور عمرے کی سعادت حاصل کرنے والوں پر ہوتا ہے؟
کیا لندن، پیرس، نیویارک اور دیگر سیکٹر کی پروازوں خصوصی ڈسکاؤنٹ ملتا ہے؟
پی آئی اے کے ایم ڈی کا یہ بھی کہنا ہے کہ پی آئی اے پہلے ہی خسارے میں ہے اور مزید خسارہ برداشت نہیں کیا جاسکتا تو کیا یہ سارا خسارہ مذہبی فریضے کی ادائیگی کرنے والوں سے پورا کیا جائے گا؟۔ پی آئی اے نے دگنے اضافے کی جو سمری بھجوائی ہے اس میں صرف حج اور عمرے پر جانے والی پروازوں میں دگنے اضافے کا ذکر ہے جبکہ دیگر ممالک میں جانے والی پروازں کے کرایوں میں اضافے کا کوئی ذکر نہیں۔
انتہائی افسوسناک صورتحال ہے۔ مقامی سطح پر چلنی والی ائیرلائیز ائیربلیو اور شاہین ائیر پی آئی اے سے انتہائی کم کرایہ لینے کے باوجود انتہائی منافع بخش کاروبار کر رہی ہیں جبکہ پی آئی اے اپنے زیادہ کرایہ کے ساتھ بھی نقصان میں جا رہی ہے۔ اصل میں اس وقت پی آئی اے وہ سونے کی مرغی بن چکی ہے جسے ہر کوئی ہڑپنے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔ اس وقت کرایوں میں اضافے کی بجائے ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے جو پی آئی اے کی آمدنی، اخراجات اور گوشواروں کا جائزہ لے اور یہ پتہ لگائے کہ عوام کے خون پسینے کی کمائی آخر کہاں جا رہی ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

مذہبی تہوار یا سیزن

Posted on 03/10/2005. Filed under: پاکستان, اسلام | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

ڈاکٹر مظہر ایاز ایک بھلے مانس انسان ہیں وہ جتنے بڑے ڈاکٹر ہیں اس سے کہیں بڑھ کر بڑے انسان ہیں، اکثر کہتے ہیں کہ گھر میں ہماری قدر نہیں کبھی باہر چل کر دیکھو پھر ہماری حیثیت آپ لوگوں کو معلوم ہو گی وہ سچ ہی کہتے ہیں کیونکہ پچھلے دنوں وہ چین میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کر کے آئے ہیں۔ اس سے پہلے ملائشیا گئے تھے، ملائشیا جب پہنچے تو وہان ان کا کوئی قومی تہوار منایا جا رہا تھا تہوار کی خوشی میں پورے ملائشیا میں ریلوے فری چل رہی تھی اندرون ملک ائیرلائنز نے اپنے کرایے ریلوے کے برابر کر دئیے تھے کھانے پینے کی اشیاء بھی سستی تھیں، ہوٹلوں کے کرایوں میں کمی آ چکی تھی، یہ سب دیکھ کر وہ حیران رہ گئے کیونکہ وہ ایک ایسے ملک سے آئے تھے جہاں شب برآت، رمضان، عید، بڑی عید، حج، عمرہ اور دیگر تمام تہواروں کو لوٹ کھسوٹ کے دن سمجھ کر منائے جاتے ہیں۔
اسی طرح یورپ میں ایسٹر اور کرسمس کے تہواروں پر دکاندار، تاجر اور کمپنیوں کے مالک قیمتوں میں از خود کمی کر کے “ نوپرافٹ نولاس“ پر دینا شروع کر دیتے ہیں اور حکومتوں کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ تمام دکانوں، شاپنگ سنٹروں پر کلیرنس سیل کے بورڈ لگے نظر آتے ہیں، یورپ کی تمام ائیرلائنز اپنے کرایوں میں کمی کر دیتی ہیں، ملازمین کو خصوصی الاؤنس دیا جاتا ہے ان ممالک میں حکومتوں نے نہ ہی کبھی ان تہواروں کے موقع پر اشیائے ضرورت کی ارزاں فراہمی کے لئے تاجروں سے مذاکرات کئے ہیں اور نہ ہی کبھی از خود قیمتیں مقرر کر کے تاجروں کو ان کا پابند بنایا گیا ہے، مگر اس کے برعکس یہاں پاکستان میں قومی اور مذہبی تہواروں کو سیزن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ شب برآت، رمضان، عید، بڑی عید کا منافع خور اور ذخیرہ اندوز بڑی بے چینی سے انتظار سے انتظار کرتے ہیں۔ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں تیس سے پچاس فیصد تک اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ پی آئی اے کی مثال ہی لے لیجیئے جو ماہ رمضان میں عمرہ کے کرایوں میں بے پناہ اضافہ کر دیتی ہے، ماہ محرم الحرام کے بعد جب عمرہ شروع ہوا تو کراچی جدہ کراچی کا کرایہ 24000 روپے تھا مگر ماہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی اسے بڑھا کر 33600 روپے کر دیا گیا۔ ماہ رمضان تو اللہ تعالٰی کا مہینہ ہے مگر آپ ذرا بازار جا کر دیکھ لیں ماشاءاللہ اہل ایمان نے ہر چیز کے نرخ بڑھا رکھے ہیں۔ آٹا، گھی، چینی، سبزی، فروٹ، جوتے، کپڑے، مہندی، چوڑیاں غرض کسی بھی چیز کو ہاتھ لگائیں اس کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہوں گی۔ ہر رمضان اور عید کو درجنوں لوگ غربت کی سولی چڑھ جاتے ہیں، کیا یہی ہے ایک اسلامی، فلاحی ریاست کا رمضان اور عید ؟ اس سے لگتا ہے کہ ہم لوگ کس قدر اخلاقی، روحانی، اور مذہبی زوال کا شکار ہیں۔
اگر تمام دکاندار، تاجر اور کمپنیوں کے مالکان ایک مہینہ عوام کو دے دیں اور یہ عہد کر لیں کہ وہ اپنی اشیاء نوپرافٹ نولاس پر فروخت کریں گے تو عبادت کا یہ مہینہ آسان ہو جائے۔ اور خود کشیوں کا سلسلہ رک جائے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...