شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ

Posted on 27/12/2009. Filed under: اسلام | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

امام حسن اور امام حسین دو بھائی تھے۔ حسن بڑے تھے اور حسین چھوٹے تھے۔ یہ دونوں شہزادے جب فرش زمین پر چلتے اور مدنیہ طیبہ کی گلیوں میں گھومتے تھے، جب مکہ معظمہ میں پھرتے تھے، کبھی احرام پہنے ہوئے، کبھی حلہ یمانی پہنے ہوئے تو ان کا ملاح دور سے دیکھ کر یہ کہتا تھا ‘‘معلوم ہوتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جا رہے ہیں۔
ان کا پورا وجود نورانی تھا اور کیوں نہ ہو کہ

تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
تو ہے عین نور تیرا سب گھرانہ نور کا

یہ شہزادے جب مدنیے کی گلیوں سے گزرتے تھے تو درودیوار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو آتی تھی اور کتنی عجیب بات ہے کہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “کیا زمین پر جنت کے نوجوانوں کے سردار کو دیکھنا چاہتے ہو؟“ صحابہ نے عرض کی! “بیشک“ تو ارشاد فرمایا “ جس کو جنت کے نوجوانوں کے سردار کو دیکھنے کی تمنا ہو وہ حسن اور حسین کو دیکھ لے“ چنانچہ فرمایا “الحسن و الحسین سید شباب اھل الجنۃ“ (ترمذی شریف)
یہ دونوں جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ گلشن مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے مہکتے ہوئے پھول ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلشن کے اس مہکتے پھول (حسین) کو بڑی بے دردی سے امت کے ان منافقین، بدبخت اور بدنصیب لوگوں نے کربلا کے میدان مسل دیا۔
کربلا کا واقعہ کیا ہے؟
امام حسین مظلوم تھےاور یزید پلید تھا، بد نصیب اور بدبخت اور شقی القلب تھا، زمین پر چلتا پھرتا شیطان تھا، بدی کی قوتوں کی علامت تھا جو نیکی کی قوتوں سے ٹکرا رہا تھا۔ امام حسین نیکی کی قوتوں کی علمبردار تھے اور رحمانی قوتوں کی نمائندگی فرما رہے تھے۔ یہ رحمانی اور باطنی قوتوں کا مقابلہ تھا۔ حق و باطل کا معرکہ تھا۔ ظالم و مظلوم کا مقابلہ تھا اور اس مقابلہ میں دنیا نے دیکھا کہ مظلوم نے ظالم سے مقابلہ کیا، ظالم ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا اور مظلوم آج بھی مقبول ہے کہ زمین کے ذرے ذرے پہ اس کا ذکر ہو رہا ہے۔
امام عالی مقام، امام حسین رضی اللہ عنہ شہید کربلا، دافع کرب و بلا نیکی کی قوتوں کے ترجمان تھے اور شیطانی قوتوں کے مقابل صف آراء تھے۔ انہوں نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ یزید کی عظیم الشان سلطنت کے سامنے جھکے بھی نہیں اور بکے بھی نہیں۔
ہم لوگ گرمی سے تڑپتے ہیں، پیاس لگتی ہے تو فریج کا ٹھنڈا پانی پیتے ہیں اور ہم میں سے بہت سے لوگ اکثر قرآن مجید پڑھتے ہیں، تلاوت کرتے ہوئے، وظلائف پڑھتے ہوئے زبان خشک ہونے لگتی ہے۔ دل چاہتا ہے کہ پانی پی لوں تو رک کر ٹھنڈا پانی پی لیتے ہیں اور پھر تلاوت شروع کرتے ہیں۔ لیکن یہ منظر کہیں نظر نہیں آتا کہ ایک شخص تلاوت قرآن کر رہا ہے تیروں کی بارش ہو رہی ہے خون بہہ رہا ہے۔ یہ منظر صرف کربلا والوں ںے دیکھا ہے۔ یہ نظارہ چشم فلک نے صرف کربلا میں دیکھا کہ ایک شخص زخموں سے چور ہے، خون بہہ رہا ہے، تیروں کی بوچھاڑ ہو رہی ہے اور آ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسا سجدہ بھی آپ نے کہیں نہ دیکھا ہو گا تیروں کی برسات ہو رہی ہے، خون بہہ رہا ہے لیکن امام عالی مقام کی جبین اپنے رب کے حضور جھکی ہوئی ہے۔ یہ وہ سجدہ تھا جس کی نظیر صرف نواسہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نظر آتی ہے۔
آج ہم حج کرنے جاتے ہیں، آمدنی کیسی ہے، کہاں سے آئی، کس طرح آئی، سرکاری حج ہے یا غیر سرکاری حج، سود کے پیسے ہیں یا رشوت کے، نشے کی کمائی ہے یا اسمگلنگ کی؟ یہ علحیدہ بات ہے لیکن بڑے آرام سے ہوائی جہاز سے جاتے ہیں، ائرکنڈیشنڈ کاروں میں سفر ہوتا ہے، ہوٹل میں قیام ہوتا ہے یا اپنے کسی جاننے والے کے پاس یعنی کتنے آرام اور پرمسرت طریقے سے حج ہوتا ہے۔ لیکن چشم فلک نے ایسا نظارہ کبھی نہیں دیکھا ہو گا کہ وہ جو صبح شام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں کھیلتے تھے۔ جن کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوئے سجدے سے سر نہیں اٹھایا اور خلاف توقع سجدہ طویل ہو گیا۔ ناز و نعم میں پلے ہوئے حسین جب حج کرنے جاتے تو سواری ہوتی مگر استعمال نہیں فرماتے تھے۔ ایک دو نہیں، پوری زندگی میں امام حسین نے ٢٥ حج پیدل کئے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ “ نیرے اہل بیت سفینہ نوح کی طرح ہیں“ جس نے اہل بیت کے دامن کو تھام لیا اس نے دامن مصطٰفٰے کو تھام لیا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا حقدار ہو گیا۔ اس لئے کہ جنت کی کنجی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہے۔ کیونکہ میرے آقا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ “جنت کی چابیاں میرے دست اقدس میں ہیں“
جنت کی کنجیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست کرم میں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالٰی کی نعمتوں کو لیتے ہیں اور اپنی امت میں تقسیم کرتے ہیں تو امت کو قیامت تک جو نعمت ملتی رہے گی وہ درِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے گی اور ظاہر ہے امام حسن و حسین خون رسول ہیں اس خون کی اللہ تعالٰی کے یہاں کیا قدروقیمت ہو گی اگر امت قدر نہ کرے تو یہ امت پر بات ہو گی۔

اتر جو امۃ قتلت حسینا
شفاعۃ جدہ یوم الحساب

یعنی امت کے وہ لوگ شفاعت کے حقدار کیونکر ہوں گے جنہوں نے امام حسین کو شہید کیا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

ہر نظارہ ۔ سبحان اللہ

Posted on 06/06/2009. Filed under: اسلام | ٹيگز:, , , , , , , |






Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

حج اور عمرہ کرایوں میں اضافہ

Posted on 04/06/2008. Filed under: پاکستان, اسلام | ٹيگز:, , , , , , |

پی آئی اے کے ایم ڈی اعجاز ہارون نے کہا ہے کہ رواں سال حج اور عمرے کے کرایوں میں سو فیصد اضافے کا امکان ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قرار دیا ہے۔ اس بارے انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے پہلے ہی خسارے میں ہے اور مزید خسارہ برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
پی آئی اے کے ایم ڈی اعجاز ہارون کا یہ بیان انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے کہ حج اور عمرے کے کرایوں میں سو فیصد اضافہ ہو گا اور ان کی یہ منطق بھی سمجھ سے باہر ہے کہ یہ سب کچھ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہے جو انتہائی غیر معقول اور ناقابل قبول ہے۔ موصوف سے پوچھنے والا کوئی نہیں کہ تیل کی قیمتوں تو ابھی ایک دو ماہ سے بڑھنا شروع ہوئی ہیں اور پھر ان میں کمی کا اندیشہ بھی بدستور موجود ہے۔ آپ ان سے آج کی بڑھی ہوئی تیل کی قیمتوں سے کرایہ وصول کر رہے ہیں جبکہ حاجیوں کی روانگی چھے ماہ بعد ہو گی۔
ابھی یکم مئی کو پی آئی اے نے عمرہ کرایوں میں ٦٣٠٠ اور اس کے بعد ٢٦ مئی کو ٧٨٠٠ روپے کا یکمشت اضافہ کیا ہے۔ جس کی وجہ سے عمرہ کرایہ ٣٤٠٠٠ سے بڑھ سے ٤٨٠٠٠ ہو گیا ہے اور ٹھیک انہی دنوں میں پی آئی اے کے ایم ڈی کا یہ کہنا کہ کرایوں میں سو فیصد اضافہ یعنی ٤٨٠٠٠ کا دگنا ٩٦٠٠٠ کر دیا جائے، انتہائی ظالمانہ سوچ اور استحصالی نظام کی عکاس ہے۔ جو پی آئی اے کے ارباب و اختیار کی لوٹ مار اور کرپشن کو واضح کرتی ہے۔
حیران کن بات یہ کہ بنگلہ دیش کی ائیرلائن بیمان ائیر اور انڈیا کی ائیرلائن ائیرانڈیا بھی اسی مارکیٹ اور آئل کمپنیوں سے تیل خرید کرتی ہیں جہاں سے پی آئی اے کرتی ہے مگر ان ائیرلائیز کا کرایہ پاکستان سے انتہائی کم ہے جبکہ سفر پاکستان سے بہت زیادہ۔ انتہائی اہم بات یہ بھی کہ انڈیا نے گزرے سال میں ایک لاکھ دس ہزار عازمین کو حج کے لئے روانہ کیا اور اس پر تین ارب کی سبسڈی دی جو پاکستان جیسے اسلامی ملک کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ خود میں بارہ سال سے اس فیلڈ سے منسلک ہوں۔ ان بارہ سالوں میں میں نے لندن، پیرس، نیویارک اور دیگر سیکٹر کے کرایوں میں اتنی تیزی اور تسلسل سے اضافہ کبھی نہیں دیکھا جتنی تیزی سے حج اور عمرے کے کرایوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
کیا تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت کا اطلاق صرف حج اور عمرے کی سعادت حاصل کرنے والوں پر ہوتا ہے؟
کیا لندن، پیرس، نیویارک اور دیگر سیکٹر کی پروازوں خصوصی ڈسکاؤنٹ ملتا ہے؟
پی آئی اے کے ایم ڈی کا یہ بھی کہنا ہے کہ پی آئی اے پہلے ہی خسارے میں ہے اور مزید خسارہ برداشت نہیں کیا جاسکتا تو کیا یہ سارا خسارہ مذہبی فریضے کی ادائیگی کرنے والوں سے پورا کیا جائے گا؟۔ پی آئی اے نے دگنے اضافے کی جو سمری بھجوائی ہے اس میں صرف حج اور عمرے پر جانے والی پروازوں میں دگنے اضافے کا ذکر ہے جبکہ دیگر ممالک میں جانے والی پروازں کے کرایوں میں اضافے کا کوئی ذکر نہیں۔
انتہائی افسوسناک صورتحال ہے۔ مقامی سطح پر چلنی والی ائیرلائیز ائیربلیو اور شاہین ائیر پی آئی اے سے انتہائی کم کرایہ لینے کے باوجود انتہائی منافع بخش کاروبار کر رہی ہیں جبکہ پی آئی اے اپنے زیادہ کرایہ کے ساتھ بھی نقصان میں جا رہی ہے۔ اصل میں اس وقت پی آئی اے وہ سونے کی مرغی بن چکی ہے جسے ہر کوئی ہڑپنے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔ اس وقت کرایوں میں اضافے کی بجائے ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے جو پی آئی اے کی آمدنی، اخراجات اور گوشواروں کا جائزہ لے اور یہ پتہ لگائے کہ عوام کے خون پسینے کی کمائی آخر کہاں جا رہی ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

مذہبی تہوار یا سیزن

Posted on 03/10/2005. Filed under: پاکستان, اسلام | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

ڈاکٹر مظہر ایاز ایک بھلے مانس انسان ہیں وہ جتنے بڑے ڈاکٹر ہیں اس سے کہیں بڑھ کر بڑے انسان ہیں، اکثر کہتے ہیں کہ گھر میں ہماری قدر نہیں کبھی باہر چل کر دیکھو پھر ہماری حیثیت آپ لوگوں کو معلوم ہو گی وہ سچ ہی کہتے ہیں کیونکہ پچھلے دنوں وہ چین میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کر کے آئے ہیں۔ اس سے پہلے ملائشیا گئے تھے، ملائشیا جب پہنچے تو وہان ان کا کوئی قومی تہوار منایا جا رہا تھا تہوار کی خوشی میں پورے ملائشیا میں ریلوے فری چل رہی تھی اندرون ملک ائیرلائنز نے اپنے کرایے ریلوے کے برابر کر دئیے تھے کھانے پینے کی اشیاء بھی سستی تھیں، ہوٹلوں کے کرایوں میں کمی آ چکی تھی، یہ سب دیکھ کر وہ حیران رہ گئے کیونکہ وہ ایک ایسے ملک سے آئے تھے جہاں شب برآت، رمضان، عید، بڑی عید، حج، عمرہ اور دیگر تمام تہواروں کو لوٹ کھسوٹ کے دن سمجھ کر منائے جاتے ہیں۔
اسی طرح یورپ میں ایسٹر اور کرسمس کے تہواروں پر دکاندار، تاجر اور کمپنیوں کے مالک قیمتوں میں از خود کمی کر کے “ نوپرافٹ نولاس“ پر دینا شروع کر دیتے ہیں اور حکومتوں کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ تمام دکانوں، شاپنگ سنٹروں پر کلیرنس سیل کے بورڈ لگے نظر آتے ہیں، یورپ کی تمام ائیرلائنز اپنے کرایوں میں کمی کر دیتی ہیں، ملازمین کو خصوصی الاؤنس دیا جاتا ہے ان ممالک میں حکومتوں نے نہ ہی کبھی ان تہواروں کے موقع پر اشیائے ضرورت کی ارزاں فراہمی کے لئے تاجروں سے مذاکرات کئے ہیں اور نہ ہی کبھی از خود قیمتیں مقرر کر کے تاجروں کو ان کا پابند بنایا گیا ہے، مگر اس کے برعکس یہاں پاکستان میں قومی اور مذہبی تہواروں کو سیزن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ شب برآت، رمضان، عید، بڑی عید کا منافع خور اور ذخیرہ اندوز بڑی بے چینی سے انتظار سے انتظار کرتے ہیں۔ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں تیس سے پچاس فیصد تک اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ پی آئی اے کی مثال ہی لے لیجیئے جو ماہ رمضان میں عمرہ کے کرایوں میں بے پناہ اضافہ کر دیتی ہے، ماہ محرم الحرام کے بعد جب عمرہ شروع ہوا تو کراچی جدہ کراچی کا کرایہ 24000 روپے تھا مگر ماہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی اسے بڑھا کر 33600 روپے کر دیا گیا۔ ماہ رمضان تو اللہ تعالٰی کا مہینہ ہے مگر آپ ذرا بازار جا کر دیکھ لیں ماشاءاللہ اہل ایمان نے ہر چیز کے نرخ بڑھا رکھے ہیں۔ آٹا، گھی، چینی، سبزی، فروٹ، جوتے، کپڑے، مہندی، چوڑیاں غرض کسی بھی چیز کو ہاتھ لگائیں اس کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہوں گی۔ ہر رمضان اور عید کو درجنوں لوگ غربت کی سولی چڑھ جاتے ہیں، کیا یہی ہے ایک اسلامی، فلاحی ریاست کا رمضان اور عید ؟ اس سے لگتا ہے کہ ہم لوگ کس قدر اخلاقی، روحانی، اور مذہبی زوال کا شکار ہیں۔
اگر تمام دکاندار، تاجر اور کمپنیوں کے مالکان ایک مہینہ عوام کو دے دیں اور یہ عہد کر لیں کہ وہ اپنی اشیاء نوپرافٹ نولاس پر فروخت کریں گے تو عبادت کا یہ مہینہ آسان ہو جائے۔ اور خود کشیوں کا سلسلہ رک جائے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...