شاہ است حسین، بادشاہ است حسین

Posted on 28/01/2007. Filed under: اسلام | ٹيگز:, , , , |

شاہ است حسین ، بادشاہ است حسین
دین است حسین دین پناہ است حسین
سرداد نہ داد دست در دست یزید
حقّا کہ بنائے لاالہ است حسین

خواجہ معین الدین چستی

 

—-

انسان کوبیدا ر تو ھو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین

جوش ملیح آبادی

 

 

—-

اے کربلا کی خاک اس احسان کو نہ بھول
تڑپی ہے تجھ پہ لاش جگر گوشۂ بتول

مولانا ظفر علی خاں

 

 

—-

قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

ذبح عظیم

 

 

—-

لو آگیا محرم فضا پر سوز زرہ زرہ سوگوار
حسینیت پہ ہوا جو ظلم و ستم اس پہ ہر آنکھ ہے اشک بار
شہادت حسین نے دیا ہر تہذیب کو یہ زریں اصول
سر چڑھ جائے تیرا نیزے کی نوک پر باطل کر اطاعت نہ کر قبول

سانحہ کربل سے ہے لرزاں ہر فرد عبرت کوش
سسکیاں لی رہی ہے فضا ہچکیاں نوائے سروش
ساری زمین ہے نوحہ کناں آسماں بھی ہے رو رہا
ہر نظر ہے اشک فشاں ہر نظارا خموش

اے حسین نواسے نبی سبط علی
ہر تاریخ تری شہادت لکھے گی بحروف جلی
فقط اک تو نے کیا پار عشق کا ساگر
دو عالم میں نہیں تجھ سے بڑا کوئی ولی

حسین تری خوشبو سے مہکے مومن کے دل کی کلی
حسین اھداناالصراط ہے تیری گلی
حسین ترے لہو سے ہوا چراغ اسلام روشن
حسین تری شہادت سے نئی زندگی اسلام کو ملی

حسین تو سردارجواناں خلد بریں
حسین تو سوار شانہ ختم المرسلین
اے شہسوار کربلا اے ذبح عظیم
جام شہادت پی کے بچایا تو نے اللہ کا دین

اے پیکر شجاعت اے ابن علی
رسم حریت ہے تجھ سے چلی
اصول ترا ہے جہاں گیر و جہاں آرا
فاسق کی اطاعت سے ہے شہادت بھلی

بخشی ہے کربلا نے حق کو دوام زندگی
حسینیت ہمیشہ ہے زندہ ہوئی یزیدیت کی شام زندگی
طاقت نہیں ہے حق مگر حق رکھتا ہے طاقت
یزیدیت کو ہر دور میں اٹھانا پرے گی شرمندگی

کم ظرف ہیں وہ جنکے چھلکیں   جام صبر
ہو جائیں رحمت خدا وندی سے مایوس اور بکیں دام کفر
اللہ اللہ دیکھیے مخدرات عصمت کا حوصلہ
شام غریباں میں بھی ہے ذکر حمد و ثناءاستحکام و شکر

دین اسلام اک گلستاں حسیں اس کے باغباں
ذات عالی عجب ہے مالی لہو سے اپنے پالے شجر ایماں
حسین عشق کا سمندر صبر کا اک بحر بیکراں
جو بھی چلے اس ڈگر اسی کے ہیں زماں و مکاں

سانحہ کربلا سے پہلے سادہ تھی تاریخ اسلام
حسین تیرے لہو نے اسے رنگین کر دیا
عظیم انقلاب کے لیے چاہیے اک ذبح عظیم
حسین کے لہو کی سرخی نے اسلام کو سرخرو کر دیا

حسین شہادت کربلا میں اک سدا بہار گلاب
جسکے رنگ و بو کریں ہر دور میں آمریت کا احتساب
حسین ترے لہو کی سرخی سے گلوں میں لالی و شفق صبح و شام
اے شبہہ رسالت ماب اے خون ابو تراب تری پیاس نے کیا سارا عالم سراب

حسین صبر کا پیکر امن کا سفیر
حسین کفر کا منکر حق کا اسیر
حسین محسن انسانیت اسلام کی جگیر
حسین عصر کا دلبر وفا کی تصویر

بندگی حسین کی نہیں کوئی نظیر
کیا سجدہ عشق ادا سایہ تیغ و تیر
دیا حسین نے سبق یہ اہل ایماں کو
سر مقتل بھی نہ بیچو اپنا ضمیر

حسین تو رویائے ابراہیم کی تعبیر
حسین تجھ سے بڑھی اسلام کی توقیر
جو ترا سر اقدس چڑھا نیزے کی نوک پر
مانند خورشید کی اس نے ظلمت کی اخیر

حسین تیری رگوں میں ہے خون خیبر شکن
تو محبوب خدا کا محبوب اے شاہ زمن
اے سردار جوانان ارم جوانمردی ہے تجھ پہ ختم
اے امام عالی اے جگر گوشہ بتول تو حق کا نمائندہ تو سفیر کہن

اے غم شبیر تو نے شہادت کا قرینہ سکھادیا
اے عباس دلگیر تو نے وفا پر مر مر کے جینا سکھادیا
اے اصغر تیری آخری ہچکی ہے آمریت کا طمانچہ
اے زینب ہمشیر تری سخاوت تو نے سارا خزینہ لٹا دیا

اے شہدائے کربلا تمھیں کیسے سلام عقیدت پیش کروں
زبان و الفاظ میں نہیں طاقت تمہاری عظمت پیش کروں
آل رسول جگر گوشہ بتول کی مظلومیت پہ ہے نظر اشک فشاں
اے ذبح عظیم تری ڈگر بہادو ں اپنا لہو، ہو اجازت جاں پیش کروں

حسین سے چمکا اسلام کے مقدر کا ستارہ
ڈگمگاتے اسلام کو حسینیت کا سہارا
حسین نے بخشا ہے اسلام کو وقار
حسین اک اصول جہانگیر و جہاں آرا

حسین پیارا دین کا سہارا
راز عشق ہوا حسین سے آشکارا
یزیدیت پہ لعنت ہر اک نے پکارا
زندہ ہے زندہ رہے گا حسین ہمارا

حسین ذبح عظیم ہے شہادت تری
اے ابن علی حیدری شجاعت ہے تری
تری غلامی سے ملے دوجہاں کی شاہی
گدا کو شہنشاہ بنانا ہے سخاوت تری

غم شبیر ی سے ہوا کربلا کا جگر چاک
طور سینہ سے پاک ہے کربلا کی خاک
کہ اس خاک میں شامل ہے خون پنجتن
اسی لہو سے ہے بنیاد سلطنت پاک

حسین تری عظمت کو سلام
حسین تری ہمت کو سلام
حسین ترے صبر کو سلام
حسین تری استقامت کو سلام

حسین تری شہامت کو سلام
حسین تری استدامت کو سلام
حسین ترے فقر کو سلام
حسین تری امامت کو سلام

حسین تیری وفا کو سلام
حسین تری قضا کو سلام
حسین ترے سجدے کو سلام
حسین تیری ادا کو سلام

حسین تری صفا کو سلام
حسین تیری علا کو سلام
حسین ترے رتبے کو سلام
حسین تری کف پا کو سلام

حسین تیری قناعت کو سلام
حسین تری عبادت کو سلام
حسین ترے عشق کو سلام
حسین تری شہادت کو سلام

زاہداکرام

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

آئیے ماتم کریں

Posted on 20/01/2007. Filed under: اسلام, سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ظلم اپنے عروج پر ہوتا ہے تو مظلوم کی آہ سوزاں ہمیشہ اس کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ ظلم مٹنے والی چیز ہے کیونکہ
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
جبکہ مظلومیت مٹ کر اپنی بقا کو پہنچتی ہے۔ ابتدا کائینات سے ہی ظالم اور مظلوم کی جنگ جاری ہے۔ قابیل سے لیکر آج کے قاتلین تک کا ایک ہی کردار رہا ہے اور ہابیل سے لیکر آج تک کی مظلومیت ایک ہی صف میں کھڑی نظر آتی ہے۔
دنیا میں جتنے بھی جابر و ظالم گزرے ہیں ان کے ظلم کے خلاف ماتم کیا گیا۔ ماتم مظلوم کی حمایت اور ظالم سے نفرت کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے تاکہ ظالم کا چہرہ دنیا کے سامنے آ سکے۔ اس لئے ۔۔
آئیے ماتم کریں! ہر ظالم کے خلاف چاہے وہ کسی بھی روپ میں چھپا ہو اور
آئیے نفرت کا اظہار کریں! اہل کوفہ والوں سے جہنوں نے امام حسین کو خط تو لکھے مگر وفا نہ کی۔
آئیے نفرت کا اظہار کریں! ابن زیاد سے جس نے امام حسین کے بارے میں کہا ‘اگر وہ اپنے آپ کو ہمارے حوالے نہیں کرتے تو پھر بلا تامل حملہ کرو، خون بہاؤ، لاشیں بگاڑو۔
آئیے نفرت کا اظہار کریں! یزیدی فوج سے اور
آئیے لعنت بھیجیں! کربلا کے بہتر شہیدوں کے قاتلین پر
آئیے لعنت بھیجیں! حرملہ پر
آئیے لعنت بھیجیں! شمرذوالجوشن پر
آئیے لعنت بھیجیں! علی اصغر کے حلق میں تیر مارنے والے پر
آئیے لعنت بھیجیں! سنان بن انس پر جس نے امام حسین کا سر تن سے جدا کیا
آئیے لعنت بھیجیں! امام حسین کے جسم مبارک کو روندھنے والوں پر
آئیے لعنت بھیجیں! امام حسین کے لبوں پر چھڑی مارنے والوں پر
آئیے لعنت بھیجیں! ہر یزیدی عمل پر اور یزید کے ہر پیروکار پر
آئیے ماتم کریں ظالموں کے خلاف اور خراج تحسین پیش کریں کربلا کے شہدا کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! غفاری و جابری لڑکوں کی بہادری اور فداکاری کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! علی اکبر بن حسین کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! قاسم بن حسین کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! اہل بیت اور بنی ہاشم کے مقتولوں کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! اس لڑکے کو جس نے کربلا کے میدان میں حضرت امام حسین کو دشمنوں کے سامنے اکیلا دیکھ کر مدد کو دوڑ پڑا اور حضرت کے پہلو میں جا پہنچا عین اسی وقت بحر بن کعب نے آپ پر تلوار اٹھائی لڑکا فورا چلایا ‘او خبیث! میرے چچا کو قتل کرے گا‘ سنگدل حملہ آور نے اپنی تلوار لڑکے پر چھوڑ دی معصوم جان نے اپنی جان سے بے پرواہ ہو کر تلوار کے وار کو اپنے ہاتھ پر روکا، ہاتھ کٹ گیا ذرا سی کھال لگی رہ گئی۔
آئیے خراج تحسین پیش کریں! علی کے سورما بیٹے حسین کو
وہ حسین! جس کے لبوں کی خشکی دیکھ کر فرات کی موجیں آب آب ہو کر رہ گئیں۔
وہ حسین! جس نے اپنے نانا کی امت کے چراغ کو بچانے کے لئے اپنے گھر کے تمام چراغوں کو بجھا دیا۔
وہ حسین! جو موت کے سامنے اس حقارت سے مسکرایا کہ خود موت کی نبضیں رک گئیں۔
میدان کربلا میں کوئی اقتدار کی جنگ نہ تھی بلکہ حق و باطل کا معرکہ تھا جسے حسین نے سر کر لیا۔ وہاں حسین کمزور تھا اور یزید طاقتور، قانونِ فطرت کے مطابق یزید حسین کو مٹا دیتا لیکن حسین نے اپنی مظلومیت کی ایک ہی ضرب سے قاتلین کو مٹا دیا۔ حسین ہار کر امر گیا، یزید جیت کر فنا ہو گیا۔ حسین آج بھی کروڑوں دلوں میں راج کر رہا ہے، ان دلوں میں یزید کے لئے نفرت ہی نفرت ہے اور حسین کے لئے پیار ہی پیار۔
کربلا کی داستان کو زندہ رکھنے کا اصل مقصد یہی ہے کہ جب بھی ظالم سر اٹھائے، سر کچل دیا جائے۔ واقعہ کربلا سے یہی سبق ملتا ہے کہ ظالم کی اطاعت کسی صورت میں جائز نہیں بلکہ اس کے خلاف آواز بلند کی جائے اور اسکے گھناؤنے چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے۔ اس لئے
آئیے عالمی قاتلین سے نفرت کا اظہار کریں! جہنوں نے کشمیر و فلسطین، عراق اور افغانستان میں قتل و غارت گری اور خون خرابے کا بازار گرم کر کھا ہے۔
آئیے خود کو سپر منوانے والوں سے نفرت کریں! جن کے دل و دماغ مسلمانوں کو تباہ برباد کرنے میں لگے رہتے ہیں۔
آئیے ماتم کریں! ان لوگوں کا جو بے وقت کی موت مارے گئے۔
آئیے ماتم کریں! کشمیر و فلسطین، عراق اور افغانستان میں خون میں لت پت تڑپتی لاشوں کا اور آنسو بہائیں ان بیگناہوں کا جو بے خبری کی موت مارے گئے۔
آئیے ماتم کریں! لیکن کس کس کا ماتم یہاں تو ہر گھر سے بینوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔ یتیم بچے آسمان کی طرف منہ اٹھائے دھاڑیں مار کر پوچھ رہے ہیں کہ آخر ہمارا قصور کیا ہے؟ کس جرم کی سزا ہے کہ ظالموں نے پل بھر میں ہنستے کھیلتے گھر کو ماتم کدے میں تبدیل کر دیا۔
اے خون کو پانی کی طرح بہانے والو!
اے ڈالروں کے پجاریو!
اے غیرملکی اشارے پر ناچنے والو!
اے فرعون کے جادوگرو!
اے نمرود کے خزانو!
اے ابوجہل کے ساتھو!
اے شداد کے جنتیو!
اے ابو طاہر قرامطی کے شیدائیو!
اے حسن بن صباح کے فدائیو!
اے یزیدی لشکر کے سردارو!
اے چنگیز خان کے چمچو!
اے ہٹلر کے جانشینو!
اے اسرائیل کے گندے دماغو!
اے بھارت کی سہنو!
اے امریکہ کی فوجو!
اے خفیہ جگہوں سے ہٹ کرنے والو!
ڈرو اس وقت سے جب تمھارے ہاتھوں میں مارے جانے والے بیگناہوں کے یتیم بچوں کی چیخیں آسمان سے ٹکرائیں گی۔ یتیم بچوں کے ننھے منے ہاتھ اوپر اٹھیں گے۔ جب ان کی توتلی زبان سے تمھارے لئے بدعا نکلے گی اور تمھیں خوب معلوم ہے کہ خدا کسی مظلوم اور یتیم کی آواز جلد سنتا ہے اور پھر تمھیں زمین و آسمان میں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ خدا کا قہر آخرکار تمھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ دنیا میں بھی تم ذلیل و خوار ہو گے اور آخرت میں یہ یتیم بچے تمھیں گریبان سے پکڑے گھسیٹتے ہوئے خدا کے حضور پیش کریں گے اور چیخ چیخ کر کہیں گے کہ یہی ہمارے قاتل ہیں، یہی ہمارے مجرم ہیں تو اس وقت تمھاری کوئی پش و پیش اور کوئی بہانہ تمہیں نہ بچا سکے گا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...