عذاب کا خطرہ! غور طلب تحریر

Posted on 09/06/2009. Filed under: پاکستان, رسم و رواج, عشق ومعرفت | ٹيگز:, , , , , , |






Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

خوابوں، آرزوؤں اور امیدوں کی سر زمین

Posted on 12/08/2007. Filed under: پاکستان, تاریخ, سیاست | ٹيگز:, , , , , , , |

پاکستان خوابوں، آرزوؤں اور امیدوں کی سر زمین ہے جس کا مستقبل لامحدود اور روشن ہے۔ پاکستان کے ماضی ساٹھ سالوں پر نظر دورائی جائے تو اندھیروں اور اجالوں کا ایک طویل سفر نظر آتا ہے۔ قیام پاکستان کے وقت جذبے جوان تھے۔ امنگوں سے بھرپور لوگ تابناک مستقبل کے متلاشی تھے۔ ہر طرف اجالے ہی اجالے تھے۔ قائد اعظم کی شکل میں قوم کو اپنا مسیحا بھی میسر تھا مگر پھر نہ جانے اس ملک کو کس کی نظر لگ گئی۔ اہل اقتدار نے میوزیکل چیئرز کی گیم شروع کر دی اجالے دھندلانا شروع ہو گئے، اندھیروں کے مہیب سائے چھانے لگے اور پھر بات یہاں تک پہنچی کہ جمہوریت کی شمع ہی گل کر دی گئی۔ پاکستان کے اجالے کہیں کھو سے گئے۔ ہر آنے والے نے نظام حکومت کے نت نئے تجربے شروع کر دیئے اور یہ بھی اسی ملک کی کہانی ہے کہ پہلے ٢٦ سال تک اس ملک کا متفقہ آئین بھی نہ بن سکا۔ اس نوزائیدہ ملک کو قائم ہوئے ابھی ٢٥ سال بھی نہ ہوئے تھے کہ اسے دولخت کر دیا گیا۔ غرضیکہ اس ملک کے ماضی کے ہر موڑ پر اپنوں اور بیگانوں کی خود غرضیوں اور زیاتیوں کا ایک طویل سلسلہ نظر آتا ہے۔ ماضی کے ان اندھیروں سے نجات مشکل تو ہے ناممکن نہیں۔ قیام پاکستان کی ساٹھویں سالگرہ کی آمد آمد ہے اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اجالوں کی طرف سفر شروع کریں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر تابناک مستقبل کی تعمیر کریں۔

 

 

 

 

ملتے جلتے عنوان

نظریاتی مملکت

ہیپی برتھ ڈے پاکستان

فرمانِ قائد

جشنِ آزادی

ہمیں تکمیل کی حد تک اسے تعمیر کرنا ہے

یوم آزادی مبارک

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

پورا احسان نہ اُتر جائے

Posted on 11/07/2007. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , , , , , , |

چند برس پہلے قائداعظم، علامہ اقبال اور مولانا محمد علی جوہر نے فیصلہ کیا کہ چلو پاکستان چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیسا چل رہا ہے۔ تینوں بارہ اگست کو اسلام آباد پہنچے۔ پندرہ اگست کو پی آئی اے کے جہاز سے واپس جانے کے لئے اسلام آباد کے ہوائی اڈے پہنچے۔ ان چار دنوں میں اسلام آباد میں کسی ایک نے بھی نہ پہچانا کہ یہ تینوں کون ہیں۔ تینوں کے واپسی کے ٹکٹ کنفرم نہیں ہیں۔ لاؤنج میں بیٹھے آپس میں باتیں کررہے ہیں۔ علامہ اقبال درمیان میں کرسی کے ہتھے پر ہاتھ رکھے آنکھیں بند کیئے بیٹھے ہیں۔ مولانا غور سے اقبال کو دیکھتے ہیں۔

 

مولانا: قائد ایسا لگتا ہے علامہ اب کوئی نیا خواب دیکھ رہے ہیں۔
اقبال (چونک کر) یہ بات نہیں ہے مولانا۔ جس آدمی نے پاکستان کا خواب دیکھا پی آئی اے والے اْس سے کہہ رہے ہیں تْو چانس پر ہے۔
قائد: علامہ چانس کا مطلب آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔ چانس پر تو ہم تینوں ہیں۔ جن کے ٹکٹ کنفرم نہیں ہوتے ہیں ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ چانس پر ہیں۔
اقبال: ایک بات ماننا پڑے گی قائد تم اسلام آباد میں بہت مشہور ہو۔ چودہ اگست کو اسلام آباد کے ہر گلی کوچے سے ایک ہی گانے کی آواز آرہی تھی

یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
اے قائداعظم تیرا احسان ہے احسان

قائد: علامہ میرا آدھا احسان تو یہ لوگ سن انیس سو اکہتًر میں اْتار چکے ہیں۔ حالات دیکھ کر ڈر لگ رہا ہے کہیں پورا احسان نہ اْتار دیں
مولانا: غلطی آپکی ہے قائد – جب آپ نے مجھے پاکستان کا نقشہ دکھایا تھا تو مجھے کچھ خاص اچھا نہیں لگا تھا۔
قائد: مولانا آپ بھول رہے ہیں۔ آپ نے نقشہ دیکھ کر کہا تھا ماشااللہ ماشااللہ
مولانا: آپ کو سننے میں غلطی ہوئی میں نے ماشااللہ ماشااللہ نہیں مارشل لا مارشل لا کہا تھا۔
اقبال: حیرت ہے ان چار دنوں میں کسی ایک نے بھی ہم لوگوں کو نہیں پہچانا۔
قائد: ایسا ہوتا ہے علامہ – جو ہمارا کام تھا وہ ہم کرچکے اور بہت ایمانداری کے ساتھ۔
مولانا: قائد آپکے ساتھ سامان کتنا ہے؟
قائد: سوٹ کیس لایا تھا جس میں پاکستان کا نقشہ تھا۔اب واپس جارہا ہوں۔ نقشہ بریف کیس میں آگیا- سوٹ کیس میں نے اسلام آباد میں چھوڑ دیا۔
مولانا: علامہ آپکا سوٹ کیس بہت بڑا ہے۔ کیا صوبہ پیک کرلیا؟
اقبال: نہیں مولانا اس میں خودی کو پیک کیا ہے۔ اسلام آباد کی سڑکوں پر پڑی ہوئی نظر آئی۔ میں نے سوچا یہاں خودی صرف ہوائی جہاز کے ذریعے بلند ہوسکتی ہے۔
قائد: مولانا آپکی گود میں کیا ہے؟
مولانا: میں نے باڑے سے ایک وی سی آر خریدا ہے۔
علامہ: کیوں؟
مولانا: کسی نے مجھے بھیا کا ویڈیو دیا ہے۔ بیسٹ آف شوکت علی۔
علامہ: آپ کے بھیا شوکت علی کے زمانے میں ویڈیو کہاں تھا۔ یہ ویڈیو پنجاب کے فوک سنگر شوکت علی کا ہے۔
مولانا: پھر ہم کیا کریں؟
علامہ: مجھے دے دیں میری سمجھ میں آجائے گا۔
مولانا: ایک انسان نے پاکستان کا خواب دیکھا- ایک نے اْس کی تعبیر پیش کی اور یہاں ان دونوں کو کسی نے بھی نہیں پہچانا۔ کمال ہے۔
ایک بچی بھاگتی ہوئی قائد کے پاس آتی ہے اور کہتی ہے۔
بچی: آٹوگراف پلیز
قائد: بیٹی آپکا نام؟
بچی: آمنہ
قائد: بہت پیارا نام ہے۔ مجھے چھوٹے بچوں سے امید ہے کہ یہ بڑے ہوکر اس سرزمین کا نام روشن کریں گے
مولانا: بیٹی آپ نے کیسے پہچانا کہ یہ کون ہیں؟
بچی: میں نے نہیں ڈیڈی نے مجھ سے کہا جلدی جاکر آٹوگراف لے لو بہت مشہور ایکٹر کرسٹوفرلی بیٹھے ہوئے ہیں۔
قائد بچی سے آٹوگراف بک واپس لے کر اپنا نام کاٹ دیتے ہیں
قائد: بیٹی میں وہ نہیں ہوں ۔
پی آئی اے کا ایک ملازم آتا ہے
ملازم: آپ تینوں کے ٹکٹ کنفرم ہوگئے ہیں آپ لوگ جہاز پر جاسکتے ہیں۔
جہاز میں ۔
ایئر ہوسٹس: آپ لوگوں کو ہمارا کھانا اگر اچھا لگا ہو تو اس کارڈ پر اپنی رائے کا اظہار کردیں۔
مولانا: (کارڈ لینے کے بعد کارڈ پر لکھتے ہیں)

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

علامہ: کیا لکھ رہے ہیں مولانا؟
مولانا: تمہارا شعر لکھ دیا۔

تحریر: انور مقصود
بشکریہ۔ بی بی سی اردو

Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

لاٹری

Posted on 13/05/2005. Filed under: رسم و رواج, طنز و مزاح | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , |

معلوم نہیں کون سے دشمنوں نے امریکا اور یورپ کے لاٹری والوں کو ہمارا ای میل ایڈریس دیدیا۔ وہاں سے ہر دوسرے تیسرے دن دو چار ای میل آ ہی جاتے ہیں جن میں ہمارے کروڑپتی بننے کی بشارت دی گئی ہوتی ہے ان کی میلز سے ایسا لگتا ہے کہ بس دو چار دنوں میں ہی ہم کروڑپتی بننے والے ہیں، ان میلز میں ہمیں اپنا مالی مشیر مقرر کرنے کا بھی مشورہ دیا جاتا، ان کے خیال میں اتنا مال سنبھالنا ۔۔۔ ہمارے بس کی بات نہیں، کاروں کے جدید ترین ماڈلوں کی تصاویر اور دنیا کے خوبصورت مناظر، ساحلوں کی نقشہ گری کچھ اس انداز میں کی جاتی کہ ہم خوابوں میں اپنے آپ کو محل خریدتے اور پجارو میں سفر کرتے نظر آتے ۔ اسی طرح کی ایک ای میل جو ہمیں تقریبا پانچ ماہ پہلے موصول ہوئی جس نے ہماری نیندیں حرام کر دیں، اس کا تعلق دو کروڑ نوے لاکھ کی لاٹری سے تھا اور اس میں کسی ورلڈ ریسرچ کمیٹی نے ڈیرہ غازیخان کے منیراحمدطاہر کو ضمانت مہیا کر دی تھی کہ وہ امریکن پاور لاٹری میں جس کی رقم دو کروڑ نوے لاکھ کو پہنچ چکی ہے جیتنے کا حقدار قرار دیتی ہے۔ میل میں یہ بھی تحریر تھا کہ آپ جیسا ہیرا موتی ہم نے ہفتوں کی محنت کے بعد دریافت کیا ہے۔ اس فہرست میں متعدد نام تھے مگر پھر یہ مختصر ہوتی گئی اور جب بلکل ہی مختصر ہو گئی تو اس میں آپ کا نام ہیرے کی طرح جگمگا رہا تھا۔ اس میں تحریر تھا کہ منیراحمدطاہر کو کمیٹی اب انعام کی دوڑ میں حصہ لینے کا حق دیتی ہے اور مندرجہ ذیل نمبر الاٹ کرتی ہے جن سے ایک کروڑ ڈالر تک کی جیت تو یقینی ہے بس منظوری فارم پر کر کے اتنے ڈالروں کے ساتھ ارسال کر دیں، یہ سب پڑھ کر ہماری قوت مدافعت جواب دے چکی تھی لیکن ہم اس دوڑ میں چھلانگ لگانے کے سلسلے میں تھوڑے متذبذب بھی تھے مگر میل میں فارم کے ساتھ اس مال و دولت سے کام لینے کے طریقے بھی درج تھے جو ہمیں ملنے والی تھی۔ بس پھر کیا تھا، ہم نے اس دوڑ میں چھلانگ لگا دی اور میل کے انتظار میں بیٹھ گئے۔ کوئی بیس پچیس دنوں بعد ایک میل موصول ہوئی جس میں تحریر تھا کہ کمیٹی کے پاس ہماری انعامی رقم جمع ہے جو مبلغ نوے امریکی سنیٹ کے برابر ہے۔ کمیٹی نے بڑی سخاوت سے کام لیتے ہوئے اس میں دس سنیٹ اپنی طرف سے شامل کر کے ہم سے پوچھا تھا کہ ایک ڈالر کی یہ رقم ہم تک کیسے پہنچائی جائے، ابھی ہم اس صدمے سے سنھبلنے بھی نہ پائے تھے کہ ان کا دوسرا میل موصول ہوا، یہ ایک دعوت نامے کی شکل میں تھا سب سے اوپر بڑے خوبصورت الفاظ میں لکھا تھا “ ہم ایک پارٹی کا اہتمام کر رہے ہیں۔آپ کو پہلے سے مدعو کرتے ہیں کہ آپ ہمارے گیسٹ آف آنر بنیئے“ نیچے کی تحریر کا ایک ایک لفظ پیار، محبت اور عقیدت میں ڈوبا ہوا تھا اورکچھ یوں شروع ہوتا تھا“ پیارے منیراحمدطاہر! اس سال کروڑ پتیوں کے لئے ہماری کمیٹی میں مہمان خصوصی بننے کی منظوری دے کر ازرہ کرم ہماری عزت افزائی کریں۔ ہم ہر سال جیتنے والوں کے اعزاز میں اس قسم کی تقریب کا اہتمام کرتے ہیں اور اس سال اس میں آپ کی موجودگی کے خواہاں ہیں۔ منیراحمدطاہر! 250 خصوصی قسم کے افراد کے اس بین الاقوامی اجتماع میں شامل ہو کر اپنی زندگی کے اہم ترین سال کا لطف اٹھائیے۔ منیراحمدطاہر اس تقریب کا دولہا ہو گا جہاں اسے بہت سے دلچسپ افراد سے ملنے کا موقعہ میسر آئیگا۔“ خیر ہم ایک بار دھوکہ کھا چکے تھے اب ہم نے ان کے چکموں سے محفوظ رہنے کا فیصلہ کر لیا تھا جس پر اب تک قائم ہیں مگر ان کی ای میلز اب بھی برابر آ رہے ہیں بلکہ ان لوگوں نے آسڑیلیا، ہالینڈ، فرانس اور اٹلی کی لاٹری کمپنیوں تک کو ہمارا ای میل غالبا فروخت کر دیا ہے جن کے ای میلز سے جان چھڑانا ہمارے لئے مشکل ہو گیا ہے۔ ان سے بچنے کا کوئی راستہ کسی کے پاس ہو تو وہ مہربانی کر کے ہمیں ضرور اس سے آگاہ کرے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

اور بھی غم ہیں زمانے میں

Posted on 19/04/2005. Filed under: پاکستان, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

اتنا ٹوٹ کر بکھر گئے ہیں کہ اب خود کو سمیٹنا مشکل ہو گیا ہے جی چاہتا ہے اس دنیا سے کہیں دور چلے جائیں جہاں سکون ہو، جہاں امن کی فاختائیں بولتی ہوں، جہاں لمحے سرگوشیاں کرتے ہوں، جہاں خوشیاں ہی خوشیاں ہوں، جہاں کسی زنداں کا خوف نہ ہو، جہاں ماتم نہ ہوتے ہوں، جہاں دل نہ روتے ہوں، جہاں کوئی اپنا نہ ہو، جہاں ہم ہوں صرف ہم ۔۔۔۔۔۔ ! مگر جب خواب آگیں تصورات ٹوٹتے ہیں تو ہم بکھر کر رہ جاتے ہیں۔ آنکھیں خون اگلنے لگتی ہیں، دل سے شعلے بھڑک اٹھتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں کہ یہ کیسی راتیں ہیں کہ نہ نیند اپنی نہ خواب اپنےکوئی چیز بھی تو ہماری اپنی نہیں، سہارے ہیں تو قدم قدم پر گرنے لگتے ہیں اور یہ کیسے اپنے ہیں کہ ہر طرف تنہائیوں کے میلے ہیں ہم خود کو ایک حصار میں قید محسوس کرتے ہیں لوگ حوصلہ دیتے ہیں ہمدردی کرتے ہیں کہتےہیں کہ ہر رات کی سویر ہے لیکن کون انہیں سمجھائے کہ جن کی راتیں ہی اپنی نہ ان کی بھی کبھی سویر آتی ہے۔
یہاں تو جیون روگ ہے، پچھتاؤں کا کھلا سمندر ہے زندہ انسان زندگی کو ترستا ہے نہ جینا اپنا نہ مرنا اپنا کوئی چیز بھی تو اپنے بس میں نہیں، بے بسی اور بے حسی نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ تم اتنا بتاؤ کہ جنہیں خود سے پیار ہوتا ہے وہ اگر ایک پل بھی خود سے نہ ملیں خود کو آئینے میں نہ دیکھیں تو کیا کیفیت ہوتی ہو گی ان کی ۔۔۔۔ ! اس سال کے ایک ایک مہینے، ایک ایک دن، ایک ایک لمحے کو سوچو ذرا کہ جب ہم نے خود کو نہیں دیکھا خود سے نہیں ملے باوجود اس کے کہ ہمیں خود سے بے انتہا پیار ہےکیونکہ دنیا میں کوئی اپنے جیسا ملا ہی نہیں ” ہاں ” ایک تم میں اپنا عکس دیکھا تھا۔ تم ہمارا آئینہ ہو، ایک تم ہی تو تھے جسے دیکھ کر ہم زندگی کی سانسیں لیتے تھے مگر جب سے تم روٹھ گئےتب سے ہمارا آئینہ بھی کہیں کھو گیا ” سنو ” جو تم نہیں نا! تو یہ نا سمجھنا کہ کوئی ہمارا نہیں سب کچھ ہمارا ہے مگر صرف تم نہیں ہو۔ اب ہمیں تمھاری ضرورت بھی نہیں کیونکہ یہ فضائیں ہماری ہیں یہ کائنات ہماری ہے اور ہماری دولت جس سے ہمیں بے انتہا پیار ہے تنہائی ہے یہ سب ہمارے دوست ہیں جو کبھی ہم سے بےوفائی نہیں کرتے ہم نے اب جان لیا ہے کہ

اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا

تو اتنا بتائیں تم کو کہ اب ہمیں تمھاری محبت کا غم نہیں رہا کتنے دکھ ہمارے معاشرے میں جن پر ہم روتے ہیں کڑھتے رہتے ہیں ان پر، یہاں بھائی بھائی کا دشمن ہے، انسان انسان کی پہچان سے انکاری ہے۔

اگر نقاب الٹ دوں تمام چہروں سے
تو میرے شہر کا اک شخص بھی شریف نہیں

یہاں عزتوں کے لٹیرے ہیں، یہاں چور ڈاکو اور دہشت گرد ہیں، یہاں دھماکے ہوتے ہیں اور پل بھر میں بے گناہ لوگ موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں، یہاں ہارس ٹریڈنگ ہے، یہاں کرپشن ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی جڑیں اس قدر مضبوط ہیں کہ ثبوت نہیں ملتے، اب بھلا آنکھوں کے اندھوں کو کیا دکھتا ہے دس ہزار تنخواہ لینے والا ایک آفیسر پچاس لاکھ کی کوٹھی میں رہتا ہے اس کے متعلق اور کس قسم کے ثبوت چائییں کیا یہ ثبوت کافی نہیں لیکن کیا کریں کنویں میں بھنگ پڑی ہے حمام میں سبھی تو ننگے ہیں پھر کون کس کو پکڑے گا۔
یہاں سیاستدان ہیں جو راہنما کم راہزن زیادہ ہیں جو وطن عزیز کا نہیں اپنا مفاد سامنے رکھتے ہیں عوام کے خون پسینے کی کمائی سے کروڑوں کی جائدادیں بناتے ہیں اور عیاشی کرتے ہیں لیکن کوئی روکنے والا نہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، کروڑوں روپے شاہانہ خرچ کرنے والے ان سیاستدانوں کے اگر گوشوارے چیک کریں جو یہ الیکشن کے موقع پر جمع کراتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ سب کے سب بھیک منگے ہیں، سب ہی زکواة کے مستحق ہیں لیکن رہتے عالیشان بنگلوں میں اور گھومتے قیمتی گاڑیوں میں ہیں۔
یہاں فرعون نما جاگیردار ہیں جو کسی خدائی فوجدار کی طرح جاگیر میں اپنا حکم چلاتے ہیں جو غریب کسانوں اور ہاریوں کی جان و مال اور عزتوں کے لٹیرے ہیں۔ یہاں سرمایہ دار ہیں جو غریب کارکنوں کا پیٹ چاک کر کے اپنی تجوریاں بھرتے ہیں۔ یہاں جوکر نما جعلی پیراور ملاں ہیں جن کی گذربسر عرسوں کی آمدنی اور تعویزگنڈوں پر ہے، بے عملی، جہالت، بدعت ان کا خاصہ، علم و عمل سے بے بہرہ کفر کے فتوؤں پر مہر ثبت کرتے رہنا ان کا کام ہے۔ مسلمانوں کو مذہب کے نام پر لڑانا ان کا دھرم ہے۔ یہاں قصائی نما ڈاکٹر ہیں جن کو کسی کی غربت، درد، تکلیف اور اذیت کا کوئی احساس نہیں ہوتا انہیں صرف اپنی فیس سے مطلب ہوتا ہے ان کی بلا سے کوئی جئے یا مرے ان کے پانچ سو کھرے! غرض کہاں تک سناؤں ظلم کے یہ فسانے یہاں تو ظلم ہی ظلم ہے، یہاں ایمان بکتے ہیں ضمیر خاموش ہیں، یہاں بےبسی اور بےحسی کی لمبی داستانیں ہیں، یہاں انسان کی قیمت ہی کیا ہے صرف چند کھوٹے سکے۔
یہاں کشمیر ہے جہاں راہ چلتی خواتین، دھول سے اٹی ہوئی ڈارھی والے بزرگوں، سکول جاتے بچوں اور دودھ پیتے نونہالوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے۔ نوجوان لڑکیوں کو سرعام برہنہ کردیا جاتا ہے اور پھر شیطان کی خوشی میں ڈوبی خوفناک چیخیں سنائی دیتی ہیں اس کے بعد صرف ماتم کرتی آہیں اور سسکیاں رہ جاتی ہیں۔
یہاں فلسطین ہے، یہاں عراق ہے، یہاں افغانستان ہے جہاں ظلم و بربریت کی نئی تاریخیں رقم ہو رہی ہیں اور بھی بہت سے دکھ ہیں جو ہمیں آزردہ کر دیتے ہیں ” پر ” اتنا تو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تعصب ہمارا اپنا پھلایا ہوا ہے ہم خود مسلمان ہی بکھر کر رہ گئے ہیں، ہم میں اخلاق اور رواداری نہیں رہی، ہم علاقائی مسئلوں پر مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں، ہم مذہبی بنیادوں پر جگھڑتے رہتے ہیں ہم آج بھی پہلے پنجابی، سندھی، پٹھان، بلوچ یا مہاجر ہیں اور بعد میں پاکستانی، ایک سویا ہوا پاکستانی !
ہم قرآن کے بتائے ہوئے سیدھے راستے کو چھوڑ کر شیطانیت کے راستے پر چل پڑے، عریانی و فحاشی کو ہم نے ثقافت اور روشن خیالی کا حسین نام دے کر اپنا لیا، بے حیائی کو ترقی کا زینہ بنا لیا، اس کے باوجود ہم مسلمان ہونے کے دعوے دار ہیں۔ حق بات تو یہ کہ ہم اپنے سچے مذہب سے دور ہو گئے اسی لئے آج ہم پوری دنیا میں ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں۔ دنیا میں ہم ایک عرب سے زائد مسلمان ہیں لیکن ہیں ان ریت کے ذروں کی طرح جن کو تیز ہوا کسی بھی لمحے اٹھا کر کہیں سے کہیں پھینک دیتی ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...