انڈیا ۔ ہندو، مسلم

Posted on 03/03/2009. Filed under: وڈیو زون, پاکستان, سیاست, عالم اسلام | ٹيگز:, , , , |

دو قومی نظریہ کے مخالف، دوستی کا اراگ الاپنے والے اس وڈیو کو دیکھ لیں اُن پر دو قومی نطریے کی حقیقت واضح ہو جائے گی۔

مزے کی بات یہ کہ تین بار اس وڈیو کو یوٹیوب پر اپلوڈ کیا گیا مگر وہاں فوراََ ہی اس وڈیو کو ختم کر دیا گیا مجبوراََ اسے دوسرے ہوسٹ پر لوڈ کرنا پڑا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

درویش پاکستان

Posted on 14/08/2008. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , |

لفظ پاکستانی پُر عمیق حروف کا عقیق مجموعہِ لفظ ہے۔ جو پُر اثر تاثیر رکھتا ہے۔ پاکستان کا وِچار امن، محبت، بھائی چارہ کا پرچار ہے۔ پاکستانیوں کی تربیت اللہ کے درویش کر رہے ہیں۔ یوں سر زمین پاکستان کا ہر فرد قلندرانہ و درویشانہ رنگ رکھتا ہے۔ یہ ملک صرف ایک زمین کا خطہ نہیں، اِسکے پیچھے ایک بہت بڑا تربیت اور ترتیب کا سلسلہ جاری ہے۔ اسکے پیچھے اِک راز ہے ۔۔۔۔۔ راز ِحقیقت۔
ٰ ظاہری تعلق سےظاہری باتیں ہی سمجھ آتی ہے۔ نکتے اور بات کا احساس روحانی تعلق سے ہوتا ہے۔ والدین اور بچوں کا آپس میں احساس اور فکرمندی کا تعلق، بہن بھائیوں کا آپس میں خون کی کشش کا رشتہ، ہزاروں میل دور بیٹھے کسی کی تکلیف کا احساس ہو جانا۔ روحانی رشتہ ہے۔ یہی وُہ ربط ہے جو ہمیں بطور قوم پاکستانی بناتا ہے۔
ماں اور بچے کا آپس میں روحانی رشتہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ ماں شفقت اور احساس کا ایسا امتزاجی تعلق ہے، جو ہمارے اندر کے احساسات کو محسوس کرتے ہوئےہماری  بے چینی دور کرنے کی حتیٰ الواسع کوشش فرماتی ہیں۔ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل ۔۔۔۔۔۔ وطن عزیز اور انسان کا رشتہ ماں اور بچہ کے رشتہ کی مانند ہے ۔۔۔۔۔ افسوس! آج یہ معاملہ کمزور محسوس ہو رہا ہے۔ ماں بچےکی تربیت کرتی ہے۔ اُسکی سب سے بڑی خوبی خودداری ہے۔ ہر ذی شعور ماں تربیت کا آغاز خودداری کے عمل سے کرواتی ہے۔
خودداروں میں سے سب سے بڑے خوددار خودداری کی علامت بنتے ہیں۔ شاہین ایک خوددار پرندہ کی علامت ہے۔ تناور درخت ہمیں خوددار بننا سکھاتے ہیں۔قدرتی مخلوقات ہمیں اللہ  پر بھروسہ رکھتے ہوئے خودداری کا درس دیتی ہیں۔
لفظ پاکستان بڑا ہی معنٰی خیز ہے۔ اِسکے ایک معنی ہے پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ! یہ معنٰی صرف نام کی حد تک نہیں۔ بلکہ یہ مسلسل ایک چلتے رہنے والے عمل کا نام ہے۔ آج بھی یہ ملک اپنے ابتدائی معنوں کے مراحل سےگزر رہا ہے۔ تکمیل میں ابھی وقت باقی ہے!!!
یہ ملک درویشوں نے ملکر بنایا ہے۔ یہ ایک سنگ میل تھا۔ جس کی قیادت بغیر داڑھی والے درویشوں نے بھی کی۔ قیام پاکستان کے دوران درویش خاموش نہ تھے۔ بلکہ عملی طور پر سیاسی میدان میں قیادت کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ علامہ محمد اقبال مسلم لیگ پنجاب کے صدر تھے، قائد اعظم کی قیادت ایک زندہ مثال ہے۔ فکر اور عملی یکجہتی کے یہ دو درویشانہ کردار ہیں۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد درویش ملکی قیادت میں خاموشی اختیار کرگئے۔ اُنکی یہ خاموشی بہت بڑی گویائی بیان کر رہی ہے۔
آج درویش قیادت کیوں نہیں کر رہا؟ اِس چپ اور خاموشی کی ریاضت میں کوئی بات ہے! ہوسکتا ہے درویش مسلسل فرد فرد کی تربیت محسوس کر رہا ہو۔ ملک کی آزادی کے بعد وُہ قوم کی روحانی تربیت میں مصروف عمل ہیں۔ مفکر درویش (مفکرِ پاکستان) نےخودی کی آگاہی دی۔
ذرا غور فرمائیے! اگر درویش اِس ملک کی قیادت کو چھوڑ سکتے ہیں تو وقت آنے پر اِس ملک کی بھاگ دوڑ سنبھال بھی سکتے ہیں۔وُہ مشیت الہی کےتابع ہیں۔
درویش حکم ِ الہی کے تابع ہوتے ہیں۔ اُنکی سوچ، افکار اور رویہ عام فرد کو حقیقی آزادی عطاء کرتے ہیں۔ وُہ انسان کی روح کو صحت بخش کر ہمیشہ کے لیئے ذہن کی غلامی اور پستی سے نکال باہر کرتے ہیں۔ یہ ملک ظاہری طور پر ہی نہیں، باطنی طور پر بھی آزاد ہوا۔ یوں حقیقی آزادی پاکستان کا نصیب بنی۔ ( ابھی یہ آزادی کےاندرونی مراحل سےگزر رہا ہے۔)
ہو سکتا ہے دورانِ سفر کسی درویش صفت شخصیت نے ملک کو اسلام کا قلعہ بنا کر خاموشی اختیار کر لی ہو۔ قیام پاکستان سے ہی درویش بہت سے نامورین کی عملی تربیت اور رہنمائی گمنامی میں رہ کر فرما رہے ہیں۔
پاکستان کی آزادی تمام دُنیا کے لیئے امن کا پیغام ہے۔ قوم کی تربیت جس سمت میں کی گئی، کی جائےگی وُہ ایک تعمیری شاہراہ ہے۔ کیونکہ قوم کی تعمیر میں اللہ والے مصروفِ عمل ہیں۔ اُولیاءکرام کی تعلیم منفی پہلوئوں سے پاک ہوتی ہے۔ اُنکی تعلیم نہ صرف باطن کو پاکیزگی عطاء فرماتی ہے بلکہ حلقہ احباب کو بھی ِمطہر (پاکیزہ) کر دیتی ہے۔ لفظ پاکستان مطہرِ عطرِمعطر (ایسی مسحور کن پاکیزہ خوشبو جو سارے جہاں میں پھیل کر دلکشی کا انمول نمونہ بن جائے) ہے۔
یہ ملک درویشوں کا ملک ہے۔ درویش موتی بکھیرتا ہے۔ وُہ انسان کو انسان کا احساس دلاتے ہوئے احساس کی اساس بتلاتا ہے۔ انسانیت سے محبت سکھاتا ہے۔ اُنکا مزاج رہا ہے کہ ”وُہ کبھی کسی کا احسان نہیں رکھتا“۔ وُہ دینے والا ہاتھ ہوتا ہے۔ وُہ بس دیتا ہے، بانٹتا ہے، بکھیرتا ہے درویش صفت انسان کٹ سکتا ہے مگر جھک نہیں سکتا۔
اللہ نے اس قوم کو کس قدر خوش نصیب بنایا ہے۔ یہ ملک بھیک میں مانگا نہیں گیا۔ اللہ نے حکمت سے عطاء کیا ہے۔ اللہ جسکو کچھ عطاء کر دے۔ وُہ بس پھر دیتا ہے، بانٹتا ہے، رہنمائی کرتا ہے۔ جو چھینتا ہے وُہ ہمیشہ چھینتا ہی رہےگا کیونکہ اُسکی فطرت چھیننا ٹھہر پائی ہے، جبکہ جو دیتا ہے وُہ ہر حال دیتا ہے، وُہ بے ہتھل ہو کر بھی دیتا ہے کیونکہ اُسکا نصیب دینا قرار پایا ہے۔ یہ اللہ کی رحمت ہے اللہ نے پاکستان کو دینے والا پیدا فرمایا ہے۔ یہ خطہِ زمین دُنیا بھر کو سونا اُگل کر دیتا ہے۔ ابھی تو اس کو بہت بڑا کردار ادا کرنا ہے۔ بڑے پن کا کردار
مملکت خدداد“  کی وُہ ابتدائی کوشش جو شہید ٹیپو سلطان نے جاری رکھی۔ پاکستان اُس جدوجہد کی عملی تصویر بھی بنا۔ تبھی اِس ملک کو ”مملکت خداداد“ قرار دیا گیا۔ مملکت خداداد کا تصور رکھنے والی شخصیت نے اُمت مسلمہ کو اپنی سوانح سے ایک قول دیا ۔”شیر کی ایک دِن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے“۔۔۔۔۔۔
لاہور شہر میں ایک یاد گار ”مینار پاکستان“ ہے۔ جو سلسلہِ قوم ”پاکستان“  کی یگانگت اور اتحاد کی علامت ہے۔ جو سفر ٢٣ مارچ ١٩٤٠ء کو آغاز ِعمل میں آیا تھا۔ اُسکی ایک منزل ١٤ اگست ١٩٤٧ء کو طے ہو گئی۔ اُسکا اصل مقصد ابھی بھی باقی ہے۔ جسکی ایک یادگار لاہور ہی میں” سِمٹ مینار“  کی صورت میں باقی ہے۔ جو اتحاد ِ بین المسلمین کے لیئےتعمیر ہوا۔ ابھی یہ سفر ادھورا ہے آدھا باقی ہے۔
ہمیں ایک پاکستانی کی حیثیت سے یہ ضرور سوچنا ہوگا۔ اللہ نے ہمیں اُوپر والا ہاتھ ہونے کا اعزاز بخشا ہے مگر انتہائی افسوس!  ہم نیچےوالا ہاتھ بننے کی تگ و دو میں ہیں۔ آج ہماری غیرت مرگئی ہے، ہم میں اعناء کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ہم دوسروں کی امداد پر نظریں لگائے بیٹھے رہتے ہیں۔ ”اپنی مدد آپ کےتحت“  کا جذبہ ماند پڑ گیا ہے۔ ہم پہ آفت آتی ہے تو مفت کی امداد کے سہارے بیکار بیٹھ کر ناکارہ ہی ہو جاتے ہیں۔
اےاللہ ہمیں بطور قوم لفظ پاکستانی کی اہمیت سے روشناس کروا ۔ ہم میں خودداری، غیرت اور یگانگت کو اُجاگر فرما!
(فرخ)

 

 

 

(گیدڑ کی زندگی ہے کیا؟ وُہ میر صادق کی مانند تخت کے کھو جانے اور کھو جانے کےخوف میں موجود رہنا، میر جعفر کی طرح خدمات سرانجام دیتے ہوئے ریڑھ کی ہڈی تڑوا لینا۔ خدمات کا صلّہ اذیت کی موت سے بہتر کتے کی موت!  پستول سے نکلی گولی کا انعام موت کی صورت میں حاصل کر لینا۔)

 

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...