بلیک اینڈ وائٹ پاکستان

Posted on 14/08/2009. Filed under: پاکستان, بلاگ اور بلاگرز | ٹيگز:, , , , , |



















Read Full Post | Make a Comment ( 5 so far )

سارہ منیر کی سالگرہ

Posted on 03/09/2008. Filed under: بلاگ اور بلاگرز | ٹيگز:, , |

31 اگست کو میری پیاری بیٹی سارہ منیر کی سالگرہ ہے جو اللہ کے فضل و کرم سے چار سال کی ہوگئی ہے، 31 اگست کو سالگرہ اور دوسری بے پناہ مصروفیت کی وجہ سے میں یہاں پوسٹ نہیں کر سکا اس لئے آج کے دن سارہ کی سالگرہ شئیر کر رہا ہوں، آپ تمام دوست احباب سے سارہ کی اچھی صحت اور اچھے مستقبل کے  لئے دعا کی درخواست ہے کہ اللہ اسے دین و دنیا کی تمام بھلائیاں عطا کرے ۔۔۔ آمین

سارہ کا خوبصورت انداز
ہاتھوں پہ لگی مہندی کو دیکھتے ہوئے
بھائی طٰہ کے ساتھ مستی کرتے ہوئے
اپنی سالگرہ پر ڈھولک بجاتے ہوئے

Read Full Post | Make a Comment ( 8 so far )

سارہ منیر کی سالگرہ

Posted on 31/08/2007. Filed under: بلاگ اور بلاگرز, رسم و رواج | ٹيگز:, , |

میری پیاری بیٹی سارہ منیر اللہ کے فضل و کرم سے پورے تین سال کی ہو گئی ہے۔ بیٹیاں اللہ کی رحمت ہوتیں ہیں اس لئے پیاری بھی بہت لگتی ہیں۔ سارہ جوں جوں بڑی ہوتی جا رہی ہے اس کے معصوم اور نرم گرم سوال بھی بڑے ہوتے جا رہے ہیں، اس لئے اب کوئی کام کر لے تو فورا کہتی ہے “دیکھو بابا میں بڑی ہو گئی ہوں“ اور بابا اس کی اس معصوم ادا پر صدقے واری ہو کے رہ جاتا ہے۔
١٤ اگست کی رات کو بازار میں بڑی بھیڑ ہوتی ہے اور اہم عمارات کو دلہنوں کی طرح سجایا ہوا تھا میں طٰہ اور سارہ کو گھماتے  ہوئے جب الفلاح بینک اور میزان بینک کی عمارتوں کے سامنے پہنچا (دونوں عمارتیں واقعی دلہن کی سجی سنوری ہوئیں تھیں) تو سارہ نے کہا
بابا آج کس کی شادی ہے؟  (اس نے اب تک شادی بیاہ پر ہی عمارتوں کو سجا ہوا دیکھا تھا)
آج پاکستان کی شادی ہے بابا، ١٤ اگست ہے نا، آزادی کا دن اس لئے
کس کا ١٤ اگست؟
ہمارا ١٤ اگست، پاکستان کا ١٤ اگست
خوش ہو کے، ”ہمارا ١٤ اگست ہے، ہمارا پاکستان ہے۔”

بیٹیاں پھولوں کی طرح ہوتی ہیں
بیٹیوں کے بارے میں دو نظمیں



تپتی زمیں پر آنسوؤں کے پیار کی صورت ہوتی ہیں

چاہتوں کی صورت ہوتی ہیں

بیٹیاں خوبصورت ہوتی ہیں

دل کے زخم مٹانے کو

آنگن میں اتری بوندوں کی طرح ہوتی ہیں

بیٹیاں پھولوں کی طرح ہوتی ہیں

نامہرباں دھوپ میں سایہ دیتی

نرم ہتھیلیوں کی طرح ہوتی ہیں

بیٹیاں تتلیوں کی طرح ہوتی ہیں

چڑیوں کی طرح ہوتی ہیں

تنہا اداس سفر میں رنگ بھرتی

رداؤں جیسی ہوتی ہیں

بیٹیاں چھاؤں جیسی ہوتی ہیں

کبھی بلا سکیں، کبھی چھپا سکیں

بیٹیاں اَن کہی صداؤں جیسی ہوتی ہیں

کبھی جھکا سکیں، کبھی مٹا سکیں

بیٹیاں اناؤں جیسی ہوتی ہیں

کبھی ہنسا سکیں، کبھی رلا سکیں

کبھی سنوار سکیں، کبھی اجاڑ سکیں

بیٹیاں تو تعبیر مانگتی دعاؤں جیسی ہوتی ہیں

حد سے مہرباں، بیان سے اچھی

بیٹیاں وفاؤں جیسی ہوتی ہیں




پھول جب شاخ سے کٹتا ہے بکھر جاتا ہے
پتّیاں سوکھتی ہیں ٹوٹ کے اُڑ جاتی ہیں
بیٹیاں پھول ہیں
ماں باپ کی شاخوں پہ جنم لیتی ہیں
ماں کی آنکھوں کی چمک بنتی ہیں
باپ کے دل کا سکوں ہوتی ہیں
گھر کو جنت بنا دیتی ہیں
ہر قدم پیار بچھا دیتی ہیں
جب بچھڑنے کی گھڑی آتی ہے
غم کے رنگوں میں خوشی آتی ہے
ایک گھر میں تو اُترتی ہے اداسی لیکن
دوسرے گھر کے سنورنے کا یقیں ہوتا ہے
بیٹیاں پھول ہیں
ایک شاخ سے کٹتی ہیں مگر
سوکھتی ہیں نہ کبھی ٹوٹتی ہیں
ایک نئی شاخ پہ کچھ اور نئے پھول کھِلا دیتی ہیں۔۔۔۔

Read Full Post | Make a Comment ( 15 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...