اردو ویب سائٹس کیلئے سالانہ گرانٹ

Posted on 12/11/2009. Filed under: پاکستان, تعلیم | ٹيگز:, , , , , , , , , , |

تحریک نفاذ اردو کے سرپرست ڈاکٹر سید مبین اختر نے کہا ہے کہ اردو کی ویب سائٹس کی ترقی و ترویج کے لئے سالانہ گرانٹس مقرر کی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے استفادہ کر سکیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان خاص میں منعقدہ ماہانہ نشست کے موقع پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سول ملازمتوں کے لئے مقابلے کے امتحان انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی دینے کی اجازت دی جائے تاکہ ملک کے 90 فیصد طالب علم جن کا ذریعہ تعلیم اردو ہے ان کے ساتھ ہونے والی حق تلفی کا خاتمہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں میں علاقائی زبان کے ساتھ اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے اس لئے اردو میں شائع ہونے والی کتابوں کی اشاعت پر سبسڈی دی جائے اور نوبل انعام یافتہ مصنفین کی تصانیف کو اردو میں ترجمہ کر کے حکومتی سطح پر تمام صوبوں میں شائع کیا جائے۔ جنگ

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

دو خوشخبریاں

Posted on 05/03/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , , , , , |

کل کے اخبارات میں قوم کے لئے دو خوشخبریان تھی کہ اپریل اور مئی میں بجلی کے نرخ پھر بڑھائے جائیں گے اور چینی بھی مہنگی کرنا پڑے گی۔ نہ جانے حکومت چاہتی کیا ہے ایک طرف آئی ایم ایف سے قرض پہ قرض لیا جا رہا ہے دوسری طرف تمام اشیاء کے باری باری نرخ بڑھائے جا رہے ہیں، پیٹرول جو اس وقت عوام کو ٢٥ سے ٣٠ روپے لیٹر ملنا چاہیے وہ اس وقت تقریبا ٥٨ روپے مل رہا ہے۔ اس سے اچھے پرویز مشرف تھے جس کے دور میں اشیاء کے نرخ ایک طویل وقفے سے بڑھتے تھے مگر نئی قائم ہونے والی پی پی کی عوامی حکومت نے تو غریب عوام کے ساتھ اعلان جنگ کر رکھا ہے، اس جنگ میں عوام کو ایک لمحہ سانس لینے کی بھی فرصت نہیں مل رہی، ایک مہینے بجلی کے نرخ تو دوسرے مہینے کھاد اور گیس کے نرخ پھر بجلی، چینی اور نہ جانے کیا کیا ۔۔۔ یقینا اس وقت عوام کی بیشتر تعداد خودکشی کی طرف بڑھ رہی ہے۔
کل میں نادرا کیاسک فرنچائز پہ بیٹھا تھا کہ ایک عورت گیس کا بل ادا کرنی آئی جو کہ ٢٣٢٠ روپے کا تھا، اُس بیچاری نے روتے ہوئے انتہائی دکھ اور کرب سے کہا کہ ابھی لوگوں کے کپڑے دھوئے ہیں کچھ روپے وہاں سے ملے اور کچھ مانگ تانگ کے لائی ہوں کہ کسی طرح بل ادا ہو جائے، ابھی واپس جا کے بچوں کے لئے روٹی کا انتظام بھی کرنا ہے انہوں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔
ایک اور عورت آئی کہنے لگی اس ماہ کی ساری تنخواہ ٹیلی فون، بجلی اور گیس کے بلوں میں چلی گئی ہے اب معلوم نہیں گھر کا خرچہ کیسے چلے گا، مرد بیچارے پریشان ہیں کہاں جائیں اور کون کون سا خرچہ پورا کریں۔
اندازہ کریں ایک طرف عوام کا یہ حال ہے کہ روٹی کے لئے ترس رہے ہیں اور دوسری طرف حکمرانوں کے اللے تللے ختم نہیں ہوتے، پنجاب میں اپنی حکومت قائم کرنے کے لئے خزانے کا منہ کھول دیا گیا ہے، بڑی بڑی گاڑیاں، ہیلی کاہٹر خریدے جا رہے ہیں۔ اپنے خرچے پورے کرنے کے لئے عوام پر بوجھ کے اوپر بوجھ لاڈا جا رہا ہے۔ مزے کی بات یہ کہ حکمران ٹولا نرخ بڑھنے کو تسلیم ہی نہیں کرتا بلکہ اسے سبسڈی کا حسین نام دیا جاتا ہے۔
اللہ پاکستانی عوام کا حامی و ناصر ہو۔

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...