کشمالہ طارق اور فردوس عاشق کل تک میں

Posted on 17/09/2009. Filed under: وڈیو زون, سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , , , |

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

سرائیکی کارڈ

Posted on 05/07/2009. Filed under: پاکستان, سیاست, سرائیکی وسیب | ٹيگز:, , , , , , |

لنک

لنک

Read Full Post | Make a Comment ( 7 so far )

نذیر ناجی فلیٹ سیکنڈل

Posted on 24/04/2009. Filed under: سیاست | ٹيگز:, , , , , , |

نیچے والی دونوں آڈیو آپ سن سکتے ہیں مگر اکیلے میں کیونکہ ان میں لفظوں کا بہت بُری طرح استعمال کیا گیا ہے۔

سیکندل 02
سیکنڈل 03

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

بچی سے ہی کچھ سیکھ لیں

Posted on 14/03/2009. Filed under: پاکستان, تعلیم, سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , |

کچھ دن پہلے سکول سے واپسی پہ میری بیٹی سارہ مجھ سے کہنے لگی ‘بابا ایک لڑکی مجھے مارتی رہتی ہے، میں اسے کچھ بھی نہیں کہتی وہ پھر بھی مجھے مارتی رہتی ہے‘۔ میں نے کہا آپ ٹیچر سے کہا کرو کہ ٹیچر دیکھو یہ مجھے مار رہی ہے۔ سارہ نے جواب دیا ‘جب ٹیچر نہیں ہوتی وہ پھر مجھے مارتی ہے‘۔ میں نے کہا اچھا آپ ایسا کرو اس سے دوستی کر لو وہ پھر آپ کو نہیں مارے گی۔ بات ختم ہو گئی اور میں اسے بچوں کی عام بات سمجھ کر بھول گیا مگر ننھے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی، اُس کے ذہن میں نجانے کیا چلتا رہا اور معلوم نہیں یہ سب اس نے کیسے کر لیا۔ آج جب میں اُسے سکول سے لینے گیا تو اُس نے آتے ہی مجھے خوشخبری سنائی کہ ‘بابا میں نے اُس لڑکی سے دوستی کر لی ہے، اب وہ مجھے مارتی بھی نہیں ہے، ہم اکھٹے کھیلتے ہیں اور کھانا بھی اکھٹے کھاتے ہیں‘۔
اندازہ کریں اس بچی نے وہ کام کر دکھایا ہے جو ہمارے حکمران اور سیاسی لیڈر نہیں کر سکتے، ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں، مار رہے ہیں، برداشت اور حوصلہ نام کی کوئی چیز ان کے پاس ہے ہی نہیں، پورا ملک داؤ پہ لگا، اکانومی برباد ہو چکی ہے مگر ان کی حوس میں کمی نہیں آ رہی، اس بچی نے بتا دیا ہے کہ انسان مشکل کام کرنا چاہیے تو با آسانی کر سکتا ہے، بس اُسے اپنے کام سے مخلص ہونا چاہیے۔
خدارا اب بس کر دو بس، اس ملک کی معصوم عوام پہ رحم کرو اس بچی سے ہی کچھ سیکھ لو اور آپس میں دوستی کر لو۔

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

مروا دیا آپ کی رجائیت پسندی نے مروا دیا

Posted on 12/03/2009. Filed under: پاکستان, سیاست | ٹيگز:, , , , , , |

ہم آپ کے مداح اور قارئین آپ کے کالم پڑھ کر یہ سمجھنے لگے تھے کہ مشرف کے منظر سے ہٹتے ہی خوش منظر سویرا ہوگااور سفینہ غم دل ساحل مراد پر لنگرانداز ہو جائے گامگر معاملہ منیر نیازی کے شعر کی طرح نکلا… ایک اور دریا کا سامنا تھا منیرمجھ کو۔
ہم لوگ مشرف کے بعد کا منظر نامہ نہ دیکھ سکے۔ نہ صرف یہ کہ مشرف کو Scotfree چھوڑ دیا گیا بلکہ اس کی جگہ جو ذات شریف تخت طاؤس پر متمکن ہوئی ہے۔ اس کے خیال سے خوف آتا ہے کیا صدر پاکستان کا آفس اس قدر بے توقیر ہوگیا ہے کہ اس میں سیاسی مسخرے بیٹھا کریں گے؟
رشک سے بھارت کو دیکھتا ہوں، جہاں رادھا کرشنن اور ذاکر حسین خان جیسے عظیم المرتبت خدام وطن نے اس کرسی کو رونق اور عزت بخشی جبکہ ہمارے ملک میں کبھی مفلوج غلام محمد، مردود یحییٰ خان یا مجبور فضل الٰہی اس آفس کوبے وقار کرتے رہے۔ لگتا ہے پیپلز پارٹی کی قیادت اندھی اور گونگی ہوگئی ہے جسے صدارت کے لئے اعتزاز احسن نظر آئے نہ رضا ربانی۔
پیپلز پارٹی پر قبضہ جمانے کے بعد زرداری نے سب سے پہلے دونوں مخدوموں کو چت Out smart کیا، پھر مشرف والی کرسی پر قبضہ کرنے کے لئے الطاف حسین کی پارٹی سے مل کر ایک Un Hoby Alliance بنا لیا۔ امامت کے لئے انہوں نے ایسے مولانا کو منتخب کیا جو سیاسی بلیک میلنگ کے امام ہیں۔ اس ٹرائیکا کے کارناموں کو دیکھ کر لوگ مشرف کو بھول جائیں گے پاکستان کی زمین میں پوشیدہ خزانوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے اس قدر لوٹ مار کے باوجود ختم ہونے میں نہیں آرہے۔ کیا زیر زمین دولت کا دریا اُبل رہا ہے؟ لیکن یہ ٹرائیکا اس سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کو ذبح کرکے ہی دم لے گا اور ہم آپ کے مداحین و قارئین آپ کے لئے عمر خضر کی دعا مانگیں گے۔ تاکہ آپ تا قیامت سچی جمہوریت کے قیام کے لئے کالم لکھتے رہیں۔
پاکستان کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں نہ کبھی آئین نافذ رہا نہ آئین کے تحت بننے والے اداروں (پارلیمینٹ، عدلیہ، الیکشن کمیشن) کو تسلسل اور آزادی سے کام کرنے کی اجازت دی گئی۔ آئین روح اور ادارے اعضائے رئیسہ کی مانند ہوتے ہیں۔ پاکستان اس لحاظ سے ایک سیاسی معجزہ ہے کہ روح اور اعضائے رئیسہ کے بغیر ہی چل رہا ہے۔ گو نمائش کے لئے یہ ادارے موجود ہوتے ہیں لیکن ان کی کنپٹی پر پستول رکھ کر یا چمک دکھا کر ان سے مرضی کے مطابق فیصلے (یا فتوے) حاصل کرلئے جاتے ہیں۔ وزیراعظم پارلیمینٹ کو خود مختار بنانے کے دعوے کرتے رہتے ہیں لیکن جانتے ہیں کہ پارلیمینٹ سے باہر بیٹھیں ہوئی طاقتوں کی موجودگی میں پارلیمینٹ کو خود مختار نہیں بنایا جاسکتا۔ اخبار والے اشاروں اشاروں میں ان طاقتوں کو AA کہتے ہیں (یعنی آرمی اور ا مریکہ)۔ اس کے علاوہ ایک طاقت اور بھی ہے وہ سیاسی کھلاڑی جن کے پاس زر کے بڑے بڑے انبار ہیں، جنہیں دیکھ کر ممبران پارلیمینٹ کی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں، یہ تینوں طاقتیں ایک پاور فل الیکٹرومیگنیٹ کی طرح پارلیمینٹ پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ پارلیمینٹ کی آزادی جو عوام کی امنگوں اور خواہشوں کا دوسرا نام ہے ایک موہوم خواب کی طرح تعبیر کی تلاش میں بھٹکتی رہتی ہے۔
اس وقت ملک میں زبردست سیاسی اور معاشی بحران ہے، سماجی افراتفری ہے، بے یقینی ہے Confusion ہے۔ ملک کے حالات تیزی سے بے قابو ہوتے جا رہے ہیں۔ بیڑہ تباہی کے قریب آن لگا ہے یعنی ٹائی ٹینک چٹانوں میں گھرگیا ہے۔ اب پھر کوئی طالع آزما، سفاک مسیحا، یا عصا بردار موسیٰ کے روپ میں آن دھمکے گا سانپ اور سیڑھی کا کھیل پھر شروع ہوجائے گا۔ یعنی گردش تیز تر اور سفر آہستہ۔
محترم حقانی صاحب! لگتا ہے گلشن کا کاروبار یونہی چلتا رہے گا اور یہ چمن یونہی رہے گا۔ اجڑا، اجڑا، دنیا جہاں کے جانور یہاں چرتے پھریں گے۔
ہم احمقان چمن ہر روز جیئں گے، ہر روز مریں گے۔ گھبرا گھبرا کے کہا کریں گے: مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے؟ البتہ دانشمندان چمن اپنے آئینہ ادراک میں بہت کچھ دیکھ رہے ہیں۔
اے حکمرانو! اے طبقہ اعلیٰ کے لوگو!
ڈرو اس وقت سے… پڑیں گے جب جان کے لالے… اور کوئی نہ ہوگا جو بچالے۔
خیر اندیش…عادل اختر، راولپنڈی
کالم ۔ ارشاد احمد حقانی

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

بہترین مفاد میں

Posted on 04/04/2005. Filed under: پاکستان, رسم و رواج, سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , , , , |

فرض کریں آپ ایک کاروباری ادارے کے سربراہ ہیں، آپ کے مقابلے میں ایک اور ادارہ بھی ہے،کاروباری مخالفت کے باعث آپ اس کے مالک کو اچھا نہیں سمجھتے
اسے کرپٹ ، بے ایمان ، لٹیرا اور وطن دشمن قرار دیتے ہیں اس کی پراڈکٹ کو آپ ناقص اور گھٹیا تصور کرتے ہیں
وہ بھی آپ کو بے ایمان ، چور اور وطن دشمن تصور کرتا ہے ، اور آپ کی پراکٹ کو انتہائی غیر معیاری قرار دیتا ہے، کچھ عرصہ یونہی گزرتا ہے اسی دوران ایک مٹی نیشنل کمپنی مارکیٹ میں اپنے قدم جمانے لگتی ہے جس کی وجہ سے آپ اور آپ کے مخالف کا کاروبار انتہائی متاثر ہوتا ہے ، آرڈر کی شرح میں واضع کمی نوٹ کی گئی ، بزنس دن بہ دن نقصان میں جا رہا ہے ، آپ اپنے کاروبار کو پھر سے پہلی جگہ پر دیکھنا چاہتے ہیں
آپ کسی بھی طرح ملٹی نیشنل کمپنی کو ناک آوٹ کرنا چاہتے ہیں اس کے لئیے آپ کسی اچھے اور قابل عمل فارمولا کی تلاش میں ہیں ، اسی دوران آپ کے ذہن میں ایک خیال آتا ہے کہ کیوں نا ہم دونوں مخالف ایک ہو جائیں، آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے کاروبار کے لیئے یہی بات سود مند ہے
آپ کے دل میں یہ خواہش مچل اٹھتی ہے کہ ” کاش ” ہم دونوں ایک ہو جائیں تو ہی ملٹی نیشنل کمپنی کا مقابلہ کر سکتے ہیں ، بعض اوقات ایسا ہو بھی جاتا ہے کیونکہ دونوں ضرورت مند ہوتے ہیں کسی تقریب میں گلے ملتے ہیں تو سارے گلے شکوے جاتے رہتے ہیں، آپ اسے کہتے ہیں کہ ” مقابلے کے اس دور میں ہمارا ایک ہو جانا ہی بہتر ہے ” اس پر وہ بھی کہتا ہے کہ ”میری دلی خواہش بھی یہی کہ کاروبار کے بہترین مفاد میں ہمارا ایک ہونا ہی بہتر ہے ” پھر اگلے ہی دن وہی کرپٹ ، بے ایمان ، لٹیرا ، وطن دشمن اور گھٹیا پراڈکٹ فروخت کرنے والی کمپنی کا مالک آپ کے پہلو میں بطور حصہ دار بیٹھا ہوتا ہے
کسی بھی جگہ کسی بھی کاروبار میں ایک آدھ مرتبہ کسی کے ساتھ اس واقع کا ہیش آجانا کوئی بڑی بات نہیں ہے کیونکہ بعض صورتوں میں انسان کی انائیں چھوٹی چھوٹی غلط فہمیوں کو رائی کا پہاڑ بنا دیتی ہیں ایسی صورت میں جب غلط فہمیوں کے بادل چھٹتے ہیں تو انسان ایک دوسرے کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے کے قابل ہوجاتے ہیں ، تعلقات اور رشتے اگر خلوص کی بنا، پر قائم ہوں تو پھر وہ تعلقات اور رشتے انتہائی مضبوط اور پائیدار ہوتے ہیں اور اگر مفاد پر قائم ہوں چند دنوں بعد ہی حالات اس نہج پر پہنچ جائیں گے کہ آپ اسے بار پھر کرپٹ اور جھوٹا قرار دے کر اس سے علیحدہ ہو جائیں گے
کچھ عرصہ گزرنے ےک بعد گلے ملنے پر کاروبار کے بہترین مفاد میں ایک ہوجائیں پھر علیحدہ ہو جائیں اور پھر کاروبار کے بہترین مفاد میں ایک ہو جائیں، ادھر آپ کا کاروباری مخالف بھی بخوشی کاروبار کے بہترین مفاد کی خاطر آپ سے مل بیٹھے گا، ایسے تعلقات کو کسی بھی صورت میں پر خلوص تعلقات نہیں کہا جا سکتا
یہ صرف مفادات کے تعلقات ہونگے اور مفادات بھی ایسے جو انتہائی گھٹیا ہونگے
ہماری پاکستانی سیاست بھی کچھ ایسے ہی مفادات سے وابستہ ہے ، میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو جو کل تک ایک دوسرے کو غدار ، کرپٹ، بے ایمان اور وطن دشمن کہتے اور سمجھتے تھے اور ایک دوسرے سے ملنا تو دور کی بات ایک دوسرے کو دیکھنا بھی گناہ عظیم سمجھتے تھے آج جدہ میں ملک کے بہترین مفاد میں اکٹھا ہو گئے ہیں ، بھائی بہن کا رشتہ قائم ہوا تو سارے گلے شکوے بھی جاتے رہے ، ان کے نئے تعلقات نے حکومتی صفوں میں ہلچل مچا دی ہے لیکن ،، قارئین کرام مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ ہمارے سیاستدانوں کی انائیں اور ضمیر آخر کس چیز کے بنے ہوئے ہیں ؟ وہ کونسی انائیں ہیں جن کے ہوتے ہوئے بے ہودہ گالیاں ان کی صحت پر دیسی گھی کا اثر کرتی ہیں وہ کون سے زریں اور بہترین اصول ہیں جن کو سامنے رکھ کر یہ ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں اور الزامات لگاتے ہیں
لیکن جب کسی بہترین مفاد کی خاطر ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو سینکڑوں بازو ان کی گردنوں میں حائل ہونے کےلئیے بے تاب ہوتے ہیں اور اس سارے تماشے کے باوجود ان کے ذہن میں کوئی خلش پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے دماغوں پر کوئی خراش آتی ہے

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...