اب تو لمحوں کی بھی فرصت نہیں، آرام کہاں؟

Posted on 11/11/2009. Filed under: شعروادب | ٹيگز:, , , , , , |

لے کے آیا ہے کہاں وقت کا گرداب مجھے
کر دیا اپنے ہی خیالات نے غرقاب مجھے

پھر مخاطب ہوں شبِ ہجر کی تنہائی سے
اے سحر! اور کوئی گی کوئی خواب مجھے

درد ہی درد ملے ہاتھ کی ریکھاؤں میں
کم نصیبی نے دئیے حیف یہ اسباب مجھے

اب تو لمحوں کی بھی فرصت نہیں، آرام کہاں؟
زندگی اور سکھائے گی کچھ آداب مجھے

خشک سالی کا یہ عالم ہے کہ شاہین اب تو
اپنے دریا میں بھی پانی ملے، نایاب مجھے

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

قبر اقبال پر

Posted on 09/11/2007. Filed under: شعروادب | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , |

پھول لیکر گیا، آیا روتا ہوا، بات ایسی ہے کہنے کا یارا نہیں
قبر اقبال سے آ رہی تھی صدا، یہ چمن مجھ کو آدھا گوارا نہیں
قبر پر قوم ساری تھی نوحہ کناں، آنکھ کے آبگینے تھے پھوٹے ہوئے
چند ہاتھوں میں گلشن کی تصویر تھی، چند ہاتھوں میں آئینے ٹوٹے ہوئے

سب کے دل چُور تھے، سب ہی مجبور تھے، بیکسی وہ کہ تابِ نظارا نہیں

شہرِ ماتم تھا اقبال کا مقبرہ، تھے عدم کے مسافر بھی آئے ہوئے
خوں میں لت پت کھڑے تھے لیاقت علی، روحِ قائد بھی تھی سرجھکائے ہوئے

کہہ رہے تھے سبھی، کیا غضب ہو گیا، یہ تصور تو ہرگز ہمارا نہیں

سرنگوں قبر پر تھا منارِ وطن، کہہ رہا تھا کہ اے تاجدارِ وطن
آج کے نوجواں کو بھلا کیا خبر، کیسے قائم ہوا یہ حصارِ وطن

جس کی خاطر کٹے قوم کے مردوزن، ان کی تصویر ہے یہ منارا نہیں

کچھ اسیرانِ گلشن تھے حاضر وہاں، کچھ سیاسی مہاشے بھی موجود تھے
چاند تارے کے پرچم میں لپٹے ہوئے چاند تاروں کے لاشے بھی موجود تھے

میرا ہنسنا تو پہلے ہی اک جرم تھا، میرا رونا بھی ان کو گوارا نہیں

کیا فسانہ کہوں ماضی و حال کا، شیر تھا ایک میں ارض بنگال کا
شرق سے غرب تک میری پرواز تھی، ایک شاہین تھا میں ذہن اقبال کا

ایک بازو پہ اڑتا ہوں میں آجکل، دوسرا دشمنوں کو گوارا نہیں

یوں تو ہونے کو گھر ہے، سلامت رہے، کھینچ دی گھر میں دیوار اغیار نے
ایک تھے جو کبھی، آج دو گئے، ٹکڑے کر ڈالا دشمن کی تلوار نے

گھر بھی دو ہو گئے، در بھی دو ہو گئے، جیسے کوئی بھی رشتہ ہمارا نہیں

کچھ تمھاری نزاکت کی مجبوریاں، کچھ ہماری شرافت کی مجبوریاں
تم نے روکے محبت کے خود راستے، اس طرح ہم میں ہوتی گئیں دُوریاں

کھول تو دوں میں راز محبت مگر، تیری رسوائیاں بھی گوارا نہیں

اِس چمن کے بلبل بھی ستائے ہوئے، اُس چمن کے بلبل بھی ستائے ہوئے
آج شاخ و شجر، بوئے صحن چمن، باغبانوں سے ہیں خوف کھائے ہوئے

وہ نہ زندوں میں ہیں اور نہ مُردوں میں ہیں، ایسی موجیں ہیں جن کا کنارا نہیں

وہ جو تصویر مجھ کو دکھائی گئی، میرے خون جگر سے نہائی گئی
قوم کی ماؤں بہنوں کی جو آبرو نقشہِ ایشیا میں سجائی گئی

موڑ دو آبرو، یا وہ تصویر دو، ہم کو حصوں میں بٹنا گوارا نہیں

مشیر کاظمی مرحوم

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...