اس دیس میں بڑی گھٹن ہے

Posted on 13/11/2009. Filed under: متفرق | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , |

مسجد مسجد یہ نمازی
سجدے میں پڑے یہ غازی
گردن تو اٹھا کر دیکھیں
نظریں تو بچار کر دیکھیں
منبر پر نہیں کوئی ملا
مسجد میں نہیں کوئی قبلہ
وہاں اک ٹینک کھڑا ہے
اور ٹینک کے منہ میں گن ہے
اس دیس میں بڑی گھٹن ہے

پاکستانی فوج کے ہاتھوں بنگال کے قتل عام پر لکھی ہوئی فہمیدہ ریاض کی یہ نظم

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

بستی کو الزام نہ دو گھر لٹنے کا

Posted on 12/11/2009. Filed under: شعروادب | ٹيگز:, , , , , , , |

بستی کو الزام نہ دو گھر لٹنے کا
گھر کے بھی کچھ لوگ لُٹیرے ہوتے ہیں
سونے کی زنجیر گلے میں مت ڈالو
کچھ سانپوں کے رنگ سنہرے ہوتے ہیں

ذرہ حیدرآبادی

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

اب تو لمحوں کی بھی فرصت نہیں، آرام کہاں؟

Posted on 11/11/2009. Filed under: شعروادب | ٹيگز:, , , , , , |

لے کے آیا ہے کہاں وقت کا گرداب مجھے
کر دیا اپنے ہی خیالات نے غرقاب مجھے

پھر مخاطب ہوں شبِ ہجر کی تنہائی سے
اے سحر! اور کوئی گی کوئی خواب مجھے

درد ہی درد ملے ہاتھ کی ریکھاؤں میں
کم نصیبی نے دئیے حیف یہ اسباب مجھے

اب تو لمحوں کی بھی فرصت نہیں، آرام کہاں؟
زندگی اور سکھائے گی کچھ آداب مجھے

خشک سالی کا یہ عالم ہے کہ شاہین اب تو
اپنے دریا میں بھی پانی ملے، نایاب مجھے

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

تمھیں کیا خبر

Posted on 22/04/2009. Filed under: شعروادب | ٹيگز:, , , , , , , , |

راتوں کو اٹھ کر، خیالوں سے ہو کر، یادوں میں کھو کر، تمھیں کیا خبر
اپنے خدا سے ۔۔۔۔۔۔!
میں کیا مانگتا ہوں، ویرانوں میں جا کر، دکھڑے سنا کر، دامن پھیلا کر
آنسو بہا کر، تمھیں کیا خبر
اپنے خدا سے میں کیا مانگتا ہوں
تم کہو گے، صنم مانگتا ہوں، زر مانگتا ہوں
میں گھر مانگتا ہوں، زمیں مانگتا ہوں، نگیں مانگتا ہوں ۔۔۔!
تم تو کہو گے، ہم کو خبر ہے کہ راتوں کو اٹھ کر، خیالوں سے ہو کر
یادوں میں کھو کر، آنکھیں بھگو کر، کسی دلربا کی، کسی دلنشیں کی
وفا مانگتا ہوں، یہ بھی غلط ہے، وہ بھی غلط ہے، جو بھی ہے سوچا
سو بھی غلط ہے، نہ صنم مانگتا ہوں، نہ زر مانگتا ہوں
نہ دلربا کی، نہ دلنشیں کی، نہ ماہ جبیں کی وفا مانگتا ہوں
تمھیں کیا خبر ۔۔۔ اپنے خدا سے کیا مانگتا ہوں
میں اپنے خدا سے
آدم کے بیٹے کی آنکھوں سے جاتی ۔۔۔۔ حیا مانگتا ہوں
حوا کی بیٹی کے سر سے اترتی ۔۔۔۔۔ ردا مانگتا ہوں
اس کڑے وقت میں ۔۔۔۔ پاک وطن کی بقا مانگتا ہوں
تمھیں کیا خبر، میں کیا ماگتا ہوں

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

Posted on 15/03/2009. Filed under: شعروادب | ٹيگز:, , , , , |

ہم معصوموں کے ساتھی
آواز ہیں ہم مظلوموں کی
انصاف کی خاطر نکلے ہیں
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

نہ لوٹوں سے کچھ آس رکھو
نہ جھوٹوں سے امید رکھو
ہم سچ کی خاطر نکلے ہیں
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

ہم اپنے رہبر خود ہوں گے
ہم اپنی منزل خود ہوں گے
امید کی خاطر نکلے ہیں
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

انصاف کا سورج نکلے گا
ہاں کوچہ کوچہ بدلے گا
ہم عدل کی خاطر نکلے ہیں
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

ہم جھکنے والے لوگ نہیں
ہم بکنے والے لوگ نہیں
اقدار کی خاظر نکلے ہیں
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

ہم سب کا ایک ہی رستہ ہے
ہم سب کی ایک ہی منزل ہے
دھرتی کی خاطر نکلے ہیں
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

اب جینا مرنا دھرنا ۔۔۔ ہے
دم مست قلندر کرنا ہے
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو
عینی سیدہ

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

شاہ است حسین، بادشاہ است حسین

Posted on 28/01/2007. Filed under: اسلام | ٹيگز:, , , , |

شاہ است حسین ، بادشاہ است حسین
دین است حسین دین پناہ است حسین
سرداد نہ داد دست در دست یزید
حقّا کہ بنائے لاالہ است حسین

خواجہ معین الدین چستی

 

—-

انسان کوبیدا ر تو ھو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین

جوش ملیح آبادی

 

 

—-

اے کربلا کی خاک اس احسان کو نہ بھول
تڑپی ہے تجھ پہ لاش جگر گوشۂ بتول

مولانا ظفر علی خاں

 

 

—-

قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

ذبح عظیم

 

 

—-

لو آگیا محرم فضا پر سوز زرہ زرہ سوگوار
حسینیت پہ ہوا جو ظلم و ستم اس پہ ہر آنکھ ہے اشک بار
شہادت حسین نے دیا ہر تہذیب کو یہ زریں اصول
سر چڑھ جائے تیرا نیزے کی نوک پر باطل کر اطاعت نہ کر قبول

سانحہ کربل سے ہے لرزاں ہر فرد عبرت کوش
سسکیاں لی رہی ہے فضا ہچکیاں نوائے سروش
ساری زمین ہے نوحہ کناں آسماں بھی ہے رو رہا
ہر نظر ہے اشک فشاں ہر نظارا خموش

اے حسین نواسے نبی سبط علی
ہر تاریخ تری شہادت لکھے گی بحروف جلی
فقط اک تو نے کیا پار عشق کا ساگر
دو عالم میں نہیں تجھ سے بڑا کوئی ولی

حسین تری خوشبو سے مہکے مومن کے دل کی کلی
حسین اھداناالصراط ہے تیری گلی
حسین ترے لہو سے ہوا چراغ اسلام روشن
حسین تری شہادت سے نئی زندگی اسلام کو ملی

حسین تو سردارجواناں خلد بریں
حسین تو سوار شانہ ختم المرسلین
اے شہسوار کربلا اے ذبح عظیم
جام شہادت پی کے بچایا تو نے اللہ کا دین

اے پیکر شجاعت اے ابن علی
رسم حریت ہے تجھ سے چلی
اصول ترا ہے جہاں گیر و جہاں آرا
فاسق کی اطاعت سے ہے شہادت بھلی

بخشی ہے کربلا نے حق کو دوام زندگی
حسینیت ہمیشہ ہے زندہ ہوئی یزیدیت کی شام زندگی
طاقت نہیں ہے حق مگر حق رکھتا ہے طاقت
یزیدیت کو ہر دور میں اٹھانا پرے گی شرمندگی

کم ظرف ہیں وہ جنکے چھلکیں   جام صبر
ہو جائیں رحمت خدا وندی سے مایوس اور بکیں دام کفر
اللہ اللہ دیکھیے مخدرات عصمت کا حوصلہ
شام غریباں میں بھی ہے ذکر حمد و ثناءاستحکام و شکر

دین اسلام اک گلستاں حسیں اس کے باغباں
ذات عالی عجب ہے مالی لہو سے اپنے پالے شجر ایماں
حسین عشق کا سمندر صبر کا اک بحر بیکراں
جو بھی چلے اس ڈگر اسی کے ہیں زماں و مکاں

سانحہ کربلا سے پہلے سادہ تھی تاریخ اسلام
حسین تیرے لہو نے اسے رنگین کر دیا
عظیم انقلاب کے لیے چاہیے اک ذبح عظیم
حسین کے لہو کی سرخی نے اسلام کو سرخرو کر دیا

حسین شہادت کربلا میں اک سدا بہار گلاب
جسکے رنگ و بو کریں ہر دور میں آمریت کا احتساب
حسین ترے لہو کی سرخی سے گلوں میں لالی و شفق صبح و شام
اے شبہہ رسالت ماب اے خون ابو تراب تری پیاس نے کیا سارا عالم سراب

حسین صبر کا پیکر امن کا سفیر
حسین کفر کا منکر حق کا اسیر
حسین محسن انسانیت اسلام کی جگیر
حسین عصر کا دلبر وفا کی تصویر

بندگی حسین کی نہیں کوئی نظیر
کیا سجدہ عشق ادا سایہ تیغ و تیر
دیا حسین نے سبق یہ اہل ایماں کو
سر مقتل بھی نہ بیچو اپنا ضمیر

حسین تو رویائے ابراہیم کی تعبیر
حسین تجھ سے بڑھی اسلام کی توقیر
جو ترا سر اقدس چڑھا نیزے کی نوک پر
مانند خورشید کی اس نے ظلمت کی اخیر

حسین تیری رگوں میں ہے خون خیبر شکن
تو محبوب خدا کا محبوب اے شاہ زمن
اے سردار جوانان ارم جوانمردی ہے تجھ پہ ختم
اے امام عالی اے جگر گوشہ بتول تو حق کا نمائندہ تو سفیر کہن

اے غم شبیر تو نے شہادت کا قرینہ سکھادیا
اے عباس دلگیر تو نے وفا پر مر مر کے جینا سکھادیا
اے اصغر تیری آخری ہچکی ہے آمریت کا طمانچہ
اے زینب ہمشیر تری سخاوت تو نے سارا خزینہ لٹا دیا

اے شہدائے کربلا تمھیں کیسے سلام عقیدت پیش کروں
زبان و الفاظ میں نہیں طاقت تمہاری عظمت پیش کروں
آل رسول جگر گوشہ بتول کی مظلومیت پہ ہے نظر اشک فشاں
اے ذبح عظیم تری ڈگر بہادو ں اپنا لہو، ہو اجازت جاں پیش کروں

حسین سے چمکا اسلام کے مقدر کا ستارہ
ڈگمگاتے اسلام کو حسینیت کا سہارا
حسین نے بخشا ہے اسلام کو وقار
حسین اک اصول جہانگیر و جہاں آرا

حسین پیارا دین کا سہارا
راز عشق ہوا حسین سے آشکارا
یزیدیت پہ لعنت ہر اک نے پکارا
زندہ ہے زندہ رہے گا حسین ہمارا

حسین ذبح عظیم ہے شہادت تری
اے ابن علی حیدری شجاعت ہے تری
تری غلامی سے ملے دوجہاں کی شاہی
گدا کو شہنشاہ بنانا ہے سخاوت تری

غم شبیر ی سے ہوا کربلا کا جگر چاک
طور سینہ سے پاک ہے کربلا کی خاک
کہ اس خاک میں شامل ہے خون پنجتن
اسی لہو سے ہے بنیاد سلطنت پاک

حسین تری عظمت کو سلام
حسین تری ہمت کو سلام
حسین ترے صبر کو سلام
حسین تری استقامت کو سلام

حسین تری شہامت کو سلام
حسین تری استدامت کو سلام
حسین ترے فقر کو سلام
حسین تری امامت کو سلام

حسین تیری وفا کو سلام
حسین تری قضا کو سلام
حسین ترے سجدے کو سلام
حسین تیری ادا کو سلام

حسین تری صفا کو سلام
حسین تیری علا کو سلام
حسین ترے رتبے کو سلام
حسین تری کف پا کو سلام

حسین تیری قناعت کو سلام
حسین تری عبادت کو سلام
حسین ترے عشق کو سلام
حسین تری شہادت کو سلام

زاہداکرام

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...