میرے پرندے میرے بچے

Posted on 18/07/2009. Filed under: شعروادب | ٹيگز:, , , , , , , , , |

میرے ننھے گھر کے اندر
اک ننھا سا پیڑ لگا ہے
پیڑ کا سایہ تھوڑا ہے پر بہت گھنا ہے
کچھ دن پہلے، نیلے پیلے لال پروں والی دو چڑیاں
نازک نازک گھاس کے تنکے ڈھونڈ کے لائیں
اک گھر کی بنیاد بنا کر گھونسلا اک ننھا سا بنا کر
چڑیا دن بھر بیٹھی رہتی اور چڑا محنت سے دن بھر دانہ لاتا
چڑیا کے دو بچوں کی آوازیں سن کر
میں اور میرا ساتھی دونوں خوش ہو گئے
گھونسلے کو آفت سے بچاتے
آج صبح وہ دونوں چڑیاں بچے لیکر
گھونسلا چھوڑ کے چلی گئی ہیں
ہم دونوں خاموش کھڑے ہیں
اک دوجے کو دیکھ رہے ہیں سوچ رہے ہیں
ہم دونوں جب بوڑھے ہوں گے
بچے اپنے ہی اس گھر کے کمرے میں
ایک نئے ننھے گھر کی بنیاد رکھیں گے
اور پھر ان چڑیوں کی مانند
اپنے بچے لے جائیں گے
گھر کو سونا کر جائیں گے
میں اور میرا ساتھی اس دن مر جائیں گے
اک ننھے سے گھر کے اندر ایک اور ننھے گھر کا منظر
کتنا پیارا لگتا ہے
لیکن جب اس گھر کے باسی اور کسی منزل کی جانب اڑ جائیں
تب گھر ویرانہ لگتا ہے
دل بھی رونے لگتا ہے
گھر بھی رونے لگتا ہے
عظمٰی گوہر

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

تمھیں کیا خبر

Posted on 22/04/2009. Filed under: شعروادب | ٹيگز:, , , , , , , , |

راتوں کو اٹھ کر، خیالوں سے ہو کر، یادوں میں کھو کر، تمھیں کیا خبر
اپنے خدا سے ۔۔۔۔۔۔!
میں کیا مانگتا ہوں، ویرانوں میں جا کر، دکھڑے سنا کر، دامن پھیلا کر
آنسو بہا کر، تمھیں کیا خبر
اپنے خدا سے میں کیا مانگتا ہوں
تم کہو گے، صنم مانگتا ہوں، زر مانگتا ہوں
میں گھر مانگتا ہوں، زمیں مانگتا ہوں، نگیں مانگتا ہوں ۔۔۔!
تم تو کہو گے، ہم کو خبر ہے کہ راتوں کو اٹھ کر، خیالوں سے ہو کر
یادوں میں کھو کر، آنکھیں بھگو کر، کسی دلربا کی، کسی دلنشیں کی
وفا مانگتا ہوں، یہ بھی غلط ہے، وہ بھی غلط ہے، جو بھی ہے سوچا
سو بھی غلط ہے، نہ صنم مانگتا ہوں، نہ زر مانگتا ہوں
نہ دلربا کی، نہ دلنشیں کی، نہ ماہ جبیں کی وفا مانگتا ہوں
تمھیں کیا خبر ۔۔۔ اپنے خدا سے کیا مانگتا ہوں
میں اپنے خدا سے
آدم کے بیٹے کی آنکھوں سے جاتی ۔۔۔۔ حیا مانگتا ہوں
حوا کی بیٹی کے سر سے اترتی ۔۔۔۔۔ ردا مانگتا ہوں
اس کڑے وقت میں ۔۔۔۔ پاک وطن کی بقا مانگتا ہوں
تمھیں کیا خبر، میں کیا ماگتا ہوں

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

Posted on 15/03/2009. Filed under: شعروادب | ٹيگز:, , , , , |

ہم معصوموں کے ساتھی
آواز ہیں ہم مظلوموں کی
انصاف کی خاطر نکلے ہیں
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

نہ لوٹوں سے کچھ آس رکھو
نہ جھوٹوں سے امید رکھو
ہم سچ کی خاطر نکلے ہیں
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

ہم اپنے رہبر خود ہوں گے
ہم اپنی منزل خود ہوں گے
امید کی خاطر نکلے ہیں
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

انصاف کا سورج نکلے گا
ہاں کوچہ کوچہ بدلے گا
ہم عدل کی خاطر نکلے ہیں
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

ہم جھکنے والے لوگ نہیں
ہم بکنے والے لوگ نہیں
اقدار کی خاظر نکلے ہیں
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

ہم سب کا ایک ہی رستہ ہے
ہم سب کی ایک ہی منزل ہے
دھرتی کی خاطر نکلے ہیں
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

اب جینا مرنا دھرنا ۔۔۔ ہے
دم مست قلندر کرنا ہے
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو
عینی سیدہ

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

سانحہ لال مسجد پر احمد فراز کا کلام

Posted on 08/03/2009. Filed under: متفرق | ٹيگز:, , , |

وہ عجیب صبحِ بہار تھی

کہ سحر سے نوحہ گری رہی

مری بستیاں تھیں دُھواں دُھواں

مرے گھر میں آگ بھری رہی

میرے راستے تھے لہو لہو

مرا قریہ قریہ فگار تھا

یہ کفِ ہوا پہ زمین تھی

وہ فللک کہ مشتِ غبار تھا

کئی آبشار سے جسم تھے

کہ جو قطرہ قطرہ پگھل گئے

کئی خوش جمال طلسم تھے

جنھیں گرد باد نگل گئے

کوئی خواب نوک سناں پہ تھا

کوئی آرزو تہِ سنگ تھی

کوئی پُھول آبلہ آبلہ

کوئی شاخ مرقدِ رنگ تھی

کئی لاپتہ میری لَعبتیں

جو کسی طرف کی نہ ہوسکیں

جو نہ آنے والوں کے ساتھ تھیں

جو نہ جانے والوں کو روسکیں

کہیں تار ساز سے کٹ گئی

کسی مطربہ کی رگ گُلُو

مئے آتشیں میں وہ زہر تھا

کہ تڑخ گئے قدح و سَبُو

کوئی نَے نواز تھا دم بخود

کہ نفس سے حدت جاں گئی

کوئی سر بہ زانو تھا باربُد

کہ صدائے دوست کہاں گئی

کہیں نغمگی میں وہ بَین تھے

کہ سماعتوں نے سُنے نہیں

کہیں گونجتے تھے وہ مرثیے

کہ انیس نے بھی کہے نہیں

یہ جو سنگ ریزوں کے ڈھیر ہیں

یہاں موتیوں کی دکان تھی

یہ جو سائبان دھوئیں کے ہیں

یہاں بادلوں کی اڑان تھی

جہاں روشنی ہے کھنڈر کھنڈر

یہاں قُمقُموں سے جوان تھے

جہاں چیونٹیاں ہوئیں خیمہ زن

یہاں جگنوؤں کے مکان تھے

کہیں آبگینہ خیال کا

کہ جو کرب ضبط سے چُور تھا

کہیں آئینہ کسی یاد کا

کہ جو عکسِ یار سے دور تھا

مرے بسملوں کی قناعتیں

جو بڑھائیں ظلم کے حوصلے

مرے آہوؤں کا چَکیدہ خوں

جو شکاریوں کو سراغ دے

مری عدل گاہوں کی مصلحت

مرے قاتلوں کی وکیل ہے

مرے خانقاہوں کی منزلت

مری بزدلی کی دلیل ہے

مرے اہل حرف و سخن سرا

جو گداگروں میں بدل گئے

مرے ہم صفیر تھے حیلہ جُو

کسی اور سمت نکل گئے

کئی فاختاؤں کی چال میں

مجھے کرگسوں کا چلن لگا

کئی چاند بھی تھے سیاہ رُو

کئی سورجوں کو گہن لگا

کوئی تاجرِ حسب و نسب

کوئی دیں فروشِ قدیم ہے

یہاں کفش بر بھی امام ہیں

یہاں نعت خواں بھی کلیم ہے

کوئی فکر مند کُلاہ کا

کوئی دعوٰی دار قبا کا ہے

وہی اہل دل بھی ہیں زیبِ تن

جو لباس اہلِ رَیا کا ہے

مرے پاسباں، مرے نقب زن

مرا مُلک مِلکِ یتیم ہے

میرا دیس میرِ سپاہ کا

میرا شہر مال غنیم ہے

جو روش ہے صاحبِ تخت کی

سو مصاحبوں کا طریق ہے

یہاں کوتوال بھی دُزد شب

یہاں شیخ دیں بھی فریق ہے

یہاں سب کے نِرخ جدا جدا

اسے مول لو اسے تول دو

جو طلب کرے کوئی خوں بہا

تو دہن خزانے کے کھول دو

وہ جو سرکشی کا ہو مرتکب

اسے قُمچیوں سے زَبُوں کرو

جہاں خلقِ شہر ہو مشتعل

اسے گولیوں سے نگوں کرو

مگر ایسے ایسے غنی بھی تھے

اسی قحط زارِ دمشق میں

جنھیں کوئے یار عزیز تھا

جو کھڑے تھے مقتلِ عشق میں

کوئی بانکپن میں تھا کوہکن

تو جنوں میں قیس سا تھا کوئی

جو صراحیاں لئے جسم کی

مئے ناب خوں سے بھری ہوئی

تھے صدا بلب کہ پیو پیو

یہ سبیل اہل وفا کی ہے

یہ نشید نوشِ بدن کرو

یہ کشید تاکِ وفا کی ہے

کوئی تشنہ لب ہی نہ تھا یہاں

جو پکارتا کہ اِدھر اِدھر

سبھی مفت بر تھے تماشہ بیں

کوئی بزم میں کوئی بام پر

سبھی بے حسی کے خمار میں

سبھی اپنے حال میں مست تھے

سبھی راہروانِ رہِ عدم

مگر اپنے زعم میں ہست تھے

سو لہو کے جام انڈیل کر

مرے جانفروش چلے گئے

وہ سکوُت تھا سرِ مے کدہ

کہ وہ خم بدوش چلے گئے

کوئی محبسوں میں رَسَن بہ پا

کوئی مقتلوں میں دریدہ تن

نہ کسی کے ہاتھ میں شاخ نَے

نہ کسی کے لب پ گُلِ سخن

اسی عرصہء شب تار میں

یونہی ایک عمر گزر گئی

کبھی روز وصل بھی دیکھتے

یہ جو آرزو تھی وہ مرگئی

یہاں روز حشر بپا ہوئے

پہ کوئی بھی روز جزا نہیں

یہاں زندگی بھی عذاب ہے

یہاں موت بھی شفا نہیں

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

رنجیدہ و دلگیر و حزیں عید مبارک

Posted on 01/10/2008. Filed under: پاکستان, رسم و رواج, شعروادب | ٹيگز:, , , |

افسردہ ہیں افلاک و زمیں عید مبارک
آزردہ مکان اور مکیں عید مبارک

یہ صبح مسرت ہے کہ ہے شامِ غریباں
رنجیدہ و دلگیر و حزیں عید مبارک

کہنا ہے بصد عجز یہ اربابِ وطن سے
کب آئے گا وہ دور حسیں و عید مبارک

محبوس جوانوں کے عزیزوں سے یہ کہنا
مولا ہے نگہبان و امین عید مبارک

یہ بات قلندر کی قلندر ہی کہے گا
گو بات یہ کہنے کی نہیں عید مبارک

پھر نعرہ تکبیر سے گونجیں گی فضائیں
آ پہنچا ہے وہ وقت قریں عید مبارک

مومن کبھی مایوس نہیں رحمتِ حق سے
مومن کا ہے دل عرشِ بریں عید مبارک

ملت سے شہیدوں کا لہو کہتا ہے واصف
دنیا کے عوض بیچ نہ دیں عید مبارک

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

عید کا چاند

Posted on 03/11/2005. Filed under: شعروادب | ٹيگز:, , |

عید کا چاند ہے خوشیوں کا سوالی اے دوست
اور خوشی بھیک میں مانگ سے کہاں ملتی ہیں
دست سائل میں اگر کاسئہ غم چیخ اٹھے
تب کہیں جا کے ستاروں سے گراں ملتی ہیں
عید کے چاند ! مجھے محرم عشرت نہ بنا
میری صورت کو تماشائے الم رہنے دے
مجھ پہ حیراں یہ اہل کرم رہنے دے
دہر میں مجھ کو شناسائے الم رہنے دے

یہ مسرت کی فضائیں تو چلی جاتی ہیں !
کل وہی رنج کے، آلام کے دھارے ہوں گے
چند لمحوں کے لیے آج گلے سے لگ جا
اتنے دن تو نے بھی ظلمت میں گزارے ہوں گے

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...