آصف زرداری جرائم پیشہ اور دھوکے باز ہیں ۔۔۔ مشرف کے الزامات

Posted on 09/11/2009. Filed under: سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , |

روزنامہ جنگ کے مطابق سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے صدر زرداری کے بارے میں پہلی بار سخت لہجہ اختیار کیا ہے۔ مشرف نے معروف صحافی سیمورہرش کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ آصف زرداری ایک جرائم پیشہ اور دھوکے باز ہے۔
ہرش نے پاکستان کے بارے میں اپنی تفصیلی رپورٹ میں لکھا کہ ”مشرف نے اپنے جاں نشین کو نہیں بخشا۔ آصف زرداری ایک جرائم پیشہ اور دھوکے باز ہے۔ اپنے بچاؤ کیلئے کچھ بھی کرسکتا ہے۔ وہ محب وطن ہے نہ پاکستان سے اس کو کوئی لگاؤ ہے۔ وہ ایک معمولی انسان ہے“۔مشرف نے کہا کہ میں اور جنرل کیانی اب بھی فون پر رابطہ رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ فوج میں بغاوت ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ فوج میں بنیاد پرستانہ نظریات رکھنے والے ضرور موجود ہیں لیکن میرا نہیں خیال کہ ان کا منظم ہوکر بغاوت کا کوئی امکان بھی ہو۔ یہ بنیاد پرست ناپسند کئے جاتے ہیں اور ان کی کوئی مقبولیت حاصل نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مسلمان اوباما سے بہت زیادہ توقعات رکھتے ہیں۔ ان کو اپنی مقبولیت کا فائدہ اٹھانا چاہئے۔ حتیٰ کہ طالبان کے ساتھ سیاسی ڈیل کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہئے۔مشرف نے فوج میں ماضی میں ہونے والی بنیاد پرستانہ بغاوت کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں کوششوں میں ملوث افسروں کو پکڑ کر سزا دی گئی۔ میں نے سٹریٹجک اثاثوں کے تحفظ کیلئے 18 سے 20ہزار افراد پر مشتمل مضبوط سٹریٹجک فورس قائم کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے کردار اور امکانی طور پر بنیاد پرست ہونے کے حوالے سے ان کی مانیٹرنگ کی جاتی ہے‘ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ میری رخصتی کے بعد سے بہت کچھ تبدیل ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ طالبان اور ان کے اقدامات کے بارے میں چوکنے ہوگئے ہیں۔ اب ہر شخص چوکنا ہے۔ہرش نے لکھا کہ مشرف ہائیڈ پارک کے قریب لندن میں اپنی اہلیہ کے ساتھ جلاوطنی کی سادہ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے ساتھ رابطہ رکھنے والے حکام نے بتایا کہ بہت سی غلطیوں کے ساتھ ساتھ ان میں ایک نقص یہ بھی ہے کہ بہت زیادہ صاف گو ہیں۔ ہماری بات چیت سے قبل میں (ہرش) نے پوچھا کہ آپ نے گزشتہ جنوری میں واشنگٹن کے دورے کے موقع پر اوباما انتظامیہ کے کسی سینئر عہدیدار سے ملاقات کیوں نہ کی تو انہوں نے کہا کہ میں نے ملاقات کیلئے اس لئے نہیں کہا کہیں انکار نہ ہوجائے۔ایک اور موقع پر عام ڈھیلے ڈھالے اورا سپورٹس شرٹ میں ملبوس مشرف نے کہا کہ میں 2005ء میں شروع ہونے والے امریکی ڈرون حملوں سے بڑا پریشان تھا۔ میں نے امریکیوں سے پریڈیٹر کا مطالبہ کیا لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ میں نے امریکیوں سے کہا کہ پھر اب کم از کم عوام کے سامنے یہ ضرور کہہ دیں کہ آپ ہمیں پریڈیٹر دے رہے ہیں۔ آپ ان پر حملے کرتے رہیں لیکن پی اے ایف کو ان کی نشاندہی کی ذمہ داری دیں لیکن اس سے بھی انکار کردیا گیا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 5 so far )

کیری لوگر بل کا متن

Posted on 01/10/2009. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

واشنگٹن: ذیل میں جمعرات24 ستمبر 2009ء کو سینیٹ سے پاس ہونے والے کیری لوگربل کامتن پیش کیا جارہا ہے۔ یہ ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوو میں پیش کیا جارہا ہے، اور اگر یہ بغیرکسی ترمیم کے منظور ہوگیا تو صدر اوباما کے پاس قانون دستخط کے لیے بھیج دیاجائے گا،

جس کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔
s.1707
پاکستان کے ساتھ تعلقات کے فروغ ایکٹ برائے 2009 ء
(مستغرق، متفق یاسینیٹ سے منظور)
SEC. 203
کچھ امداد کے حوالے سے متعین حدود

(a)
سیکورٹی تعلقات میں معاونت کی حدود: مالی سال 2012 ء سے 2014ء کے لیے، پاکستان کومالی سال میں اس وقت تک کوئی سیکورٹی تعلقات میں معاونت فراہم نہیں کی جائے گی،جب تک سیکریٹری آف اسٹیٹ، صدر مملکت کی ہدایت پرسب سیکشن
(c)
میں درج ہدایات کے مطابق منظوری نہ دے دیں۔

(b)
اسلحہ کی فراہمی کی حدود: مالی سال 2012ء سے 2014ء تک کے لیے، پاکستان کواس وقت تک بڑا دفاعی سامان کی فروخت کا اجازت نامہ یا لائسنس، دی آرم ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ (22
usc 2751et seq.)
کے مطابق جاری نہیں کیا جائے گا ، جب تک امریکی وزیر خارجہ امریکی صدرکی ہدایت کے مطابق، سب سیکشن
(c)
میں درج ضروریات کے مطابق منظوری نہ دے دیں

(c)
تصدیق کاعمل: اس سب سیکشن کے تصدیقی عمل کے لیے ضروری ہے کہ اسے سیکریٹری آف اسٹیٹ ، صدرکی ہدایت کے مطابق منظورکریں گے، کانگریس کی کمیٹیزکے مطابق کہ

(1)
امریکا، حکومت پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گاکہ پاکستان جوہری ہتھیاروں سے متعلق مواد کی منتقلی کے نیٹ ورک کو منہدم کرنے میں کردار ادا کرے، مثلاً اس سے متعلقہ معلومات فراہم کرے یا پاکستانی قومی رفاقت جو اس نیٹ ورک کے ساتھ ہے تک یابراہ راست رسائی دے۔ حکومت پاکستان نے موجودہ مالی سال کے دوران مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اب بھی دہشت گرد گروپوں کے خلاف موثر کوششیں کررہی ہے۔

سیکشن 201میں امداد کے جن مقاصد کو بیان کیا گیا ہے۔ ان کے تحت حکومت پاکستان نے مندرجہ ذیل امور میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

(الف) مدد روکنا: پاکستانی فوج یا کسی انٹیلی جنس ایجنسی میں موجود عناصر کی جانب سے انتہا پسندوں یا دہشتگرد گروپوں ، خصوصی طور پر وہ گروپ جنہوں نے افغانستان میں امریکی یا اتحادی افواج پر حملے کئے ہوں،یا پڑوسی ممالک کے لوگوں یا علاقوں پر حملوں میں ملوث ہوں

(ب) القاعدہ ، طالبان اور متعلقہ گروپوں جیسے کہ لشکر طیبہ اور جیش محمد سے بچاؤ اور پاکستانی حدود میں کارروائیاں سے روکنا ، سرحد پر پڑوسی ممالک میں حملوں کی روک تھام ، قبائلی علاقوں میں دہشت گرد کیمپوں کی بندش ،ملک کے مختلف حصوں بشمول کوئٹہ اور مریدکے میں موجود دہشت گرد ٹھکانوں کا مکمل خاتمہ، اہم دہشت گردوں کے بارے میں فراہم کردہ خفیہ معلومات کے بعد کارروائی کرنا،

(ج)انسداد دہشتگردی اور اینٹی منی لانڈرنگ قانون کو مضبوط بنانا،

(3)
پاکستان کی سیکورٹی فورسز پاکستان میں عدالتی و سیاسی معاملات میں عملاًیا کسی اور طریقے سے دخل اندازی نہیں کرینگی۔ بعض ادائیگیاں

(1)
عام طور پر ان کا تعلق پیرا گراف

(2)
سے ان فنڈز میں سے کسی کا تعلق مالی سال 2010ء سے 2014ء تک کے مالی سال سے نہیں ہے یا اس فنڈ کا کوئی تعلق پاکستان کے کاؤنٹر انسرجینسی کیسے بلیٹی فنڈ سے بھی نہیں ہوگا جو سپلی مینٹل ایپرو پری ایشن ایکٹ 2009ء (پبلک لاء 32-III کے تحت قائم ہے) اس کا دا ئرہ کار ان ادائیگیوں تک وسیع ہوگا جن کا تعلق (الف) لیٹر آف آفر اینڈ ایکسپٹینس
(Letter Of Offer And Acceptnce)، PK-D- NAP
سے ہے۔ جن پر امریکا اور پاکستان نے 30ستمبر 2006ء کو دستخط کئے تھے اور (ب)پاکستان اور امریکا کی حکومتوں کے درمیان 30ستمبر 2006کو دستخط شدہ لیٹر آف آفر اینڈ ایکسپٹنس
PK-D-NAP
اور
(ج )
(Letter Of Offer And Acceptnce)، PK-D- NAP جس پر امریکی حکومت اور حکومت پاکستان کی جانب سے 30ستمبر 2006ء کو دستخط ہوئے تھے۔

استثنیٰ: مالی سال 2010ء سے 2014ء تک کیلئے جو فنڈز سیکورٹی میں مدد دینے کے لئے مختص کئے گئے ہیں وہ تعمیرات اور متعلقہ سرگرمیوں کے لئے استعمال کئے جاسکتے ہیں جن کی وضاحت
Letter Of Offer And Acceptnce کے پیرا گراف

(1)
میں کی گئی ہے۔ تحریری دستاویز: وزیر خارجہ صدر کی ہدایت کے تحت مختص رقم میں سیکشن
(B)-A) اور (D)
کے تحت ایک سال کے لئے کمی کرسکتے ہیں وزیر خارجہ یہ اقدام اس وقت اٹھائیں گے جب انہیں خیال ہوگا کہ یہ اقدام امریکا کی قومی سلامتی کے مفاد میں ہے۔

تحریری دستاویز کا نوٹس: وزیر خارجہ کو صدر کی ہدایت کے مطابق رقوم میں کمی کا اختیار پیرا گراف
(1)
کے مطابق اس وقت تک استعمال نہیں کرسکیں گے جب تک کانگریس کی متعلقہ کمیٹی کو اس سلسلے میں سات روز کے اندر تحریر نوٹس نہ مل جائے جس میں رقوم میں کمی کی وجوہات درج ہوں یہ نوٹس کلاسیفائیڈ یا نان کلاسیفائیڈ شکل میں ضرورت کے مطابق پیش کیا جائے گا۔

(ف) مناسب کانگریسی کمیٹیوں کی تعریف: اس حصے میں مناسب کانگریسی کمیٹیوں کی اصطلاح سے مراد ایوان نمائندگان کی نمبر 1 کمیٹی برائے خارجہ امور، کمیٹی برائے مسلح افواج، کمیٹی برائے حکومتی اصلاحات اور فروگذاشت، 2 سینیٹ کی امور خارجہ تعلقات کمیٹی، مسلح افواج کمیٹی اور نتیجہ کمیٹی برائے انٹیلی جنس ہیں۔ سیکشن 204 خانہ جنگی سے نمٹنے کی پاکستانی صلاحیت کا فنڈ (ایف) مالی سال 2010 (1) عمومی طور پر۔ برائے مالی سال 2010 کیلئے ریاست کے محکمہ نے ضمنی تخصیص ایکٹ 2009 (بپلک لا 111-32) کے تحت پاکستان کی خانہ جنگی سے نمٹنے کی صلاحیت کافنڈ قائم کر دیا گیا ہے۔ (اس کے بعد اسے صرف فنڈ لکھا جائے گا) پر مشتمل ہو گا۔ مناسب رقم پر جو اس سب سیکشن پرعملدرآمد کیلئے ہو گی (جو شاہد شامل نہیں ہو گی اس مناسب رقم میں 70 ایکٹ کے عنوان نمبر ایک پر عملدرآمد کیلئے ہے۔

(ب) وزیر خارجہ کو دستیاب رقم بصورت دیگر اس سب سیکشن پر عملدرآمد کیلئے ہو گی۔

(2) فنڈ کے مقاصد ، فنڈز کی رقم اس سب سیکشن پرعملدرآمد کیلئے کسی بھی مالی سال دستیاب ہو گی اور اس کا استعمال وزیر خارجہ، وزیر دفاع کی اتفاق/ مشاورت سے کریں گے اور یہ پاکستان کی انسداد خانہ جنگی صلاحیت کے فروغ اور استحکام پر انہی شرائط کے تحت صرف ہو گی۔ ماسوائے اس سب سیکشن جو مالی سال 2009 کیلئے دستیاب فنڈ اور رقوم پر لاگو ہو گا۔

(3) ٹرانسفر اتھارٹی ،

(الف) عمومی طور پر: امریکی وزیر خارجہ کسی بھی مالی سال کیلئے پاکستان انسداد خانہ جنگی فنڈ جو ضمنی تخصیص ایکٹ 2009 کے تحت قائم کیا گیا ہے، کو رقوم منتقل کرنے کی مجاز ہوں گی اور اگر وزیر دفاع کے اتفاق رائے سے یہ طے پائے کہ فنڈ کی ان مقاصدکیلئے مزید ضرورت نہیں جن کیلئے جاری کئے گئے تھے تو وہ وزیر خارجہ یہ رقوم واپس کر سکتے ہیں۔

(ب) منتقل فنڈ کا استعمال۔ سیکشن 203 کی ذیلی شق (د) اور (ع) کے تحت پیرا گراف (الف) میں دی گئی اتھارٹی اگر فنڈ منتقل کرتی ہے تو انہی اوقات اور مقاصد کے تحت پاکستان انسداد خانہ جنگی فنڈ کے لئے استعمال ہو گی۔

(ج) دوسری اتھارٹیوں سے تعلقات۔ اس سب سیکشن کے تحت معاونت فراہم کرنے والی اتھارٹی اضافی طور پر دیگر ممالک کو بھی امداد کی فراہمی کا اختیار رکھے گی۔

(د) نوٹیفکیشن۔ وزیر خارجہ سب پیرا گراف (اے) کے تحت فنڈز کی فراہمی سے کم از کم 15 روز قبل کانگریس کی کمیٹیوں کو تحریری طور پر فنڈز کی منتقلی کی تفصیلات سے آگاہ کریں گی۔

(ر) نوٹیفکیشن کی فراہمی۔ اس سیکشن کے تحت کسی نوٹیفکیشن کی ضرورت کی صورت میں کلاسیفائیڈ یا غیر کلاسیفائیڈ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

(س) کانگریسی کمیٹیوں کی وضاحت۔ اس سیکشن کے تحت مجاز کانگریشنل کمیٹیوں سے مراد

(1)
ایوان نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی اور خارجہ تعلقات کمیٹی

(2)
سینیٹ کی آرمڈ سروسز اور خارجہ تعلقات کمیٹی ہے۔ سیکشن 205 فراہم کی گئی امداد کا سویلین کنٹرول ضروریات (1) مالی سال 2010 سے مالی سال 2014 کے دوران حکومت پاکستان کو سیکورٹی کیلئے فراہم کی گئی براہ راست نقد امداد پاکستان کی سویلین حکومت کے سویلین حکام کو فراہم کی جائے گی۔ کیری لوگر بل کی سیکشن 205 کے تحت مخصوص امدادی پیکیج پر سویلین کنٹرول کی شرط کیری لوگر بل میں سیکشن 205 کے تحت پاکستان کو امداد کی فراہمی کیلئے سویلین کنٹرول کی شرائط عائد کی گئی ہیں۔

(ا) شرائط :

(1)
عمومی طور پر 2010ء سے 2014ء تک حکومت پاکستان کو امریکہ کی جانب سے ملنے والی سیکورٹی معاملات سے متعلقہ کیش امداد یا دیگر نان اسسٹنس (غیر امدادی) ادائیگیاں صرف پاکستان کی سویلین حکومت کی سویلین اتھارٹی کو دی جائیگی۔

(2)
دستاویزی کارروائی مالی سال 2010-2014ء تک امریکی وزیر خارجہ، وزیر دفاع کی معاونت اور تعاون سے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ امریکہ کی جانب سے حکومت پاکستان کو دی جانے والی غیر امدادی
(Non-Assistance)
ادائیگیوں کی حتمی دستاویزات پاکستان کی سویلین حکومت کی سویلین اتھارٹی کو وصول ہو چکی ہیں۔

(ب) شرائط میں چھوٹ :

(1)
سیکورٹی سے متعلق امداد، بل کے مطابق امریکی وزیر خارجہ، وزیر دفاع سے مشاورت کے بعد ذیلی سیکشن (a) کے تحت سیکورٹی سے متعلق امداد پر عائد شرائط کو ختم کر سکتے ہیں۔ تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ یہ سیکورٹی امداد امریکی بجٹ کے فنکشن نمبر 150 (بین الاقوامی معاملات) سے دی جا رہی ہو اور امریکی وزیر خارجہ کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو اس امر کی یقین دہانی کرائیں کہ شرائط میں چھوٹ امریکہ کی قومی سلامتی کیلئے ضروری اور امریکی مفاد میں ہیں۔،

(2)
غیر امدادی
(Non-Assistance)
ادائیگیاں امریکی وزیر دفاع، وزیر خارجہ کی مشاورت سے ذیلی سیکشن
(a)
کے تحت ایسی غیر امدادی ادائیگیاں جو بجٹ فنکشن 050 (قومی دفاع) کے اکاؤنٹس سے کی جا رہی ہوں۔ پر عائد شرائط کو ختم کر سکتے ہیں۔ تاہم اس چھوٹ کیلئے وزیر دفاع کو کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو یقین دہانی کرانا ہو گی۔ کہ پابندیاں میں چھوٹ امریکہ کے قومی مفاد کیلئے اہم ہے۔

(ج) بعض مخصوص سرگرمیوں پر سیکشن (205) کا اطلاق۔ درج ذیل سرگرمیوں پر سیکشن 205 کے کسی حصے کا اطلاق نہیں ہوگا۔

(1)
ایسی کوئی بھی سرگرمی جس کی رپورٹنگ 1947 کے قومی سلامتی ایکٹ (50
U.S.C. 413 et Seq)
کے تحت کیا جانا ضروری ہے۔

(2)
جمہوری انتخابات یا جمہوری عمل میں عوام کی شرکت کی فروغ کیلئے دی جانے والی امداد،

(3)
ایسی امداد یا ادائیگیاں جن کا وزیر خارجہ تعین کریں اور کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو یقین دہانی کرائیں کہ مذکورہ امداد یا ادائیگیوں کو ختم کرنے سے جمہوریت حکومت اقتدار میں آ گئی ہے۔،

(4)
مالی سال 2005ء میں رونلڈ ڈبلیو ریگن نیشنل ڈیفنس آتھورائزیشن ایکٹ کی سیکشن (20 (ترمیم شدہ) کے تحت ہونے والی ادائیگیاں
(Public Law 108-375, 118 Stat 2086) ،

(5)
امریکی محکمہ دفاع اور وزارت دفاع اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مابین کراس سروسنگ معاہدے کے تحت کی جانے والی ادائیگیاں،

(6) مالی سال 2009ء کیلئے ڈنکن ہنٹر نیشنل ڈیفنس آتھورائزیشن ایکٹ کی سیکشن (943) کے تحت کی جانے والی ادائیگیاں
(Public Law 110-417, 122 Stat 457
(د) اصطلاحات کی وضاحت / تعریف سیکشن 205 میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کی تعریف / وضاحت اس طرح ہے۔

(1)
متعلقہ کانگریس کمیٹیوں سے مراد ایوان نمائندگان اخراجات سے متعلق کمیٹیاں، آرمڈ سروسز اور فارن افیئرز کی کمیٹیاں سینٹ کی اخراجات سے متعلق کمیٹیاں، آرمڈ سروسز اور فارن افیئرز کمیٹیاں ہیں۔،

(2)
پاکستان کی سویلین حکومت کی اصطلاح میں ایسی پاکستانی حکومت شامل نہیں ۔جس کے باقاعدہ منتخب سربراہ کو فوجی بغاوت یا فوجی حکم نامے کے ذریعے اقتدار سے ہٹا دیا گیا ہو۔ عنوان III حکمت عملی، احتساب، مانیٹرنگ اور دیگر شرائط سیکشن 301 حکمت عملی رپورٹس

(اے) پاکستان کی امداد سے متعلق حکمت عملی کی رپورٹ۔ اس ایکٹ کے نافذالعمل ہونے سے 45 روز کے اندر سیکرٹری خارجہ کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو پاکستان کی امداد سے متعلق امریکی حکمت عملی اور پالیسی کے حوالے سے رپورٹ پیش کرے گا۔ رپورٹ میں درج ذیل چیزیں شامل ہوں گی۔

(1)
پاکستان کو امریکی امداد کے اصولی مقاصد

(2)
مخصوص پروگراموں، منصوبوں اور سیکشن 101 کے تحت وضع کردہ سرگرمیوں کی عمومی تفصیل اور ان منصوبوں، پروگراموں اور سرگرمیوں کے لئے مالی سال 2010ء سے 2014ء تک مختص کردہ فنڈز کی تفصیلات۔

(3)
ایکٹ کے تحت پروگرام کی مانیٹرنگ آپریشنز، ریسرچ اور منظور کردہ امداد کے تجزیئے کا منصوبہ۔

(4)
پاکستان کے قومی، علاقائی، مقامی حکام، پاکستان سول سوسائٹی کے ارکان، نجی شعبہ، سول، مذہبی اور قبائلی رہنماؤں کے کردار کی تفصیلات جو ان پروگراموں، منصوبوں کی نشاندہی اور ان پر عملدرآمد میں تعاون کریں گے جن کے لئے اس ایکٹ کے تحت امداد دی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ حکمت عملی وضع کرنے کے لئے ایسے نمائندوں سے مشاورت کی تفصیل:

5:
اس ایکٹ کے تحت اٹھائے گئے اور اٹھائے جانے والے اقدامات سے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ امداد افراد اور دہشت گرد تنظیموں سے الحاق رکھنے والے اداروں تک نہ پہنچے۔

6:
اس ایکٹ کے تحت پاکستان کو فراہم کردہ امداد کی سطح کا تخمینہ لگانے کیلئے اسے مندرجہ ذیل کیٹیگریوں میں تقسیم کیاگیا جسے میلینیم چیلنج اکاؤنٹ امداد
(Assistance)
کے لئے اہل امیدوار ملک کے تعین کے طریقہ کار کے حوالے سے سالانہ معیاری رپورٹ
(Criteria Report)
میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ یہ کیٹیگریز مندرجہ ذیل ہیں۔

(I)
عوامی آزادی

(II)
سیاسی حقوق

(III)
آزادی اظہار رائے اور احتساب

(IV)
حکومت کی موثریت

(V)
قانون کی بالادستی

(VI)
بدعنوانی پر قابو

(VII)
بیماریوں کی شرح

(VIII)
شعبہ صحت پر خرچ

(IX)
لڑکیوں کی پرائمری تک تعلیم مکمل کرنے کی شرح

(X)
پرائمری تعلیم پر بجٹ

(XI)
قدرتی وسائل کا استعمال

(XII)
کاروباری مشکلات کے خاتمے

(XIII)
لینڈ رائٹس اور ان تک رسائی

(XIV)
تجارتی پالیسی

(XV)
ریگولیٹری کوالٹی

(XVI)
مہنگائی پر قابو

(XVII)
مالی پالیسی

7:
پاکستان کے پاس پہلے سے موجود ہیلی کاپٹرز کی تبدیلی اور اس حوالے سے تربیت اور ان کی درستگی کے لئے سفارشات اور تجزیہ بھی کیا جائے گا۔

(B)
علاقائی حکمت عملی کی تفصیلی رپورٹ کانگریس کی فہم و فراست: یہ کانگریس کی فہم و فراست ہے کہ امریکی قومی سلامتی کے مقاصد کے حصول، پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کے لئے ایک تفصیلی ترقیاتی منصوبے کی ضرورت ہے جس میں دیگر متعلقہ حکومتوں کے تعاون و اشتراک سے قومی طاقت کے تمام عناصر کو اس مقصد کے لئے استعمال میں لایا جائے۔ پاکستان کی دیرپا خوشحالی اور سلامتی کے لئے بھی ضروری ہے کہ پاکستان، افغانستان اور بھارت کے مابین مضبوط تعلقات ہوں۔ علاقائی سلامتی کی تفصیلی حکمت عملی : پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کے لئے صدر پاکستانی حکومت اور دیگر علاقائی حکومتوں اور اداروں کے اشتراک سے علاقائی سلامتی کی حکمت عملی ترتیب دینگے۔ پاک افغان سرحدی علاقوں فاٹا، صوبہ سرحد، بلوچستان اور پنجاب کے علاقوں میں اس علاقائی سلامتی کی حکمت عملی پر موثر عملدرآمد اور انسداد دہشت گردی کے لئے موثر کوششیں عمل میں لائی جائیں گی۔

3:
رپورٹ: عمومی طور پر اس ایکٹ کے لاگو ہونے کے 180 روز کے اندر اندر صدر علاقائی سلامتی کی حکمت عملی کے حوالے سے رپورٹ کانگریس کمیٹی کو جمع کروائیں گے جس کے مندرجات میں علاقائی سلامتی کی حکمت عملی کی رپورٹ کی کاپی، اہداف کا تعین اور تجویز کردہ وقت اور حکمت عملی پر عمل کے لئے بجٹ کی تفصیل شامل ہے۔

(ب) رپورٹ میں ریجنل سیکورٹی کی جامع حکمت عملی کی ایک نقل شامل ہوگی جس میں اہداف سمیت حکمت عملی پر عملدرآمد کیلئے مجوزہ وقت اور بجٹ کی تفصیلات شامل ہوں گی۔

(C)
مناسب کانگریسی کمیٹی کی تعریف اس پیراگراف کے مطابق مناسب کانگریسی کمیٹی کا مطلب۔

(i )
ایوان نمائندگان کی کمیٹی برائے
Appropriations
امورکمیٹی برائے مسلح افواج کمیٹی برائے خارجہ امور اور مستقل سلیکٹ کمیٹی برائے انٹیلی جنس ہوگا اور

(ii)
سینٹ کی کمیٹی برائے
Appropriations
کمیٹی برائے مسلح افواج کمیٹی برائے خارجہ امور اور مستقل سلیکٹ کمیٹی برائے انٹیلی جنس ہوگا۔

(C)
سکیورٹی میں مدد کے حوالے سے منصوبہ: اس قانون کے بنائے جانے کے 180 دن کے اندر وزیر خارجہ مناسب کانگریسی کمیٹی کے سامنے وہ منصوبہ پیش کریں گے جس کیلئے فنڈز مختص کئے جائیں گے اور یہ مالی سال 2010ء سے 2014ء تک ہرسال ہوگا اس منصوبے میں یہ بتایا جائے گا کہ رقم کا استعمال کس طرح سے سیکشن 204 میں مذکورہ رقوم سے متعلقہ ہے۔

سیکشن :302 مانیٹرنگ رپورٹس
(a)
سیکشن 301(اے) پر عمل کرتے ہوئے
Pakistan Assistance Strategy Report
پیش کئے جانے کے 180 دن کے اندر (ششماہی) اور بعدازاں 30 ستمبر 2014ء تک ششماہی بنیادوں پر سیکرٹری خارجہ کی طرف سے سیکرٹری دفاع کے ساتھ مشاورت کے بعد مناسب کانگریسی کمیٹی کو رپورٹ پیش کی جائے گی جس میں اس طرح (180 دنوں میں) میں فراہم کی گئی مدد/ معاونت کی تفصیلات ہوں گی۔ اس رپورٹ میں درج ذیل تفصیلات ہوں گی۔

(1)
جس عرصے کیلئے یہ رپورٹ ہوگی اس عرصے کے دوران اس ایکٹ کے ٹائٹل ایک کے تحت کسی پروگرام پراجیکٹ اور سرگرمی کے ذریعے فراہم کی گئی معاونت اور اس کے ساتھ ساتھ جس علاقے میں ایسا کیا گیا ہوگا اس کا حدود اربعہ اس رپورٹ میں شامل ہوگا اور اس میں اس رقم کا بھی ذکر ہوگا جو اس کے لئے خرچ ہوگی جہاں تک پہلی رپورٹ کا تعلق ہے تو اس میں مالی سال 2009ء میں پاکستان کی معاونت کیلئے فراہم کی گئی رقوم کی تفصیل ہوگی اور اس میں بھی ہر پروگرام پراجیکٹ اور سرگرمی کے بارے میں بتایا جائے گا۔

(2)
رپورٹ کے عرصے کے دوران اس ایکٹ کے ٹائٹل ایک کے تحت پراجیکٹ شروع کرنے والے ایسے امریکی یا کسی اور ملک کے شہریوں یا تنظیموں کی فہرست بھی رپورٹ میں شامل ہوگی جو ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ رقم /فنڈز حاصل کریں گے اور یہ فہرست کسی کلاسیفائیڈ ضمیمہ میں دی جاسکتی ہے تاکہ اگر کوئی سکیورٹی رسک ہوتو اس سے بچا جاسکے اور اس میں اس کو خفیہ رکھنے کا جواز بھی دیا جائے گا۔

(3)
رپورٹ میں سیکشن 301 (اے) کی ذیلی شق (3) میں مذکورہ منصوبے کے بارے میں تازہ ترین اپ ڈیٹس/پیش رفت اور اس ایکٹ کے ٹائٹل ایک کے تحت دی گئی معاونت کے اثرات کی بہتری کے لئے اقدامات کی تفصیل بھی شامل ہوگی۔

(4)
رپورٹ میں ایک جائزہ بھی پیش کیا جائے گا جس میں اس ایکٹ کے تحت فراہم کی گئی معاونت کے موثر/اثر پذیری کا احاطہ کیا گیا ہوگا اور اس میں سیکشن 301 (اے) کی ذیلی شق 3 میں بتائے گئے طریقہ کار کو مد نظر رکھ کر مطلوبہ مقاصد کے حصول یا نتائج کا جائزہ لیا گیا ہوگا اور اس سب سیکشن کے پیراگراف 3 کے تحت اس میں ہونیوالی پیش رفت یا اپ ڈیٹ بھی بیان کی جائے گی جوکہ یہ جانچنے کیلئے کہ آیا مطلوبہ نتائج حاصل ہوئے ہیں یا نہیں ایک منظم مربوط بنیاد فراہم کرے گی اس رپورٹ میں ہر پروگرام اور پراجیکٹ کی تکمیل کا عرصہ بھی بتایا جائے گا۔

(5)
امریکا کی طرف سے مالیاتی فزیکل تکنیکی یا انسانی وسائل کے حوالے سے کوئی کمی وبیشی جوکہ ان فنڈز پر موثر استعمال یا مانیٹرنگ میں رکاوٹ ہوگی کے بارے میں بھی اس رپورٹ میں ذکر کیا جائے گا۔

(6)
امریکا کی دوطرفہ یا کثیر الطرفہ معاونت کے منفی اثرات کا ذکر بھی اس رپورٹ میں شامل ہوگا اور اس حوالے سے اگر کوئی ہوگی تو پھر تبدیلی کیلئے سفارشات بھی دی جائیں گی اور جس علاقے کیلئے یہ فنڈز یا معاونت ہوگی اس کی انجذابی صلاحیت /گنجائش بھی رپورٹ میں مذکور ہوگی۔

(7)
رپورٹ میں اس ایکٹ کے ٹائٹل ایک کے تحت ہونے والے اخراجات کے ضیاع فراڈ یا غلط استعمال کے حوالے سے کوئی واقعہ یا رپورٹ بھی شامل کی جائے گی۔

( ان فنڈز کی رقم جوکہ سیکشن 102 کے تحت استعمال کیلئے مختص کی گئی اور جوکہ رپورٹ کے عرصے کے دوران انتظامی اخراجات یا آڈٹ یا سیکشن 103 یا 101 (سی) کی ذیلی شق 2 کے تحت حاصل اختیارات کے ذریعے استعمال کی گئی کی تفصیلات بھی رپورٹ میں شامل ہوں گی۔

(9)
سیکشن 101 (سی) کی ذیلی شق 5 کے تحت قائم/ مقرر کردہ چیف آف مشن فنڈ کی طرف سے کئے گئے اخراجات جوکہ اس عرصے کے دوران کئے گئے ہوں گے جس کیلئے رپورٹ تیار کی گئی ہے اس رپورٹ میں شامل ہوں گے اس میں ان اخراجات کا مقصد بھی بتایا جائے گا اور اس میں چیف آف مشن کی طرف سے ایک لاکھ ڈالر سے زائد کے اخراجات کے وصول کنندگان کی فہرست بھی شامل ہوگی۔

(10)
اس ایکٹ کے ٹائٹل ایک کے تحت پاکستان کو فراہم کی گئی معاونت کا حساب کتاب (اکاؤنٹنگ) جوکہ سیکشن 301 (اے) کی ذیلی شق 6 میں دی گئی مختلف کٹییگریز میں تقسیم کی گئی ہے کی تفصیل بھی رپورٹ میں بیان کی جائے گی۔

(11)
اس رپورٹ میں درج ذیل مقاصد کیلئے حکومت پاکستان کی طرف سے کی گئی کوششوں کے جائزہ بھی پیش کیا جائے گا۔

(الف) فاٹا یا بندو بستی علاقوں میں القاعدہ طالبان یادیگر انتہا پسند اور دہشت گرد گروپوں کے خاتمے ان کو غیر موثر یا شکست دینے کیلئے کی گئی کوششیں۔

(ب) ایسی قوتوں کے پاکستان میں موجود محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کیلئے کی گئی کوششیں

(ج) لشکر طیبہ اور جیش محمد کے تربیتی مراکزکی بندش

(د) دہشت گرد اور انتہا پسند گروپوں کوہر قسم کی مدد و تعاون کا خاتمہ

(ر) ہمسایہ ممالک میں حملوں کی روک تھام کیلئے کوششیں / اقدامات

(س) مدارس کے نصاب کی نگرانی میں اضافہ اور طالبان یا دہشت گرد یا انتہا پسند گروپوں سے تعلق رکھنے والے مدارس کی بندش کیلئے کی گئی کوششیں۔

(ش) انسداد منی لانڈرنگ قوانین اور دہشت گردی کے انسداد کیلئے فنڈز کے استعمال میں بہتری یا اضافے کی کوششیں یا اقدامات مالیاتی ایکشن ٹاسک فورس کیلئے مبصر کا درجہ اور دہشت گردی کیلئے مالی وسائل کی فراہمی روکنے کیلئے اقوام متحدہ کے بین الاقوامی کنونشن پر عملدرآمد کیلئے کی گئی کوششیں۔

(12)
پاکستا ن کی طرف سے جوہری عدم پھیلاؤ (جوہری مواد اور مہارت) کیلئے کی گئی کوششوں کی جامع تفصیل بھی اس رپورٹ میں شامل ہوگی۔

(13)
اس رپورٹ میں ایک جائزہ بھی پیش کیا جائے گا تاکہ آیا پاکستان کو فراہم کی گئی معاونت اس کے جوہری پروگرام کی توسیع میں بالواسطہ یا بلاواسطہ مددگار ثابت ہوئی ہے یانہیں آیا امریکی معاونت کے انحراف یا پاکستان کے وسائل کی
Realloction
جوکہ بصورت دیگر پاکستان کے جوہری پروگرام سے غیر متعلقہ سرگرمیوں پر خرچ ہوں گے۔

(14)
رپورٹ میں سیکشن 202 (بی) کے تحت مختص کئے گئے اور خرچ کئے گئے فنڈز کی جامع تفصیلات بھی شامل ہوں گی۔

(15)
اس رپورٹ میں حکومت پاکستان کا فوج پر موثر سویلین کنٹرول بشمول سویلین ایگزیکٹو لیڈرز اور پارلیمنٹ کا فوجی /ملٹری بجٹ کی نگرانی اور منظوری کمانڈ کے تسلسل سینئر فوجی افسروں کی ترقی میں عمل دخل کی تفصیلات سٹریٹجک پلاننگ میں سویلین عمل دخل اور سول انتظامیہ میں فوجی مداخلت کی تفصیلات بھی شامل ہوں گی۔

(b)
حکومتی احتساب دفتر کی رپورٹس پاکستان معاونت لائحہ عمل رپورٹ: سیکشن 301 (اے) کے تحت پاکستان معاونت لائحہ عمل رپورٹ پیش کئے جانے کے ایک سال کے اندر کنٹرولر جنرل آف امریکا مناسب کانگریسی کمیٹی کو ایک رپورٹ پیش کرے گا جس میں درج ذیل تفصیلات مذکور ہوں گی۔

(الف) پاکستان معاونت لائحہ عمل رپورٹ کا جائزہ اور اس حوالے سے رائے

(ب) اس ایکٹ کے تحت مقاصد کے حصول کیلئے امریکی کوششوں کو موثر بنانے کیلئے اگر کنٹرولر جنرل کوئی اضافی اقدامات مناسب سمجھتا ہے تو وہ بھی بیان کئے جائیں گے۔

(پ) آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ (22 یو ایس سی) کی شق 22 کے تحت دی گئی گرانٹ کے مطابق پاکستان کی طرف سے کئے گئے اخراجات کی مفصل رپورٹ بھی پیش کی جائے گی۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

شہادت سرٹیفکیٹ

Posted on 11/09/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , |

تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے جاری کیا گیا شہادت سرٹیفکیٹ کا عکس

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

ڈیرہ آپریشن

Posted on 11/07/2009. Filed under: ڈیرہ نامہ | ٹيگز:, , , , |

ڈی پی او ڈیرہ ڈاکٹر رضوان کی سربراہی میں آج صبح پانچ بجے ڈیرہ غازی خان سے تقریبا ٣٠ کلومیٹر دور شادن لنڈ کے علاقہ میں واقع مدرسہ عثمانیہ پر چھاپہ مارا گیا، اس دوران مدرسے میں چھپے دہشت گردوں جن کا تعلق وزیرستان سے بتایا گیا ہے نے فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں ایک دہشتگرد ہلاک جبکہ دوسرے کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے، پولیس نے ابھی تک علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے۔ ایک دوست کے مطابق مدرسے سے ١٤ مارٹر گولے، ٥ خود کش جیکٹس، ١٥ ٹائم فیوز جیکٹس، ١٠ چھوٹے میزائل، ٢٢ ہینڈ گرنیڈ، ٨ راکٹ لانچر، ١٠ کلو دھماکہ خیز مواد اور بے شمار گنیں، گولیاں وغیرہ برآمد کی گئی ہیں۔
میں حیران ہوں کہ آخر اتنا زیادہ اسلحہ یہاں تک آیا کیسے، ہماری پولیس، فوج اور درجنوں دیگر ادارے آخر کیا کر رہے ہیں، دہشت گرد انتہائی آسانی سے اسلحہ ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے ہیں اور بیج میں خوار ہو رہا ہے بیچارہ عام آدمی۔
ایک طرف قانون نافذ کرنے والے ادارے، دوسری طرف دہشت گرد اور درمیان میں عوام جسے چکی میں پڑی گندم کی طرح پیسا جا رہا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 5 so far )

میری ناکام ریاست کو فنڈ دینا بند کرو

Posted on 29/04/2009. Filed under: پاکستان, سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , |

سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی بھتیجی فاطمہ بھٹو نے daily beast میں لکھے ایک مضمون میں کہا ہے کہ ہمیں امداد کے طور پر اربوں ڈالر تو موصول ہوئے مگر پاکستان کو محفوظ بنانے میں کامیابی حاصل نہ ہوئی، یہی وجہ ہے کہ ملک میں طالبان کی ایک اور قسم وجود میں آئی جو تجارتی راہداریوں کو بموں سے اڑانے اور نوجوان لڑکیوں کو کوڑے مارنے جیسی تخریبی اور گھناؤنی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ سر سبز وادی سوات میں انتہا پسند طالبان سے دو سال مقابلہ کرنے کے بعد صدر زرداری نے آخر کار ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور نفاذ شریعت کی اجازت دے دی۔ طالبان کے خواب کو قانونی منظوری ملنے کے ایک ہفتے بعد ہی طالبان انتہائی سرعت کے ساتھ ضلع بونیر میں داخل ہو گئے جو وفاقی دارالحکومت سے صرف ٧٠ میل کے فاصلے پر ہے۔
اس مضمون میں فاطمہ بھٹو صدر زارداری اور امریکی صدر بارک اوباما کے درمیان آئندہ ہونے والی ملاقات کے بارے میں لکھتی ہیں کہ اس ملاقات میں صدر زرداری اپنے کشکول میں مزید چندہ ڈالے جانے کے علاوہ اور کوئی سوال نہیں کریں گے۔ وہ اوباما پر صرف اتنا واضح کریں گے کہ پاکستان کو طالبان اور انتہاپسندوں سے مقابلہ کرنے کے لئے مزید فنڈ کی ضرورت ہے۔
سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے دہشت گردی سے مقابلہ کے لئے پاکستان کو دس ملین ڈالر دیئے جو ضائع گئے یا پھر بڑی جیبوں میں چلے گئے۔ ٹوکیو اجلاس کے بارے میں لکھتی ہیں کہ ٹوکیو اجلاس میں تیس ممالک کے نمائندے شریک ہوئے اور دہشتگردی سے مقابلہ کے لئے پاکستان کو پانچ بلین ڈالر فراہم کرنے کا عہد کیا۔ اس کے ساتھ آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کو ٧۔٦ بلین ڈالر رعائتی پیکیج کے طور پر فراہم کیا ہے، سعودی عرب نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئندہ چار برسوں میں ٧٠٠ ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا تو یورپی یونین نے بھی اسی مدت کے دوران اضافی ٦٤٠ ملین ڈالر عطا کرنے کا عہد کیا، علاوہ ازیں صدر اوباما نے سالانہ ١۔٥ بلین ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے اگرچہ وائٹ ہاؤس نے وضاعت کہ ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہنا اس کے نتائج پر منحصر ہے۔
فاطمہ بھٹو نے اس مضمون کے آخر میں وضاعت کی ہے کہ اتنی بڑی بڑی رقومات صدر زرداری کی جھولی میں ڈالنا حماقت کے سوا کچھ نہیں کیونکہ صدارت کا عہدہ سنبھالنے سے قبل سوئزرلینڈ، انگلینڈ اور اسپین میں ان کے خلاف کرپشن کے معاملات درج تھے۔
فاطمہ بھٹو نے آصف زرداری اور مقتول سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو پر پاکستانی خزانے سے تین بلین ڈالر سے زائد اڑانے کا الزام عائد کیا ہے وہ لکھتی ہیں کہ زرداری اسے چھپانے میں ناکام رہے کیونکہ صدر بننے سے قبل انہوں نے اپنی ملکیت میں ایک بلین ڈالر زائد کے اثاثہ جات کا اعلان کیا۔
فاطمہ بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستان کو مزید فنڈ کی فراہمی خطرناک ہو گی، اس کی شکم سیری نامکمن ہے بدعنوان حکومت کو جس قدر بھی فنڈ فراہم کیا جائے کم ہے۔ یہ رقومات پاکستان کو دہشتگردی سے نجات دلانے میں معاون ثابت نہیں سکتیں کہ دنیا کو جن انتہا پسندوں سے نجات دلانے کے لئے رقومات مقصود ہیں انہی کو تقویت بخشنے کے لئے فنڈز کا استعمال ہو رہا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

پاکستان ٹائم بمقابلہ طالبان ٹائم

Posted on 24/04/2009. Filed under: طنز و مزاح | ٹيگز:, , , , |

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

طالبان سے صلح کراؤ، کشمیر لو، امریکی پیشکش

Posted on 24/03/2009. Filed under: پاکستان, سیاست | ٹيگز:, , , , , |

لنک

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

گیٹ آؤٹ طالبان

Posted on 18/09/2008. Filed under: پاکستان, تعلیم, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

سترہ سالہ دانیال کے ایک انکار نے اسلام آباد کی اشرافیہ کو حیران نہیں بلکہ پریشان کر دیا۔ انکار کا یہ واقعہ پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے ڈرامہ ہال میں پیش آیا جہاں وفاقی دارالحکومت کے ایک معروف انگریزی میڈیم اسکول کی تقریب تقسیم انعامات جاری تھی۔ رمضان المبارک کے باعث یہ تقریب صبح دس بجے سے بارہ بجے کے درمیان منعقد کی گئی اور اتوار کا دن ہونے کے باعث ڈرامہ ہال طلبہ و طالبات کے والدین سے بھرا ہوا تھا۔ ان والدین میں شہر کے معروف لوگ شامل تھے۔ اس تقریب پر مغربی ماحول اور مغربی موسیقی غالب تھی جس میں حیرانگی کی کوئی بات نہ تھی۔ تقریب کی تمام کارروائی انگریزی میں ہو رہی تھی اور انگریزی زبان جہاں بھی جاتی ہے اپنی تہذیب کو ساتھ لے کر جاتی ہے۔ اس دوران اسکول کی طالبات نے جنید جمشید کے ایک پرانے گیت پر رقص پیش کیا۔ یہ گیت ایک سانولی سلونی محبوبہ کے بارے میں تھا جو شہر کے لڑکوں کو اپنا دیوانہ بنا لیتی ہے۔ نو عمر طالبات نے اس گیت پر دیوانہ وار رقص کیا۔ حاضرین میں موجود کئی طلبہ نے اپنے والدین کی موجودگی کی پروا نہ کرتے ہوئے محو رقص طالبات کو چیخ چیخ کر داد دی۔
اس رقص کے بعد اسٹیج سے او لیول اور اے لیول کے امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کے نام پکارے جانے لگے۔ گولڈ میڈل حاصل کرنے والی بعض طالبات اسکارف اور برقعے میں ملبوس تھیں۔ ایک طالب علم ایسا بھی تھا جس کے چہرے پر نئی نئی داڑھی آئی تھی اور جب پرنسپل صاحبہ نے اس کے گلے میں گولڈ میڈل ڈال کر اس کے ساتھ ہاتھ ملانا چاہا تو دبلے پتلے طالب نے نظریں جھکا کر اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ پرنسپل صاحبہ نے پوچھا کہ کیا تم ہاتھ نہیں ملانا چاہتے؟ طالب علم نے نفی میں سر ہلایا اور اسٹیج سے نیچے اتر آیا۔ پھر دانیال کا نام پکارا گیا جو اے لیول مکمل کرنے کے بعد ایک امریکی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے اور صرف گولڈ میڈل حاصل کرنے اپنے پرانے اسکول کی تقریب میں بلایا گیا تھا۔ وہ گولڈ میڈل وصول کرنے کیلئے پرنسپل صاحبہ کی طرف نہیں گیا بلکہ ڈائس پر جا کھڑا ہوا اور مائیک تھام کر کہنے لگا کہ وہ اپنے اسکول کی انتظامیہ کا بہت شکر گزار ہے کہ اسے گولڈ میڈل کیلئے نامزد کیا گیا لیکن اسے افسوس ہے کہ مذکورہ تقریب میں اسکول کی طالبات نے رمضان المبارک کے تقدس کا خیال نہیں کیا اور واہیات گیت پر رقص پیش کیا۔ اس نے کہا کہ مسلمانوں کے ملک میں رمضان المبارک کے تقدس کی پامالی کے خلاف بطور احتجاج وہ گولڈ میڈل وصول نہیں کرے گا۔ یہ کہہ کر وہ اسٹیج سے اتر آیا اور ہال میں ہڑبونگ مچ گئی۔ کچھ والدین اور طلبہ تالیاں بجا کر دانیال کی حمایت کر رہے تھے اور کچھ حاضرین غصے میں پاگل ہو کر اس نوجوان کو انگریزی زبان میں برا بھلا کہہ رہے تھے۔ بوائے کٹ بالوں والی ایک خاتون اپنی نشست سے کھڑی ہو کر زور زور سے چیخیں … ” گیٹ آؤٹ طالبان، گیٹ آؤٹ طالبان “۔
ایسا محسوس ہوتا تھا کہ دانیال کے مخالفین حاوی ہیں کیونکہ وہ بہت زیادہ شور کر رہے تھے لیکن یہ ہڑبونگ وفاقی دارالحکومت کی اشرافیہ میں ایک واضح تقسیم کا پتہ دے رہی تھی۔ یہ تقسیم لبرل عناصر اور بنیاد پرست اسلام پسندوں کے درمیان تھی۔ پرنسپل صاحبہ نے خود مائیک سنبھال کر صورتحال پر قابو پایا اور تھوڑی دیر کے بعد ہوشیاری سے ایک خاتون دانشور کو اسٹیج پر بلا لیا اور خاتون نے اپنی گرجدار آواز میں دانیال کو ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا کہ تم نے جو کچھ بھی کیا وہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تعلیمات کے خلاف تھا کیونکہ بانیٴ پاکستان رواداری کے علمبردار تھے۔ پچھلی نشستوں پر براجمان ایک اسکارف والی طالبہ بولی کہ بانیٴ پاکستان نے یہ کب کہا تھا کہ مسلمان بچیاں رمضان المبارک میں اپنے والدین کے سامنے سانولی سلونی محبوبہ بن کر ڈانس کریں؟ ایک دفعہ پھر ہال میں شور بلند ہوا اور اس مرتبہ بنیاد پرست حاوی تھے لہٰذا پرنسپل صاحبہ نے مائیک سنبھالا اور کہا کہ طالبات کے رقص سے اگر کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو وہ معذرت خواہ ہیں۔ اس واقعے نے اسلام آباد میں ایک مغربی سفارت خانے کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ سفارت خانے نے فوری طور پر ایک ماہر تعلیم کی خدمات حاصل کیں اور اسے کہا گیا کہ وہ اسلام آباد کے پانچ معروف انگریزی میڈیم اسکولوں میں او لیول اور اے لیول کے ایک سو طلبہ و طالبات سے امریکی پالیسیوں، طالبان اور اسلام کے بارے میں رائے معلوم کریں۔ اس سروے کے حتمی نتائج ابھی مرتب نہیں ہوئے لیکن مجھے بتایا گیا ہے کہ او لیول اور اے لیول کے طلبہ و طالبات کی ایک بڑی اکثریت امریکہ اور طالبان دونوں سے نالاں ہے لیکن امریکہ کو بڑا دہشت گرد سمجھتی ہے۔ سروے کے دوران بعض طلبہ نے ” خطرناک حد تک “ طالبان کی حمائت کی اور کہا کہ طالبان دراصل امریکہ اور پاکستان حکومت کے ظلم اور بمباری کا ردعمل ہیں اور انہیں دہشت گرد قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم ایسے طلبہ دس فیصد سے بھی کم تھے۔ اس سروے سے مغرب کو کم از کم یہ پتہ ضرور چل جائے گا کہ اسلام آباد کے انگریزی میڈیم اسکولوں میں طالبان کے دس فیصد حامی موجود ہیں۔ یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ طالبان صرف دینی مدارس میں پیدا نہیں ہوتے بلکہ وقت اور حالات انگریزی میڈیم طالبان بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ ذرا سوچئے ! ان دس فیصد میں سے ایک یا دو فیصد طلبہ وہی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیں جو طالبان نے اختیار کر رکھا ہے تو ذمہ دار کون ہو گا؟ ذرا سوچئے ! پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آئے روز امریکی بمباری سے بے گناہ عورتوں اور بچوں کی ہلاکت پر آپ اور میں بے چین ہو جاتے ہیں تو کیا ہمارے پندرہ سولہ سال کے بچے بے چین نہ ہوتے ہوں گے؟ امریکی میزائل حملوں نے نئی نسل میں یہ تاثر عام کیا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کی ریاستی دہشت گردی کا سامنا ہے اور پاکستان کی حکومت اس دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہے۔ یہ تاثر امریکہ مخالف جذبات کو تیزی سے بھڑکا رہا ہے اور اگر حکومت صورت حال کو سنبھال نہ سکی تو بہت جلد پاکستان میں ایک ایسی امریکہ مخالف عوامی تحریک جنم لے سکتی ہے جس کو نہ تو نئی حکومت روک سکے گی اور نہ ہی فوج روک سکے گی۔
ہماری حکومت کو تذبذب اور گومگو کی کیفیت سے نکلنا ہو گا۔ جب قبائلی علاقوں میں طالبان حکومت کی رِٹ تسلیم نہیں کرتے تو ہماری فوج ان پر ٹینک چڑھا دیتی ہے لیکن جب امریکی طیارے ہماری قومی خودمختاری کا مذاق اڑاتے ہیں تو ہم صرف چند بیانات پر اکتفا کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے ایک بیان دیا کہ امریکہ کو پاکستان پر مزید حملوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس بیان پر انہوں نے خوب داد وصول کی۔ قوم کا خیال تھا کہ قبائلی علاقوں میں تعینات ایک لاکھ فوج امریکیوں کو دوبارہ پاکستان میں نہیں گھسنے دے گی لیکن اگلے ہی دن شمالی وزیرستان میں ایک اور حملہ ہو گیا جس میں ایک دفعہ پھر عورتیں اور بچے مارے گئے۔
اس حملے کے بعد ہمارے وزیراعظم صاحب نے فرمایا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ نہیں ہو سکتی۔ ایک ایٹمی طاقت کے وزیراعظم کا بیان پڑھ کر میرا سر شرم سے جھک گیا۔ آپ امریکہ سے نہیں لڑ سکتے تو نہ لڑیں لیکن کم از کم امریکی فوج کیلئے پاکستان کے راستے سے جانے والی سپلائی تو بند کر دیں۔ امریکی طیاروں کو پاکستان کے راستے سے ایندھن جاتا ہے اور یہ ایندھن پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ امریکہ کی لڑائی اب طالبان اور القاعدہ کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف ہے۔ پاکستانی ریاست نے امریکی دہشت گردی کے خلاف کمزوری دکھائی تو پاکستان کے بڑے شہروں میں شدت پسندی کی لہر ابھر سکتی ہے جو جمہوری اداروں اور سیاسی جماعتوں کو کمزور کر دے گی۔ نئی جمہوری حکومت امریکی دہشت گردی کے خلاف عوامی جذبات کی ترجمانی کرے، مشتعل جذبات نے عوامی تحریک کی شکل اختیار کر لی تو حکومت کے پاس کچھ نہ بچے گا اور ” گیٹ آؤٹ طالبان “ کہنے والے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں طالبان سے بچتے پھریں گے۔

حامد میر ۔ روزنامہ جنگ

Read Full Post | Make a Comment ( 5 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...