وقولو قولا سدیدا

Posted on 16/10/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , , |

وقولو قولا سدیدا
اور ٹھیک بات کیا کرو

پاکستان کے لوگو، سچ بولو، سچ کا ساتھ دو
سچ اپنی جزا لا کر رہے گا
اور
جھوٹ اپنی سزا لا کر رہے گا
آخر یہ دنیا کوئی پاگل خانہ تو نہیں ہے نا !!!!

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

قومی مورال

Posted on 08/09/2009. Filed under: پاکستان, تاریخ, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , |

جذبہ حُریت ہی قوموں کو بیدار رکھتا ہے، آزادی کی تڑپ ہی دِل میں ولولہ پیدا کئے رکھتی ہے۔ جنگیں جدید ہتھیار سے لیس ہو کر یا تعداد کی کثرت سے نہیں، جذبوں سے جیتی جاتی ہیں۔ ملک کا دفاع ایسے ہی ہوتا ہے، جیسے اپنی بقاء کی جنگ۔ آج جنگ میں ہولناک ہتھیار، الفاظ کا پروپیگنڈہ ہے۔ جس قوم کا مورال گِر جائے، وُہ نفسیاتی طور پہ ہمت ہار بیٹھتی ہے۔ مورال قوم کے جذبوں میں خود اعتمادی اور ولولہ کو، حوصلہ اور برداشت کے ساتھ، برقرار رکھتے ہوئے بڑھاتا ہے۔ جس قوم کا مورال بڑھ جائے، وُہ کاغذ کے نقشہ پر بظاہر ہاری ہوئی بازی بھی جیت لیتی ہے۔
قومی مورال کیا ہی؟ ١٩٤٠ء سے لیکر ١٩٤٧ء تک کا سفر قومی مورال کی تشکیل کا مرحلہ تھا۔ اِسکا واضح عملی مظاہرہ ١٩٦٥ء کی جنگ کے شاندار ایام ہیں۔ پاکستانی قوم کا مورال اُن ساعات میں کچھ یوں تھا:
٦ ستمبر کی تاریکی میں بھارت نے لاہور پر اچانک تین اطراف جسٹر، واہگہ اور بیدیاں سے حملہ کر دیا۔ دشمن بھاری مقدار میں جدید ترین اسلحہ سےلیس تھا۔
ملک بھر میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا گیا۔ ریڈ کراس کے مرکزی دفتر میں خون دینےوالوں کا بے پناہ ہجوم جمع ہوگیا۔ ریڈ کراس کے مراکز میں خون دینےوالوں کے ہجوم میں دھکم پیل یہ تھی کہ ہر کوئی دوسرے سے پہلےخون دینا چاہتا تھا۔ باوجود اسکےکہ ان ہجوموں میں بہت سےلوگ (مرد اور عورتیں) پہلے بھی خون دے گئے تھے۔ ایک روز ڈاکٹر نے زرد رو عورت کا خون لینے سے انکار کر دیا تو وُہ میک اَپ کر کے ”تندرست“ ہو آئی اور ڈاکٹر کو دھوکہ دے کر خون دےگئی۔
کمسن لڑکے وزن پورا کرنے کے لیئے پتلونوں کی جیبوں میں لوہے کے ٹکڑے ڈال لاتے اور خون دے جاتےتھے۔ کہیں ڈاکٹر نے کسی نو سالہ بچی کا خون نہ لیا تو بچی نےگھر جا کر بلیڈ سے اپنی رگ کاٹ ڈالی اور خون سے پیالی بھرنےلگی۔ گھر والوں نے بر وقت دیکھ لیا اور بچی کا خون روک لیا۔ ہائی کورٹ کے ججوں نے ایک روز مل کر خون دیا۔ خون دینے والوں کی قطاریں روز بروز بڑھتی رہیں، گجرات تک کےلوگ خون دینے لاہور آتے۔ شہری محاذ کا یہ عالم ہوا کہ ریڈ کراس والوں نے اندازہ لگایا ہے کہ پانچ دِنوں میں قوم نے اس مقدار سے کہیں زیادہ خون دے دیا ہے جتنی پچھلے پورے سال میں فراہم نہیں ہوسکی تھی۔
لاہور ”جہاد جہاد“ اور” پاکستان زندہ باد“ کےنعروں سےگونج رہا تھا۔ شہر بھارتی توپوں کے پھٹتےگولوں اور اپنی توپوں کےدھماکوں سے بلتا۔ روزمرہ کی زندگی ہیجانی کیفیت کے باجود روزمرہ کی طرح رواں دواں رہی۔
”داتا دربار عورتوں کی دعاؤں سےگونج رہا ہے۔ آج کوئی عورت داتا سے بیٹا نہیں مانگ رہی، سب آج دوپٹے پھیلائے، رو رو کر قوم کے ان بیٹوں کی سلامتی اور فتح کی دعائیں مانگ رہی ہیں جو بی آر بی کےکنارے ان کی آبرو پر جان کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔“
مغرب پسند خیال اور مشرقی ماحول کی لڑکیاں ایک ہی محاذ پہ کفر کے مقابلے میں سینہ سپر ہوگئی ہیں۔ عورتیں گھروں سے نکل آئیں اور نرسنگ، فرسٹ ایڈ اور شہری دفاع کی تربیت گاہوں میں جمع ہوگئیں۔ گھروں میں وُہ غازیوں اور کشمیری مجاہدین کےلیئےسویٹریں بننے لگیں۔ چٹاگانگ میں ایک نوجوان لڑکی فوج کے بھرتی دفتر میں گئی اور درخواست دی کہ وُہ بھرتی ہونا چاہتی ہے اُسےبتایا گیا کہ فوج میں لڑکیوں کو نہیں رکھا جاتا تو اُسکے آنسو نکل آئے۔ ایک بھکارن نے دِن بھر کا مانگا ہوا آٹا اور پیسے قوم کے حوالے کر دیئے۔ کئی عورتوں نے زیورات اور بیٹیوں کےجہیز دفاعی فنڈ میں دے دیئے۔
دیہات میں لوگوں نے اناج کی بوریاں اور بعض دودھ والی گائے، بھینس دے دیں۔ قوم غازیوں کے لیئے خون کے تالاب اور روپے پیسے کے انبار جمع کر چکی تھی۔
پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں ریڈ کراس کےمراکز میں لوگوں نے خون کے علاوہ سگریٹوں، صابن، خوشبودار تیل، تولیوں، کتابوں، رسالوں اور اس نوع کی ضروریات کی چیزوں کےڈھیر لگا دیئے۔ ٹرانسسٹروں کےانبار الگ تھے۔ دفاعی فنڈ کےاعداد و شمار تیزی سے بڑھتے جا رہے تھے۔ اسی طرح بنکوں اور ریڈ کراس کے بلڈ بنک میں روپیہ، دیگر عطیات اور خون دینے والوں کا ہجوم اور زیادہ بڑھتا ہی گیا۔ بعض افراد کا کہنا تھا کہ ”دفاعی فنڈ اور خون کے ذخیروں میں حیران کن رفتار سےاضافہ ہو رہا ہے“ لیکن پاکستانی حیران نہ تھے کیونکہ زندہ قوموں کے ایثار کی رفتار یہی ہوا کرتی ہے۔
مال بردار پرائیویٹ ٹرکوں کی ایسوسی ایشن نے جنگ کے اگلے روز ہی سارے ملک میں سے چالیس ہزار ٹرک حکومت کے حوالے کر دئیے ان ٹرکوں کی ڈرایئور سینہ تان کر مورچوں تک جنگی سامان پہنچانے میں مصروف ہوگئے تھے۔ ٹرکوں کے علاوہ اس ایسوی ایشن نے مجاہد فنڈ کے لیئے چالیس ہزار روپیہ بھی دیا۔
مغربی اور مشرقی پاکستان میں فضائی حملوں کے بعد شہریوں میں جوش و خروش بڑھ گیا تھا۔ کسی چہرے پر خوف اور گھبراہٹ نہ ہوتی۔ پاکستانیوں کے چہروں کے تاثرات یکساں تھے، جیسے ہر چہرہ بزبان خاموشی سےکہہ رہا ہو پاکستان میرا ہے۔ پاکستان کا دفاع میری ذمہ داری ہے۔“
سکول اور کالج ٦ ستمبر کو ہی بند ہوگئےتھے۔لیکن بچےکھیل کود سے بےنیاز، اے۔آر۔پی کی وردیاں پہنےگلیوں، بازاروں اور میدانوں میں خندقیں کھودنے میں مصروف ہوگئے۔ یہ بچےایک دن میں جوان ہوگئے تھے۔ جن ننھے ننھے بچوں کو اور کچھ نہیں سوجھتا، وُہ ”ہندوستان مردہ باد“ اور ”پاکستان زندہ باد“ کے نعرے لگاتے پھرتے تھے۔ والدین شام کے بعد بچوں کو ڈھونڈتے پھرتےلیکن بچےگلی محلوں میں بلیک آؤٹ کرانے کے لیئے بھاگتے دوڑتے اور وسلیں بجاتے پھرتےتھے۔
بچوں کو طیاروں کی قسمیں، بموں کے وزن، راکٹوں کی مار، توپوں کی قسمیں اور گولوں کے وزن زبانی یاد ہوگئے۔ وُہ طیارے کی آواز سن کر بتا دیتے تھے کہ یہ طیارہ اپنا ہے یا دشمن کا۔راولپنڈی میں ایک لڑکے نےدوسرے کو چاقو مار کر لہولہان کر دیا کیونکہ اُس نےاُسے شاستری کہا تھا۔ چاقو مارنے والےلڑکےنے پولیس کو بیان دیا ہے کہ یہ مجھےہٹلر کہا کرتا تھا لیکن میں نےکبھی برا نہ منایا کیونکہ ہٹلر جنگجو تھا مگر ”شاستری“ جیسی گالی میں برداشت نہ کرسکا۔
گلیوں میں اور سڑکوں پر فلمی گیت الاپنے والے ٹیڈی قوم کی آبرو کے امین بن گئے۔ فلمی گیت مرگئے، دیس کی فضا میں مِلی ترانے اور رزمیہ گیت گونجنےلگے۔ کس قدر ولولہ ہے ان نغموں میں۔ ایک ایک لفظ اور ایک ایک انگ روح میں اتر رہا ہے۔ قوم کو ان نغموں کی کس قدر ضرورت تھی؛ تب پتہ چلا۔
لوگ سڑکوں پرمنتظر کھڑے رہتے۔ پاک فوج کا کوئی مجاہد یا کوئی گاڑی نظر آجاتی تو وُہ اُسےگھیر لیتےتھے۔ ہر کسی کی خواہش ہوتی تھی کہ وُہ اپنےغازیوں کو چائے یا شربت پلانےمیں پہل کرے۔ ہر کوئی انہیں سر آنکھوں پر بٹھانے کو بےتاب ہوتا تھا۔ لیکن جوانوں کو فرصت نہیں کہ دم بھر کر رُک جائیں۔ شہر کےلوگ چلتے ٹرکوں میں مشروب کی بوتلیں، فروٹ، کھانا اور پھول پھینک دیتے ہیں۔ لاہور سیکٹر میں جہاں تک شہریوں کو جانےکی اجازت تھی۔ وہاں انہوں نے فروٹ کے ٹوکروں، زردہ پلاؤ کی دیگوں اور کھانے کے انبار لگا دیئے ہیں۔ وُہ ہر روز ان انباروں میں اضافہ کر آتے۔ سیالکوٹ اور لاہور سیکٹروں میں جو بڑی توپیں پیچھے نصب ہوئیں اُن کےتوپچیوں کو دیہات کی عورتیں کھانا، پانی اور لسی پہنچاتی رہتی۔ توپچی انہیں روکتے۔ کیونکہ انہیں سرکاری طور پر کھانا پہنچتا رہتا تھا۔ اس کےعلاوہ وہاں خطرہ بھی ہوتا تھا لیکن لوگ انہیں ایک ہی جواب دیتے تھے۔”کیا تم کسی ماں کے بیٹے نہیں؟“ لوگ تو اپنی رگوں کا خون نچوڑ کر ان غازیوں کی رگوں میں ڈال دینےکو بےتاب ہوتے۔
ہسپتالوں میں محاذوں کے زخمی مجاہد، ڈاکٹروں اور نرسوں کے لیئے پریشان کن مسئلہ بن گئے ہیں۔ وُہ ہسپتالوں میں رُکنا نہیں چاہتے تھےمحاذ پہ پہنچنا چاہتے تھے۔
ایک روز لاہور والوں نےفضائی جھڑپ دیکھی ۔بھارتی فضائیہ کے چار نیٹ اور دو ہنٹر طیارے پاکستان پر کہیں بمباری کرنے آئےلیکن ہمارے دو ہوا بازوں نے انہیں لاہور کے اوپر ہی روک لیا۔ فضا میں چھ اور دو کا معرکہ ہوا اور زمین پر لاکھوں تماشائیوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ چھتوں اور سڑکوں پر میدانوں اور باغوں میں”پاک فضائیہ زندہ باد“۔ ”وُہ مارا، وُہ مارا“ کےنعرے لگا رہے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں بھارت کا ایک طیارہ جلتا ہوا شالامار سے پرے جا گرا۔ دشمن کا ایک اور طیارہ مجروح ہوا جسے بھارت کی طرف گرتے ہوئے دیکھا گیا۔
کھلے میدانوں میں لاہوریوں کا ہجوم در ہجوم جمع ہو جانا جنگی حماقت تو تھا کہ یہ ہجوم اپنے ہوا بازوں کے لیئےبھی رکاوٹ بنا رہا تھا۔ لیکن اہل شہر کا جذبہ بے پناہ تھا۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ وُہ کونوں کھدروں میں چھپ گئے تو اپنے ہوا باز فضا میں اکیلے رہ جائیں گے اور ان کی ”ہلا شیری“ کرنے والا کوئی نہ ہوگا لاہور والےتماشائی تو نہیں تھے۔ وُہ اس فضائی معرکے میں برابر کے شریک تھے۔
٨ ستمبر کے روز جب ریڈیو نےاعلان کر دیا تھا کہ بھارت پاکستان کے مختلف شہروں میں چھاتہ بردار جاسوس اُتار رہا ہے تو اُس رات پاکستان بھر میں کوئی بھی نہیں سویا۔ لوگ چاقو، چُھریاں، کلہاڑیاں شکاری بندوقیں اور ڈنڈے اُٹھائے رات بھر گلیوں، میدانوں، باغوں اور ریلوے لائنوں پر بھاگتے دوڑتے رہے۔ عورتیں اور بچے بھی ڈنڈوں اور چاقوؤں سے مسلح ہو کر صحنوں میں اور چھتوں پر گھومتے پھرتے رہے۔ تب قوم کو نیند نہیں آتی تھی اور دشمن کو شکست دینے تک قوم کو نیند نہیں آئی۔
نظم و نسق ایسا تھا کہ کوئی فرد بھی کھلےمیدان میں سگریٹ تک نہیں سلگاتا تھا۔ لوگ بلیک آؤٹ کا ”احترام“ دِل و جان سے کر رہے تھے۔ قوم احکام اور ہدایات کا انتظار نہیں کرتی تھی۔ تب بچہ بچہ جان گیا تھا کہ اُسے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ کس قدر منظم ہے یہ قوم! بازاروں سےکوئی شے غائب نہیں ہوئی نہ مہنگی ہوئی۔
ملک بھر میں کسی کو خیال نہ تھ اکہ اتوار چھٹی کا دِن ہوتا ہے۔ دفتر بھی کھلے تھے اور بازار بھی قوم بے آرام تھی، بیقرار تھی، بپھری ہوئی تھی، محاذ پر لڑنا چاہتی تھی۔
جمعہ ١١ستمبر قائد اعظم کا یوم وفات تھا ، اُس روز مسجدوں اور گھروں میں قرآن خوانی ہوتی رہی اور ملک کی فضا مجاہدوں کی سلامتی اور فتح کی دعا سےگونج سے رہی تھی توپیں اور طیارےگرج گرج کر اپنے محبوب قائد کی روح کو سلامی دے رہے تھے۔
آج کیا ہم یوم وفات قائد پر قرآن خوانی اپنےگھروں میں کرتے ہیں؟
عرب اپنے مسلمان بھائیوں کے لیئے مرمٹنے کے لیئے بیتاب ہیں۔ خانہ کعبہ میں دعائیں مانگ رہے ہیں اور مالی امداد بھیج رہے ہیں۔
جنگ ختم ہوئی توتمام مساجد میں خدائے ذوالجلال کے حضور شکرانے ادا کیےگئے۔ قوم نے اپنے شہیدوں کی قبروں پر پھول چڑھائے۔ ہسپتالوں میں زخمی مجاہدوں کےگرد تحفوں کے انبار لگا رہے تھے۔ لوگ ایک دوسرے کو مبارک بادیں دے رہے تھے۔ اس لیئے نہیں کہ جنگ ختم ہوگئی تھی۔ بلکہ اس لیےکہ قوم خدا کے حضور سرخرو ہوگئی تھی ۔
رات کی تاریکی میں ، مکمل بلیک آؤٹ میں پاکستانی قوم نے وُہ رموز پالیے تھےجو انہیں اجالوں میں کبھی نظر نہ آئے تھے۔

یہ تمام ایسے واقعات ہے جنھوں نے اس قوم کی تاریخ کو انمول بنا ڈالا۔ ہر فرد نے اپنے حصہ کا وُہ کردار ادا کیا، جو وُہ کر سکتا تھا۔ آج ہمیں اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ وُہ کیا عناصر تھے، کہ اس قوم پاکستان میں ایثار کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ یہ وُہ معاشرتی تاریخ ہے، جس نے پاکستان کو قومی تشخص عطاء کیا۔ قوموں کی عظمت ایثار سے قائم رہا کرتی ہے۔ ١٩٦٥ء میں ہر فرد کا کردار افسانوی کہانی نہ تھا، حقیقت تھا اِس عہد کا کہ اس وطن کی خاطر ہم جان کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ایسی ہی لازوال قربانیاں قوم پاکستان کو تا قیامت زندہ و جاوید رکھنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں گی۔ آج ایک بار پھر ایسا وقت آن پڑا ہے کہ ہمیں ایسے ہی اَن مٹ ،اَن گنت جذبوں کی ضرورت ہے۔ ہمارا وطن ایک بار پھر بیرونی سازشوں کا شکار ہے، اندرونی طور پر کمزور تر کیا جا رہا ہے اور اب تو اس ملک کا دفاع بھی خطروں کی زد میں محسوس کیا جانے لگا ہے۔ اَشرافیہ ہوش کے ناخن نہ جانے کب لیں گی؟ شائد یہ باتیں کھوکھلے نعروں تک محدود ہو چلی۔ ممکن ہے کوئی اس بناء پر خاموش ہو کہ اُس کے منظر سے ہٹنے کے بعد پچاسوں افراد اُس کی جگہ وفاداری ثابت کرنے کے لیے تیار موجود ہیں۔ اُسکے باغی ہونے سے حالات مزید نازک ہو جائیں گے۔ ہم مسلسل برسوں سے خطروں میں گھرتے چلے جا رہے ہیں، بلی کےشکار کی زد میں ہونے پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ خطرے کے وقت، شتر مرغ کی طرح سر ریت میں دبائے ہوئے ہیں۔حالات کا سامنا نہیں کر رہے، حالات کو واقعات سے ٹال رہے ہیں۔ آخر کب تک؟ ایک دن سامنا کرنا ہے۔ عام فرد اپنے حصہ کا کردار ادا کرنے سے ڈرتا ہے۔ حقائق جان کر وُہ کئی سوالوں کی زد میں ہوتاہے۔ ذات کے سوالوں کےجواب میں؟ تحفظ کا خوف ہمارے سروں پر چڑھ دوڑا ہے۔
مجھے ایک فرد نے خصوصی ملاقات میں دفاع پاکستان پر لکھنے کے لیے کہا، بلکہ عملی طور پر١٩٦٥ء کی جنگ کا مواد مہیا بھی کیا، جو ١٩٦٦ء میں مضامین، یاداشتوں، ڈائری کی صورت میں چھپا۔ مگر میں راضی نہ تھا، کہ کیا لکھوں! لوگوں کے دِلوں پر باتیں اثر نہیں کرتیں۔ میں وُہ لکھنا چاہتا ہوں کہ دِل پر چوٹ پڑے۔ پڑھنے والے کے اندر وطن عزیز کی محبت جاگ پڑے۔ مگر لوگ آج صرف واہ، واہ تو کر سکتے ہیں مگر بات سمجھتے نہیں۔ اگر سمجھ لیں تو عذر ہزاروں پیش ہو جاتے ہیں۔ خیر میں نے ماضی کے وُہ حقائق پیش کیے جو شائد وقتی طور پر آپکےخیالات پر اثر تو کر جائیں گے، مگر عمل وہی رہےگا جو آپکا مزاج ہے۔ یہ سوچ کر میں نے یہ مضمون ترتیب دے ڈالا۔ آخری پیرا لکھنا ہنوز باقی تھا کہ کسی کا پیغام موصول ہوا۔ ہم اپنے لیئے ایس ایم ایس کا فیصلہ واپس لے سکتے ہیں، تو کیا اس ملک پر منڈلاتےخطرات کے فیصلے دُرست نہیں کروا سکتے۔ میں تب بھی یہ سطور لکھنے کو تیار نہ تھا۔ مگر میرے دِل کو چین نہ آیا، میرے ضمیر نےمجھےجھنجھوڑا۔ میں قومی مورال پر اتنی باتیں لکھتا ہوں ، اور اس ملک کے بقاء کے لیئے ڈر رہا ہوں، اسی اثناء میں مجھےخیال آیا ۔١٩٦٥ء والے جو جذبات عوامی سطح پر افراد میں تھے، وُہ کیوں تھے؟ اُنکے جذبوں میں ڈرنا اور سوچنا معنی نہیں رکھتا۔ اُنکو بس اللہ پر یقین ہوتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان لیبارٹریز کے قریب ١٨ ایکڑ جگہ امریکی سفارت خانہ کی توسیع کے لیئےخریدی گئی ہے، جہاں ٧٠٠ میرین موجود ہیں، ١٠٠٠ میرین کی آمد ہیں۔٢٠٠ گھر اسلام آباد میں کرایہ پر حاصل کر کے جدید سیٹلائیٹ سے لیس کیےگئے ہیں۔” امریکی غنڈہ لشکر“ کالا پانی اپنی سیاہ حرکات کے لیئے چارسدہ کےقریب شب قدر میں زمین حاصل کر چکا ہے۔ افسوس! آج آگاہی کے باوجود بدقسمتی سے، ہمارا ایٹمی اثاثہ سازشی چنگلوں کا شکار ہو رہا ہے۔ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم سلطنت روم کے ماتحت اسرائیلی گورنر ہے، جو ابنیاء کو بھی قیصر روم کے حکم کے ماتحت رہتے ہوئے سولی پر چڑھا ڈالتے تھے۔ کبھی کبھی حالات کو دیکھتے ہوئے سوچتا ہوں، ہمارا حال بنی اسرائیل والا ہی ہے۔ ہم حقائق سے نابلد ہیں۔ مایوسیوں میں اس لیئےگھرتے جا رہے ہیں کہ عملی کوششیں ترک کر چکے۔ اے اللہ اس ملک کے ہر فرد میں موجود جذبہ حب الوطنی کو عملی دھارا بھی عطاء فرما، ہمیں مایوسیوں سے بچا اور وطن کو تحفظ فرمانے میں ہماری مدد فرما۔(آمین)

ایسے موضوعات پر میں لکھنےسے ہمیشہ اس قدر گریز کرتا ہوں کہ کسی کا اصرار بھی مجھ پر اثر نہیں کرتا۔ مگر آج میرے دِل پر چوٹ پڑی اور میں لکھنے پر مجبور ہوا۔ اُس پیغام میں یہ بات بڑی اہم تھی۔ ایس ایم ایس کا ٹیکس ختم ہو سکتا ہے تو کیا ایسے فیصلےدرست نہیں ہوسکتے۔ آج اس قوم کو قومی مورال کی ضرورت ہے۔’ہم زندہ قوم ہے‘، نعرہ لگاتے ہیں، اےاللہ ہمیں زندہ قوم بنا دے۔ ہمیں باضمیر اور غیرت مندی عطاء فرما دے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

عوام کے خادم زندہ باد

Posted on 26/05/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , |

وفاقی وزراء قمرالزماں کائرہ اور نذر گوندل کی یہ وہ تصاویر ہیں جس کے بارے میں خبریں شائع ہو چکی ہیں۔ وزراء اس جدید لیموزین سے نیچے اتر رہے ہیں جس کا کرایہ پانچ سو ڈالر فی گھنٹہ ہے۔ اس پر تقریباََ دو گھنٹے شہر کی سیر کی۔ اس کے علاوہ مختلف تقاریب میں ڈھول، رقص اور ان پر نچھاور کئے جانے والے ہزاروں ڈالروں کی تصاویر بھی ملاحظہ فرمائیے، مزید ١٦٠٠٠ ڈالر بھارتی رقاصاؤں پر وارے گئے۔
ایسے وقت میں جب پاکستان میں ٢٥ لاکھ انسان بے گھر ہیں۔ عوام بجلی، پانی، دوائی، چھت کو ترس رہے ہیں اور ان کے خادم نیویارک عیاشی کر رہے تھے۔
عوام کے خادم زندہ باد
عوام مردہ باد





Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

دو خوشخبریاں

Posted on 05/03/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , , , , , |

کل کے اخبارات میں قوم کے لئے دو خوشخبریان تھی کہ اپریل اور مئی میں بجلی کے نرخ پھر بڑھائے جائیں گے اور چینی بھی مہنگی کرنا پڑے گی۔ نہ جانے حکومت چاہتی کیا ہے ایک طرف آئی ایم ایف سے قرض پہ قرض لیا جا رہا ہے دوسری طرف تمام اشیاء کے باری باری نرخ بڑھائے جا رہے ہیں، پیٹرول جو اس وقت عوام کو ٢٥ سے ٣٠ روپے لیٹر ملنا چاہیے وہ اس وقت تقریبا ٥٨ روپے مل رہا ہے۔ اس سے اچھے پرویز مشرف تھے جس کے دور میں اشیاء کے نرخ ایک طویل وقفے سے بڑھتے تھے مگر نئی قائم ہونے والی پی پی کی عوامی حکومت نے تو غریب عوام کے ساتھ اعلان جنگ کر رکھا ہے، اس جنگ میں عوام کو ایک لمحہ سانس لینے کی بھی فرصت نہیں مل رہی، ایک مہینے بجلی کے نرخ تو دوسرے مہینے کھاد اور گیس کے نرخ پھر بجلی، چینی اور نہ جانے کیا کیا ۔۔۔ یقینا اس وقت عوام کی بیشتر تعداد خودکشی کی طرف بڑھ رہی ہے۔
کل میں نادرا کیاسک فرنچائز پہ بیٹھا تھا کہ ایک عورت گیس کا بل ادا کرنی آئی جو کہ ٢٣٢٠ روپے کا تھا، اُس بیچاری نے روتے ہوئے انتہائی دکھ اور کرب سے کہا کہ ابھی لوگوں کے کپڑے دھوئے ہیں کچھ روپے وہاں سے ملے اور کچھ مانگ تانگ کے لائی ہوں کہ کسی طرح بل ادا ہو جائے، ابھی واپس جا کے بچوں کے لئے روٹی کا انتظام بھی کرنا ہے انہوں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔
ایک اور عورت آئی کہنے لگی اس ماہ کی ساری تنخواہ ٹیلی فون، بجلی اور گیس کے بلوں میں چلی گئی ہے اب معلوم نہیں گھر کا خرچہ کیسے چلے گا، مرد بیچارے پریشان ہیں کہاں جائیں اور کون کون سا خرچہ پورا کریں۔
اندازہ کریں ایک طرف عوام کا یہ حال ہے کہ روٹی کے لئے ترس رہے ہیں اور دوسری طرف حکمرانوں کے اللے تللے ختم نہیں ہوتے، پنجاب میں اپنی حکومت قائم کرنے کے لئے خزانے کا منہ کھول دیا گیا ہے، بڑی بڑی گاڑیاں، ہیلی کاہٹر خریدے جا رہے ہیں۔ اپنے خرچے پورے کرنے کے لئے عوام پر بوجھ کے اوپر بوجھ لاڈا جا رہا ہے۔ مزے کی بات یہ کہ حکمران ٹولا نرخ بڑھنے کو تسلیم ہی نہیں کرتا بلکہ اسے سبسڈی کا حسین نام دیا جاتا ہے۔
اللہ پاکستانی عوام کا حامی و ناصر ہو۔

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

عوام کے تابع نظام

Posted on 04/04/2005. Filed under: سیاست | ٹيگز:, , , , , , , |

محترم جناب صدر جنرل پرویز مشرف ! آپ نے جو نظام اس ملک کو دیا ہے آپ اس پر ہمیشہ اپنی ہر بات اور ہر تقریر میں فخر کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ محترم صدر ! گستاخی معاف ، آپ نے کبھی اپنے اس نظام پر غور کیا ،کبھی عوام سے پوچھا کہ آپ کے اس نظام کے تحت ان کی عزت و آبرو،جان و مال کس حد تک محفوظ ہیں ؟ نہیں جناب آپ کوتو کچھ بھی معلوم نہیں، آپ کو بس سب اچھا ہے کی روپورٹ مل جاتی ہے۔خدارا آپ ذرا پریذیڈنٹ ہاؤس سے باہر نکل کر دیکھیں یہاں کسی کی بھی عزت و آبرو، جان ومال محفوظ نہیں۔ ہر طرف اندھیر نگری مچی ہوئی ہے، گھر سے باہر نکلو تو واپسی کا کوئی پتہ نہیں کہ انسان واپس گھر پہنچتا بھی ہے یا نہیں، اگر گھر میں بیٹھو تو بھی کچھ معلوم نہیں کہ کس وقت کوئی آفت کہاں سے ٹوٹ پڑے،امجد علی طاہر کے بھائی کا کیا قصور تھا وہ بیچارہ تو ہنسی خوشی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ شادی کی تقریب سے واپس آ رہے تھےمگرظالموں نے انہیں گھر تک پہنچنے کی مہلت بھی نہ دی، اس جیسی روزانہ سینکڑوں وارداتیں ہوتی ہیں، صرف ایف آئی آر درج ہوتی مگر کسی بھی واردات میں قاتل آج تک نہیں پکڑےگئے۔ یہ کیسا نظام ہےصدر محترم جو صرف قاتلوں کی پست پناہی کرتا ہے؟ ۔

عورت ہے تو اس کی عزت و آبرو کہیں بھی محفوظ نہیں، علاج کے نام پر مسیحا،انصاف کے نام پر قانون کے محافظ، تعویز اور ٹونے ٹوٹکے کے نام پر جعلی پیر،حصول علم کی خواہش پر اساتذہ عورت کو بےآبرو کر دیتے ہیں، آج بازار سے لیکر ہسپتال تک اور کالج سے لیکر گھر کی چار دیواری تک کہیں بھی عورت کی عزت محفوظ نہیں رہی آخر آپ کا یہ نظام کتنی مختیار مائیاں پیدا کرنا چاہتا ہے۔
محترم صدر! آپ اپنے قیمتی وقت میں سے تھوڑا سا وقت عوام کے لئے بھی نکال لیں، مگر آپ کے پاس ان فضولیات کے لئے وقت کہاں، آپ نے ابھی کالا باغ ڈیم کے بارے میں سوچنا ہے، بلوچستان کا مسئلہ حل کرنا ہے اور سب سے بڑی بات کرکٹ میچ دیکھنے بھارت بھی جانا ہے آپ کے پاس ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے وقت کہاں، آپ بھی اگر ان معمولی کاموں میں لگ گئے تواتنے بڑے بڑے کام بھلا کون کرےگا۔ محترم صدر! اگر آپ کوئی بڑا کام کرنا ہی چاہتے ہیں، کوئی نظام دینا ہی چاہتے ہیں تو اس ملک کی عوام کے لئے صرف ایک معمولی سا کام کر دیں، اس ملک کے اداروں کو مضبوط کر دیں، انہیں عوام کے تابع کر دیں اگر آپ یہ کر دیں تو یہی آپ کا سب سے بڑا کام ہو گا، یہی سب سے بڑا نظام ہو گا۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...