عورت – ایثار و محبت کا لازوال شاہکار

Posted on 28/08/2005. Filed under: رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , |

کہتے ہیں عورت ایک پہیلی ہے، ایسی پہیلی جسے بوجھنے والا اکثر حیران ہوتا ہے۔ عورت ماں بھی ہے، بیوی بھی، بہن اور بیٹی بھی ہے۔ اپنے ہر کردار میں اس کے جذبات و احساسات ایسے ایسے انوکھے رنگ دکھاتے ہیں کہ دیکھنے والے حیران رہ جائیں۔
کہتے ہیں عورت جفا پیشہ اور فتنہ گر ہوتی ہے، یہ سب الزام نسوانی احترام اور فطرت کے بنائے ہوئے قوانین کی نفی کرتے ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ عورت وفا پیشہ اور ایثار و محبت کا لازوال شاہکار ہے۔ ماں، بیوی، بہن، بیٹی چاہے وہ ان میں سے کسی بھی روپ میں ہو اس کا ہر رشتہ تقدس کا داعی ہے۔ وہ عہدوفا کی سچی اور کردار کی بےداغ ہوتی ہے۔ لیکن کیا آج معاشرے میں اس کو وہ اہمیت حاصل ہے جس کی وہ حقدار ہے۔
مرد عورت کو کمزور سمجھتا ہے اور پھر ہر دور میں ناپاک خواہشات کے حامل لوگ عورت سے زیادتی کرتے آئے ہیں۔ لیکن اسلام ایک ایسا واحد مذہب ہے جس نے عورت کو اس کا صیحیح مقام و مرتبہ دیا، اسے عزت و توقیر عطا کی۔ اسلام نے عورت کو ظلم کی کال کوٹھری سے نکال کر اسے اس مقام پر بٹھا دیا جس کی وہ حقدار تھی۔ اسلام نے عورت کا جو معتبر اور قابل قدر کردار متعین کیا تھا مسلمانوں نے اسے ملحوظ خاطر نہ رکھا، کہیں تو انہوں نے عورت کو گھر کی چاردیواری میں قید کر دیا اور پردے کو اس قدر سخت کر دیا کہ اس کے لئے سانس تک لینا مشکل ہو گیا اور کہیں اتنی چھوٹ دے دی کہ اس نے چادر اور چاردیواری کا تقدس کھو دیا اور گھر کی چاردیواری پھلانگ کر شرافت و عزت کی تمام سرحدیں پار کر گئی۔
اسلام نے عورت کو جو رتبہ دیا دوسری قوموں نے اس سے متاثر ہو کر اس کی تقلید میں آزادی نسواں کے نام پر اس قدر آگے بڑھیں کہ عورت ہر میدان میں مرد کی ہمسر بن گئی۔ دوسری طرف مغربی معاشرے کے رنگ ڈھنگ کو اکثر مسلمانوں نے ترقی کی علامت سمجھ لیا، جس سے مسلم معاشرہ دو حصوں میں بٹ گیا، ایک وہ جس میں عورت مجبوری و بے بسی کی تصویر ہے اور دوسرا حصہ وہ جس میں عورت مکمل خود مختیار ہے۔ یوں اسلام کا حقیقی نظریہ نظروں سے اوجھل ہو گیا جو متوازن اور قابل عمل ہے۔
کبھی ہم نے سوچا کہ ہمارے معاشرے کی عورت اتنی مجبور اور بے بس کیوں ہے۔ کبھی ہم نے غور کیا کہ آج عورت کی عزت کیوں محفوظ نہیں رہی، علاج کے نام پر مسیحا، انصاف کے نام پر قانون کے محافظ، تعویز اور ٹونے ٹوٹکے کے نام پر جعلی پیر اور ملاں، حصول علم کی خواہش پر اساتذہ عورت کو بے آبرو کے دیتے ہیں۔ آج بازار سے لیکر ہسپتال تک اور کالج سے لیکر گھر کی چاردیواری تک عورت کی عزت کہیں بھی محفوظ نہیں رہی۔ خدا جانے مرد کی انفرادی غیرت سو گئی یا اجتماعی غیرت موت کے گھاٹ اتر گئی۔
آخر اس معاشرے کے مرد کا ذہن اتنا چھوٹا کیوں ہے کہ وہ عورت کو اتنا حقیر سمجھتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے اعلٰی تعلیم یافتہ لوگ بھی بیٹوں کو بیٹیوں کی نسبت زیادہ فوقیت دیتے ہیں۔ نچلے طبقے کا عورت سے رویہ دیکھ کر شرم سے نگاہیں جھک جاتی ہیں۔ ہمارے معاشرے آج بھی بہت سے خاندان بیٹیوں کو تعلیم نہیں دلواتے کہ اس نے پڑھ لکھ کر کیا کرنا ہے، سینا پرونا، کھانا پکانا اور جھاڑو دینا سیکھ جائے تاکہ دوسرے گھر میں جا کر کچھ فائدہ ہو۔ ان لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ سینا پرونا اور کھانا پکانا گو کہ زندگی کے لئے لازمی سہی مگر زندگی کو بنارتی سنوارتی تو تعلیم ہے۔ تعلیم ہی انسان کو انسان کے رتبے پر فائز کرتی ہے۔ تعلیم ہی انسان کو اچھے برے کی تمیز سکھاتی ہے۔ بیٹیاں اس لئے بھی ماں، باپ کو بوجھ لگتی ہیں کہ ان کو کچھ دینا پڑتا ہے، یہ والدین کا سہارا نہیں بن سکتی، اسی خوش فہمی میں والدین بیٹوں کو سر چڑھا لیتے ہیں کہ یہ ان کے بڑھاپے کا سہارہ بنیں گے لیکن اکثر لڑکے بعد میں والدین کو بوجھ سمجھتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم نے عورت کو اس کا صیحیح مقام دے دیا ہے لیکن یہ ہم سب کی بہت بڑی بھول ہے۔ عورت باپ کے گھر میں ہو تو شادی تک پابندیوں میں گھری رہتی ہے اور شادی کے بعد سسرال والوں کی پابندیاں جھیلنی پڑتی ہیں، جہیز کم ملنے یا نا ملنے پر ان کی جلی کٹی باتوں پر ساری زندگی گزار دیتی ہے اور کبھی سسرال والوں کے مزاج کے خلاف کوئی بات ہو جائے تو اس کا شوہر طاقت استعمال کر کے اسے مارپیٹ سکتا ہے اور طلاق جیسا گھناؤنا لفظ سنا کر اسے ذلیل و رسوا کر سکتا ہے۔ عورت کیا کیا باتیں اور کون کون سے ظلم برداشت نہیں کرتی، اس کے باوجود وہ سارا دن کولہو کے بیل کی طرح کام کرتی ہے گھر کو بناتی سنوارتی ہے، بچوں کی تربیت کرتی ہے لیکن بدلے میں اسے کیا ملتا ہے ذلت اور رسوائی کا تمغہ۔
عورت کے چار فورس ہیں۔ ماں، بیوی، بہن، بیٹی، ان چاروں رشتوں میں وہ پیار و محبت اور کی سچی تصویر ہے۔ عورت محبت کی دیوی ہے، کیونکہ اس کا ضمیر محبت سے اٹھا ہے۔ وہ جب محبت کرتی ہے تو ٹوٹ کر کرتی ہے اور اس میں کسی کو رتی برابر بھی شریک نہیں کر سکتی۔ اگر کسی کے سامنے تن جائے تو ٹوٹ سکتی ہے جھک نہیں سکتی۔ عورت زمین پر رینگنے والا کیڑا نہیں، عورت احساسات سے عاری نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی انسان ہے۔

عورت ۔ جفا پیشہ اور فتنہ گر

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

عورت ۔ جفا پیشہ اور فتنہ گر

Posted on 19/07/2005. Filed under: رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , |

کہتے ہیں، عورت جفا پیشہ اور فتنہ گر ہوتی ہے۔
کہتے ہیں، فتنوں میں جب پہلا فتنہ وجود میں آیا تو اس کا سبب بھی ایک عورت ہی تھی۔
جب شیطان کو جنت سے نکالا گیا تو اس نے اپنی شیطانیت کی قسم کھائی کہ جن کی وجہ سے میں جنت سے نکلا ہوں انہیں بھی جنت میں نہیں رہنے دوں گا۔
یہ شیطان کا پہلا کیس بھی تھا، اور اس کی چالاکی، مکاری اور شیطانی چالوں کاامتحان بھی، اس نے اپنے شیطانی ذہن کو استعمال میں لاتے ہوئے ایک چال چلی، اس نے اپنی شیطانی چال کے لئے عورت (حوا) کا ہی انتخاب کیا وہ عورت کی کمزوری جانتا تھا اور سمجھتا تھا کہ اس کی یہ چال عورت (حوا) کی وجہ سے ہی کامیاب ہو سکتی ہے۔ اس نے اپنی چال کے تحت وہ دانہ گندم جسے کھانے سے حق تعالٰی نے منع کیا تھا حوا کو لا کر دیا اور اس سے خوب لگی لپٹی باتیں کیں اور حوا سے کہا “ یہ دانہ گندم تم خود بھی کھانا اور آدم کو بھی دینا “ جب آدم آیا تو حوا نے وہ دانہ گندم خود بھی کھایا اور آدم کو بھی دیا۔ یوں یہ فتنہ اپنی انجام کو پہنچا جس کے نتیجے میں آدم و حوا کو جنت سے نکال دیا گیا۔
دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں دنیا میں جتنے بھی اونچ نیچ آئے جتنے بھی فتنے برپا ہوئے جتنی بھی سلطنتیں تباہ و برباد ہوئیں ان میں کسی نہ کسی حد تک عورت کا کردار لازماً رہا ہے تاریخ گواہ ہے کہ مسلم سلطنتوں پر جب بھی زوال آیا بہت سی وجوہ میں سے ایک اہم وجہ عورت ہی ہے کیونکہ جب تک مسلم حکمرانوں نے تلوار ہاتھ میں رکھی مجاہد بن کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرنے میں لگے رہے، سچے دل سے اسلام کی خدمت کرتے رہے، حلال و حرام میں تمیز کرتے رہے، شرک، بدعت، بےایمانی اور بے حیائی سے بچتے رہے کامیابی ان کا مقدر بنتی رہی، سلطنتیں پھیلتی گئییں لیکن اس کے برعکس جب مسلم حکمرانوں نے تلوار ایک طرف رکھ دی حلال کو چھوڑ کر حرام میں لگ گئے، شرک، بدعت، بےایمانی اور بے حیائی کو انہوں نے ترقی کا زینہ سمجھ لیا اور عیاشی میں ڈوب گئے، کینزوں کی صورت میں حسین و جمیل عورتیں جب ان کے ایک اشارے کی منتظر ہوں، جب ان کے حرموں میں قرآن کی بجائے گھنگروں کی جھنکار لگی، جب شراب و کباب کی محفلیں سجنے لگیں، جب جوانی کے الاؤ بھڑکنے لگے، جب ساغر و مینا کھٹکنے لگیں اور جب طبلے کی تھاپ پر اور سر کی لے پر جواں جسم تھرکنت لگے تو زوال ان سلطنتوں کا مقدر بن گیا اسی لئے کہا گیا ہے کہ عورت جفا پیشہ اور فتنہ گر ہوتی ہے۔
عورت کا تو خود اپنا وجود ہی نہیں وہ تو مرد کے جسم کا حصہ ہے کیونکہ انسانیت کی ابتدا میں حق تعالٰی نے آدم کا ہی وجود بنایا لیکن جب حق تعالٰی نے آدم کو رنجیدہ دیکھا تو کہا کہ اس کا جوڑا ہونا چاہیے تاکہ یہ اکیلا ہو کر رنجیدہ اور غمگین نہ ہو سو حق تعالٰی نے آدم کی پسلی سے عورت کا وجود بنایا۔ عورت کو مرد کے برابر سمجھنے والے آزادی نسواں کے علمبردار اس بارے میں کیوں نہیں بولتے۔ عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق دلانے ان علمبرداروں کے مطابق عورت ذہین ہے (کوئی شک نہیں) وہ کسی بھی جگہ اور کہیں بھی مرد کی برابری کر سکتی ہے اگر مرد نے طیارہ چلایا تو عورت نے بھی چلا کر دیکھا دیا اگر مرد نے چاند پر قدم رکھا تو عورت نے بھی چاند پر پہنچ کر اپنی برتری ثابت کر دی عورت مرد کے مقابلے میں ہر کام کر سکتی ہے۔ بجا بلکل سہی کیونکہ یہاں مقصد ہی عورت کی عظمت ثابت کرنا ہے نہ کہ اس کی تذلیل اور نہ اسے کمتر ثابت کرنا یہاں مقصد صرف آزادی نسواں کے ان ٹھکیداروں کو بتانا مقصود ہے کہ خدارا عورت کو عورت ہی رہنے دیں اس کا تقدس پامال نہ کریں، اسے فنکارہ، طوائف، ماڈل گرل، فیشن گرل یا شوپیش نہ بنائیں اسے عورت ہی رہنے دیں اسے ایسے روپ اچھے ہی نہیں لگتے وہ تو صرف ماں ، بہن ، بیوی اور بیٹی کے روپ میں ہی اچھی لگتی ہے ۔
کہتے ہیں اگر کسی قوم کا مستقبل دیکھنا ہو تو اس قوم کی نوجوان نسل دیکھ لیں لیکن میں یہاں کہنا بجا سمجھتا ہوں کہ اگر کسی قوم کی نوجوان نسل کا مستقبل دیکھنا ہو تو اس قوم کی عورتیں دیکھ لیں کہ اس کی مائیں کتنی اعلٰی کردار کی مالک ہیں وہ کتنی دیندار اور پاکیزہ ہیں کیونکہ مان کی گود ہی بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔سمجھ میں نہیں آتا کہ آزادی نسواں کے علمبردار عورت کو کیا بنانا چاہتے ہیں اسے کس راستے پر چلانا چاہتے ہیں لیکن جو بھی راستہ ہے انتہائی غلط ہے یہ راستہ ایک مسلمان اور دیندار عورت کا راستہ قطعی نہیں قرآن و حدیث میں دیندار عورتوں کو بلکل واضح کر کے کہا گیا ہے کہ “ اور دیندار عورتوں سے کہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں “ (النور) اس پر یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ “ عورت جب پنجگانہ نماز پڑھے اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے خاوند کی اطاعت کرے تو وہ جنت میں سے جس دروازے سے چاہے داخل ہو سکتی ہے“ (ابن حبان)

عورت – ایثار و محبت کا لازوال شاہکار

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...