قومی مورال

Posted on 08/09/2009. Filed under: پاکستان, تاریخ, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , |

جذبہ حُریت ہی قوموں کو بیدار رکھتا ہے، آزادی کی تڑپ ہی دِل میں ولولہ پیدا کئے رکھتی ہے۔ جنگیں جدید ہتھیار سے لیس ہو کر یا تعداد کی کثرت سے نہیں، جذبوں سے جیتی جاتی ہیں۔ ملک کا دفاع ایسے ہی ہوتا ہے، جیسے اپنی بقاء کی جنگ۔ آج جنگ میں ہولناک ہتھیار، الفاظ کا پروپیگنڈہ ہے۔ جس قوم کا مورال گِر جائے، وُہ نفسیاتی طور پہ ہمت ہار بیٹھتی ہے۔ مورال قوم کے جذبوں میں خود اعتمادی اور ولولہ کو، حوصلہ اور برداشت کے ساتھ، برقرار رکھتے ہوئے بڑھاتا ہے۔ جس قوم کا مورال بڑھ جائے، وُہ کاغذ کے نقشہ پر بظاہر ہاری ہوئی بازی بھی جیت لیتی ہے۔
قومی مورال کیا ہی؟ ١٩٤٠ء سے لیکر ١٩٤٧ء تک کا سفر قومی مورال کی تشکیل کا مرحلہ تھا۔ اِسکا واضح عملی مظاہرہ ١٩٦٥ء کی جنگ کے شاندار ایام ہیں۔ پاکستانی قوم کا مورال اُن ساعات میں کچھ یوں تھا:
٦ ستمبر کی تاریکی میں بھارت نے لاہور پر اچانک تین اطراف جسٹر، واہگہ اور بیدیاں سے حملہ کر دیا۔ دشمن بھاری مقدار میں جدید ترین اسلحہ سےلیس تھا۔
ملک بھر میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا گیا۔ ریڈ کراس کے مرکزی دفتر میں خون دینےوالوں کا بے پناہ ہجوم جمع ہوگیا۔ ریڈ کراس کے مراکز میں خون دینےوالوں کے ہجوم میں دھکم پیل یہ تھی کہ ہر کوئی دوسرے سے پہلےخون دینا چاہتا تھا۔ باوجود اسکےکہ ان ہجوموں میں بہت سےلوگ (مرد اور عورتیں) پہلے بھی خون دے گئے تھے۔ ایک روز ڈاکٹر نے زرد رو عورت کا خون لینے سے انکار کر دیا تو وُہ میک اَپ کر کے ”تندرست“ ہو آئی اور ڈاکٹر کو دھوکہ دے کر خون دےگئی۔
کمسن لڑکے وزن پورا کرنے کے لیئے پتلونوں کی جیبوں میں لوہے کے ٹکڑے ڈال لاتے اور خون دے جاتےتھے۔ کہیں ڈاکٹر نے کسی نو سالہ بچی کا خون نہ لیا تو بچی نےگھر جا کر بلیڈ سے اپنی رگ کاٹ ڈالی اور خون سے پیالی بھرنےلگی۔ گھر والوں نے بر وقت دیکھ لیا اور بچی کا خون روک لیا۔ ہائی کورٹ کے ججوں نے ایک روز مل کر خون دیا۔ خون دینے والوں کی قطاریں روز بروز بڑھتی رہیں، گجرات تک کےلوگ خون دینے لاہور آتے۔ شہری محاذ کا یہ عالم ہوا کہ ریڈ کراس والوں نے اندازہ لگایا ہے کہ پانچ دِنوں میں قوم نے اس مقدار سے کہیں زیادہ خون دے دیا ہے جتنی پچھلے پورے سال میں فراہم نہیں ہوسکی تھی۔
لاہور ”جہاد جہاد“ اور” پاکستان زندہ باد“ کےنعروں سےگونج رہا تھا۔ شہر بھارتی توپوں کے پھٹتےگولوں اور اپنی توپوں کےدھماکوں سے بلتا۔ روزمرہ کی زندگی ہیجانی کیفیت کے باجود روزمرہ کی طرح رواں دواں رہی۔
”داتا دربار عورتوں کی دعاؤں سےگونج رہا ہے۔ آج کوئی عورت داتا سے بیٹا نہیں مانگ رہی، سب آج دوپٹے پھیلائے، رو رو کر قوم کے ان بیٹوں کی سلامتی اور فتح کی دعائیں مانگ رہی ہیں جو بی آر بی کےکنارے ان کی آبرو پر جان کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔“
مغرب پسند خیال اور مشرقی ماحول کی لڑکیاں ایک ہی محاذ پہ کفر کے مقابلے میں سینہ سپر ہوگئی ہیں۔ عورتیں گھروں سے نکل آئیں اور نرسنگ، فرسٹ ایڈ اور شہری دفاع کی تربیت گاہوں میں جمع ہوگئیں۔ گھروں میں وُہ غازیوں اور کشمیری مجاہدین کےلیئےسویٹریں بننے لگیں۔ چٹاگانگ میں ایک نوجوان لڑکی فوج کے بھرتی دفتر میں گئی اور درخواست دی کہ وُہ بھرتی ہونا چاہتی ہے اُسےبتایا گیا کہ فوج میں لڑکیوں کو نہیں رکھا جاتا تو اُسکے آنسو نکل آئے۔ ایک بھکارن نے دِن بھر کا مانگا ہوا آٹا اور پیسے قوم کے حوالے کر دیئے۔ کئی عورتوں نے زیورات اور بیٹیوں کےجہیز دفاعی فنڈ میں دے دیئے۔
دیہات میں لوگوں نے اناج کی بوریاں اور بعض دودھ والی گائے، بھینس دے دیں۔ قوم غازیوں کے لیئے خون کے تالاب اور روپے پیسے کے انبار جمع کر چکی تھی۔
پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں ریڈ کراس کےمراکز میں لوگوں نے خون کے علاوہ سگریٹوں، صابن، خوشبودار تیل، تولیوں، کتابوں، رسالوں اور اس نوع کی ضروریات کی چیزوں کےڈھیر لگا دیئے۔ ٹرانسسٹروں کےانبار الگ تھے۔ دفاعی فنڈ کےاعداد و شمار تیزی سے بڑھتے جا رہے تھے۔ اسی طرح بنکوں اور ریڈ کراس کے بلڈ بنک میں روپیہ، دیگر عطیات اور خون دینے والوں کا ہجوم اور زیادہ بڑھتا ہی گیا۔ بعض افراد کا کہنا تھا کہ ”دفاعی فنڈ اور خون کے ذخیروں میں حیران کن رفتار سےاضافہ ہو رہا ہے“ لیکن پاکستانی حیران نہ تھے کیونکہ زندہ قوموں کے ایثار کی رفتار یہی ہوا کرتی ہے۔
مال بردار پرائیویٹ ٹرکوں کی ایسوسی ایشن نے جنگ کے اگلے روز ہی سارے ملک میں سے چالیس ہزار ٹرک حکومت کے حوالے کر دئیے ان ٹرکوں کی ڈرایئور سینہ تان کر مورچوں تک جنگی سامان پہنچانے میں مصروف ہوگئے تھے۔ ٹرکوں کے علاوہ اس ایسوی ایشن نے مجاہد فنڈ کے لیئے چالیس ہزار روپیہ بھی دیا۔
مغربی اور مشرقی پاکستان میں فضائی حملوں کے بعد شہریوں میں جوش و خروش بڑھ گیا تھا۔ کسی چہرے پر خوف اور گھبراہٹ نہ ہوتی۔ پاکستانیوں کے چہروں کے تاثرات یکساں تھے، جیسے ہر چہرہ بزبان خاموشی سےکہہ رہا ہو پاکستان میرا ہے۔ پاکستان کا دفاع میری ذمہ داری ہے۔“
سکول اور کالج ٦ ستمبر کو ہی بند ہوگئےتھے۔لیکن بچےکھیل کود سے بےنیاز، اے۔آر۔پی کی وردیاں پہنےگلیوں، بازاروں اور میدانوں میں خندقیں کھودنے میں مصروف ہوگئے۔ یہ بچےایک دن میں جوان ہوگئے تھے۔ جن ننھے ننھے بچوں کو اور کچھ نہیں سوجھتا، وُہ ”ہندوستان مردہ باد“ اور ”پاکستان زندہ باد“ کے نعرے لگاتے پھرتے تھے۔ والدین شام کے بعد بچوں کو ڈھونڈتے پھرتےلیکن بچےگلی محلوں میں بلیک آؤٹ کرانے کے لیئے بھاگتے دوڑتے اور وسلیں بجاتے پھرتےتھے۔
بچوں کو طیاروں کی قسمیں، بموں کے وزن، راکٹوں کی مار، توپوں کی قسمیں اور گولوں کے وزن زبانی یاد ہوگئے۔ وُہ طیارے کی آواز سن کر بتا دیتے تھے کہ یہ طیارہ اپنا ہے یا دشمن کا۔راولپنڈی میں ایک لڑکے نےدوسرے کو چاقو مار کر لہولہان کر دیا کیونکہ اُس نےاُسے شاستری کہا تھا۔ چاقو مارنے والےلڑکےنے پولیس کو بیان دیا ہے کہ یہ مجھےہٹلر کہا کرتا تھا لیکن میں نےکبھی برا نہ منایا کیونکہ ہٹلر جنگجو تھا مگر ”شاستری“ جیسی گالی میں برداشت نہ کرسکا۔
گلیوں میں اور سڑکوں پر فلمی گیت الاپنے والے ٹیڈی قوم کی آبرو کے امین بن گئے۔ فلمی گیت مرگئے، دیس کی فضا میں مِلی ترانے اور رزمیہ گیت گونجنےلگے۔ کس قدر ولولہ ہے ان نغموں میں۔ ایک ایک لفظ اور ایک ایک انگ روح میں اتر رہا ہے۔ قوم کو ان نغموں کی کس قدر ضرورت تھی؛ تب پتہ چلا۔
لوگ سڑکوں پرمنتظر کھڑے رہتے۔ پاک فوج کا کوئی مجاہد یا کوئی گاڑی نظر آجاتی تو وُہ اُسےگھیر لیتےتھے۔ ہر کسی کی خواہش ہوتی تھی کہ وُہ اپنےغازیوں کو چائے یا شربت پلانےمیں پہل کرے۔ ہر کوئی انہیں سر آنکھوں پر بٹھانے کو بےتاب ہوتا تھا۔ لیکن جوانوں کو فرصت نہیں کہ دم بھر کر رُک جائیں۔ شہر کےلوگ چلتے ٹرکوں میں مشروب کی بوتلیں، فروٹ، کھانا اور پھول پھینک دیتے ہیں۔ لاہور سیکٹر میں جہاں تک شہریوں کو جانےکی اجازت تھی۔ وہاں انہوں نے فروٹ کے ٹوکروں، زردہ پلاؤ کی دیگوں اور کھانے کے انبار لگا دیئے ہیں۔ وُہ ہر روز ان انباروں میں اضافہ کر آتے۔ سیالکوٹ اور لاہور سیکٹروں میں جو بڑی توپیں پیچھے نصب ہوئیں اُن کےتوپچیوں کو دیہات کی عورتیں کھانا، پانی اور لسی پہنچاتی رہتی۔ توپچی انہیں روکتے۔ کیونکہ انہیں سرکاری طور پر کھانا پہنچتا رہتا تھا۔ اس کےعلاوہ وہاں خطرہ بھی ہوتا تھا لیکن لوگ انہیں ایک ہی جواب دیتے تھے۔”کیا تم کسی ماں کے بیٹے نہیں؟“ لوگ تو اپنی رگوں کا خون نچوڑ کر ان غازیوں کی رگوں میں ڈال دینےکو بےتاب ہوتے۔
ہسپتالوں میں محاذوں کے زخمی مجاہد، ڈاکٹروں اور نرسوں کے لیئے پریشان کن مسئلہ بن گئے ہیں۔ وُہ ہسپتالوں میں رُکنا نہیں چاہتے تھےمحاذ پہ پہنچنا چاہتے تھے۔
ایک روز لاہور والوں نےفضائی جھڑپ دیکھی ۔بھارتی فضائیہ کے چار نیٹ اور دو ہنٹر طیارے پاکستان پر کہیں بمباری کرنے آئےلیکن ہمارے دو ہوا بازوں نے انہیں لاہور کے اوپر ہی روک لیا۔ فضا میں چھ اور دو کا معرکہ ہوا اور زمین پر لاکھوں تماشائیوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ چھتوں اور سڑکوں پر میدانوں اور باغوں میں”پاک فضائیہ زندہ باد“۔ ”وُہ مارا، وُہ مارا“ کےنعرے لگا رہے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں بھارت کا ایک طیارہ جلتا ہوا شالامار سے پرے جا گرا۔ دشمن کا ایک اور طیارہ مجروح ہوا جسے بھارت کی طرف گرتے ہوئے دیکھا گیا۔
کھلے میدانوں میں لاہوریوں کا ہجوم در ہجوم جمع ہو جانا جنگی حماقت تو تھا کہ یہ ہجوم اپنے ہوا بازوں کے لیئےبھی رکاوٹ بنا رہا تھا۔ لیکن اہل شہر کا جذبہ بے پناہ تھا۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ وُہ کونوں کھدروں میں چھپ گئے تو اپنے ہوا باز فضا میں اکیلے رہ جائیں گے اور ان کی ”ہلا شیری“ کرنے والا کوئی نہ ہوگا لاہور والےتماشائی تو نہیں تھے۔ وُہ اس فضائی معرکے میں برابر کے شریک تھے۔
٨ ستمبر کے روز جب ریڈیو نےاعلان کر دیا تھا کہ بھارت پاکستان کے مختلف شہروں میں چھاتہ بردار جاسوس اُتار رہا ہے تو اُس رات پاکستان بھر میں کوئی بھی نہیں سویا۔ لوگ چاقو، چُھریاں، کلہاڑیاں شکاری بندوقیں اور ڈنڈے اُٹھائے رات بھر گلیوں، میدانوں، باغوں اور ریلوے لائنوں پر بھاگتے دوڑتے رہے۔ عورتیں اور بچے بھی ڈنڈوں اور چاقوؤں سے مسلح ہو کر صحنوں میں اور چھتوں پر گھومتے پھرتے رہے۔ تب قوم کو نیند نہیں آتی تھی اور دشمن کو شکست دینے تک قوم کو نیند نہیں آئی۔
نظم و نسق ایسا تھا کہ کوئی فرد بھی کھلےمیدان میں سگریٹ تک نہیں سلگاتا تھا۔ لوگ بلیک آؤٹ کا ”احترام“ دِل و جان سے کر رہے تھے۔ قوم احکام اور ہدایات کا انتظار نہیں کرتی تھی۔ تب بچہ بچہ جان گیا تھا کہ اُسے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ کس قدر منظم ہے یہ قوم! بازاروں سےکوئی شے غائب نہیں ہوئی نہ مہنگی ہوئی۔
ملک بھر میں کسی کو خیال نہ تھ اکہ اتوار چھٹی کا دِن ہوتا ہے۔ دفتر بھی کھلے تھے اور بازار بھی قوم بے آرام تھی، بیقرار تھی، بپھری ہوئی تھی، محاذ پر لڑنا چاہتی تھی۔
جمعہ ١١ستمبر قائد اعظم کا یوم وفات تھا ، اُس روز مسجدوں اور گھروں میں قرآن خوانی ہوتی رہی اور ملک کی فضا مجاہدوں کی سلامتی اور فتح کی دعا سےگونج سے رہی تھی توپیں اور طیارےگرج گرج کر اپنے محبوب قائد کی روح کو سلامی دے رہے تھے۔
آج کیا ہم یوم وفات قائد پر قرآن خوانی اپنےگھروں میں کرتے ہیں؟
عرب اپنے مسلمان بھائیوں کے لیئے مرمٹنے کے لیئے بیتاب ہیں۔ خانہ کعبہ میں دعائیں مانگ رہے ہیں اور مالی امداد بھیج رہے ہیں۔
جنگ ختم ہوئی توتمام مساجد میں خدائے ذوالجلال کے حضور شکرانے ادا کیےگئے۔ قوم نے اپنے شہیدوں کی قبروں پر پھول چڑھائے۔ ہسپتالوں میں زخمی مجاہدوں کےگرد تحفوں کے انبار لگا رہے تھے۔ لوگ ایک دوسرے کو مبارک بادیں دے رہے تھے۔ اس لیئے نہیں کہ جنگ ختم ہوگئی تھی۔ بلکہ اس لیےکہ قوم خدا کے حضور سرخرو ہوگئی تھی ۔
رات کی تاریکی میں ، مکمل بلیک آؤٹ میں پاکستانی قوم نے وُہ رموز پالیے تھےجو انہیں اجالوں میں کبھی نظر نہ آئے تھے۔

یہ تمام ایسے واقعات ہے جنھوں نے اس قوم کی تاریخ کو انمول بنا ڈالا۔ ہر فرد نے اپنے حصہ کا وُہ کردار ادا کیا، جو وُہ کر سکتا تھا۔ آج ہمیں اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ وُہ کیا عناصر تھے، کہ اس قوم پاکستان میں ایثار کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ یہ وُہ معاشرتی تاریخ ہے، جس نے پاکستان کو قومی تشخص عطاء کیا۔ قوموں کی عظمت ایثار سے قائم رہا کرتی ہے۔ ١٩٦٥ء میں ہر فرد کا کردار افسانوی کہانی نہ تھا، حقیقت تھا اِس عہد کا کہ اس وطن کی خاطر ہم جان کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ایسی ہی لازوال قربانیاں قوم پاکستان کو تا قیامت زندہ و جاوید رکھنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں گی۔ آج ایک بار پھر ایسا وقت آن پڑا ہے کہ ہمیں ایسے ہی اَن مٹ ،اَن گنت جذبوں کی ضرورت ہے۔ ہمارا وطن ایک بار پھر بیرونی سازشوں کا شکار ہے، اندرونی طور پر کمزور تر کیا جا رہا ہے اور اب تو اس ملک کا دفاع بھی خطروں کی زد میں محسوس کیا جانے لگا ہے۔ اَشرافیہ ہوش کے ناخن نہ جانے کب لیں گی؟ شائد یہ باتیں کھوکھلے نعروں تک محدود ہو چلی۔ ممکن ہے کوئی اس بناء پر خاموش ہو کہ اُس کے منظر سے ہٹنے کے بعد پچاسوں افراد اُس کی جگہ وفاداری ثابت کرنے کے لیے تیار موجود ہیں۔ اُسکے باغی ہونے سے حالات مزید نازک ہو جائیں گے۔ ہم مسلسل برسوں سے خطروں میں گھرتے چلے جا رہے ہیں، بلی کےشکار کی زد میں ہونے پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ خطرے کے وقت، شتر مرغ کی طرح سر ریت میں دبائے ہوئے ہیں۔حالات کا سامنا نہیں کر رہے، حالات کو واقعات سے ٹال رہے ہیں۔ آخر کب تک؟ ایک دن سامنا کرنا ہے۔ عام فرد اپنے حصہ کا کردار ادا کرنے سے ڈرتا ہے۔ حقائق جان کر وُہ کئی سوالوں کی زد میں ہوتاہے۔ ذات کے سوالوں کےجواب میں؟ تحفظ کا خوف ہمارے سروں پر چڑھ دوڑا ہے۔
مجھے ایک فرد نے خصوصی ملاقات میں دفاع پاکستان پر لکھنے کے لیے کہا، بلکہ عملی طور پر١٩٦٥ء کی جنگ کا مواد مہیا بھی کیا، جو ١٩٦٦ء میں مضامین، یاداشتوں، ڈائری کی صورت میں چھپا۔ مگر میں راضی نہ تھا، کہ کیا لکھوں! لوگوں کے دِلوں پر باتیں اثر نہیں کرتیں۔ میں وُہ لکھنا چاہتا ہوں کہ دِل پر چوٹ پڑے۔ پڑھنے والے کے اندر وطن عزیز کی محبت جاگ پڑے۔ مگر لوگ آج صرف واہ، واہ تو کر سکتے ہیں مگر بات سمجھتے نہیں۔ اگر سمجھ لیں تو عذر ہزاروں پیش ہو جاتے ہیں۔ خیر میں نے ماضی کے وُہ حقائق پیش کیے جو شائد وقتی طور پر آپکےخیالات پر اثر تو کر جائیں گے، مگر عمل وہی رہےگا جو آپکا مزاج ہے۔ یہ سوچ کر میں نے یہ مضمون ترتیب دے ڈالا۔ آخری پیرا لکھنا ہنوز باقی تھا کہ کسی کا پیغام موصول ہوا۔ ہم اپنے لیئے ایس ایم ایس کا فیصلہ واپس لے سکتے ہیں، تو کیا اس ملک پر منڈلاتےخطرات کے فیصلے دُرست نہیں کروا سکتے۔ میں تب بھی یہ سطور لکھنے کو تیار نہ تھا۔ مگر میرے دِل کو چین نہ آیا، میرے ضمیر نےمجھےجھنجھوڑا۔ میں قومی مورال پر اتنی باتیں لکھتا ہوں ، اور اس ملک کے بقاء کے لیئے ڈر رہا ہوں، اسی اثناء میں مجھےخیال آیا ۔١٩٦٥ء والے جو جذبات عوامی سطح پر افراد میں تھے، وُہ کیوں تھے؟ اُنکے جذبوں میں ڈرنا اور سوچنا معنی نہیں رکھتا۔ اُنکو بس اللہ پر یقین ہوتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان لیبارٹریز کے قریب ١٨ ایکڑ جگہ امریکی سفارت خانہ کی توسیع کے لیئےخریدی گئی ہے، جہاں ٧٠٠ میرین موجود ہیں، ١٠٠٠ میرین کی آمد ہیں۔٢٠٠ گھر اسلام آباد میں کرایہ پر حاصل کر کے جدید سیٹلائیٹ سے لیس کیےگئے ہیں۔” امریکی غنڈہ لشکر“ کالا پانی اپنی سیاہ حرکات کے لیئے چارسدہ کےقریب شب قدر میں زمین حاصل کر چکا ہے۔ افسوس! آج آگاہی کے باوجود بدقسمتی سے، ہمارا ایٹمی اثاثہ سازشی چنگلوں کا شکار ہو رہا ہے۔ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم سلطنت روم کے ماتحت اسرائیلی گورنر ہے، جو ابنیاء کو بھی قیصر روم کے حکم کے ماتحت رہتے ہوئے سولی پر چڑھا ڈالتے تھے۔ کبھی کبھی حالات کو دیکھتے ہوئے سوچتا ہوں، ہمارا حال بنی اسرائیل والا ہی ہے۔ ہم حقائق سے نابلد ہیں۔ مایوسیوں میں اس لیئےگھرتے جا رہے ہیں کہ عملی کوششیں ترک کر چکے۔ اے اللہ اس ملک کے ہر فرد میں موجود جذبہ حب الوطنی کو عملی دھارا بھی عطاء فرما، ہمیں مایوسیوں سے بچا اور وطن کو تحفظ فرمانے میں ہماری مدد فرما۔(آمین)

ایسے موضوعات پر میں لکھنےسے ہمیشہ اس قدر گریز کرتا ہوں کہ کسی کا اصرار بھی مجھ پر اثر نہیں کرتا۔ مگر آج میرے دِل پر چوٹ پڑی اور میں لکھنے پر مجبور ہوا۔ اُس پیغام میں یہ بات بڑی اہم تھی۔ ایس ایم ایس کا ٹیکس ختم ہو سکتا ہے تو کیا ایسے فیصلےدرست نہیں ہوسکتے۔ آج اس قوم کو قومی مورال کی ضرورت ہے۔’ہم زندہ قوم ہے‘، نعرہ لگاتے ہیں، اےاللہ ہمیں زندہ قوم بنا دے۔ ہمیں باضمیر اور غیرت مندی عطاء فرما دے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

حقیقت، قومِ پاکستان

Posted on 16/08/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , , , , , , |

پاکستان ایک ایسی حقیقت ہے، جس کو نہ تو بھلایا جاسکتا ہے اور نہ ہی اُسکا انکار ممکن ہے۔ حقیقت کو سمجھنے کے لیئے یہ خود ایک حقیقت ہے۔ پاکستان نہ تو کوئی فرضی داستان ہے اور نہ ہی کوئی فرضی حد بندی۔ یہ ایک ایسا وجود ہے، جسکا تسلیم کیا جانا ہی حقیقت کا آغاز ہے۔ اس کی حقیقت کو سمجھنے کے لیئے تحریک پاکستان کو سمجھنا ضروری ہے۔
حقیقت کیا ہے؟ یہ راز کھولتی ہے۔ حقائق سے جب پردہ اُٹھتا ہے تو نئے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ حقیقت اصلیت ہے، نہ چاہتے ہوئے بھی تسیلم ہوجانا حقیقت ہی ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے، مانیں یا نہ مانیں؛ جو بات دِل پر اثر کر جائے تو ایسی بات کچھ نہ کچھ وزن تو رکھتی ہے۔
نظریہ پاکستان ایک ایسی حقیقت ہے؛ جس کے حقائق کو جان لینا؛ ہر پاکستانی کیلیئے لازم ہے۔ یہ وُہ نظریہ ہے؛ جس کی حد محدود نہیں، اِسکا نقطہ نظر سوچ کو وسعت کے ساتھ بصیرت بھی عطاء کرتا ہے۔ جسکا ہر پہلو حقیقی و عملی ہے؛ اسکے ہر معاملہ کے پیچھے صرف وسیع ترمعنٰی پنہاں نہیں بلکہ ١٤٠٠ سال کے کامیاب ترین تجربات کا عیّاں ہونا بھی ہے۔ جن کی بنیاد رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی تعلیم ہی ہے۔ جو اسکی عالمگیری وسعت اور تسلیمیت کا مظہر ہے۔
نظریہ قوم دراصل نظریہ وحدت ہے، نظریہ فرد نہیں۔ قوم رنگ، نسل، زبان، علاقہ یا قبیلہ وغیرہ کی بنیاد پر نہیں بنتی بلکہ عقیدہ کی بنیاد قوم ہے۔ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ یہ وُہ بنیاد ہے جو وسعت نظری اور قومی احساس کا وجود لاتی ہے۔ علاقائی قوم کا تصور تنگ نظری پیدا کرتا ہے، یہ وحدت کی بجائے تعصب سے علیحدگی کا باعث بنتا ہے۔ جو تقسیم، نفرت اور احساس محرومی کی کثرت کا سبب بنتے ہیں۔

موج دریا میں ہے، بیرون دریا کچھ نہیں
فرد ملت سے ہے، بیرون ملت کچھ نہیں


قوم پاکستان کا نظریہ ہمارے ہر رنگ کا حصّہ ہے۔ قوم کی تعریف سے ہٹ کر زبان، مذہب، ثقافت اور تمدن کے معاملات کو دیکھ لیں؛ آپکو ہر جگہ پاکستان نظر آئےگا۔
قومی زبان اُردو علاقائی زبانوں اور لب و لہجہ کو وحدت بخشتی ہے۔ سوچ، خیال اور عمل کو ایک دھارے میں لاتی ہے۔ دھارا کیا ہے؟ صوفیانہ رنگ۔ وُہ کیسے؟ پاکستان میں بولی جانے والی تمام علاقائی زبانوں کا اعلٰی ترین ادبی رنگ دیکھیئے تو وُہ شاعرانہ رنگ؛ صوفیانہ کلام ہے۔ تمام خطہء پاکستان کی مشترکہ تعلیم؛ صوفیانہ تعلیم رہی۔ اُردو کا ظہور یہیں سے ہوا۔ ”کسی شعر میں جسقدر صوفیانہ رنگ غالب ہوگا، اُسکا مقام اُسقدر بلند اور اعلیٰ ترین تصور کیا جائےگا“ (واصف صاحب)۔
بطور مسلمان ہماری پہچان کلمہ طیبہ ہے، مسلک یا فرقہ نہیں۔ ولی اللہ مسلک کی نہیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کی بات عمل سے کر کے بتاتے ہیں۔ قائداعظم سے کسی نے دوران انٹرویو پوچھ لیا؛ آپکا فرقہ کونسا ہے؟ آپ نےکچھ یوں جواب میں فرمایا میرا فرقہ وہی ہے جو رسول پاک کا تھا۔ تو اُس فرد نے کہا اُس دور میں تو کوئی فرقہ نہ تھا۔ تو محترم قائداعظم نے فرمایا میں رسول پاک کی دی گئی تعلیم کےمطابق عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ١٨٥٧ء سے قبل فرقہ کا اختلاف نہ تھا۔ انگریز نے” تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کےاصول پر یہ فتنہ پیدا کیا۔ سید احمد شہید کی تحریک اسی سازش کا شکار ہوئی۔ آج اصل اور نقل کے الزام میں جانشینی کے اختلاف کیا ہیں۔ ہم مسلک، علاقہ، ذات، زبان، برادری ، جماعت کے انفراد ی ذاتی مفاد کے نام پر تقسیم ہوئے اور منقسم کیئے بھی گئے۔ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےآخری خطبہ کی اہمیت تقریر کے علاوہ عملاً بھول جاتے ہیں۔
مسجد اتحاد پیدا کرتی ہے۔ یہاں پر ہم محبت کا عملی درس سیکھتے ہیں۔ بیشک آج حقیقی تعلیم دینے والےمحترم افراد قلیل ہے مگر معاملات آج بھی تعلیم دے رہے ہیں۔ ایک قبلہ کی جانب منہ کر کے، امام کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں۔ اُسکا احترام مدنظر رکھتے ہیں۔ صف بندی میں بلا امتیاز کھڑے ہوتے ہیں۔ مل کر خدا کےحضور سجدہ کرتے ہیں، دعا مانگتے ہیں۔ صدقہ، خیرات اور زکوٰ ة سے کمزوروں کی مدد کرتے ہیں ہماری عبادات کا عمل محبت سے قوم میں وحدت کا جذبہ بیدار رکھتا ہے۔
مسجد معاشرہ میں ایک ایسے معاشرتی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے؛ جہاں عبادات، تعلیم (مدارس)، انتظامی امور، مالی معاونت اور قانونی فیصلے تک کیئے جاتے ہیں۔
تعمیرا ت کو ہی لیجیئے۔ اللہ خود ایک ہے، اُسکو یکتائی پسند ہے اسی لیئے عمارات میں محرابوں کی تعداد اطاق رکھتے ہیں۔ اسلامی فن تعمیرات میں جیومیٹریکل ڈیزائن، خطاطی، نقش کاری، کاشی کاری اور کندہ کاری کے کام میں ہر فنکار نے اَن گنت ڈیزائن تخلیق کیئے اور ہر تخلیق کار اور تخیل گو کا بنیادی نقطہ ”وحدت“ (unity) رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیزائن میں یکتائیت کی افراط کے باوجود ؛اسلامی نظریہ وحدت یکسانیت رکھتا ہے۔ حتٰی کہ ہمارےگھروں کی کھڑکیاں، دروازی، چھتیں، باغات میں بارہ دریوں، فواروں اور پودوں وغیرہ کی ترتیب میں طاق اعداد اور وحدت کے نقطہ نظر کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ مینار ہی کو لیجیئے یہ ذات باری تعالیٰ کی برتری اور اقتدار اعلیٰ کا نظریہ؛ ارتقاء سے بلندی کی جانب لیجانےکا ترجمان ہے۔ آغازِ اسلام میں اذان بلند چھت یا مقام پر جا کردی جاتی تھی۔ جس کے دو مقاصد تھے، ظاہری یہ تھا کہ آواز تمام شہر یا حد آخر تک سنائی دے۔ عمارات کی تعمیر میں آواز کی گونج اور رفتار پر خصوصی توجہ رکھی جاتی تھی۔ باطنی مقصد بلند مقام سے اللہ کی راہ میں پکار اللہ کےمقام کا اظہار بھی تھا۔ دیگر اقوام میں مینار کئی مقاصد کےتحت تعمیر ہوئے، عہد قدیم میں جنگی مقاصد، عہد جدید میں ترقی و آزادی کی علامت تک کا یہ سفر ہے۔ مگر اسلام میں یہ ہمیشہ وحدت اور عروج کا ترجمان رہا ہے۔ مینار قومی تحریک کا ایک سنگ میل ہوتا ہے۔ برصغیر میں پہلی باقاعدہ اسلامی حکومت کے قیام کی علامت قطب مینار، پاکستان کےقیام کی یادگار مینار پاکستان، مساجد میں مینار کی تعمیر ملت اسلامیہ میں عقیدہ کی مضبوطی کی پہچان ہے۔
اسلامی فن تعمیر میں دیگر اقوام اور مسلمانوں میں ایک فرق رہا ہے۔گھر کی تعمیر میں مسلمان اپنے ہاں کھلےصحن کےساتھ ساتھ مناسب مقدار میں روشنی اور ہوا کی آمد ورفت کو مدنظر رکھتے ہیں، جو ذہنی و قلبی وسعت کا ترجمان ہے۔
تعمیرات میں بات عمارات تک نہیں بلکہ رنگوں کے مطالب اور استعمال میں بھی مشترکہ خصوصیات رکھتے ہیں۔ ہماری مساجد، مقابر، مدارس کی تعمیر میں نیلے رنگ کے ٹائیل ورک کا کثرت سے استعمال تاریخی تسلسل میں فارسی کے اثرات کا آئینہ دار ہے۔ سبز رنگ کو مقدس رنگ کےطور پر استعمال کرتے ہیں۔ سیاہ رنگ کے استعمال کو رسول کے پہلےعَلم (جھنڈا) کی حیثیت سے لیتے ہیں۔ مزید اس رنگ کو حکمت و دانائی کےمعنی میں بھی لیتے ہیں۔ سفید کو اتحاد اور آغاز کی ترجمانی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اِن رنگوں کے ایک ہی معنوں سے استعمال اِس قوم (پاکستانی) کےجمالیاتی احساسات کو جوڑتا ہے۔
پاکستان کےکسی بھی خطہ میں چلے جائیں، موسم، حالات اور ماحول میں فرق کےباوجود اقدار یکساں ہے۔ بڑوں سےعزت اور احترام سے پیش آنا، چھوٹوں کےسر پہ دست شفقت رکھنا، ہم مرتبہ افراد سے (نفرت، بغض، حسد اور کینہ کو ختم کرتے ہوئے) گلےملنا۔ ایسے ثقافتی اور تمدنی اظہاری اعمال ہیں۔ جو محبت کا نظریہ پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کے ہر دیہات میں عملی تربیت کی یہ اقدار آج بھی جاری ہے۔
علاقائی مشاورت کے لیئے اگر بلوچستان، سرحد اور کشمیر میں جرگے ہوتے ہیں تو پنجاب میں پنچائیت اور سندھ میں اس کو مَیڑھ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان اجتماعات کی سربراہی کوئی بزرگ ہی کر رہا ہوتا ہے۔ اگر سرحد میں یہ مَلک یا خان ہے تو بلوچستان میں سردار، پنجاب میں سرپنچ اور سندھ میں اسی کو مُکھ کا نا م دے دیا جاتا ہے۔ مگر بنیادی اندازِ مشاورت اور مقصد یکساں ہے۔
پاکستان ایسا ملک ہے، جس کے وجود میں آنے سے قبل یہاں کئی تہذیبوں (سندھ، ٹیکسلا، گندھارا) کا جنم ہوا، بیشمار ثقافتیں پھلی پھولیں۔ آج بھی ثقافت، رسم، رواج اپنے اپنے دائرہ میں پھل پھول رہے ہیں۔ مگر یہ تمام جدا نہیں۔ اِنکی مشترکہ خصوصیا ت قوم پاکستان کو یکجا کرتی ہے۔ مشترکہ خاصیت کیا ہے، صوفیانہ تعلیم۔ اس قوم کی پہچان مہمان نوازی ، جفاکشی ، محنتی ، بہادری ہے۔
پاکستانی قوم کا وجود ”واعتصموا بحبل اللہ جمعیا ولاتفرقوا“ (ترجمہ: ”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ میں نہ پڑو“) میں ہے۔ پاکستانی قوم پنجابی، سندھی، بلوچی، پٹھان، کشمیری نہیں۔ یہ وحدت ہے صرف اور صرف پاکستانی۔ افسوس! تقسیم در تقسیم کی بات ہوتی ہے۔ مزید انتظامی تقسیم کا شور ہوتا ہے، صوبے بنانے کی شورش پیدا کی جاتی ہے؛ ظلم، زیادتی، محرومی کے نعرے لگتے ہیں۔ آج عام فرد کا مزاج ایسا بن چکا ہے کہ وُہ ذاتی نا اہلی کو ذاتی مفاد میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اصلاح کے لیئے اصطلاحات نہیں ہوئیں مگر صلاح پر زور رکھا جاتا ہے۔
قائد اعظم نے ایک پیغام دیا۔ ایمان، اتحاد، تنظیم۔ یہی قوم ِپاکستان کی تعمیر سے ترقی کے سفر کا پیغام ہے۔
قوم پاکستان انفرادی سوچ نہیں، اجتماعی سوچ کا نام ہے۔
علامہ اقبال نےفرمایا تھا:

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے، ترکیب میں قومِ رسول ہاشمی
اُن کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری
دامنِ دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں
اور جمعیت ہوئی رُخصت تو مِلت بھی گئی

آج پاکستانی قوم اَن گنت نواسیر (ناسور کی جمع) کا شکار ہے۔ جہاں قدرتی طور پر ہر شئے اس قوم کو وحدت بخشتی ہے۔ اُسی طرح افراد اس وحدت کو تسلیم کرنے سے منکر ہو چلے ہیں۔ قوم میں وحدت جذبہ سے قائم ہوتی ہے۔ جس کو سیاسی، مذہبی، معاشرتی، ثقافتی اور تمدنی پہلوئوں سے اُجاگر رکھا جاتا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ٹھہرا کہ ہر شعبہِ زندگی پہ کاری ضرب ذاتی مفادات کے تحت خود ہی لگائی۔
سیاسی اعتبار سے قیادت کے فقدان کی بات کرتے ہیں، مگر کیا خود اس فقدان کے لیئے اپنے حصہ کا کردار ادا کرتے ہیں؟ کسی قابل فرد کو نا اہل رہنما موقع دیتا ہے؟ سیاسی جماعتیں اپنی نمائش کےعلاوہ کبھی قومی و مِلی فکر کا جذبہ پیش کرتی ہیں؟ زلزلہ یا سیلاب میں متاثرین کی مدد تب تک نہیں کی جاتی جب تک میڈیا کوریج نہ دے۔ ممکن ہے اس دوران قیمتی جانوں کا نقصان بھی ملک کو برادشت کرنا پڑا ہو۔ قومی جماعتوں کی کیا یہی قومی سوچ ہے؟ مگر کچھ جماعتوں کا ایسا رویہ نہیں بھی ہوتا۔ بلکہ اُن کا کردار قابل تحسین ہوتا ہے۔
اکثر علاقائی جماعتیں عوامی استحصالی اور محرومی کے نام پر ؛ اپنےبھائیوں میں بھائیوں کے خلاف تعصب کا پرچار پھیلاتی ہیں، احساس محرومی کا شکار کرتی ہیں، اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کے لیئے عوام کو گمراہ رکھتی ہے اور ملکی ترقی میں رکاوٹ بنائے رہتی ہیں۔ برس ہا برس ایک مسئلہ کو اُجاگر کر کےسیاست چمکائی جاتی ہے۔ شائد آج ہم اپنے مسائل حل کرنے میں خود سنجیدہ نہیں اور الزام دوسروں پر تھونپ دیتے ہیں۔
تاریخی و جغرافیائی تسلسل کے تحت رہتے ہوئے بھی، ایک خطرناک اور نہایت ہی مہلک سوچ ؛انتہائی پڑھے لکھے افراد میں پروان چڑھ رہی ہے کہ غیر علاقہ کا فرد کبھی بھی اُن کا دوست نہیں بن سکتا۔ جبکہ پاکستان کے ہر علاقہ کا باشندہ دوستی نبھاتا رہا ہے، اپنی جان دوست پر نچھاور کرتا رہا ہے۔ ہمارا ادب اور فلم اس بات کی گواہی بھی دیتے ہیں۔
میں علاقائی سیاسی جماعتوں کے خلاف نہیں ، بلکہ ملکی ترقی میں ان کا کردار بڑا ہی اہم ہوجاتا ہے۔ یہ اپنےعلاقہ اور عوام کےحقیقی مسائل کو نہ صرف بہتر انداز میں اُجاگر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں بلکہ اپنے ہی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کرلینےکی انمول خصوصیت بھی رکھتی ہیں۔ آج یہ سوال ہے کہ ایسی جماعتوں نے اپنے ذاتی مفادات کو پس و پشت ڈالتے ہوئے ؛ اپنےعوام کےحقیقی مسائل حل کرنے کے لیئے کیا کوئی اہم کردار ادا کیا؟ چند جماعتیں اپنی بقاء قائم رکھنے کے لیئے جھوٹے پروپیگنڈہ پھیلاتی ہیں۔ عوام احساس محرومی کا اس قدر شکار ہو گئی ہے کہ اگر کسی جگہ کوئی میرٹ پر مکمل نہ اُتر سکے تو بیشمار افراد اپنےعلاقائی تعلق کومسترد کیئے جانے کی وجہ گردانتے ہیں۔ بطور پاکستانی ہر فرد کو دُکھ ہے کہ ایسی سوچ پروان چڑھائی جا رہی ہے۔ ہم غلط ایک جانب کو نہیں ٹھہرا سکتے۔ کوتاہیاں تمام جانب سے سرزد ہوئیں ۔ بہت جلد یہ تمام ٹھیک ہو سکتا ہے اگر ہماری سوچ پاکستان اور ملت کے مفاد کی سطح تک وسیع ہوجائے اور ہر فرد اپنے حصہ کا کردار ادا کرے۔ یہ سوال کرنا چھوڑ دے؛ یہ ملک اُسکو کیا دیتا ہے؟ ملک ماں کی طرح ہوتا ہے، ماں سے یہ سوال نہیں کیا جاتا کہ اُس نےکیا دیا۔ ماں کا جنم دینا ہی احسان ہے۔ ماں سے علیحدہ ہونے والا بچہ کیا کبھی خوش رہتا ہے؟ ناراض ہو کر نیا گھر بنا لینا تو ممکن ہے مگر ماں کی دل آزاری کے بعد کیا اُس گھر میں خوشیاں لوٹیں گی۔ ماں معاف کرتی ہے، بیٹا معافی مانگتا ہے۔ ماں کے سامنے ”میں“ نہیں رہتی۔ آج ہر جماعت کو ماں کے پاؤں دبا کر اُسکی خدمت کرنی چاہیئے۔ محبت سے محرومی کی طرف نہیں جانا چاہیے، محبت تک ہی رہو ۔
١٩٦٥ء کی جنگ میں قوم کا مورال بلند تھا۔ ہر فرد نے جنگ میں اپنا کردار ادا کر کےحصہ لیا۔ کانوائےگزر رہا ہے تو نہایت بوڑھے بزرگ جو چل بھی نہ سکتے تھے، پاکستان اور اُسکے محافظ فوج کے لیئے دُعا کرتے، لاغر و ضعیف بڑھیا مٹھی بھر بھنے چنےگھر سےلیکر نکل کھڑے ہوتی اور جوانوں کو پیش کرتی۔ جوان بھی شفیق لہجہ سے یوں پیش آتا کہ جذبات مجروح بھی نہ ہونے پاتے، فنکار ایک جذبہ اور ولولہ سےاپنا کام بغیر معاوضہ کےصرف اور صرف پاکستان کی خاطر ادا کر رہے تھے۔ فوج شہر سےگزر رہی ہے تو شہر والے استقبال کی تیاری میں پہلے سے منتظر کھڑے رہتے اور آمد پر تمام بازار اُن پر نچھاور کر دیتے۔ دودھ والا تمام دودھ مفت میں دیکر خوش ہے، حلوہ پوڑی والا ناشتہ بھیج کر فوج کا ولولہ قائم کر رہا ہے۔ حجام کی دُکان میں جو خبریں اور تجزیہ زیر گفتگو ہے وُہ قوم میں مورال بلند کر رہا ہے۔ وہاں یہ سوال نہ تھا کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا؟ بلکہ جواب تھا کہ جو میلی نگاہ سے پاک وطن کو دیکھےگا، اُسکی آنکھیں نکال لی جائےگی۔ ہر فرد براہ راست جنگ میں شامل تھا، اپنا کردار ہر فرد نے خوب نبھایا کہ دُنیا کو یہ تحقیق کرنا پڑی قوم کا مورال کیا ہوتا ہے۔١٩٧١ء میں ہم مورال سے محروم کر دیےگئےتھے۔
اس ملک کو سب سے زیادہ مذہبی سطح پر فرقہ وارانہ اور شر انگیز نفرت نے نقصان پہنچا ڈالا۔ مسلمان اپنے ہی دوسرے مسلمان بھائی پر کفر کا فتوی جڑتا ہے، اور مسلمان واجب القتل مسلمان کو ٹھہراتا ہے۔ کیا یہی امن، رواداری، درگزر اور محبت والے مذہب کی تعلیم ہے؟ بچہ کو مسلمان نہیں دیوبندی، بریلوی، شیعہ کی تعلیم میں دیگر مسالک کے لئے نفرت سکھائی جاتی ہے۔ ایک ہی محلہ اور ایک ہی مسلک کی مساجد میں، مغرب کی اذان کے وقت پر بھی فرق لازماً رکھا جاتا ہے۔ ایک ہی مدرسہ کے فارغ التحصیل ہم جماعت ہی لےلیجیئے، جب اُن میں مفادات کا ٹکراؤ آتا ہے تو عقائد کے اختلاف کی بات لے بیٹھتے ہیں۔ اِن خونی جھگڑوں اور اختلافات کے باعث آج کا نوجوان مذہبی ٹھیکیداروں سے متنفر ہو کر دین سے بھی دور ہوا۔ اس سے ہرگز یہ تصور نہ لیا جائے کہ تمام مذہبی مبلغین ایسے ہیں۔ دراصل جس کی لاٹھی اُسکی کی بھینس کے مصداق ؛ آج وُہ لوگ نمایاں ہیں جو دھینگا مُشتی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ علماء و مبلغین نہایت ہی حلیم ، مہذب ، بحث اور جھگڑا میں نہ پڑنے والے افراد ہوتے ہیں۔ ایسے شریف لوگ گمنامی میں اس ملک اور دین اسلام کی خدمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وُہ کبھی کسی کو برا نہیں کہتے، بس اصلاح کا عمل مسلسل جاری رکھے رہتے ہیں۔ سلام ہو ایسےعظیم انسانوں پر۔
مزارات پر مجاورین اللہ والوں کے قصیدے سناتے ہیں، اُنکو بشر سے مافوق الفطرت بنا ڈالتے ہیں، اپنی تجوریوں کو لنگر کےنام پر بھرتے ہیں۔ کاش! ایسےچند افراد اُن نیک بندوں کے نقش قدم پر خود بھی چلیں اور لوگوں کو اُس پر چلنے کے لیئے رہنمائی فراہم کریں۔ مگر آج تو چند خانوادوں میں ماضی کے بادشاہوں کی طرح گدی نشینی کے جھگڑے چل پڑتے ہیں۔ ہمیں ایسے جھگڑوں سے پرہیز کرتے ہوئے محبت کا درس دینا چاہیے۔
روپے کی دوڑ نے قوم کی اکثریت کو ”پیسےکا پتر“ بنا دیا ہے۔ Status کے چکر میں زبان بھی امپورٹ کی، زبان سے غیر مانوس ہونے کے باعث احساس منتقل نہیں ہو پا رہا۔ جذبات، کیفیات ہر فرد کے اندر منجمد رہنے لگے ہیں۔ اظہار اندر ہی گُھٹ گُھٹ کر مر جائےگا۔ آج زندگی گلیمر کے سواء کچھ نہیں، انسان معاشرہ سے کٹ چکا ہے۔ انسان کی اہمیت مایا (دولت) سے ہے اور معاشرہ کا رویہ اس مثل کے مانند ہے، مایا کو رامو، رام، رام داس ۔
یہ تصور حقیقت سمجھا جا رہا ہے؛ جس کے پاس روپیہ ہے اُسکی اہمیت ہے۔ رشتہ داری دولت سے ہے افراد سے نہیں۔ گاڑی کا ماڈل، مکان کی لاگت، مہنگی آسائشی اشیاء اور صرف حاصل کی گئی تعلیمی ڈگری امارت طے کر رہے ہیں۔ صرف قصور اُمراء کا نہیں، غریب خاندان بھی بہو کے لیئے ملازمت کی شرط عائد کر رہا ہے، جہیز کو لعنٰت قرار دیتے ہیں، شائد آج بہو کو پیسہ بنانے والی مشین بھی تصور کیا جاتا ہے۔ اپنی بیٹی کو یاد نہیں رکھتے، دوسروں کی بیٹیوں کی قیمت لگاتے ہیں۔ بیٹی والے بیٹیاں بیچ کر بچھتا رہے ہیں۔ لڑکی والے بھی جھوٹی شان کی تلاش میں ہیں۔ اُنکو ایسا داماد چاہیے جو اُنکے لیئے ایک مشین ہو۔ شائد آج معاشرہ کو بیٹا یا بیٹی نہیں حسن کے ساتھ دولت بنانے والی نافرمان مشینیں بھی چاہیے۔گھر بسانے کی بجائے، طلاق کی ترویج ہو رہی ہے۔ تربیت کرنے والے افراد آج ایک مایوسی کا شکار ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ آج وُہ جس معاشرہ میں رہ رہے ہیں وہاں محبت سکھائی نہیں جا سکتی، کیونکہ اب یہ بات معاشرہ میں خیالی بات ہو چلی ہے۔
ثقافت ختم ہو رہی ہے، پکوان کےذائقہ کی جگہ fast food نے لے لی۔ حلال، حرام کی تحقیق کی بجائے سہولت اور status کو دیکھنے لگے۔ گھر میں فنکشن نیچرل پن کےمعنی رکھتا ہے، آج بکنگ کے دور میں حسن سے محروم، لباس شائستگی کی بجائے بیہودگی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ کیبل چینلز رنگ اور ڈیزائن معاشرہ کے طے کر رہے ہیں۔ مذہبی و ثقافتی نظریات کےتحت ڈیزائن اور رنگ کے انتخاب نہیں کئے جاتے۔ پلاسٹک کی بوتل کا”منرل واٹر“ صحت افزاء نام سے فروغ پا رہا ہے جبکہ پلاسٹک تو خود بیماریوں کا سبب ہے۔گھڑے کا پانی بہترین پانی تصور ہوتا ہے مگر وُہ status کہاں جائے؟ علاقائی مشروب موسم کے حوالے سے مخصوص ہیں۔ مگر مہمان اور میزبان دونوں کانجی، سکنج بین، لسی وغیرہ کو قابل توہین سمجھتے ہیں۔ ثقافت صرف چند نظریاتی لوگ قائم رکھنےکی کوشش کر رہے ہیں۔
ڈرامہ نگار کا ڈرامہ خود ڈرامہ بن چکا ہے۔ وُہ جو معاشرہ پیش کر رہا ہے، وُہ exist ہی نہیں کرتا اور لوگ اُس existense کی جانب بھاگ رہے ہیں۔ محبت صرف دِل ڈول کر شادی رچا لینے کا trend بنا دیا ہے۔ کیا حقیقی محبت یہی ہوتی ہے؟ آئندہ چند سالوں تک پاکستان پر بنایا گیا ڈرامہ خیالی بات ہی معلوم ہوگی۔ تحریک پاکستان افسانہ یا چند پاگل لوگوں کا جنون کہا جانے لگےگا۔
تمدنی اعتبار سےگھر بنائے نہیں جا رہے۔ مغرب سے خیالات امپورٹ ہوتے ہیں مشرقی انداز میں گھر بنانے کو اب ہتک سمجھا جانے لگا ہے۔ مغربی طرز کا گھر فخر تو بنتا ہے مگر ذرا سوچئیے کیا موسم اور ثقافت کےاعتبار سے یہ گھر قابل رہائش رہتے بھی ہیں یا نہیں۔ کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا۔ ہمارا ہر قدم قانون فطرت کےعین مطابق تھا اور آج مکمل خلاف ہے۔
اللہ کرے، اس قوم سے روپےکی ہوس والی دولت چھن جائے اور ہمیں حقیقی دولت عطاء فرما۔ امارات نے اس قوم کو بھٹکا دیا ہے۔ اس قوم کی عمارت درویشی میں ہے۔

(فرخ نور)

متعلقہ تحریریں
نظریہِ پاکستان
درویش پاکستان

Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

وفا

Posted on 05/08/2009. Filed under: پاکستان, تعلیم, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , |

ہم کواُن سے وفا کی ہے اُمید
جو نہیں جانتے کہ وفا کیا ہے؟

اس زمانے میں کوئی کسی سے وفا نہےں کرتا۔ اعتبار کسی پر کرتے ہے وفا کوئی اور کرتا ہے۔ وفا تو دِل کی الفت سے ہوتی ہے۔ جس میں وفا نہےں اُس میں کچھ نہیں ہے۔ وُہ زندگی کےجذبات سے محروم ہے۔ دُعا وفا ہے۔ محبت کے لئے وفا کا ہونا لازم ہے۔
وفا کا عمل دِل میں احترام سے ہوتا ہے، یہ مادی جذبہ نہےں روحانی معاملہ ہے۔
انسانی جذبوں میں سب سے حسین جذبہ ”وفا“ہے۔ ہرخوبصورت رشتہ کی بنیاد ایفا ہے۔ رشتہ دار کا فخر وفا میں ہے۔ محبت کا درخت وفا کے پانی سے پھلتا پھولتا ہے اور اعتماد کا پھل دیتا ہے۔ وفا ایک عہد ہے اپنی ذات کے ساتھ قربانی کا جذبہ۔ وفا میں ہمیں صرف وُہ چہرہ پسند ہوتا ہے؛ جسکی خاطر ہم جیتے ہیں۔ اُسکی خوشی ہماری خوشی، اُسکا غم ہمارا غم ہوتا ہے۔
وفا ایک ایسا جذبہ ہے، جس کے رشتے بے شمار ہیں۔ دین، ملک، خطہ، قوم، خاندان، دوست ہمیں تمام اپنی جان سےعزیز ہیں۔ وفا میں فریب موجود نہیں۔ وفا میں دھوکہ نہیں ہوت اوفا تو مر مٹنا ہوتا ہے۔
وفا احساس نہیں بلکہ عہد نبھانا ہے۔ ایساعہد جو فخر کا باعث ہو۔ تمام زندگی کا اثاثہ وفا ہے۔ وفا محبت کا ایسا لمحہ ہے۔ جس میں فراق نہیں۔ وفا محبوب کی جانب سے نہیں اپنی جانب سے ہوا کرتی ہے۔ وفا محبت کی ترجیح طے کرتی ہے۔ وفا زندگی جینے کا ڈھنگ سکھاتی ہے۔ وفامادہ پرستی کی بجائےخلوص سکھاتی ہے۔ حقیقت سے روشناس کراتی ہے۔ وفا ہی انسان میں وُہ جذبہ پیدا کرتی ہے۔ جس میں انسان کسی کے لئے کٹ مرتا ہے۔ حسین جذبہ! وفا۔
باکردار انسان وفا کاجذبہ رکھتا ہے۔ با وقار اقوام اپنے وطن سے وفا کا رشتہ نبھاتے ہیں۔ خود کو قربان کرڈالتے ہیں۔ وفا میں اپنی ’میں‘ نہیں رہتی۔ دوسرے کی تعظیم و تکریم ہی تحریم بن جاتی ہے۔ قوموں میں عظمت کا نشاں وفا کا ہی ہوا ہے۔
آج ایک سوال آن پڑا! وفا کا کبھی جائزہ نہیں لیا جاسکتا۔ میاں بیوی کا رشتہ وفا سے ہی پھلتا پھولتا ہے۔ امپورٹڈ کلچر نے اس خطہ کے حسین ترین جذبہ وفا کا قتل عام شروع کردیا۔
ایک دور تھا،؛ آقا و غلام کا رشتہ تھا۔ مالک خیال رکھتا تھا، ملازم جان پیش کرتا تھا۔ Profesionalism رویہ اپنے ساتھ leg pulling کو قانونی اجازت دے رہا ہے۔ آج وفا معدوم ہے۔ ملکی حالات مخدوش تر ہوئے۔ نااہل اہل بن بیٹھے۔ ہر فرد دوسرے کی کرسی پہ نظر لگائے بیٹھا ہے۔ آج زندگی کیلیئے امان کی دُعا کرنے والاکوئی نہیں، ایمان خود امان میں نہیں رہے۔
خاندان دولت کے بکھیڑوں میں، آپسی دشمن بن کر بکھر چکے، دوست دوستی میں نفع کما رہا ہے، فائدہ گن رہا ہے۔ جذبات کی تباہی گنتی سے ہوا کرتی ہے۔ جذبات کیلیئے تعداد بے معنٰی ہے، خلوص اہم ہے۔ دین کی وفاداری کو چند لوگ دُکان بنائےبیٹھے ہیں۔ مجاورین مزار پہ مزار والے کےنام پہ اپنی اپنی جلیبیوں کی کڑھائیاں سجائے بیٹھے ہیں۔
ملازمین ملازمت کر رہے ہیں، ملکی خدمت کتابی بات رہ گئی ہے۔ افسوس! جذبات میں وفا کا قتل ہوچکا۔ محبت ناپید ہوئی۔
وفادار تو ہر لمحہ امتحان میں ہوتا ہے۔ وفا تو دِل میں ہوتی ہے۔ اُسکی نمائش نہیں ہوسکتی۔ وفا تو ظاہراً محسوس ہوتی ہے مگر حقیقتاً یہ احساس دلوں سے دِلوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اِسکی پیمائش کے لیئے پیمانے مقرر نہیں۔ آپکے دِل میں جو درجہ ہے اُسکی کیا کوئی درجہ بندی کرسکتا ہے؟ ایسا کرنا تو نا انصافی ہے۔ جذبات کا مجروح کر دینا ہے جرم ہے۔ اندر کے انسان کے خوبصورت احساس کوقتل مت کرو۔ جو خود کو تمہارے حق میں بیچ چکا۔ جیسا بھی ہو! اُسکی قدر رکھو! بات تسلیم کرو یا نہ کرو مگر اُسکو جھٹلاؤ مت۔ وفادار توخدمت میں ہمیشہ کے لیئے خود پیش ہوچکا۔ پیش کیا نہیں گیا۔ جس نے خود اپنے اندر وفا پیدا نہ کی۔ وُہ محبت کو کیا جان پائےگا؟
آج وفا کیوں نہیں رہی؟ مادہ پرستی نے وفا کو حالت نزع پہ لا ٹھہرایا۔ اب مزید ایک سوال آن پڑا، وفا خود میں کیسے پیدا کی جائے؟ دِلوں میں خلوص پیدا کیجیئے، وفا خود بخود پیدا ہونے لگےگی۔ خلوص کیسے پیدا ہوتا ہے؟ چاہت سے۔ دوسروں کا خیال رکھنے سے بھی وفا پیدا ہوتی ہے۔ میاں بیوی کا ’قبول کرنا‘ دراصل یہی ہے۔ پاکستا ن کو تحریک پاکستان سےسمجھیئے؛ اِک روز کوئی جملہ، کوئی بات آپکےدِل پر اثر کر جائےگی۔ وطن سے وفا کیا ہے؟ ملازمت کو ضرورت نہ سمجھیئے، ملکی خدمت جانیئے۔ ماہوار ٢٤٨٠٠ روپوں تنخواہ ١٨ گھنٹے یومیہ کی ڈیوٹی کو کم نہ جانیئے بلکہ مزید١٠ گھنٹوں کو بھی قومی خدمت سمجھیے۔
وطن کی مٹی میں خوشبو وفا کے جذبہ سے ہے۔ وفا پریشانیاں لاتی نہیں پریشانیاں دور کرتی ہے۔ وطن کی مٹی کو وفا کےجذبہ سے ماتھے پہ مل لو، بھول جاؤ گے تمام غموں کو۔ پاکیزہ مٹی بھی اِک روحانی دوا ہے۔ مٹی کی پاکیزگی وفا میں ہے۔
اللہ والے اللہ اور رسول سے وفا رکھتے ہوئےمٹی میں شامل ہوکر بھی وفا کی خوشبو بکھیرتے ہیں، یہی وفا عشق کی معراج ہے۔
(فرخ نور)

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

سوالیہ تحریری حقائق

Posted on 11/06/2009. Filed under: پاکستان, تاریخ, تعلیم, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , |

خیالات کے بےہنگم ہجوم میں سوچتاہوں، کہوں تو کیا کہوں۔ پھول کی خوشبو سحر انگیز تاثیر رکھتی ہے۔ لفظوں کے اثرات ما بعد ضبطِ تحریر کیاگل کھلا رہے ہیں، یہ دُنیا دیکھ رہی ہے۔ تحریر میں خیال اچھا ہو، تو کیا خوب بات ہے۔
آفرین! اِک نقطہ نظر ہے، دُنیا میں انسان کے رُجحانات کتابوں نے بدلے ہیں۔ قوموں کی تقدیر بدلی، ممالک کی قسمت بنی ۔۔۔۔ حتیٰ کہ زمانے کتابوں کے ٹھہر پائے۔ یہ دور کس کتاب کا ہے؟ کتابوں کے انبار میں، شائد کسی بھی کتاب کا دور نہیں چل رہا۔
لکھنے والے رہے نہیں، پڑھنے والےعالم بنے، پڑھانے والے نہ جانے کیا کر رہے ہیں۔ ہُو کا یہ عالم ٹھہرا کہ زمانے کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ دوڑ اپنی اپنی ہوئی، چور پوری قوم ہوئی۔ مایا کی تلاش میں، نام کمایا۔ فاترالعقل نے زمانہ میں، انجانہ خوف بنایا۔
حادثاتی مصنفین کا حادثاتی دور چل پڑا اللہ نہ کرے، یہ قوم بُرے حادثات کا شکار ہو۔اعتراض مصنف نہیں، معترض تو متنفر سوچ کی نفرت اور شر انگیز اشاعت سے ہوں۔ مغرب دشمن ہے، ہمارا مسلمان بھائی لسانی و مذہبی تنازعات کا شکار ہے، ہمارے خلاف ساز ش ہو رہی ہے، محبوب بے مروت ہے، زندگی گلیمر ہے، حقیقت کیا ہے؟ بس! جو مفروضے پیش ہوئے، وُہ حقیقت ٹھہرے۔ آج عام فرد کی دسترس میں ایسی ہی کتب دستیاب ہیں۔ جو مایوسی کا سبب بن رہی ہیں۔ اصل حقیقت غور و فکر سے محروم! حادثاتی دور کا یہ بھی اِک زمانہ ہے۔
محقق قلابے ملاتےہوئے، بنیادیں ہلا رہے ہیں، تحقیق کار تحقیق نہیں کر رہے۔ اشاعتی ادارے اغلاط سے بھرپور چند نشریات بھی چلا رہے ہیں۔ مگرمیں مایوس نہیں۔ اِن حالات میں بھی، اس قوم میں چند نَول کِشور (١) صاحب جیسے ناشر موجود ہیں۔
دو لفظ بولنے والا لکھنے والاہو گیا، چار باتیں جاننے والا محقق بن گیا، کسی کو متاثر کرنے کی کوشش میں ناکام ہو جانے والا شاعر بن بیٹھا۔ سستی شہرت والوں نے بہت کچھ لکھ ڈالا۔ مگر اُنکا مقصد صرف اپنی ذات کی رونمائی ہے۔ کاش! ایسے افراد کا مقصد قوم کی خدمت ہو جائے تو حقیقی مقصد کے حصول میں سمت کا تعین ہو جائےگا۔
عجیب عجیب تماشہ دیکھنے کو مِل رہا ہے۔ چور بے خبر بہروپیا کا انٹرویو لے رہا ہے، کتاب چھپی تو معلوم ہوا، تصوف سے نابلد افراد کی گفتگو مغربی نفسیا ت پہ چل پڑی، ایک اور سنجیدہ مضحکہ خیز حادثہ۔
دامن بچانے کایہ دور ہے، جس میں ہر شےءگنی جا رہی ہے۔ اَگنی کی تعلیم دُگنی، تِگنی، چُگنی سے ہے۔ حادثات ہمارے منتظر ہے، جبکہ ہم کسی خوشنما حادثہ کے انتظار میں ٹھہرگئےہیں۔
حادثہ ہمارا ہو چکا، کتاب ہماری اور ہے۔ تعلیم کسی اور جانب چل پڑی۔ہمارا مصنف آج گنتیوں میں مصروف ہے، مغرب اپنے جن دانشوروں کی تقلید پر ہے، اُنکا نشوونمائی دور محرومیات اور لالچ سے اثر انداز ہوا۔ اُنکے افکار سوالیہ نشان !عربی، فارسی اور ہندی سے ہوئے ناواقف ہم، تکیہ ٹھہرا ہمارا تراجم پہ، بھول چکے اپنےمشاہرین اسلام کی اَصل تعلیم کو۔
(فرخ )
(١) نَول کشور: قیام پاکستان سےقبل برصغیر کےنامور پبلشر، جنھوں نے قرآن پاک کی اشاعت بھی فرمائی۔ اُن پر مسلمانوں نے مقدمہ دائر کیا کہ یہ بےحُرمتی ہے۔ وُہ عدالت میں پیش ہوئے اور فرمانےلگے۔ میں ہندو ہوں، مگر میں چاہتا ہو کہ اس کی اشاعت دیکھو مگر ایسا کر نہیں سکتا۔ کیونکہ اُس جگہ تمام کام کرنے والے افراد مسلمان ہے، کوئی فرد بغیر وضو اور پاک لباس کے داخل نہیں ہو سکتا۔ وہاں استعمال ہونے والے پانی کا نکاس گنگا کی ندی میں ہے (جو ہندوؤں کے نزدیک پاکیزہ ترین ہے)۔ جس کے لئے ایک خصوصی نہر کھدوائی گئی ہے۔ اب بھی اگر مجرم ہو تو سزا دے دیجئیے۔ جس پر تمام حاضرینِ عدالت نادم ہوئے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

تنہا انسان

Posted on 07/06/2009. Filed under: رسم و رواج | ٹيگز:, , , |

انسان تنہا ہو رہا ہے، تنہائی میں تنہائی کا شکار خوف میں مبتلا انسان تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ آج کاالمیہ؟ انسان خود نہیں جانتا کہ المیہ کا پیش خیمہ ہی المیہ کا شکار ہوگیا۔
تنہائی کہاں نہیں رہی؛ گھر میں ہر فرد اپنے اندر تنہا ہوگیا۔ اپنے اپنے دائرہ میں محدود انسان نے اپنی سوچ کو دائروں کی حد میں مخصوص کر دیا۔ دائرے ویژن بڑھانےکی بجائے بصیرت کو مفقود کر رہے ہیں۔ انسان اپنے دائروں میں دوسروں کی سوچ محدود کرتے ہوئےخود فنا ہو رہا ہے۔ کل کا انسان دوسروں کی خاطر خود کو محدود کر کے اَمر ہو رہا تھا۔
خدا کی یاد سےغافل ہو کر کاہل انسان تنہائی کے خوف کا شکار، سہارا کی تلاش میں بے آسرا خود کو محسوس کر رہا ہے، حیرت تو یہ ہے عملی طور پر ہر فرد تنہا ہے، بقول قوم اس ملک کا اللہ ہی مالک ہے۔ ملت خود کو تنہا محسوس کرنے لگی۔ اللہ کی یاد انسان کو کامل یقین عطاء کرتی ہے۔
ہر فرد اپنے رویوں میں خود کو تنہا کر چکا ہے۔ رویّے انسان بناتے ہیں، انسان رویہ سے انسان بگاڑ رہے ہیں، حالات موسم کی طرح مزاج خراب کر رہے ہیں۔ رشتوں، الفتوں، محبتوں، خاندانوں، خانوادوں، مملکتوں، قوموں کو کمزور کرنے میں برسر پیکار رویے ہی ہیں ۔
محفل میں مقررین کی باتیں بےموضوع ہونے لگیں، نقطہ نگاہ تنہائی کا منظر پیش کرنےلگی۔ اَن گنت لاچار افراد کی پکاریں صرف صدا تک رہ گئیں۔ بےربط خواہشات تنہائی کا پیش خیمہ بنتی جا رہی ہیں۔ انسان خود کوتنہا تب محسوس کرتا ہےجب وُہ کسی خاص شخص کو کچھ کہنا چاہے اور وُہ نہ سنے۔
ہمارا لوگوں سے اختلاف بڑھنے لگا، ہم ہر فرد سے اعتراض رکھنےلگے۔ہمیشہ دوسرے کے مقابلے پر خود کو مقابل جان کر مفت میں خود کو تنہا کرنے لگے ہیں۔ اس اختلاف کی وجہ یہ ہے، جب ہم خود کو پارٹی سمجھنے لگتے ہیں تو دوسروں میں خامیاں محسوس ہونے لگتی ہیں۔انسان تنہا تب ہوتا ہے جب اُسکی سوچ تنہا ہوجائے۔
وقت کی قلت اور مصروفیات کے بے ہنگم ہجوم نے انسان کو انسان سے تو دور کیا۔ اُسکی اپنی سوچ کو اُسکے خیالات کی دُنیا میں تنہا کر دیا ہے۔ اسقدر تنہا کہ اُسکے پاس سوچنے کا وقت نہیں کہ وُہ چند لمحوں کے لیئے رُک کر یہ طے کر سکے کہ اُسکا فیصلہ درست ہے بھی یا نہیں۔ اکثر یہ خیال ذہن میں وارد ہوتا ہے کہ انسان آتا اور جاتا تو تنہا تھا، مگر دونوں لمحات دعاؤں سےلبریز ہوا کرتےتھے۔ شائد اب دعا سے محروم ہونے لگے ہیں۔ قبرستان فاتحہ خوانوں سے محروم، بچہ والدین کی شفقت کا منتظر تنہائی ہی تنہائی۔ خوشیاں بیچ کر تنہائیاں کما رہے ہیں۔ شائد تنہائی انسان کے خمیر میں تھی تنہا آنا اس دُنیا میں تنہا جانا اورتنہا ہی اپناحساب دینا۔
نفسا نفسی کا عالم اور بےہنگم خواہشات کی دوڑ نے زندگی سے محبت کو چھین کر پُرکیف لمحات کو بےرنگ کر چھوڑا۔ تنہائی بھی تنہائی کا شکار ہے یادوں سے محروم، کتب بھی تنہائی کا ہی درس دے رہی ہیں، نفرت اور اُلجھنوں کا راگ الاپ رہی ہیں۔اداروں کو ملازمین نہیں انسان کی صورت میں مسلسل چلتے رہنے والی disposal مشین چاہیے۔ تنہائی ہی نفسیات کا مرض پیدا فرما رہی ہے۔
ہر فرد کو زندگی کے نشیب و فراز میں ہمدرد و خیرخواہ کی ضرورت ہیں مگر زندگی کی بھیڑ میں انسان تنہا ہو گیا ہے۔ بات سننے کا وقت کسی کے پاس نہیں رہا۔ بڑھاپا میں ہمیں ایک ایسے ملازم کی ضرورت ہوگی جو ہماری گفتگو تو سُن سکے۔ ہمیں اس بات پر غور کرنا ہوگا۔ آج کا انسان تنہا کیوں ہے اور اس تنہائی کا حل کیسے ممکن ہے۔ ڈھائی انچھر پریم کے، پڑھے سو پنڈت ہو۔ (محبت کےچند حروف ہیں جو ان پر عمل کرے گا وہی عالم فاضل ہوگا۔)
(فرخ)

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

حقیقتِ زمانہ

Posted on 31/05/2009. Filed under: تاریخ, تعلیم, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , |

نشوونما ایسا باقاعدہ عمل ہے، جو کبھی ٹھہرتا نہیں۔ مسلسل اپنی مخصوص رفتار سےچلتا رہتا ہے۔ قدرت کےعوامل میں ٹھہراؤ بالکل نہیں۔ اِن کےمشاہدہ کےلیئے نگاہ کا ٹھہراؤ ضروری ہے۔نشوونمائی عمل کو اگر روکا جائے تو وُہ بگاڑ لاتے ہیں۔ ایسی رکاوٹیں بربادی کا سبب بھی بن جایا کرتی ہیں۔ یہ ایسےعوامل ہیں جو قدرت کےرنگوں میں زندگی کی دانش کو سمجھنے کے لیئے لازم ٹھہرے۔ بیج کا پودا بننا ہر موسم میں ایک سا دِکھائی دیتا ہے مگر ہر دانہ ایک ہی ذائقہ نہیں رکھتا۔ یونہی بیرونی موسم اور حالات بھی افزائش پر اثر انداز ہوتےہیں۔
انسان کی نشوونما اُسکے مخصوص حالات کےمطابق ہو رہی ہے۔ جیسا کہ بیشمار نباتات مصنوعی ماحول سے مصنوعات کی بہترین صورت بن چکی ہیں۔ اسی طرح قدرتی ماحول سے ناواقفیت، مخصوص پیدا کردہ نظریات اِنسان کی افزائشی سوچ کو مخصوص اور محدود کر رہے ہیں مگر نتائج اُلجھنوں، بیماریوں اور رکاوٹوں کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔
گنوار اقوام عروج حاصل کر کےمہذب ہوجایا کرتی تھی، نئی تہذیبوں کا جنم ہوا کرتا تھا۔ آج کی مہذب دُنیا وحشت سے دہشت پیدا کر رہی ہے۔ حقیقی تہذیبیں ختم ہو رہی ہیں۔ اِنکی موت اَصل دانشور کی موت ہے۔ دانشور اپنی حکمت سے ہر دور میں تہذیب کو حالات کے تحت نئی روح بخشتا ہے۔ یوں وُہ اقوام اپنی بنیادوں پر ٹھہرتے ہوئےتعمیری مراحل سےگزرتی ہیں۔
آج کا intellectual دانا و بینا نہیں رہا۔ وُہ اپنی intellectual ہونے کے زعم میں اسقدر مبتلا ہے کہ وُہ قوم کو تعمیر نہیں بخش رہا۔ وُہ انوکھی بات پیش کرنے کی عادت سے ملت کو مایوسی اور اضطراب دے رہے ہیں۔
تجزیہ خیالات کو فروغ دیتا ہے، دروغ پن چاشنی کے باوجود بیزاری پیدا کرتا ہے۔ واویلے حکمت سے عاری ہوتے ہیں۔وُہ بس سامعین کی رائے بدلتے ہیں۔ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ ایک سچ کہتا ہے ننانوے کچھ اور ہی کہتے ہیں، حقیقت حقائق سے کچھ اور ہی حقیقت بن جاتی ہے۔ پیش آنےوالی نہیں، پیش کی جانے والی افواہ بیش بہاء انداز سے کی جاتی ہیں۔ آج انسان حقیقت سے محروم ہو رہا ہے، حقیقی چہرے معدوم ہو چکے ہیں۔ ہم کیا جانے حقیقی خوشی، حقیقی غمی کیا ہیں؟
ہم اصل حقائق سے بےخبر رکھے تو گئے ہی ہیں، اب غافل بھی ہو چکے ہیں۔ آزادیِ خیال ہی غلامیِ افکار ثابت ہوئی ہے۔ اِنسان آزادی کا خواہاں رہا ہے مگر آج ہنگامی خبر کی سرُخیوں نے انسانی سوچ کو مائوف کر ڈالا ہے۔ منفی پروپیگنڈہ کا رجحان انگریز نے برصغیر میں یوں پیدا کیا کہ جس قبیلہ نے انگریز کی غلامی قبول نہ کی، اُسکو معاشی و معاشرتی بدحالی سے دوچار کیا، جرائم پیشہ اور نکمے افراد حالات سے پیدا کیئے، ذاتوں کی تحقیق کے نام پر ایسے قبائل کےخلاف منفی اور غیر حقیقی آراء پیش کیں۔ مزید معاشرہ میں کردار کشی اور مکروہ القاب کےذریعہ سے اُنکے لیئےایسے حالات پیدا کر ڈالے کہ انگریز کا یہ افسانہ حقیقت کا روپ دھار گیا۔ آج بھی ہم ایسے پروپیگنڈہ کا شکار قبائل سے نفرت، اُنکی مسخ شدہ تاریخ سے کرتے ہیں۔ جبکہ اصل تاریخ سے ہم ناواقف ہو چکے ہیں۔ کھرل سپت رائےاحمد خان کھرل صاحب کی انگریز کے خلاف مزاحمت کا سامنا آج بھی کر رہے ہیں۔
پروپیگنڈہ expire ہو کر بھی کسی اور انداز سے سامنے آیا ہے۔ رِیت وہی رہی، مذہب کے نام پر اپنے مفاد کی جنگ، دین کی اشاعت کے نام پر اقتدار کی ہوس، حصول تخت کی خاطر مستحکم سلطنت کے نام پر نامزد ولی عہد بھائیوں کا قتل، آج جارحیت کے نام پر ہر طرح کی جارحیت۔ نعرے بدل چکے، امن اور سکون کے نام پر نیندیں کروٹیں بدلنے لگیں۔
جب ہم کسی کا سکون تباہ کرتے ہیں تو اپنا سکون بھی برباد کر ڈالتے ہیں۔ سوال تو اب یہ آن ٹھہرا ، اِن حالات میں امن، محبت، بھائی چارہ اور رواداری کا درس دینے والوں کے ہاں اب خیال کیا پرورش پائےگا؟ انقلاب یا انتقام جو بھی نتیجہ ہو تعمیر نہیں غارت گری ہے۔ ”صوفیاء کی سرزمین تعمیر“ کے حالات ہٹلر یا نپولین پیدا کرنے چل پڑے ہیں۔ منصوبہ ساز بہت کچھ طے کر چکے ہیں، جبکہ تقدیر ملت کچھ اور ہی طے ہے۔ (فرخ )

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

ناکردہ جرم

Posted on 04/02/2008. Filed under: اسلام, تعلیم | ٹيگز: |

کبھی کبھی ہماپنےآپکو قصور وار سمجھتے ہیں جبکہ وُہ خدا کی جانب سے ہم پہ آزمائش ہوتی ہے۔ مجرم خدا کے ہاں وُہ ہوتا ہے جو ظلم کر دے اور جو خود مظلوم ہو اور ظلم کا شکار؛ وُہ مجرم نہیں ہو سکتا۔ دُنیا مظلوم پر پھر ظلم کرتی ہے اور اُس اَذیت سے دوچار شخص کو پھر مجرم کہہ کر؛  سزا کا مستحق قرار دے کر؛ قرار واقعی سزا کا حکم صادر کرتی ہے۔ یوں مظلوم پر ایک اور ظلم ہو جاتا ہے اور وُہ عمر بھر اپنے آپ کو ایک ناکردہ عمل کا مجرم سمجھ بیٹھتا ہے۔ جبکہ وُہ خدا کہ ہاں مجرم ہے ہی نہیں۔ اکثر ہم اپنے آپکو ہی اپنی خاموشی میں مجرم سمجھ لیتے ہیں۔ جبکہ ہم غلطی کےمرتکب ہوتےنہیں۔ ہم پر تو واردات ہوتی ہے۔ گناہ سرزد ہم سے ہوتا نہیں مگر خود کو ہم احساس گناہ کا شکار کر لیتے ہیں۔ گناہگار ہم ہوتےنہیں کسی کا ارداتاً برائی کا عمل ہمیں احساس گناہ میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ہمارا جرم یہ ہوتا ہے کہ ہم اُس گناہ کی موجودگی سے فرار اختیار کرتے ہیں۔ مگر وُہ احساس منظر ہماری زندگی کا ناسور سا بن جاتا ہے۔ ہماری زندگی میں زہر گھل جاتا ہی، خوشیاں دُکھتےخشک آنسوئوں میں گُل ہو جاتی ہیں۔ خود کو ہم احساس ندامت سے دیمک کا شکار کر لیتے ہیں۔ زندگی میں مایوسی کےسواء کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ہر جگہ اندھیر ا ہی اندھیرا نظر آتا ہے۔ گمنام تاریک راہیں سفر کی منتظر ہوتی ہے۔ مستقبل کا ڈر اور ماضی کے تلخ واقعات کے باعث ہم میں بیٹھ جانے والا خوف کسی تکلیف دہ اَذیت سے کم نہیں ہوتا۔ چلے تھے سفر آسانیوں کا بنانے، نہ جانے کیوں ظالم ہمارے رستے میں آئے؛ ہمارے سارے خواب برباد کرگئے۔ ہم تو آباد کرنے کی تمنا رکھتے تھے، وُہ تو ہمیں ہی برباد کرگئے۔ ہم نےکبھی یہ سوچا نہیں ہمارا ایک برا قدم کتنی معصوم زندگیاں برباد کر سکتا ہے۔ اچھےاقدام تو تاحیات زندگیاں سنوارتے ہی رہےگی۔
غلطی کسی کی ہوتی  ہے۔ جرم کوئی اور کرتا ہے اور سزا کوئی اور بےگناہ عمر بھر بھگتا ہے۔ اکثر کوئی داغ؛ انجان افراد کے ساتھ جاری رہتا ہے۔ جبکہ وُہ اُس معاملہ میں بے اختیار ہوتے ہیں۔ والدین کی غلطی، بچے بھگتے ہیں۔ حکمرانوں کے غلط فیصلے، ملک و قوم کی آئندہ نسلیں بھگتی ہے۔
آج ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہماری وجہ سےکوئی ناکردہ جرم کا مجرم نہ ٹھہرے۔ ہوسکتا ہے، خدا کے ہاں اُسکی معافی اور بخشش ضرور ہو جائے۔ اُسکے صبر کا امتحان خدا اِس دُنیا میں لے رہا ہے۔ مگر اصل مجرم کی بخشش کسی صورت نہ ہوگی۔ کیونکہ یہ معاملہ بندے کےحقوق کا بھی ہے۔ کسی کی آہ زاری کا بھی ہے۔ اللہ چاہے تو معاف کر سکتا ہے مگر بندے کےحقوق بندہ ہی معاف کرتا ہے۔ ہر بیماری کا علاج ہے۔ مگر کسی کی ہائےکا کوئی علاج نہیں۔ ہائےجس کو پڑ جائےتو وُہ بھی خدا کی جانب سےایک لعنت ہی ہوتی  ہے اور یہ تب ہی ہوتی ہے۔ جب کسی کےساتھ کوئی زیادتی یا ظلم ہو۔ بےگناہ ملزم ایک جانب صبر کرتا ہے، اُسکا صابر رہنا دوسری جانب اصل گناہگار پر ہائے پڑنا ہی  ہے۔ صابر کی اِس دُنیا میں بخشش ہو رہی  ہے۔ مگر جابر کی جانب سےخدا کے ہاں کوئی گزارش قابل قبول نہیں۔ تو رحمت کا سوال ہی پھر دور ہوا۔

جس نےایک انسان کو قتل کیا گویا اُس نے پوری انسانیت کو قتل کیا

لوگوں کا ظلم و زیادتی، وقت کی ستم ظریفی ہم سے ہمارا سکون چھین لیتی ہے۔ ہماری رات کی نیندیں اُڑا دیتی ہے، معاشرے میں ہم الزامات کا شکار ہوتے ہیں۔ حقیقت کچھ ہوتی ہے، حقیقت پیش کچھ اور ہی ہوتی ہے۔ پاوتر سے ہمیں پاپی کےالقاب دے دیےجاتے ہیں۔ کون جانے یہ معاملہ تو اَبھِشیک(١) کا ہے۔ لوگوں نے ہمیں زنگ آلود ٹکڑا جان کر پھینک دیا۔ کیا معلوم کل یہی کوئی رتن (٢) ہو۔ آج کا گمنام کل کا نامور ہو سکتا ہے۔ زندگی بھر کے لیئے کسی نے ہمارے خیال کو خون آلود بنا دیا۔ خطاکار ہم نہیں مگر احساس ہم کو لگتا ہے۔ یہ کیا معاملہ ہے خدا کی جانب سےکہ برسوں تک ہم اس اُلجھن کا شکار رہتے ہیں۔ جو خیال و تصور کےاحساس کےساتھ ہم پر ہر وقت اذیت کی صورت میں طاری رہتی ہے۔ ہم صبر تلاش کرتے ہیں، ثابت قدم رہتے ہیں۔ مگر اس کرب سے نجات نہیں ملتی دراصل یہ اللہ سےقرب کا ایک اور راستہ ہوتا ہے۔ جو اللہ اپنے بندوں پر آزمائش سےگزارتا ہے۔
حضرت یوسف کا معاملہ یہاں ہمارے لیئےمشعل راہ ہے۔ جانشین دُنیا کے ہاں پہلا بیٹا ہوتا ہے مگراللہ نےمقام گیارھویں بیٹے کو عطاء کر دیا۔ بھائیوں نے کنواں میں ڈال دیا بہت بڑا ظلم، مزید ستم ظریفی کے ہاتھ آئے بھی تو سوداگروں کے ہاں، اب بازار میں بطور غلام نیلامی ہوئی ایک اور برا مقام، اس سے بڑھ کر اور کیا ذلت ہوسکتی تھی کہ دام بھی لگےتو اچھے نہ لگے اور نہایت ہی کم قیمت پر فروخت ہوئی، پھر وقت آیا جیل میں ڈال دیےگئے، تکالیف برادشت کیں، پھر ملکہ وقت کی جانب سے ایک ناکردہ معاملہ کا الزام لگ گیا، ایسی تہمت جسکا تصور بھی نہ تھا؛ وُہ عائد ہو گئی۔ کردارکشی ہوگئی مگر اللہ پر بھروسہ اور کامل یقین برقرار رہا۔ آخر پھر بادشاہت بھی نصیب ہوئیں جو اِک اور مزاج کی آزمائش رہے۔ اَن گنت مسلسل رونما ہونے والی اذیتوں سےدوچار ہو کر پھر پیغمبریت اور اللہ کی قربت نصیب ہوئیں۔ دراصل یہ سب حضرت یوسف کی اللہ کی جانب سے تربیت تھی۔اللہ اکثر اپنے پسندیدہ بندوں کو اسطرح کے امتحانات سے بھی گزارتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آنے والےدور کی آج ہم تربیت حاصل کر رہے ہوں۔
کچھ لوگوں کےخیال کے ناکردہ جرم کا کردہ جرم یہ ہے کہ وُہ کسی کے کیئےگئےعمل کو؛ اپنےساتھ بیتنے والےمعاملہ سے اپنا نتیجہ بنا لیتے ہیں۔ کوئی بھی کسی کےعمل کا ذمہ دار نہیں۔ ہر عمل کرنے والا اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔ عیسائیوں کےہاں عقیدوں میں سے ایک عقیدہ یہ بھی ہے۔ حضرت آدم نےدانہ گندم کھا کر دُنیا کو گناہگار کردیا اور حضرت عیٰسی نے مصلوب ہو کر اُس گناہ کا کفارہ ادا کیا ۔ یوں تمام دُنیا کو گناہوں سے پاک کر دیا تو آج جو مرضی کوئی کرے اُس کی بخشش ہے، یونہی ہم سمجھتے ہیں کہ کسی برگزیدہ ہستی کے ساتھ برتا گیا، بُرا سلوک کی سزا آج مسلمان بھگت رہے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ اللہ اتنا ناانصاف نہیں کہ کسی کی سزا کسی کو دے ڈالی۔ یہ اللہ کا انصاف نہیں۔ اللہ کا انصاف تو یہ ہیں ہر شخص کا فیصلہ اُسکے اعمال کےمطابق ہو گا۔ اللہ نےانسان کو پیدا کرنے سے قبل تمام کائنات، جنت، دوزخ تخلیق کی۔ تو یہ فرسودہ پیدا کیئےگئے عقائد اذہان میں ابہام پیدا کرنے کے سواء کچھ نہیں۔
یہ سوال اذہان میں ضرور اُبھرےگا۔ آج بطور قوم ہم ایک اذیت، عذاب سےگزر رہے ہیں۔ کل ہم اپنے آپکو ایک ناکردہ جرم کا حصہ شمار کرےگی۔ ایسا ہرگز نہیں۔ جب اللہ نے کہہ دیا ہر انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ تو یونہی اعمال کےمطابق فیصلہ ہوگا۔ حکمرانوں کےغلط فیصلوں کا ناکردہ جرم اپنی جگہ، قرآن میں اللہ تعالی کاارشاد ہے  ”جیسےاعمال (قوم کی) ہوگے ویسے ہی اُن پر حاکم مسلط کیئے جائیں گے۔“ بطور قوم ہم میں سےکون ہیں جس نے اپنے باپ کا علم اپنی اُولاد تک transfer  کیا؟ کیا ہم آج حلال رزق کماتے ہیں؟ کیا آج ہم اپنی اُولاد کی عملی تربیت اپنی مثال پیش کر کے کرتے ہیں؟  کیا ہم وعدہ کو ہر حال نبھاتے ہیں؟  کیا ہم اپنوں کے بارے میں خلوص رکھتے ہیں؟ بغض، حسد، کینہ اور مفاد کو بالائےطاق رکھتے ہوئے کسی کو صحیح رہنمائی یا مشورہ فراہم کرتے ہیں؟  کیا آج ہم اپنی ذات سے مخلص ہیں؟ بہت کم ایسی مثالیں ملیں گی تو پھر سوچئیے ہمارا ناکردہ جرم حکمرانوں کےغلط فیصلے ہے یا اپنی سوچ۔ خدا بلاوجہ کسی قوم کو مشکل میں نہیں ڈالتا۔ مشکلات تو قوم کی رہنمائی کے لیئے ہوا کرتی  ہے۔ قوم کو غلطی کسی کےسرتھوپنےکی بجائے بطور فرد ہر انسان کو اپنا اپنا محاسبہ کر لینا چاہیے۔ اصلاح اور درستگی اختیار کرنی چاہیے تو قوم مشکلات کے بھنور سےنکل کر خوشحالی کی راہ  پر گامزن ہوا کرتی ہے۔ تنقید کا مقصد منفی بات نہیں، بلکہ تنقید تو کسی کمی کی تکمیل یا خامی کی نشاندہی ہوتی ہے۔ مگر آج تنقید آنکھ چرانے سے ہے۔ علامہ اقبال کا ایک شعر ہے

خدا نےاُس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلی
نہ ہو جسکو خیال اپنی حالت کےآپ بدلنےکا

اے اللہ ہم پر اپنا کرم فرما اور ہمیں صبر اور حوصلہ کا عملی کردار بنا؛  جو کوتاہیاں ہم سے سرزد نہیں ہوئیں، اُنکے برے احساس سے ہمیں نجات دلا۔ ہم پر اپنا کرم فرما، ہمیں اپنی آزمائش میں شاکر و صابر فرما۔ ہم پر رحمت فرما دیں۔ ہمیں اچھا اور نیک انسان بنا دے۔ ہماری پریشانیوں اور مشکلوں کو دور عطاء فرما دے۔ ہماری جائز دعاؤں اور تمنائوں کو قبول فرما دیں۔ ہمارے امتحانات میں ہمیں کامیابی سے ہمکنار فرما، ہمیں فتح نصیب عطاء فرما دے۔ ہمیں بارگاہ الٰہی میں سرخرو فرما دے۔ تو ہی حال دل جانتا ہے۔ کہ ہم مجرم نہیں؛ مگر خود کو احساس گناہ کا مرتکب سمجھ بیٹھے۔ ہماری اس الجھن کو سلجھادیں۔ (آمین)

معنی :
(١) اَبھِشیک: تخت نشینی کے وقت پاک کرنا
(٢) رتن: پہلا درجہ کے نو قیمتی جواہر (الماس (ہیرا)، زمرد، نیلم، یاقوت (لعل)، لہسنیہ، پکھراج، گومیدک، موتی ، مونگا )

درخواست:

تسلیمِ غلطی
سابقہ مضمون پیش گوئی میں حضرت یوسف کا تذکرہ میں لفظ ’مایوسی‘ استعمال ہوا۔ لفظ مایوسی سے مراد انسان ہے، انبیاءکرام نہیں۔ کیونکہ انبیاء مایوس نہیں ہوا کرتے، وُہ تو اُمید کی کرن ہوتے ہیں۔ وُہ رہنما ہوتے ہیں اور رہنما کبھی مایوس نہیں ہوتا بلکہ وُہ ہمیشہ پُر اُمید ہوتا ہے۔ مشکل کو اللہ کی آزمائش جانتا ہے اور سرخرو ہونے کی دُعا فرماتا ہے۔ میں یہ تسلیم کرتا ہو کہ مجھ سےانجانے میں غلطی ہوگئی کہ قارئین یہ سمجھ بیٹھےکہ انبیاء مایوس ہوتے ہیں ایسا بالکل بھی نہیں۔ میں نےدراصل وہاں عام فرد کی بات کی تھی۔ لہذا میں اپنی اِس کوتاہی پر معافی مانگتا ہو اور اُمید کرتا ہو کہ آئندہ بھی مجھ پر مثبت تنقید ہوگی۔ مگر لوگ منفی خیال اور منفی اندازِ تنقید سےگریز بھی کریں۔ کیونکہ منفی سوچ ہماری اصلاح یا تعمیر نہیں کرسکتی۔ ماسوائےذہنی کوفت! بحث کرنا اور جیت کی توقع رکھنےوالوں سےمیں پیشگی ہار تسلیم کر لیتا ہو۔ اُن کا ذہن، سوچ مجھ سے بہتر ہے۔ وُہ تمام افراد گاہے، بگاہے میری اصلاح، رہنمائی مثبت انداز میں کرتے رہتےہیں۔ اُن کا بھی شکریہ
لفظ اور معنی میں ایک فرق ہوتا ہے۔ لفظ تک نہ رہئیے لفظ کے معنٰی پر غور کیئجیے تو ایک ہی بات کےکئی  angles open ہوتے ہیں۔ لفظ تک محدود رہنے سے مزاج ثقیل رہ جاتا ہے۔ تنگ کمرہ میں رہنے سے ذہن بھی تنگ ہی رہتا ہے، کھلا کمرہ کا ماحول ذہن کو کھلا کرتا ہے۔ آخر میں ایک بات کی جانب اور اشارہ دِلا دوں۔ میری بات کو ٹھوس دلیل یا قانون نہ سمجھا جائے۔ بلکہ یہ ایک جانب کا انداز فکر ہوتا ہے۔ دوسری جانب سے یہ بالکل غلط بھی ہوسکتا ہے۔ یہ بس مخصوص حالات، خاص صورتحال کی ترجمانی ہوتی ہے۔ اکثر تاریخی حوالے بھی دیتا ہوں، تو اُس سےمراد یہ نہیں کہ تاریخی حوالہ دے کر ایک rule کی بنیاد دے رہا ہو، یاد رکھیئے تاریخ اپنے آپکو بار بار دہراتی ہے۔ مگر کبھی بھی ایک سا نہیں دہراتی۔ تاریخی مثال کا مقصد سبق حاصل کرنا ہے۔ اُس کو قانون بنا دینا نہیں۔ کیونکہ مخصوص اسلامی تعلیمات کی تعلیم کےسواء باقی تاریخ مستند نہیں۔ یوں اُس میں جھوٹ کے بیشمار عناصر بھی موجود رہتے ہیں۔

(فرخ نور)

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

پیش گوئی

Posted on 15/01/2008. Filed under: اسلام, تعلیم, رسم و رواج | ٹيگز: |

اللہ خالق ہے، انسان مخلوق۔ یہی فرق ہے پیش گوئی سے پیش بینی تک

علت معلول سے ہے؛ معلول علت سے نہیں۔ علم معلوم سے ہے، معلوم علم سے نہیں؛ معلوم نامعلوم سے ہے(١) ۔ایک پیش گوئی خدا کرتا ہے، ایک پیش گوئی انسان کچھ علوم، تجربات یا کلیات کے تحت کرتا ہے۔ ابہام سا دِکھائی دیتا ہے مگر مبہم کچھ نہیں؛ ابہام تو سرسری نگاہ میں رہتا ہے۔ اللہ کی پیش گوئی مکمل اور exact ہوتی ہے۔ انسان ناقص العقل ہے۔ اُسکی پیش بینی ١٠٠ فیصد نہیں ہوسکتی۔ اُس میں ہمیشہ probablity (شک) کا عنصر غالب رہےگا۔
انسان کا پیشگوئی کرنے سے نہ صرف اللہ پر اعتقاد کمزور ہوتا ہے؛ بلکہ یہ کچھ کلیات (formulas) ہیں جو عموماً ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ یہی ٹھیک ہونا مزید گھمبیر مسائل پیدا کرتا ہے۔ جو اکثر انسانوں کےدماغوں کو فرعون بنا دیتے ہیں چند ایک تو خود خدائیت کا دعوی کر بیٹھتے ہیں یا کروا دیتے ہیں۔ خدا نے دُنیا کے اختتام کی پیش گوئی بیان فرمائی۔ کچھ محققین موجودہ دور کو قیامت کا دور قرار دے دینے پر بضد ہیں۔ جبکہ خدا کےاس بارے میں واضح احکامات قرآن پاک میں موجود ہیں۔یہ مفکر، محقق اور دانشور بلاشبہ علم والے ہیں مگر یوں پیش گوئی کر کےلوگوں کو مغالطہ میں پھنسا کر، خود تو دعوی کر دیتے ہیں اور دعوئوں کا باعث بھی بن بیٹھتے ہیں۔ عام لوگ اِن پیش گوئیوں کے باعث الجھ سے جاتے ہیں۔ علم والا معاملہ اُلجھاتا نہیں، سلجھاتا ہے۔ جب غرض صرف اپنی نمائش، بیجا تعریف اور واہ، واہ کی بڑائیت سے ہو تو لوگوں کی رہنمائی نہیں ہوا کرتی۔ یہ معاملہ جاہلیت سے جہالت کا ہے۔ جہاں خدا کی خدائیت نظر آتی نہیں، اپنی فرعونیت ہی اپنی خدائیت کاشائبہ دلا جاتی ہے۔ جو باعث بنتی ہے منکر خدا کا۔ بیشک یہ علوم کچھ کلیات پر مبنی ہیں۔ اِن سے واضح یہ نظر آتا ہے۔ خدا کی کائنات بڑے ہی حسن سے توازن ِترتیب میں، خوبی کےساتھ خامی کیوں؛ اُسکا جواب اِن ”ظاہری مخفی علوم“ میں ہیں۔ جب اپنی ذات کی بڑائی کو minus کر کے، اُس میں اللہ کی ذات کی بڑائی کو plus  کر دیا جائے۔ تب vision کھلنا شروع ہوتا ہے۔
غیب کا علم کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ وُہ rule of thumb نہیں ہوتا۔ وُہ حقیقی پوشیدہ ہوتا ہے، مجازی پوشیدہ نہیں۔ لذت ایک احساس ہے، چسکا ایک مزید احساس اور ہوس بھی ایک خطرناک احساس ہے۔ جب پیش بینی ہوس کا شکار ہو جائے تو یہ دُنیا کی بربادی لاتی ہے۔ پیش بینی اِن احساسات میں سےکسی کا بھی شکار ہو؛ تو وُہ بالترتیب خطرے سے خطرناک اور پھر خطرناک ترین ہی حالات کا مئوجب بنےگا۔ یہ معاملہ بڑی ذمہ داری کا ہوتا ہے۔ جو غیب کی بات جانتا ہے اسکی بات میں عموماً خاموشی کا عنصر غالب رہتا ہے۔
مخفی علوم فارمولوں سے ہٹ کر ہوتے ہیں۔ الہام ہوجانا، سچا خواب آجانا مخفی معاملات ہیں۔ مخفی عِلم یہ نہیں کہ حساب لگایا جائے۔ مخفی علم یہ ہے کہ نگاہ پڑتے ہی سب کچھ عیاں ہو جائے۔ مخفی علم خدا کی مرضی سے عنائیت ہوتا ہے۔ اُسکی حد کا تعین بھی خدا کی جانب سے ہوتا ہے۔
غیب جاننے والوں کی بھی حدیں مقرر ہے۔ جس طرح پرندوں کی پرواز کی حد مقرر ہے۔ اسی طرح جو غیب کو حقیقی طور پر جانتے ہیں۔ وُہ آنے والے واقعات سے آگاہ ہو کر بھی خاموش رہتے ہیں۔ دور اندیشی اتنی کہ کوئی جان نہیں سکتا۔ غیب جو جانتے ہیں؛ وُہ اظہار نہیں کیا کرتے۔ حالات کےمطابق ضرورت کےتحت صرف اشارہ ہی کر دیا کرتے ہیں۔ یہی اصل میں پیش گوئی کا معاملہ ہے۔ جو ہر کوئی جانتا نہیں۔
ہاتھ کی لکیریں اپنے اندر کئی dimensions رکھتی ہیں۔ انسان کی بیماری کی تشخیص و علاج، انسان کے مزاج کا علم اِسکی منفرد خاصیتوں میں سے ہیں مگر لوگوں کی اکثریت کی توجہ صرف مستقبل جان لینے کی ہوتی ہیں۔ دست شناسی میں لکیریں ضرور بتا دیتی ہیں۔ مگر بدل بھی جلد ہی دِنوں میں جاتی ہیں۔ آپ غصہ کیجیئے آپکی لکیریں بدلیں گی، آپ مسکرائیں تب بھی آپکی ریکھائیں تبدیل ہوگی۔ ذرا سوچئیے! یہ معاملہ ہے کیا؟ ہر شخص کا مستقبل اُسکے عمل اور کردار پر منحصر ہے۔ یہی وُہ معاملہ ہے۔ جو خدا نے انسان کو اختیار میں دیا ہے۔
ہم اکثر دور اندیشی کو بھی پیش گوئی کا نام دے جاتے ہیں۔ برائی کا انجام تباہی، بربادی ہے۔ یہ پیش گوئی نہیں ہے۔ یہ بصیرت ہے۔
روش قانون فطرت کا بتلاتی ہے۔” ہر عروج کو زوال ہے“۔ اگر روش بدل جائے تو زوال نہیں آیا کرتا بلکہ ٹل جایا کرتا ہے۔ بُرے کا انجام تباہی ہے۔ اگر بُرا اپنی روش بدل لے تو اُسکا انجام آبادی بھی ہوسکتا ہے۔ دُنیا کی گنوار ترین قوم، ہوسکتا ہے مستقبل کی تہذیب یافتہ ترین قوم بن جائے۔ جبکہ گنوار کا انجام جہالت ہوا کرتی ہے۔ یہ تب ہی ہوتا ہے؛ جب روش بدل لیں۔
تجربےکی بنیاد پر انتباہ دے دینا۔ غیب کا علم نہیں ہوتا۔ وہ تو تجربہ کا مجرد ہونا ہے۔ باپ بیٹے کو منع کرتا ہے کہتا ہے تم یوں کروں گے تو یہ ہوگا۔ پھر یہ ہوگا اور یوں چلتے چلتے انجام یہ ہوگا۔ تو وُہ اختیار کی گئی روش، رویہ اور حالات کا انجام ہوتا ہے۔ غیب کی بات نہیں۔ سائنسدانوں کی پیش بینی عموماً انسانیت کی فلاح کیلیئے ہوتی ہیں۔ مقصد فلاح ہو تو وُہ کامیاب ہوجایا کرتا ہے۔ سائنس کی پیش بینی تجربہ کی بنیاد پر آگاہی ہوتی ہے۔
ہم اپنی صلاحیتوں کو myths کا شکار کر لیتے ہیں۔ دراصل ہم ایک انجانے خوف کا شکار ہوتے ہیں۔ کسی کا سرخ رنگ کےقلم سے لکھنا؛ ورنہ نہ لکھنا۔ ہٹلر کا ٢  کےعدد سے مطابقت پیدا کر لینا، نیپولین کا کالی بلی سے خوف، مسولینی کا تاش کے پتوں سے تعلق اِک خوف تھا۔ اللہ پر یقین نہ تھا، اپنی ذات پر بھروسہ نہ تھا۔ ظہیرالدّین بابر کی قسمت پانی پت کی جنگ کے موقع پر ستاروں کے برعکس تھی، مگر شکست ابراہیم لودھی کو ہی ہوئی۔ بابر کو اللہ پر یقین تھا۔ بیشک نجومیوں کا علم درست تھا۔ ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔
انسان pre-diction کو تسلیم کر کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتا ہے۔ جبکہ اسلام میں ہے دُعا کروں اور ساتھ کوشش جاری رکھو۔ میدان بدر میں دُعا کےساتھ عملی جنگ کی کوشش بھی شامل تھی۔ جبکہ اس ہی عرب نسل میں سے چند افراد نے ابراہہ کا فیل والا واقع دیکھ رکھا تھا۔ جنگ میں نصرت تو تھی ہی مگر مسلمانوں کے لیئے غزوہ بدر عملی جدوجہد کا درس بھی رکھتا ہے۔ اللہ نے قرآن پاک میں کئی پیش گوئیاں کیں۔ اُنکو ہم ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر یوں تسلیم کر لیتے ہیں؛ جیسے وُہ وقت آج کا ہی ہے۔ مسلمان ملک پر حملہ ہوتا ہے، تو ہم کہتے ہیں: دشمن کو شکست سے دوچار کریں گے جب ملک مغلوب ہو جاتا ہے۔ پھر کہتے ہیں قرآن میں ہے کہ ایک وقت آئےگا مسلمان تمام دُنیا میں مغلوب ہو جائیں گے تو وُہ وقت آن پہنچا ہے۔ ہرگز نہیں! ابھی ہم بالکل نہیں جانتے؛ وُہ وقت کونسا ہوگا۔ ہم کوشش سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔ آج سے سو برس پہلےمسلمان تو غلام ہوگیا تھا۔ اب پھر مغلوب ہوجانا کیا معنی رکھتا ہے؟ پھر غالب ہو جانے کی بھی بات ہے۔تو غالب پھر کوشش سے ہی ہوا جاتا ہے۔نتیجہ اللہ پر رکھا جاتا ہے۔
”دعوی نمائشی لوگ کیا کرتے ہیں، اصلاح فہمائشی کیا کرتے ہیں“۔ عام انسان عموماً پیش گوئی کر کےدعوی کرتا ہے۔ اُسکا مقصد اصلاح نہیں ہوتا۔ اپنی ذات کی بڑائیاں ہوتی ہیں۔ جو اکثر صرف برائیاں ہی پیدا کرتی ہیں۔ اللہ کی پیش گوئی اصل میں انسان کی اصلاح کے لیئے ہوتی ہے۔ اُس میں دعوی ضرور ہوتا ہے مگر وُہ دعوی ہوتا نہیں۔ اس میں انتباہ ہوتا ہے۔اصلاح کی دعوت ہوتی ہے۔ وُہ وقت کےخدائوں کے لیئےدعوی اور سمجھ والوں کے لیئے اللہ  کی نشانیاں ہوتی ہیں۔ یہ کائنات اللہ نے بنائی ہے۔ وُہ بخوبی جانتا ہے کیا، کب اور کسطرح سے ہونا ہے۔ اللہ نے یہ  بتایا۔ بدی غالب آکر بھی مغلوب ہوجاتی ہے؛ نیکی مغلوب ہو کر اِک دِن پوری دُنیا پر پھیل کر نمایاں ہو جائےگی۔
ایک دست شناس palmistry میں مہارت رکھنے کے باوجود ہمیشہ اُمید کی کرن دِکھاتے تھی، خوف کی نہیں۔ اُنکے بارے میں مشہور تھا کہ ایک شخص کو اگر صبح کے وقت پھانسی ہو جانی ہو تو وُہ ہاتھ دیکھ کر کہہ دیتی۔ ”بھائی آپ پریشان کیوں ہوتے ہو۔ صبح جب آپ جائیں گے تو آپکی سزا کےاحکامات معطل ہو چکے ہونگے“۔ اُن کا مئوقف تھا کہ اُس شخص کی زندگی کی ایک رات باقی ہے۔ اُسکو سکون سے نیند تو آجائے۔ وُہ دو گھڑی خوشی سےگزار تو لے۔ کیوں وقت آنے سے پہلے بُری خبر سنا کر اُسکو مار دیا جائے اور اُسکی رات بھی  بے چین گزرے۔
اُولیا کرام کے پاس جب کوئی اپنی التجا لے کر آتا ہے تو وُہ دُعا فرماتے ہیں۔ اچھی خبر کی نوید سنا دیتے ہیں۔ بُری خبر ہے تو چھپا دیتے ہیں۔ پیش گوئی کر دینے سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ اگلےشخص کو خوف میں مبتلا کر دیا جائے۔ اُسکو اُمید کی کرن دِکھائو مگر اتنی بھی نہیں کہ وُہ خود کو خود فریبی یا خوشی کے خوف میں مبتلا کر ڈالے۔
مادی پیش گوئی انسان اپنی سمجھ کے مطابق کسی نہ کسی کلیہ کےتعاون سےکرتا ہے۔ روحانی پیش گوئی بندے کی جانب سےنہیں ہوتی۔یہ اللہ کی جانب سے ہوتی ہے۔ اللہ کی مرضی سے ایک خاص حد تک ہوتی ہے۔ اُس حد سے باہر نہیں۔
پیشگوئی کون کرتے ہیں ؟ اور پھر اُسکو چھپایا کیوں جاتا ہے؟ جس طرح رسول پاک کے دیدار کے معاملہ میں کچھ احتیاطوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے؛ خاموشی میں رکھ لیا جاتا ہے۔ اسی طرح عموماً پیش گوئی بھی چھپا لی جاتی ہے۔ کیونکہ عوام گمراہ ہو سکتی ہے، ہر کوئی دعوی کرسکتا ہے۔ مگر اس سے ہر گزیہ مراد نہیں کہ دیدار والا پیش گوئی کرے۔ بلکہ یہ بھی اللہ کی عنائیت ہوتی ہیں۔ جسکو اللہ جیسے چاہے عنائیت کردے۔ حتٰی کہ بیان اور سامعین کی حد تک بھی اللہ کی جانب سے ایک حد مقرر ہو جاتی ہے۔ پیش گوئی کی تفصیل کا معاملہ صرف اللہ ہی جانتا ہے بندہ نہیں۔ فرعون کےدربار میں ایک پیش گوئی ہوئی فرعون نے اُسکا قلع قمع کرنے کی بڑی سعی کی مگر پیش گوئی پھر بھی ہوگئی۔ یہ اللہ کی جانب سے نجومیوں نے کی تھی۔ مگر اللہ کی مرضی شامل حال تھی۔ ایک خواب حضرت یوسف نے بھی دیکھا تھا۔ بادشاہت کا، پیغمبریت کا؛ مگر سفر کا تمام دور مایوسیوں اور ناکامیوں کا ہی تھا۔ مگر اِس خواب کے ساتھ ہی اصل حقیقت کو حضرت یعقوب نے بھائیوں کو بتانے سے منع فرما دیا تھا۔ کیونکہ ہر بات ہر ایک کے لیئے نہیں ہوتی۔
ادھورا علم خطرناک ہی ہوتا ہے۔ ایک ماہر نگاہ صحیح تعین کر کےدرست ترجمہ کسی حد تک کرسکتی ہے۔ اکثر نگاہ بھی دھوکہ کھاتی ہے۔
(فرخ)

(اگر میری بات میں کوئی غلطی ہو، یا میں غلط ہو تو مہربانی فرما کر مجھےمطلع کیجیئے۔ میں نہایت مشکور ہو گا۔تاکہ میں اپنی غلطی کی تصحیح کر سکوں)

حوالہ جات:(١) واصف صاحب

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

تعلق سے لاتعلق

Posted on 02/01/2008. Filed under: رسم و رواج | ٹيگز: |

تعلق سےلاتعلقی تعلق کی نوعیت کے انکار، احتراز یا چشم پوشی سے ہوتی ہے۔ تعلق غرض بھی ہوتا ہے اور بےغرض بھی۔ تعلق ایک ربط ہوتا ہے۔ جو کبھی بڑا مضبوط ہو جاتا ہے اور اکثر اُوقات ٹوٹ بھی جاتا ہے۔ بعض اُوقات ٹوٹ کر جُڑ بھی جاتا ہے مگر جوڑ اُس میں لگ بھی جاتا ہے۔ خونی تعلق کا دوبارہ جوڑ اور ہوتا ہے اور لوگوں سے نئے تعلق کا دوبارہ ملاپ اور طرح کی گنڈ ہوتا ہے۔ یہ ایسا ربط ہے جسکا وجود ہمیشہ کسی نہ کسی نام سے باقی رہتا ہے۔ گمنام خطوط، گمنام رابطہ، خون کا رشتہ، دِل کی کشش کیا ہے؟  بےربط رابطوں کی مربوط صورتیں ہیں۔ تعلق کی انواع  بے شمار ہے۔ انسان کا قدرت کے حسن سے بھی ایک تعلق تھا۔ آج صرف تعلق ہے، تعلق قائم نہیں رہا۔ وسائل والا آج صرف قدرت کے حسن کو اپنی مرضی سے capture   کر لینا جانتا ہے۔ جبکہ تعلق قائم کرنا یہ ہے کہ قدرت کےحسن کو اُسکےقدرتی جلوہ میں باقی رہنے دینا۔ آج انسان نے ترقی بھرپور کرلی ہے۔ مگر وُہ قانون قدرت سے اپنا ناطہ مسلسل توڑنے میں مصروف ہے۔نہ صرف ناطہ بلکہ قدرت کے مقابل اپنا قانون نافذ کرنے پر تُل چکاہے۔ کوئی ایک فرد دُنیا کو direction دیتا ہے۔ مگر آج ہر کوئی اپنے آپکو exceptional سمجھ کر directions provide کر رہا ہے جبکہ آج اُسکو اپنی سمت کا خود علم نہیں۔ بس یونہی ہمارے تعلق ہے کہ ” دماغوں میں فرعون لیئے چلتے ہیں ہم، دُنیا کو بتلاتے ہیں مسیحا ہے اس دنیا کے ہم۔ “تعلق اخلاق سے رہتا ہے، جوآج خلق خدا کے لیئے افلاق نعمت ہے۔
کچھ تعلق باتوں سے ہوتے ہیں، کچھ تعلق لوگوں سے ہوتے ہیں، کچھ تعلق چیزوں سے رہتے ہیں، کچھ تعلق غائبانہ بھی ہوتے ہیں؛ یہی عجائبانہ بات ہے۔ کچھ افراد کی نیند کا تعلق اُنکے بستر سے بھی ہوتا ہے۔ یونہی مانوسیت اپنے وطن اور شہر سے ہوتی ہے۔ بےشمار معاملات کا تعلق ہمارے ساتھ ہر لمحہ ہے جیسےخوشی و غمی کا تعلق، یادوں اور تنہائیوں کا تعلق،  پودے سےوابستگی، جانور سے وابسطہ تعلق، گھر سے تعلق، ملک سےتعلق،  رنگ سے تعلق، رشتوں سے تعلق، مفاد سے تعلق، خواب کی تعبیر سے تعلق، مذہب سے تعلق،عہدے و مرتبے سے تعلق، قبیلہ سے تعلق، چوری سے تعلق۔ آج گھروں میں تعلق برائے نام ہوتے جا رہے ہیں وجوہات بے شمار ہیں مگر مسئلہ ایک ہی ہے۔ ہر ایک اپنی بھرپور آزادی جائز وناجائز بلا روک ٹوک چاہتا ہے۔ اِن خونی رشتوں میں الفت کا جذبہ ماند پڑ گیا ہے۔ قبائل اپنے آبائواجداد کے تاریخی کارناموں کو صرف فخر سےسناتے ہیں۔ اپنے آبائواجداد کےمثبت اعمال کی پیروی نہیں کرتے۔ مغل قبیلہ کے ہاں تعلیم کی اہمیت پر بڑا زور دیا جاتا تھا کیا آج اُنکے ہاں علم برائےعلم ہے؟ مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیرالدین بابر کی خودنوشت تزک بابری ترک  زبان میں تھی جو علمی اعتبار سےدنیا کی بہترین سوانح عمریوں میں شمار ہوتی ہے، نورالدین جہانگیر کی آپ بیتی تزک جہانگیری فارسی زبان میں ایک اور شاندار تحریری شاہکار ہے۔ جبکہ محی الدّین اورنگ زیب عالمگیر کی فتاوٰی عالمگیری آج بھی ایسےقانون کی اہمیت رکھتی ہے کہ آزاد کشمیر میں قانونی فیصلوں میں یہ بنیادی سرکاری قانون کی حیثیت رکھتے ہوئےافادیت واضح کر رہی ہے۔ دیکھیئے سائیبیریا کا اُجڈ قبیلہ برصغیر میں ایک تہذیب یافتہ معاشرہ کا علمبردار بنا۔ اسلامی معاشرت اس میں ایک نیا رنگ لائی۔
ایک تعلق ہمارا تاریخ، تہذیب، ثقافت اور تمدن سے بھی ہوتا ہے یہی کسی قوم کی انفرادی شناخت ہوتی ہے۔ مگر آج یہ کوئی نہیں جانتا The meaning of Islamic art کیا ہے؟ تاریخی عمارات پر بیل بوٹے کیا معنٰی رکھتے ہیں؟ آسمانی رنگ کس حکمران خاندان  یا کس علاقہ کی شناخت ہے؟ ہماری اقدار اور روایات کیا تھیں؟  افسوس ہمارا علاقائی لباس کا culture مفقود ہوتا جا رہا ہے زبانیں تیزی سے اپنا حقیقی وجود کھو رہی ہیں۔ سب سے بڑی افسوس کی بات معاشرہ  زندگی کے ہر شعبہء میں کرپٹ ہوتا جا رہا ہے۔ تعلق صرف نام کے باقی رہنے لگے ہیں۔ وجود مٹ رہے ہیں۔ یہ قانون فطرت ہے پرانے کا خاتمہ نئے کا ظہور ہوتا ہے۔ یہی ارتقاء ہے مگر یہ ارتقاء کوئی قابل ستائش محسوس نہیں ہوتا۔ اس سےفاصلے کم ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں۔ اُردو کا ارتقاء اقوام کو قریب لانے سے تھا۔ مگر آج جو ارتقاء ہو رہا ہے۔ وُہ Confusions Create کر رہا ہے۔ Mis-conceptions پیدا ہو رہے ہیں۔
انسان کا ایک تعلق اپنی زبان سے ہوتا ہے۔ زبان انسان سے تعلق نہیں رکھتی۔ انسان زبان سےتعلق پیدا کرتا ہے۔ کسی زبان سےانسان اپنا ناطہ توڑ لےتو رفتہ رفتہ زبان ناپید ہوجاتی ہے۔ تو پھر اُس خطہ اور انسان کی ثقافت، تمدن، تاریخ، رواج، رسم ناپید ہو جاتے ہیں۔ مذہب دیومالائی کہانی بن جاتا ہے۔ ہندوستان میں دیوناگری رسم الخط ناپید ہونے لگا۔ تو اُسکو اُنیسویں صدی میں ایک انگریز بنگال کے کمشنر لارڈ شیکسپئیر نے دوبارہ کوشش کر کے زندہ کر ڈالا۔ آج یہ دیوناگری script ہندوستان کی منفرد تاریخ کی پہچان ہے۔ تعلق رکھنا انسان کی ضرورت ہے، زبان کی نہیں۔ زبان کا ہم پر احسان ہے کہ وُہ ایک وسیلہ ہے رابطے کا، احساسات کی ترجمانی کا، پہچان کا اور اشاروں کا۔ آج ہمارا تعلق کیوں لاتعلق ہے؟ برصغیر کی زبان فارسی تھی، علم فارسی زبان میں تھا۔ تو انگریز نے یہاں نومولود زبان اُردو کو سرکاری حیثیت سے ایک پہچان دلوائی۔ اور ہم فارسی اور انگریزی کے بیچ الجھائو کا شکار ہوگئے۔ ہمارا تمام ماضی، علمی خدمات اور سرمایا، مذہبی تحقیقات و تخلیقات حتٰی کہ برصغیر میں قرآن مجید کا پہلا ترجمہ شاہ ولی اللہ نے فارسی زبان میں کیا۔ پھر اُنکے بیٹوں شاہ رفیع االدین نے قرآن مجید کا پہلا لفظی ترجمہ اُردو زبان میں کیا اور شاہ عبدالقادر نے پہلا بامحاورہ اُردو ترجمہ کیا۔ جبکہ شاہ اسمعٰیل شہید شاہ ولی اللہ ہی کے پوتے تھے۔ پہلا ترجمہ ہمیشہ کافی دقت طلب کام ہوتا ہے۔ جو ان بزرگ ہستیوں نے کیا۔ برصغیر میں کسی بھی زبان میں ترجمہ ہو، کسی بھی مکاتب فکر کی بزرگ ہستیاں جب بھی کرےگی ہمیشہ اُنکی رہنمائی شاہ ولی اللہ، شاہ رفیع الدین اور شاہ عبد القادر کےتراجم سے ہوگی ۔ یوں زبان کا ہی وُہ تعلق ہے جو ہم میں اختلافات کو کم کر کےختم کرسکتا ہے۔ یوں ان جیسی تمام بزرگ ہستیوں کا احترام ہر مکتبہ فکر کے افراد کو کرنا چاہیے۔ دوسری جانب جدید تراجم اور علم انگریزی زبان میں تھی۔ بس ہم زبان پر ہی الجھ گئے۔ ملک میں دو متضاد طبقوں کا آغاز تو٢ صدیوں پہلے ہی شروع ہوگیا تھا۔ ہمارے ملک کا آج بھی بیشمار طبقہ تعلیم سے راہ فرار زبان کےمسائل کی وجہ سےاختیار کرتا ہے۔ پھر نیا مسئلہ علاقائی سیاستدانوں نے شروع کر ڈالا۔ علاقائی زبانوں کا۔ آج ایک مسئلہ زبان کےنام  پر لڑنےکا ہے۔ پاکستان میں ایک انداز کےمطابق ٢٣ زبانیں بولی جاتی ہیں تو کیا پھر ملک کے زبان کی بنیا پر٢٣ حصےکر دیے جائیں۔ اتنی توجہ زبان سیکھنے پر دے ڈالےتو الجھائو رہے ہی نہ۔ واصف صاحب نے غالباً کرن کرن سورج میں اسی بات پر روشنی ڈالی جسکا مفہوم یوں ہے”کیا عجیب بات ہےکہ ہم اپنے ملک میں غیر ہے۔ اپنےعلاقہ سے نکل کر اپنے ہی ملک کے کسی دوسرا علاقہ میں چلے جائے تو وہ صوبہ علاقہ ہمارے لیے انجان ہے، زبان سے ناواقفیت ہے۔ لہذا  ہر پاکستانی کو بلوچی، پشتو، پنجابی، سندھی سیکھنا چاہیے۔ تو زبان کا مسئلہ ہی نہیں رہےگا اور اپنے ملک میں غیر نہیں رہےگے۔ “(مجھے انکے exact الفاظ یاد نہیں، اپنی سمجھ کےمطابق مفہوم لکھنےکی کوشش کی) ہمیں زبان کی ان غیر ضروری الجھنوں، بحثوں سے باہر نکل کر انکی افادیت اور اہمیت سےخود کو روشناس کروانا ہے۔ اپنی ثقافت کو اُجاگر کرنا ہے۔ تہذیب کو دُنیا کی اک منفرد تہذیب بنانا ہے۔ کیونکہ ہمارے پاس وُہ سب کچھ موجود ہے جو ہمیں دنیا کا سب سے richist country   بنا دیں گی۔
لیجیئے! ایک کہانی سن لیں۔ چند صدیوں قبل کا واقعہ ہے۔ اللہ کا ایک نیک بندہ یہ چاہتا تھا کہ اُس کا بیٹا عالم بنے۔ باپ نے بڑی محنت کی اور بیٹا عالم بن گیا۔ وُہ اُس مدرسہ کا معلم اور پھرمہتمم (نگران) بھی بن گیا۔ بیٹا گھر آتا تو اپنے اباجان کو اپنی وجاہت، شان و شوکت، عزت، مرتبت اور منزلت سے آگاہ کرتا۔ باپ کے دِل میں بڑی تمنا تھی ہر باپ کی طرح کہ وُہ اپنے بیٹے کےاِس عروج کو دیکھ کر خوشی محسوس کرسکے۔ ٠٢ برس تک وُہ اپنے بیٹے کے واقعات زبانی سنتے رہے۔ بیٹے کو اکثر مدرسہ لیجانے کا کہتے تو وُہ ٹال جاتا ۔ آخر ایک روز تمنا اتنی جاگی کہ وُہ بیٹے کےمدرسہ جا پہنچے۔ بیٹا درس و تدریس میں مصروف تھا۔ اُسکے والد محترم آخری نشست کےایک کونےمیں بیٹھ گئے اور بیٹےکو خاموشی سےسنتے رہے۔ جب درس ختم ہوا تو تمام افراد عالم صاحب سےمصافحہ کرنے لگے؛ باپ نےبھی آکر ایک عام حیثیت سےمصافحہ کے لیئے ہاتھ بڑھائے مگر بیٹا نے بڑی مشکل سے ہاتھ ملائے۔ باپ نےچہرے کےتاثرات جان لیئے کہ بیٹا کو اُسکی آمد کی خوشی نہیں ہوئی بلکہ وُہ اِسکو اپنی ہتک سمجھ رہا ہے لوگوں سے اپنے باپ کا تعارف کروانے سے بھی گریز کیا۔ بیٹا کی اس حرکت پر والد صاحب اسقدر نالاں ہوئے کہ وُہ گھر آ کر روتے رہے اور خیال کرتے رہے کہ میں نے اِسکو کیا دینی تعلیم دلوائی۔ جو اپنے باپ کو اپنی ہتک سمجھتا ہے۔ خدا کی لاٹھی بڑی بےآواز ہوتی ہے۔ بیٹا اُسی وقت ٨٢ برسوں سے حاصل کی گیا عِلم بھول گیا۔ اُس نےبڑی کوشش کی کہ یاد آجائے مگر بیکار رہا۔ اُس نے اپنےابا جان سے معافی طلب کی تو اُنھوں نےانکار کر دیا اور عالم صاحب تمام عمر علم سے بیگانہ ہی رہا۔ یاد رکھیئے!! والدین چاہے جیسے بھی ہیں وُہ ہماری پہچان ہیں اور ہمیں ہمیشہ اُن پر فخر کرنا چاہیے۔ اپنےدوستوں سے اپنےوالدین کا تعارف کروانا چاہیے۔ یہی اُنکی خوشی ہوتی ہے۔ کہ وُہ اپنی اُولاد کا سُکھ دیکھیں۔ پنجابی میں کہتےہیں ”ساریاں دے ماں پیوئوں اِکوں جئے ہوندے نے، ساڈھی طرح ہی گنوار، پینڈوں ہوندے نے، ساڈھے بچےکی لکائوندے نے“
ایک تعلق شفقت اور محبت کا ہوتا ہے۔ ایک پڑدادی اپنے پڑپوتے کے لیئے اُون سے سویٹر بنتی ہے اُسکی نگاہ  کام نہیں کرتی ؛ رات کو جاگ کر بنتی ہے۔صرف دِل میں تمنا لیئے کہ جلد از جلد اُسکا پڑپوتا سویٹر پہن سکے خود چل نہیں سکتی تو کسی کےہاتھ بجھواتی ہیں۔ اُسکی زبانی تاثرات جانتی ہے۔ بڑا ہو کر وُہ پڑپوتا اگر کہے میرے لیئے سویٹر کیوں بُنا، نہ بنتی تو سوچئیے اُس پڑدادی کے دِل پر کیا بیتےگی، کیونکہ اُس سویٹر کی وُہ بیش بہاءقیمت ہے جو کوئی سوچ نہیں سکتا۔ اسی طرح ایک بھائی اپنے جذبات کے تحت اپنی جیب خرچ سے اپنی چھوٹی بہن کے لیئےگڑیا روپیہ روپیہ اکٹھا کر کےتحفہ میں دے اور بہن بڑی ہوکر کہہ دے میرے لیئےگڑیا کیوں لائے تھے۔ میں نےکہا تھا کہ میرے لیئےگڑیا لائو۔ یہ جملہ لازوال پرخلوص جذبات کا قتل کردیتے ہیں۔ اس بات کا جو دُکھ ہوگا وُہ علیحدہ ہے۔ اسکےساتھ جو خاموشی اختیار کریں گے وُہ اس طرح ہوگی کہ کوئی کسی عالم صاحب سے مناظرہ کرتے ہوئےغیر مستند کتاب مثلاً پکی روٹی وغیرہ کا حوالہ دے ڈالےتو عالم صاحب خاموشی اختیار کرلیں گے کہ بحث کا کوئی فائدہ نہیں جب کوئی بات حاصل نہیں ہونی۔ یہ تمام واقعات ہمارے خاندانوں، گھروں  کے روزمرہ  زندگی سے متعلق ہے۔
لوگ یہ سمجھتے ہیں تعلق تھا ہی نہیں تو ختم کرنے کی بات ہی دور ہے۔ تعلق ایک بات ہوتی ہے۔ تعلق سے لاتعلق ہو جانا ایک خاص بات ہوتی ہے یہ معاملہ ثبات کا ہوتا ہے۔ اثبات میں نہ سہی ثبت تو ہے۔ ضروری نہیں تعلق دو جوانب سے ہو۔ تعلق ایک جانب سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ پھر دو ہو، تین ہو یا بےشمار کوئی مشترکہ point مل جائے تو تعلق ایک ہو کر مضبوط تر ہو جاتا ہے۔ جب وُہ نقطہ اپنا وجود کھو دیتا ہے۔ تو تعلق بھی کمزور ہونا شروع جاتا ہے۔ جب کوئی مشترکہ point نہ ملےتو بھی ایک مشترکہ نقطہ مل جاتا ہے۔ مضبوط تعلق کا اور وُہ خاص نقطہ اختلاف کا؛ جس میں تعلق قربت کا نہیں نفرت کا ہوسکتا ہے۔ اعتراف کا نہیں تو اختلاف ہی سہی۔ آج کی مادی دُنیا میں وقتی پوائنٹ کا نام تعلق، رشتہ، contact، دوستی، جان  پہچان وغیرہ ہیں۔ ہر معاملہ کی ایک بنیاد ہوتی ہے۔ اگر یہ بات مفاد کی حد تک رہےگی تو یہ کمزور بات ہے۔ جاندار معاملہ مفاد سے ہٹ کر ہوتا ہے۔ تو پھر تعلق کی بنیاد ایک ہوئی خالص نیت اور خالص نیت کے لیے کوئی خاص مقصد یا خالص مقصد ہونا ضروری ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب انسان اپنی ذات کے مفاد سے ہٹ کر انسانیت کی فلاح کو مدنظر رکھے۔ بلا تمیز و تفریق انسانیت کی بہبود ہی ہر فرد کی کامیابی ہے۔
تعلق کے لیئے نیت کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ وُہ اچھی بھی ہوسکتی ہے اور بری بھی۔ محبت بھی ہو سکتی ہے اور نفرت بھی۔ مگر جو بھی ہوتی ہے۔ اُس میں بھرپور خلوص ہوتا ہے۔ تعلق سےخلوص ہوتا ہے۔ تعلق خلوص سے بنا کرتے ہیں۔ خلوص سے ہی ٹوٹا کرتے ہیں (یہاں دوسروں کی ذات کی بجائے اپنی ذات مقدم ہوتی ہے۔ اپنےمفاد سے خلوص رکھنا) ۔ خلوص سے ہی ٹوٹ کر پھر خلوص سے ہی جڑ جاتے ہیں۔ تعلق سے یہ مراد ہی نہیں کہ تعلق رکھا ہی نہیں گیا تو تعلق کیا ہوا؟ یہ بات کچھ اور ہی ہوتی ہے۔ تخلیق کار کے بیشمار مداح ہوتے ہیں۔ مداح تخلیق کار سےتعلق رکھتے ہیں؛ تخلیق کار ہر مداح سے نہیں۔ وُہ تعلق اُسکی تخلیق بھی ہوسکتی ہے۔، اُسکی کارکردگی بھی، اُسکا فن بھی، اُسکی ذات کا کوئی پہلو بھی۔ یہ بھی ممکن ہے صرف وُہ نام، شخصیت سے ہی تعلق پیدا کر لیتے ہیں۔ اکثر ہمیں ایک بچہ بڑا ہی معصوم، پیارا لگتا ہے تو اُس سے ہمارا شفقت اور الفت کےمعاملہ سے ایک انجان خوشگوار تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ہم اپنے ارد گرد کسی خاص شخص کی شکل دیکھنا پسند نہیں کرنے مسلسل ignore  کرتے ہیں بات کا جواب دینا پسند نہیں کرتے تو یہ نظر انداز کرنا بھی ایک تعلق ہوا۔ کیونکہ اُس شخصیت پر ہماری ایک منفی رائے بھی قائم ہوتی ہے۔ اسی طرح کسی کے لیئے ہماری رائے مثبت ہی رہتی ہے۔ اکثر اوقات رائے تبدیل بھی ہو جاتی ہے۔ تعلق صرف انسان تو پیدا ہی نہیں کرتے بلکہ پیدا ہو بھی جاتے ہیں۔ یہ کیا معاملہ ہے کہ ایک شخص محفل میں آتا ہے۔ انجان ہوتا ہے اور میزبان کا دِل فوراً احساس دِلا دیتا ہے یہی ہے وُہ جسکی تلاش تھی۔ یو ں انجان کو دیکھتے ہیں ایک خوشگوار تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ تعلق دو جانب سے ہوتا ہے یا یک جانب۔
مولانا جلال الدین رومی اپنے وقت کے بہت بڑے مستند عالم دین تھے۔ مدرسہ کے متعلم و مہتمم تھے۔ شمس تبریزی اُنکی زندگی میں ایک عام ملازم کی حیثیت سے داخل ہوئے۔ اِک روز مولانا نے کہا یہ کتابیں تمہارے کام کی نہیں تو شمس تبریزی نے کتابیں پانی میں ڈال دی اور ہمیشہ کے لیئے چلےگئے۔ مولانا پر غوروفکر کا ایک نیا دروازہ کھلا۔ شمس تبریزی کی تلاش شروع کر دی مگر وُہ اپنا تعلق مکمل کر کے جا چکے تھے اور وہی تعلق درحقیقت مثنوی مولانا روم کی تخلیق کا سبب بنا۔ ذرا اس واقعہ کو مختلف زاویوں سےدیکھیئے تو ایک تعلق کتنے ہی معاملات کےلیئے درس رکھتا ہے۔
کتاب سے انسان کا ایک تعلق ہوتا ہے ایک کتاب انسان سے تعلق رکھتی  ہے یا انسان کتاب سے۔ یہ تعلق فکر اور سوچ کا اثر رکھ کر کئی نئی صورتیں واضح کرتا ہے۔ دولت انسان سے تعلق نہیں رکھتی۔ انسان دولت سے تعلق رکھتا ہے۔ اور دولت خوف سے متعلق ہے۔ خوف کھو جانے کا اندیشہ یہی سندیسہ ہے کہ انسان اگر یہ سمجھے کہ اُسکا خوف سے تعلق نہیں تو پھر یہ بات نہیں۔ Transtivity  کے اُصول کے تحت تو انسان کا دولت سے براہ راست تعلق ہوا تو پھر انسان کا خوف اور کھو جانے کے احساس سے بھی تعلق  ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ایسا ہی ہے۔ ہمارا اللہ سے تعلق ہے۔ اور اللہ کا ہر انسان سے انفرادی مساوّی تعلق  ہے اب یہ ضروری نہیں کہ ہر انسان اللہ سےتعلق رکھے۔ کچھ  بےدین بھی  ہے تو کچھ دین والے ہوکر بھی  بےدینی  رکھتے ہیں۔ مگر اللہ کا تعلق تو سب سے ہی ہے۔ اللہ کا انسان سے خوراک کا وعدہ ہے۔ تو بنیادی ضرورت تک ہر انسان کو خوراک مہیا ہو جانا ایک تعلق کا ہی نتیجہ ہے۔
بندے کا اللہ  سےتعلق ہے۔ مگر اُمید غیر اللہ سے لگا دینا کہ وہی دے گا۔ شرک ہے اور شرک  کا تعلق غیر اللہ  سے ہے۔ روحانیت اور عاملیت میں بڑا واضح فرق ہے۔ روحانیت اللہ سےتعلق جوڑتی ہے۔ عاملیت وظائف، منتروں اور تعویذ و گنڈا کےذریعہ اللہ سےتعلق کی قربت کو بگاڑتی ہے۔ اور شرک کا مئوجب بھی بن جاتی ہے۔ بیشتر اُوقات ہاتھ کی لکیروں کا تعلق انسان کو اللہ کے معاملات سے دور لیجاتا ہے۔ اور بعض اوقات اللہ کی واحدانیت نمایاں نظر آ جاتی ہے۔ تعلق لکیر کو سمجھنے کا ہے۔ اعداد کے علم  کے تحت ایک خاص عدد سے تعلق جوڑ لینا اپنے آپکو وقت سے پہلے قید کر دینا ہے۔ اللہ  کی  پابندی کو برداشت کر نہیں سکتے مگر وقتی مفاد کے لیئے انجانے عدد کی قید بخوشی منظور کر لیتے ہیں۔ مگر جب اسی معاملہ کو وسیع نظری سے دیکھتے ہیں تو پھر خدا کی خدائی نظر آتی ہے۔ اور بندے کی خدا  کے نظام سے لڑائی نظر آتی  ہے۔ ذرا یہ سوچئیے اختلاف کا تعلق ہم کس سے رکھ  رہے ہیں؟ یقینا اللہ  کی ذات سے۔ اللہ  کی ذات سے اختلاف کرنا کیا معنی دیتا ہے؟ یہ غور طلب بات ہے۔ قرآن میں اللہ سے اختلاف کا تعلق رکھنے کے سنگین ترین نتائج بیان ہوئے ہیں۔
تعلق کے لیئے دیکھ لینا ضروری نہیں نسبت رکھ لینا ضروری ہے۔ احترام کرنا معنی رکھتا ہے۔ نظر انداز کر دینا بھی ایک معنی رکھتا ہے۔ انجان ہونا بھی ایک تعلق ہے۔ تعلق مزاج سے بھی ہوتا ہے۔ حکایت سے بھی،  بات سے بھی، نام سے بھی، چہرہ سے بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ تعلق ایک جملہ کا بھی ہوسکتا ہے، ایک نصحیت کا بھی، ایک تھپڑ بھی، ایک ڈانٹ بھی تعلق شناسی سے نہیں ناشناسی سے شروع ہوتا ہے۔ شناسی سے تعلق بگڑ بھی سکتا ہے۔ اور ناشناسی سے بن بھی سکتا ہے اور رُک بھی۔ بیچ کا فرق صرف یقین اور اعتماد کا ہے۔
ہم زندگی میں بے شمار تعلقات بناتے ہیں۔ کچھ  رشتے بناتے ہیں۔ زندگی میں بے شمار ایسے لمحات آتے ہیں جب لوگ تعلق توڑ جاتے ہیں کچھ چھوڑ جاتے ہیں، چند تو بھول جاتے ہیں اور کچھ  کےساتھ  ہم ہی  ایسا برتائو  کرتے ہیں۔ مراد ہم زندگی بھر لوگ کھوتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اختلافات کھولتے ہی رہتے ہیں۔ ہماری زندگی کا وُہ لمحہ بڑا ہی یادگار و خوشگوار ہوتا ہے جب ہم اپنے بے شمار پھیلے ہوئے اختلافات کو اَحسن طریقہ سے ختم کر لیتے ہیں اور متنازعہ سےغیرمتنازعہ ہو جاتے ہیں۔ یقینا یہ اللہ کی طرف سے بڑے ہی بانصیب کے نصیب کی  بات ہے۔ وُہ لمحہ خدا کی رحمت ہوتا ہے کہ کھوئی ہوئی بیشمار،  بےبہا قیمتی جواہر (پہلا درجہ کی٩ اقسام کےپتھر) کی دولت پھر مل جاتی ہے۔
تعلق کیسے قائم رہتا ہے؟  تعلق یہ نہیں کہ سابقین کو بھولتے چلے جائیں بلکہ تعلق یہ ہے کہ سابقین کے ساتھ ساتھ  موجودہ  ہم عصروں،  ہم نوائوں اور نئے آنے والوں سب کے ساتھ اُنکی نوعیت جیسا تعلق برقرار رہے!!! یہ بات قانون قدرت سے مطابقت رکھتی ہے متصادم نہیں۔ اللہ کا تمام انسانوں سے رابطہ، والدین کا تمام بچوں کے ساتھ شفیق رہنا تعلق ہی ہے۔ یہ نہیں بڑے بچےکو چھوٹے بچوں کی وجہ سے لاتعلق کردیا جائے۔ اگر ایسا کر دیا جائے تو گھر اور معاشرے کا توازن بگڑتا ہے۔ آپس کے تعلق میں بگاڑ  کشیدگی کےانجام کا انتباہ دے دیتے ہیں۔ تعلق نہ تو خود انسان بناتا ہے اور نہ ہی توڑ سکتا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے بنتا ہے۔ انسان  ردّ ضرور کرتا ہے۔ مگر اس میں ہی خدا کی مصلحت و مشیت ہوتی ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں ایک کہانی عام سننے کو ملتی ہے۔ کہ ایک شخص کہتا ہے کہ اُس نے پورے خاندان کی ذمہ داریاں اُٹھائی اپنے رشتہ داروں، بہنوں اور بھائیوں کی  بے لوث امداد کی۔ اُنکے بچے بیاہے، وُہ  اُنکی اکثر مشکل لمحات میں مدد کرتا تھا۔ مگر جب اُسکو ضرورت پیش آئی تو اُن تمام افراد نے مجھ سے معذرت کر لی یا انکار کر دیا جبکہ وُہ میری مدد کر سکتے تھے۔ یوں وُہ دلبرداشتہ ہو کر دُنیا کو تمام قصّہ سناتا رہتا ہے۔ کہ اُسکے اپنوں نے اُسکے ساتھ  برا  کیا۔ دراصل غلطی اسکی بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ اُس نے اُنکے اذہان کی تربیت یوں کی کہ وُہ شخص اُنکو دینے والا ہے اور وُہ اُس سے لینے والے ہیں۔ انھوں نے اُس سے لینا ہی سیکھا؛ دینا نہیں۔ اس لیئے اُنھوں نے کبھی خیال ہی نہ کیا کہ کبھی اُنکو مدد کی صورت میں دینا پڑے گا۔ اگر وُہ شخص اُنکے اذہان کی تربیت اس انداز میں کرتا کہ وُہ بھی کسی نہ کسی صورت میں اُس کو دیتے رہتے تو حالات اس نہج تک نہ پہنچ  پاتے کہ ناراضگیاں  بول کر مول لی جاتیں۔
تعلق جیسا بھی ہو ہمیں ایک دوسرے کے لیئے نیک تمنائیں رکھنی چاہیں۔ دشمن کے لیئے بھی دعا  کرنی چاہیے۔ بددعا نہیں۔ بداعمال کی اصلاح  کے لیئے اللہ  سے درخواست کرنی چاہیے۔ نیک اعمال والے کے لیئے نظربد سے تحفظ کی بھی گزارش کرنی چاہیے۔ اس بات کی کبھی کوئی فکر نہیں کرنی چاہیےکہ کوئی ہمارے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے۔ رائے رکھنا دوسرے کی بات ہے ہماری بات تو یہ ہے کہ ہماری توجہ صرف اور صرف اپنے مثبت عمل کی جانب ہونی چاہیے۔ لوگ تو کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ تبھی تو کہتے ہیں تعلقات اکثر وبال جان بھی بن جایا  کرتے ہیں اور اکثر پناہ بھی۔ یہ معاملہ اللہ  پر چھوڑنا چاہیے۔ بس تعلقات میں ہمیں اپنی سوچ کو اچھا اور صحتمند رکھنا چاہیے۔
(فرخ)

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...