عظیم جناح، نہرو اور گاندھی

Posted on 17/08/2009. Filed under: تاریخ | ٹيگز:, , , , , |


ربط

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

قائداعظم محمد علی جناح کا پاسپورٹ

Posted on 22/04/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , |

1946ء میں انگریز سرکار کی طرف سے جاری کردہ قائداعظم محمد علی جناح کے پاسپورٹ کا عکس











Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

المیہ مشرقی پاکستان اور زبان کا مسئلہ ۔ ایک جائزہ

Posted on 15/12/2008. Filed under: پاکستان, تاریخ | ٹيگز:, , , , , , , |

قیام پاکستان سے قبل ہی بہت سے بنگالی دانشوروں اور سیاستدانوں نے انگریزوں سے خود مختیار اور آزاد بنگال کا مطالبہ شروع کر دیا تھا ان کے ذہن میں اول دن سے یہ بات تھی کہ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان میں رہنے والے ایک قوم نہیں بلکہ دو قومیں ہیں۔ بنگالی مسلمانوں کی زبان اور ثقافت مغربی پاکستان میں رہنے والوں سے یکسر مختلف ہے اور صرف اسلام کے نام پر وہ متحد نہیں رہ سکتے اس تعصب کو فروغ دینے میں بنگال میں رہنے والے ہندوؤں نے اہم کردار ادا کیا۔ ١٩٤٠ء میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں پیش کی جانے والی قرارداد میں خود مختار ریاست کے تصور پیش کئے گئے اور قرارداد میں ‘علحیدہ اور خود مختار ریاستوں‘ کا مطالبہ کیا گیا تھا جبکہ ١٩٤٦ء میں قرارداد لاہور میں لفظ ریاستوں کو حذف کر دیا گیا اور مغربی اور مشرقی پاکستان بطور ایک ریاست شامل کیا گیا۔ بنگالیوں نے اپنے ہاں علحیدگی اور الگ خود مختار ریاست کا خواب دیکھا تھا اس لئے حسین شہید سہروردی نے اپنی ٢٧ اپریل ١٩٤٧ء کی پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا تھا کہ ‘ہمیں تقسیم شدہ ہند میں ایک خود مختار، علحیدہ اور متحدہ بنگال چاہیئے‘۔ تقسیم کے وقت بنگالیوں کی اکثریت کی خواہش تھی کہ بنگلہ کو پاکستان کی قومی زبان کا درجہ دیا جائے لیکن قائداعظم محمد علی جناح نے ١٩٤٨ء میں ڈھاکہ جا کر اعلان کیا کہ ‘پاکستان کی واحد قومی زبان اردو اور صرف اردو ہو گی‘۔ بدقسمتی سے قائداعظم جلد ہی ہم سے جدا ہو گئے ان کی وفات کے بعد لیاقت علی خان مشرقی پاکستان میں زبان کے مسئلے پر اٹھنے والے اختلاف کو دبانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے قوم پرست بنگالیوں نے مشرقی پاکستان کے عوام کو مغربی پاکستان کے خلاف خوب بھڑکایا۔ لسانی بنیادوں پر فسادات شروع ہو گئے یہ پاکستان کا ابتدائی دور تھا ابھی آئین کی تشکیل کا کام باقی تھا لسانی اختلاف کا یہ نتیجہ نکلا کہ مشرقی پاکستان کے مقامی رہنماؤں نے مغربی پاکستان کی قیادت پر بھی عدم اعتماد کرنا شروع کر دیا اور یہ کہا جانے لگا کہ مغربی پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور رہنما کسی صورت مشرقی پاکستان کے رہنے والوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کریں گے۔ ١٩٥١ء کی رائے شماری کے مطابق مغربی پاکستان کی کل آبادی تین کروڑ تیتیس لاکھ انتیس ہزار اور مشرقی پاکستان کی آبادی چار کروڑ بیس لاکھ ٹریسٹھ ہزار تھی۔ مشرقی پاکستان کا موقف تھا کہ مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں پنجاب، بلوچستان، سرحد اور سندھ میں چار مختلف قومیں ہیں ان کی زبانیں علحیدہ علحیدہ ہیں اردو ان میں سے کسی صوبے کی زبان نہیں جبکہ بنگالی چار کروڑ انسانوں کی زبان ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے ڈھاکہ میں اپنی تقریر میں ان خدشات کا اظہار کر دیا تھا جو مشرقی اور مغربی پاکستان کی علحیدگی کا سبب بن سکتے تھے۔

‘میں اس صوبے کے لوگوں کو مشورہ دینا چاہتا ہوں، ایک خاص طبقہ میں قابل افسوس رحجان نظر آ رہا ہے یہ طبقہ نومولود آزادی کو اپنی آزادی نہیں سمجھ رہا جس سے ایک طرف اگر عظیم مواقع پیدا ہوئے ہیں تو دوسری طرف عظیم ذمہ داریاں بھی عائد ہوئی ہیں بلکہ وہ اسے بے معیار آزادی سمجھ رہے ہیں انہیں اس امر کی مکمل آزادی ہے کہ وہ آئینی ذرائع اور اپنی منشا کے مطابق حکومت بنائیں تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اب کوئی گروہ غیر قانونی طریقوں سے اپنی مرضی ٹھونس سکے میں آپ سے صاف صاف پوچھنا چاہتا ہوں کہ جن ہندوستانی اخبارات اور سیاسی اداروں نے پاکستان کی تخلیق روکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا وہ یکایک مشرقی بنگال کے مسلمانوں کے ‘منصفانہ مطالبات‘ کے اتنے ہمدرد اور علمبردار کیوں ہو گئے ہیں۔ کیا یہ شیطانی صورتحال نہیں؟ کیا یہ بات واضح نہیں ہے کہ مسلمانوں کو حصول پاکستان کی جدوجہد میں ناکام نہ کر سکنے کے بعد اب یہ ادارے پاکستان کو اس طرح سے اندر سے تباہ کرنا چاہتے ہیں کہ اپنے شرانگیز پروپیگنڈے سے مسلمان بھائی کو دوسرے مسلمان بھائی سے لڑا دیں ؟ اسی لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ صوبائی عصیبت کے اس زہر کے بارے میں ہوشیار رہیں جو دشمن ہمارے ملک میں پھیلانا چاہتا ہے‘۔

قائداعظم کی اس تاریخی تقریر کے بعد لسانی تحریک کا زور کم ہو گیا۔

حصہ دوم

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

گیٹ آؤٹ طالبان

Posted on 18/09/2008. Filed under: پاکستان, تعلیم, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

سترہ سالہ دانیال کے ایک انکار نے اسلام آباد کی اشرافیہ کو حیران نہیں بلکہ پریشان کر دیا۔ انکار کا یہ واقعہ پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے ڈرامہ ہال میں پیش آیا جہاں وفاقی دارالحکومت کے ایک معروف انگریزی میڈیم اسکول کی تقریب تقسیم انعامات جاری تھی۔ رمضان المبارک کے باعث یہ تقریب صبح دس بجے سے بارہ بجے کے درمیان منعقد کی گئی اور اتوار کا دن ہونے کے باعث ڈرامہ ہال طلبہ و طالبات کے والدین سے بھرا ہوا تھا۔ ان والدین میں شہر کے معروف لوگ شامل تھے۔ اس تقریب پر مغربی ماحول اور مغربی موسیقی غالب تھی جس میں حیرانگی کی کوئی بات نہ تھی۔ تقریب کی تمام کارروائی انگریزی میں ہو رہی تھی اور انگریزی زبان جہاں بھی جاتی ہے اپنی تہذیب کو ساتھ لے کر جاتی ہے۔ اس دوران اسکول کی طالبات نے جنید جمشید کے ایک پرانے گیت پر رقص پیش کیا۔ یہ گیت ایک سانولی سلونی محبوبہ کے بارے میں تھا جو شہر کے لڑکوں کو اپنا دیوانہ بنا لیتی ہے۔ نو عمر طالبات نے اس گیت پر دیوانہ وار رقص کیا۔ حاضرین میں موجود کئی طلبہ نے اپنے والدین کی موجودگی کی پروا نہ کرتے ہوئے محو رقص طالبات کو چیخ چیخ کر داد دی۔
اس رقص کے بعد اسٹیج سے او لیول اور اے لیول کے امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کے نام پکارے جانے لگے۔ گولڈ میڈل حاصل کرنے والی بعض طالبات اسکارف اور برقعے میں ملبوس تھیں۔ ایک طالب علم ایسا بھی تھا جس کے چہرے پر نئی نئی داڑھی آئی تھی اور جب پرنسپل صاحبہ نے اس کے گلے میں گولڈ میڈل ڈال کر اس کے ساتھ ہاتھ ملانا چاہا تو دبلے پتلے طالب نے نظریں جھکا کر اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ پرنسپل صاحبہ نے پوچھا کہ کیا تم ہاتھ نہیں ملانا چاہتے؟ طالب علم نے نفی میں سر ہلایا اور اسٹیج سے نیچے اتر آیا۔ پھر دانیال کا نام پکارا گیا جو اے لیول مکمل کرنے کے بعد ایک امریکی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے اور صرف گولڈ میڈل حاصل کرنے اپنے پرانے اسکول کی تقریب میں بلایا گیا تھا۔ وہ گولڈ میڈل وصول کرنے کیلئے پرنسپل صاحبہ کی طرف نہیں گیا بلکہ ڈائس پر جا کھڑا ہوا اور مائیک تھام کر کہنے لگا کہ وہ اپنے اسکول کی انتظامیہ کا بہت شکر گزار ہے کہ اسے گولڈ میڈل کیلئے نامزد کیا گیا لیکن اسے افسوس ہے کہ مذکورہ تقریب میں اسکول کی طالبات نے رمضان المبارک کے تقدس کا خیال نہیں کیا اور واہیات گیت پر رقص پیش کیا۔ اس نے کہا کہ مسلمانوں کے ملک میں رمضان المبارک کے تقدس کی پامالی کے خلاف بطور احتجاج وہ گولڈ میڈل وصول نہیں کرے گا۔ یہ کہہ کر وہ اسٹیج سے اتر آیا اور ہال میں ہڑبونگ مچ گئی۔ کچھ والدین اور طلبہ تالیاں بجا کر دانیال کی حمایت کر رہے تھے اور کچھ حاضرین غصے میں پاگل ہو کر اس نوجوان کو انگریزی زبان میں برا بھلا کہہ رہے تھے۔ بوائے کٹ بالوں والی ایک خاتون اپنی نشست سے کھڑی ہو کر زور زور سے چیخیں … ” گیٹ آؤٹ طالبان، گیٹ آؤٹ طالبان “۔
ایسا محسوس ہوتا تھا کہ دانیال کے مخالفین حاوی ہیں کیونکہ وہ بہت زیادہ شور کر رہے تھے لیکن یہ ہڑبونگ وفاقی دارالحکومت کی اشرافیہ میں ایک واضح تقسیم کا پتہ دے رہی تھی۔ یہ تقسیم لبرل عناصر اور بنیاد پرست اسلام پسندوں کے درمیان تھی۔ پرنسپل صاحبہ نے خود مائیک سنبھال کر صورتحال پر قابو پایا اور تھوڑی دیر کے بعد ہوشیاری سے ایک خاتون دانشور کو اسٹیج پر بلا لیا اور خاتون نے اپنی گرجدار آواز میں دانیال کو ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا کہ تم نے جو کچھ بھی کیا وہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تعلیمات کے خلاف تھا کیونکہ بانیٴ پاکستان رواداری کے علمبردار تھے۔ پچھلی نشستوں پر براجمان ایک اسکارف والی طالبہ بولی کہ بانیٴ پاکستان نے یہ کب کہا تھا کہ مسلمان بچیاں رمضان المبارک میں اپنے والدین کے سامنے سانولی سلونی محبوبہ بن کر ڈانس کریں؟ ایک دفعہ پھر ہال میں شور بلند ہوا اور اس مرتبہ بنیاد پرست حاوی تھے لہٰذا پرنسپل صاحبہ نے مائیک سنبھالا اور کہا کہ طالبات کے رقص سے اگر کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو وہ معذرت خواہ ہیں۔ اس واقعے نے اسلام آباد میں ایک مغربی سفارت خانے کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ سفارت خانے نے فوری طور پر ایک ماہر تعلیم کی خدمات حاصل کیں اور اسے کہا گیا کہ وہ اسلام آباد کے پانچ معروف انگریزی میڈیم اسکولوں میں او لیول اور اے لیول کے ایک سو طلبہ و طالبات سے امریکی پالیسیوں، طالبان اور اسلام کے بارے میں رائے معلوم کریں۔ اس سروے کے حتمی نتائج ابھی مرتب نہیں ہوئے لیکن مجھے بتایا گیا ہے کہ او لیول اور اے لیول کے طلبہ و طالبات کی ایک بڑی اکثریت امریکہ اور طالبان دونوں سے نالاں ہے لیکن امریکہ کو بڑا دہشت گرد سمجھتی ہے۔ سروے کے دوران بعض طلبہ نے ” خطرناک حد تک “ طالبان کی حمائت کی اور کہا کہ طالبان دراصل امریکہ اور پاکستان حکومت کے ظلم اور بمباری کا ردعمل ہیں اور انہیں دہشت گرد قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم ایسے طلبہ دس فیصد سے بھی کم تھے۔ اس سروے سے مغرب کو کم از کم یہ پتہ ضرور چل جائے گا کہ اسلام آباد کے انگریزی میڈیم اسکولوں میں طالبان کے دس فیصد حامی موجود ہیں۔ یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ طالبان صرف دینی مدارس میں پیدا نہیں ہوتے بلکہ وقت اور حالات انگریزی میڈیم طالبان بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ ذرا سوچئے ! ان دس فیصد میں سے ایک یا دو فیصد طلبہ وہی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیں جو طالبان نے اختیار کر رکھا ہے تو ذمہ دار کون ہو گا؟ ذرا سوچئے ! پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آئے روز امریکی بمباری سے بے گناہ عورتوں اور بچوں کی ہلاکت پر آپ اور میں بے چین ہو جاتے ہیں تو کیا ہمارے پندرہ سولہ سال کے بچے بے چین نہ ہوتے ہوں گے؟ امریکی میزائل حملوں نے نئی نسل میں یہ تاثر عام کیا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کی ریاستی دہشت گردی کا سامنا ہے اور پاکستان کی حکومت اس دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہے۔ یہ تاثر امریکہ مخالف جذبات کو تیزی سے بھڑکا رہا ہے اور اگر حکومت صورت حال کو سنبھال نہ سکی تو بہت جلد پاکستان میں ایک ایسی امریکہ مخالف عوامی تحریک جنم لے سکتی ہے جس کو نہ تو نئی حکومت روک سکے گی اور نہ ہی فوج روک سکے گی۔
ہماری حکومت کو تذبذب اور گومگو کی کیفیت سے نکلنا ہو گا۔ جب قبائلی علاقوں میں طالبان حکومت کی رِٹ تسلیم نہیں کرتے تو ہماری فوج ان پر ٹینک چڑھا دیتی ہے لیکن جب امریکی طیارے ہماری قومی خودمختاری کا مذاق اڑاتے ہیں تو ہم صرف چند بیانات پر اکتفا کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے ایک بیان دیا کہ امریکہ کو پاکستان پر مزید حملوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس بیان پر انہوں نے خوب داد وصول کی۔ قوم کا خیال تھا کہ قبائلی علاقوں میں تعینات ایک لاکھ فوج امریکیوں کو دوبارہ پاکستان میں نہیں گھسنے دے گی لیکن اگلے ہی دن شمالی وزیرستان میں ایک اور حملہ ہو گیا جس میں ایک دفعہ پھر عورتیں اور بچے مارے گئے۔
اس حملے کے بعد ہمارے وزیراعظم صاحب نے فرمایا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ نہیں ہو سکتی۔ ایک ایٹمی طاقت کے وزیراعظم کا بیان پڑھ کر میرا سر شرم سے جھک گیا۔ آپ امریکہ سے نہیں لڑ سکتے تو نہ لڑیں لیکن کم از کم امریکی فوج کیلئے پاکستان کے راستے سے جانے والی سپلائی تو بند کر دیں۔ امریکی طیاروں کو پاکستان کے راستے سے ایندھن جاتا ہے اور یہ ایندھن پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ امریکہ کی لڑائی اب طالبان اور القاعدہ کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف ہے۔ پاکستانی ریاست نے امریکی دہشت گردی کے خلاف کمزوری دکھائی تو پاکستان کے بڑے شہروں میں شدت پسندی کی لہر ابھر سکتی ہے جو جمہوری اداروں اور سیاسی جماعتوں کو کمزور کر دے گی۔ نئی جمہوری حکومت امریکی دہشت گردی کے خلاف عوامی جذبات کی ترجمانی کرے، مشتعل جذبات نے عوامی تحریک کی شکل اختیار کر لی تو حکومت کے پاس کچھ نہ بچے گا اور ” گیٹ آؤٹ طالبان “ کہنے والے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں طالبان سے بچتے پھریں گے۔

حامد میر ۔ روزنامہ جنگ

Read Full Post | Make a Comment ( 5 so far )

قائدِ قانون

Posted on 09/11/2007. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , |

قائد قانون ہی قومِ عقیق کی عمق ہے۔ قانون حکمران ہو تو قوم کی شان ہوتی ہے، جب انسان ایمان کے ساتھ امان بھی رکھے تو یہ ازاں سے اذعان کا ہی اعلان ہے۔ جسکو اِذن ہوتا ہے وُہ ہر حال قانون شکنی سے اعراض کرتا ہے۔ اعتزال میں بھی اعتصام ِ علم”بالادستیءِ قانون“ تھامے رکھتا ہے۔ اسی کو اعتزاز کا اعزاز کہتے ہیں، جو معاشرے کو معاشروں میں معزز بناتا ہے۔ اسی افتخار کے اقبال کو تاریخ ضیافشاں کی ضوفشاں ٹھہراتی ہے۔
قانون ا قدار، اُصول، قاعدہ، ضابطہ اور پابندی ہیں۔ قانون کچھ بھی ہوسکتا ہے، جس میں کچھ حدود مقرر ہو اور انسانیت کی فلاح واضح ہو۔ ہر گھر کا ایک اُصول، رشتہ کی قدر، کھانے کے آداب، بات کرنے کا انداز، لباس پہننے کا سلیقہ، گفتگو کے قواعد، محافل میں شرکت کرنے کے کچھ ضوابط اور مذہبی احکامات کی کچھ پابندیاں لازم ہوتی ہیں۔ یہ وُہ تمام معاملات ہے جو ایک انفرادی انسان کی ذات کا جز ہونا ضروری ہے۔ تبھی وُہ ایک مہذب انسان کہلاتا ہے۔ لائیبریری میں بیٹھنے،  بازار میں خرید و فروخت، سڑک پر چلنا  کے کچھ قاعدے بھی طےشُد ہیں اور قانون بھی مقرر ہیں، جن میں ٹکراؤ بھی نہیں۔ اِسی طرح جب ہم ایک فرد سےگروہ، تنظیم اور قوم کی حد تک چلتے ہیں تو انسان کی مضبوطی سے لے کر معاشرہ کے استحکام اور پھر مملکت کی طاقت اور امّہ کا اتحاد صرف اور صرف اپنے اپنےدائرہ  کے حدود کی مکمل پاسداری میں ہے۔ ہر درجہ کے کچھ اُصول اور قانون ہوتے ہیں۔ قانون احترام  سے ہوتا ہے، احترام قانون  سے نہیں۔
قانون ہمیں حدود سے تجاوز کرنے سے روکتا ہے۔ قانون کی پابندی ہی قانون کی بالادستی  ہے جو پابند نہیں وُہ عہد شکن  ہے جو باغی کہلاتا ہے اور باغی شیطان بھی ہوتا ہے۔ جب کبھی قانون کو توڑا جاتا ہے۔ ادارے، ملک اور قوم کمزور ہو کر انتشار کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کسی قوم کی ترقی کا راز قانون کی حکمرانی اور بالادستی میں مضمر ہے۔ مگر آج یہ بات ہمیں شائد سمجھ نہ آئے کیونکہ ہمیں کسی کی عزت اور قدر کا احساس نہیں۔ قانون کی حکمرانی انسان کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ قانون توڑنے والا قانون نافذ نہیں کرسکتا؛ وُہ صرف قانون شکنی کرنا جانتا ہے۔ کیونکہ اُس کا مزاج ہی شکن افروز ہوتا ہے۔ عہد شکن، مزاج شکن، قانون شکن،  روایت شکن، مذہب شکن مگر وُہ بت شکن نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہ بت کدوں سے ہی شکن مزاجیاں بنتی ہیں؛ جو اُسکی شہ سُرخیاں رہتی ہے۔
اسلام نےقانون کی بالادستی کی بنیاد لاالہ الااللہ محمد الرسول اللہ سےسمجھا دی۔ لفظ ’پاکستان‘  کلمہ طیبہ ہی سے ہیں تو پاکستان کا قانون بھی یہی ہوا۔ ذرا سوچیئے! یہ ہمارا اللہ سے وعدہ ہے؟ دین اسلام کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپکو اللہ کی رضا کے تابع کرلینا۔ کیا آج ہم سب اپنے آپکو اللہ کی رضا کے تابع کر چکے ہیں؟ تو پھر قانون کی بالادستی بہت دور ہے۔ کیونکہ قانون کی بالادستی والدین کا احترام اور خدمت کرنے سے شروع ہوتی ہے، اپنےقول کو ہر حال نبھانا، وعدہ کی پاسداری کرنا بھی ہے۔
آج ہمارا قانون اپنی ذات کے لئے نہیں ہوتا دوسروں کی ذات کے لئے ہوتا ہے۔ قانون سزا دینے کے لئے بناتے ہیں معاشرہ کی اصلا ح کے لئے نہیں بناتے بلکہ اصطلاح اپنی جزاء کے لئے کرتے ہیں۔ جبکہ یہ قانون شکنی ہوتی ہے۔ عادل کا انصاف دیانتداری سے ترازو کےدونوں پلڑوؤں کو مساوی کر کے ہم وزن کر دینا ہی قانون کی بالادستی ہے۔ کیا آج ہماری خواہشات قانون کے آگے سرخم کرتی ہیں اگر کر دیں تو قانون کی حکمرانی معاشرہ میں ہوگی۔ جس سے ہمارےگھر، شہر، ملک اور دُنیا بلکہ ہر معاملہ شعبہءزندگی میں امن قائم ہو جائےگا۔ قانون کا احترام well mannered لوگ کیا کرتے ہیں، وُہ افراد اعلٰی ظرف، تہذیب یافتہ عالی خاندانوں کے چشموں چراغ اور مہذب قوم کے نمائندے کہلاتے ہیں۔ جو قانون کا احترام نہ کرسکیں وُہ well mannered  نہیں ہوسکتا۔ جو well-mannered نہیں وُہ نہ تو respected ہو سکتا ہے اور نہ ہی Honoarable ۔
آج ہم قاعدہ کیوں نہیں بناتے کہ ایک کہانی ہے کہ ’چور اپنے اصول کی وجہ سے پکڑا گیا ورنہ چوری تو وُہ کر بیٹھا تھا۔ اصول نے مروا دیا۔ وُہ بے وقوف تھا۔‘حقیقتاً وُہ معاشرہ اور چور نادان نہ تھے نہایت ہی عاقل تھے۔ چوروں کے کچھ لوٹنے کے اُصول بھی ہوتے تھے۔ آج اصول نہیں تبھی اخبارات ڈاکو کے ڈاکے کے ساتھ قتل، ظلم اور زیادتی کی خبر ہیں۔ جہاں قانون کی حکمرانی ہو وہاں چور چوری مجبوری سےکرتا ہے، اور اپنی ضرورت سے بڑھ کر زیادتی نہیں کرتا۔ صرف اپنی ضرورت پوری کرتا ہے، ہوس (دولت، مرتبہ، نگاہ) کی تسکین نہیں کرتا۔
اگر کسی قوم کو کامیاب بننا ہے تو ہرفرد کو اپنے اندر دوسروں کی عزت کرنے کا جذبہ پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اُصولوں پر ڈٹ جانا؛ چاہے موت واقع ہو جائے مگر ضمیر کا سودا نہ کرے۔ اس کا عملی نمونہ قائد اعظم رول ماڈل کے طور پر ایک مشعلچی کی صورت میں مشعل راہ ہے۔ جب ہم اپنے دل اور مزاج پر اللہ  کی حاکمیت کو تسلیم کریں گے تو قانون کی حکمرانی آہستہ آہستہ ہماری ذات، گھر، خاندان، شہر، معاشرے اور ملک میں نافذ ہو جائےگی۔ ہمیں خود مشعلچی نہیں بننا بلکہ اُس مشعل راہ کو اپنانا ہے جو قائداعظم نےعطاء کی۔
بالادستیءِ قانون انسان کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ہر طرح کا تحفظ جو آپ سوچ سکتے ہیں۔ صحتمند قوم صحتمند سوچ سے ہی ہوتی  ہے اور صحتمند سوچ قانون کی حکمرانی سے ہوتی ہے۔
اے اللہ ہر مسلمان کو اپنے والدین کا احترام کرنے کی توفیق عطاء فرما یہی احترام قانون کی اساس ہے اور ملک پاکستان پر اخلاق کی قدر سے قانون کی بالادستی عطاء فرما دے۔ اسی اغلاق کا اطلاق ہونا باقی ہے۔ یہی اعماق ہیں جنکو عملی طور پر اختیار کر کےسمجھنا اَشد ضروری ہے۔ (فرخ)
عقیق (قیمتی) ، عمق (گہرائی) ، ازاں (آغاز)، اذعان (فرمانبرداری سےاطاعت)، اِذن (اختیار سونپنا)، اعراض (بچنا)، اعتزال (دستبرداری)، اعتصام ِ علم (مضبوطی سےجھنڈا تھامےرکھنا)، اعتزاز (وُہ خوبی جسکا اثر بھی ہو) ، ضیافشاں (روشنی پھیلانا) ، ضوفشاں (روشنی پھیلنا)

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

ہم دستور ساز اسمبلی کو دنیا کیلئے مثالی بنائیں گے . . . .. قائد اعظم

Posted on 20/08/2007. Filed under: قانون، آرڈیننس, پاکستان, سیاست | ٹيگز:, , , |

گیارہ اگست1947ء کو پہلی دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے قائد اعظم کا تاریخی خطاب

 خواتین و حضرات! آپ نے مجھے اپنا پہلا صدر منتخب کرکے جس اعزاز سے نوازا ہے میں اس کیلئے تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ یہ ایک عظیم تر اعزاز و افتخار ہے۔

1۔ جو یہ خود مختار اسمبلی کسی بھی شخص کو عطا کرسکتی ہے۔ میں ان لیڈروں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میرے اور میری خدمات کے بارے میں توصیفی تقریریں کیں اور اپنے اپنے تاثرات بیان کئے۔ میں صدق دل سے امید کرتا ہوں کہ آپ کی حمایت اور تعاون سے ہم اس دستور ساز اسمبلی کو دنیا کیلئے مثالی بنائیں گے۔ دستور ساز اسمبلی کو دو خاص فرائض سرانجام دینے ہیں۔ پہلا پرمشقت اور ذمے داری کا کام پاکستان کے مستقبل کا دستور بنانا ہے اور دوسرا فریضہ پاکستان کی وفاقی مقننہ کیلئے مکمل طور پر خود مختار ادارے کے طور پر کام کرنا ہے۔ہمیں پاکستان کے وفاقی قانون ساز ادارے کے لئے ایک عارضی دستور اختیار کرنا پڑا ہے۔ آپ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ یہ بے نظیر انقلاب جس کے نتیجے میں اس برصغیر میں دو آزاد اور خود مختار مملکتوں کا منصوبہ منصئہ شہود پر آیا اور اس کی تخلیق ہوئی۔ اس کی دنیا کی تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ اس پر نہ صرف ہم خود حیران ہیں بلکہ میرا خیال ہے ساری دنیا حیران ہورہی ہے۔ یہ انقلاب اس عظیم برصغیر کے مختلف النوع باشندوں کے علی الرغم ایک زبردست اور لامثال منصوبے کے تحت لایا گیا اور اس کے متعلق اہم ترین بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ہم نے پرامن طور پر ہرممکن طریق سے ایک ارتقائی عمل کے ذریعے حاصل کیا۔

2۔ اس اسمبلی میں اپنی بالکل پہلی کارروائی کے موقع پر میں کوئی طے شدہ اعلان نہیں کرسکتا مگر جو باتیں اس وقت میرے ذہن میں آئیں گی وہ کہوں گا۔ سب سے پہلی اور ضروری بات جس پر زور دوں گا۔ یاد رکھئے کہ اب آپ ایک خود مختار ادارہ ہیں اور آپ کو سب اختیارات حاصل ہیں۔ اس لئے آپ پر یہ ایک نازک ترین ذمے داری آن پڑی ہے کہ آپ کو کس طرح اپنے فیصلے کرنے ہیں۔ میں پہلی توجہ اس بات پر دوں گا اور بلاشبہ آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ کسی حکومت کا اولین فرض یہ ہے کہ وہ ملک میں لا اینڈ آرڈر (نظم و ضبط) قائم کرے تاکہ اس کے شہریوں کی جان و مال اور مذہبی عقیدوں کا تحفظ ہوسکے۔ دوسری بات جو میرے ذہن میں آتی ہے وہ ایک بہت بڑی برائی ہے جس میں ہندوستان مبتلا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ دوسرے ملک اس برائی کی گرفت سے آزاد ہیں، مگر میرا یہ خیال ہے کہ ہماری حالت اس معاملے میں بہت ہی خراب ہے۔ یہ رشوت اور رشوت خوری کی لعنت ہے۔ حقیقت میں یہ ایک زہر ہے۔ ہمیں فولادی ہاتھ سے اسے کچلنا ہوگا اور مجھے امید ہے کہ جتنی جلد ممکن ہو اس اسمبلی کو مناسب اقدامات کرنا ہوں گے۔ چور بازاری (بلیک مارکیٹنگ) ایک اور لعنت ہے۔ ہاں! مجھے معلوم ہے کہ وقتاً فوقتاً چور بازاری کرنے والے پکڑے بھی جاتے ہیں اور انہیں سزا بھی ہوتی ہے۔ عدالتیں انہیں قید کی سزائیں بھی دیتی ہیں اور بعض اوقات صرف جرمانے کئے جاتے ہیں۔ اب آپ کو اس دیوہیکل شیطان سے عہدہ برآ ہونا ہے جو اس وقت معاشرے کا بھیانک ناسور ہے۔ مصیبت کی اس حالت میں جب ہم خوراک اور دیگر ضروریات زندگی کی قلت کا مسلسل سامنا کررہے ہوں تو جو شخص چور بازاری کرتا ہے وہ نہ صرف ایک بڑے جرم بلکہ انتہائی بھیانک جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ یہ بلیک مارکیٹئے حقائق سے باخبر، بڑے ذہین اور بالعموم ذمے دار لوگ ہوتے ہیں اور جب وہ چور بازاری میں ملوث ہوجاتے ہیں تو میرے خیال میں وہ سخت ترین سزاؤں کے مستحق ہوتے ہیں کیونکہ وہ کنٹرول کے سارے قواعد و ضوابط اور نظام کو تہ و بالا کرکے اشیائے خوردنی اور لازمی اشیاء کی قلت پیدا کرکے بڑے پیمانے پر قحط، بھوک حتیٰ کہ موت کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے بعد جو بات میرے ذہن میں آتی ہے اس کا تعلق ان چیزوں سے ہے جو ہمیں ورثے میں ملی ہیں، دیگر تمام اچھی اور بری چیزوں کے سات یہ برائی ہے۔ یہاں پھر یہ میراث اور ترکے میں ملی ساتھ چلی آتی ہے جس کا تعلق سفارش اور اقربا پروری ہے۔ میں یہ بالکل واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میں کسی قسم کی سفارش اور اقربا پروری کو بالواسطہ اثر و رسوخ ہو یا بلاواسطہ، ہرگز برداشت نہیں کروں گا۔ میں جہاں بھی کہیں دیکھوں گا کہ یہ برائی کم تر یا زیادہ ہورہی ہے، اسے یقیناً گوارا نہیں کروں گا۔ مجھے معلوم ہے کہ خاصی تعداد میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ہند کی تقسیم اور پنجاب اور بنگال کی تقسیم پر بالکل رضامند نہیں تھے۔ اس کے خلاف بہت کچھ کہا جاچکا ہے مگر جبکہ یہ قبول کیا جاچکا ہے ہم میں سے ہر ایک کا یہ فرض ہے کہ خلوص نیت کے ساتھ اسے قبول کرکے آبرو مندانہ معاہدے کے مطابق اس پر عمل کریں۔ اب یہ حتمی ہے اور ہم سب اس کے پابند ہیں لیکن آپ کو یاد رکھنا چاہئے جیسا کہ میں نے کہا یہ عظیم انقلاب جو آیا، بے مثال ہے۔ کوئی بھی شخص ان احساسات کو بہ خوبی سمجھ سکتا ہے جو دو قوموں میں ایک اکثریت اور دوسری اقلیت میں پائے جاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ جو کچھ ہوا کیا اس کے علاوہ بھی کچھ ممکن اور قابل عمل تھا؟ یہ تقسیم ہونی ہی تھی۔ دونوں طرف، ہندوستان اور پاکستان میں ایسے لوگ ہوں گے جو اسے پسند نہ کریں اور اس سے اتفاق نہ کریں لیکن میری فیصلہ کن رائے میں اس کے علاوہ کوئی دوسرا حل نہیں تھا اور مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں تاریخ اس کے حق میں فیصلہ دے گی۔ علاوہ ازیں جیسے جیسے ہم آگے بڑھیں گے حقیقی عملی تجربے سے یہ ثابت ہوگا کہ ہندوستان کے دستوری مسئلے کا یہی واحد حل تھا۔ متحدہ ہند کا کوئی بھی نظریہ کبھی کام نہیں آسکتا تھا اور میرے تجزیئے کے مطابق وہ ہمیں خوفناک تباہی کی جانب لے جاسکتا تھا۔ ہوسکتا ہے وہ نظریہ درست ہو، ہوسکتا ہے درست نہ ہو، اسے دیکھنا ہوگا۔ اسی طرح اس تقسیم میں اقلیتوں کے مسئلے سے بچنا ناممکن تھا خواہ اس مملکت میں ہو یا دوسری میں، اسے نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتا اور اس کا کوئی دوسرا حل بھی نہیں ہے۔ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ اگر اب ہم پاکستان کی عظیم مملکت کو خوشحال اور مرفہ الحال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں کامل طور پر یہاں کے لوگوں، خصوصاً غریب عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کردینی چاہئے۔ اگر ہم ماضی کو فراموش کرکے اور دیرینہ رنجشوں کو دفن کرتے ہوئے باہمی تعاون سے متحد ہوکر کام کریں گے تو یقیناً کامیاب ہوں گے۔ اگر آپ اپنے ماضی کو بدل ڈالیں اور مل جل کر اس جذبے سے کام کریں کہ آپ میں سے ہر ایک قطع نظر اس سے کہ ماضی میں اس کا آپ سے کیا تعلق تھا، قطع نظر اس سے کہ اس کا رنگ، نسل اور عقیدہ کیا ہے وہ اول و آخر اس مملکت کا مساوی حقوق و فرائض کے ساتھ شہری ہے تو آپ ایسی ترقی کریں گے جس کی کوئی حد نہیں ہوگی۔ میں اس پر بہت زیادہ زور نہیں دے سکتا۔ ہمیں اس جذبے کے ساتھ کام شروع کردینا چاہئے اور وقت گزرنے کے ساتھ اکثریتی اور اقلیتی گروہوں کے یہ تمام زاویئے بدل جائیں گے کیونکہ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے آپ میں پٹھان ہیں، پنجابی ہیں اور شیعہ و سنی وغیرہ ہیں اور ہندوؤں میں آپ دیکھیں برہمن، ویشنواس، کھتری ہیں۔ علاوہ ازیں بنگالی، مدارسی وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب امتیازات مٹ جائیں گے۔ حقیقت میں اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ ہند میں یہ امتیازات حصول آزادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے
ورنہ اس کے بنا ہم سب بہت پہلے آزاد ہوچکے ہوتے۔ کوئی بھی طاقت کسی دوسری قوم کو خصوصاً چار سو ملین (چالیس کروڑ) باشندوں کو محکوم نہیں رکھ سکتی۔ نہ آپ کو کسی نے فتح کیا ہوتا اور اگر ایسا ہو بھی جاتا تب بھی کوئی غیر طاقت ایک طویل عرصے تک آپ پر حکومت نہ کرسکتی یہ جو کچھ ہوا آپ کے اس افتراق کے باعث ہوا۔ لہٰذا ہمیں اس (نااتفاقی و افتراق) سے سبق سیکھنا چاہئے۔ آپ اب آزاد ہیں۔ آپ اپنے مندروں میں جانے کیلئے آزاد ہیں، آپ اپنی مسجدوں میں جانے کیلئے آزاد ہیں یا اس مملکت پاکستان میں کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کیلئے آزاد ہیں۔ آپ کا تعلق خواہ کسی بھی مذہب، عقیدے یا مسلک سے ہو اس کا مملکت کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کچھ عرصہ قبل انگلستان کے احوال ہند سے بھی زیادہ ابتر تھے۔ رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ ایک دوسرے کے درپے آزار تھے حتیٰ کہ اب بھی کچھ ایسی مملکتیں موجود ہیں جہاں یہ امتیاز برتا جاتا ہے اور کسی خاص طبقے پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم ایسے ایام میں آغاز نہیں کررہے ہم ایک ایسے زمانے میں کاروبار مملکت کا آغاز کررہے ہیں جب ایسا کوئی افتراق نہیں ہے۔ کسی ایک طبقے یا دوسرے میں کوئی امتیاز نہیں۔ کسی ایک ذات یا مسلک میں اور دوسرے میں کوئی تصادم نہیں۔ ہم اس بنیادی اصول پر آغاز کررہے ہیں کہ ہم سب ایک ہی مملکت کے برابر کے شہری ہیں۔ انگلستان کے لوگوں نے وقت کے گزرنے کے ساتھ صورتحال اور حقائق کا سامنا کیا اور ان پر ان کی حکومت کی طرف سے ذمے داری کا جو بار ڈالا گیا اسے پورا کرنے لگے اور وہ اس آگ سے قدم بہ قدم گزرے۔ آج تم انصاف سے کہہ سکتے ہو کہ وہاں رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ موجود نہیں۔ اب کیا موجود ہے؟ یہ کہ وہاں کا ہر فرد مملکت کا شہری ہے، برطانیہ عظمیٰ کا برابر کا شہری اور وہ سب ایک قوم کے رکن ہیں۔ اب میرا خیال ہے ہمیں ا س مقصود غائی کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے اور آپ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دیکھیں گے کہ ہندو، ہندو نہیں رہے گا اور مسلمان، مسلمان نہیں رہیں گے۔ مذہبی نقطہ نظر سے نہیں کیونکہ یہ ہر شخص کا اپنا اپنا عقیدہ ہے بلکہ سیاسی اعتبار سے ایک مملکت کے شہری ہونے کی حیثیت سے۔ پس حضرات! میں نہیں چاہتا کہ آپ کا مزید وقت لوں۔ ایک بار پھر آپ کا شکریہ اس اعزاز و افتخار کے کیلئے جو آپ نے مجھے بخشا۔ میں ہمیشہ عدل و انصاف اور مساوات کے رہنما اصولوں، جنہیں سیاسی زبان میں بلا تعصب یا بدگمانی، بالفاظ دیگر بیجا طرف داری اور حمایت کے، اپنا منصبی فرض انجام دوں گا۔ مکمل غیر جانبداری میرا اصول ہوگا اور مجھے یقین ہے کہ میں آپ لوگوں کی مدد اور تعاون سے پاکستان کو مستقبل میں دنیا کی ایک عظیم ترین قوم بنتے دیکھ سکتا ہوں۔ بشکریہ روزنامہ جنگ

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

خوابوں، آرزوؤں اور امیدوں کی سر زمین

Posted on 12/08/2007. Filed under: پاکستان, تاریخ, سیاست | ٹيگز:, , , , , , , |

پاکستان خوابوں، آرزوؤں اور امیدوں کی سر زمین ہے جس کا مستقبل لامحدود اور روشن ہے۔ پاکستان کے ماضی ساٹھ سالوں پر نظر دورائی جائے تو اندھیروں اور اجالوں کا ایک طویل سفر نظر آتا ہے۔ قیام پاکستان کے وقت جذبے جوان تھے۔ امنگوں سے بھرپور لوگ تابناک مستقبل کے متلاشی تھے۔ ہر طرف اجالے ہی اجالے تھے۔ قائد اعظم کی شکل میں قوم کو اپنا مسیحا بھی میسر تھا مگر پھر نہ جانے اس ملک کو کس کی نظر لگ گئی۔ اہل اقتدار نے میوزیکل چیئرز کی گیم شروع کر دی اجالے دھندلانا شروع ہو گئے، اندھیروں کے مہیب سائے چھانے لگے اور پھر بات یہاں تک پہنچی کہ جمہوریت کی شمع ہی گل کر دی گئی۔ پاکستان کے اجالے کہیں کھو سے گئے۔ ہر آنے والے نے نظام حکومت کے نت نئے تجربے شروع کر دیئے اور یہ بھی اسی ملک کی کہانی ہے کہ پہلے ٢٦ سال تک اس ملک کا متفقہ آئین بھی نہ بن سکا۔ اس نوزائیدہ ملک کو قائم ہوئے ابھی ٢٥ سال بھی نہ ہوئے تھے کہ اسے دولخت کر دیا گیا۔ غرضیکہ اس ملک کے ماضی کے ہر موڑ پر اپنوں اور بیگانوں کی خود غرضیوں اور زیاتیوں کا ایک طویل سلسلہ نظر آتا ہے۔ ماضی کے ان اندھیروں سے نجات مشکل تو ہے ناممکن نہیں۔ قیام پاکستان کی ساٹھویں سالگرہ کی آمد آمد ہے اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اجالوں کی طرف سفر شروع کریں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر تابناک مستقبل کی تعمیر کریں۔

 

 

 

 

ملتے جلتے عنوان

نظریاتی مملکت

ہیپی برتھ ڈے پاکستان

فرمانِ قائد

جشنِ آزادی

ہمیں تکمیل کی حد تک اسے تعمیر کرنا ہے

یوم آزادی مبارک

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

پورا احسان نہ اُتر جائے

Posted on 11/07/2007. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , , , , , , |

چند برس پہلے قائداعظم، علامہ اقبال اور مولانا محمد علی جوہر نے فیصلہ کیا کہ چلو پاکستان چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیسا چل رہا ہے۔ تینوں بارہ اگست کو اسلام آباد پہنچے۔ پندرہ اگست کو پی آئی اے کے جہاز سے واپس جانے کے لئے اسلام آباد کے ہوائی اڈے پہنچے۔ ان چار دنوں میں اسلام آباد میں کسی ایک نے بھی نہ پہچانا کہ یہ تینوں کون ہیں۔ تینوں کے واپسی کے ٹکٹ کنفرم نہیں ہیں۔ لاؤنج میں بیٹھے آپس میں باتیں کررہے ہیں۔ علامہ اقبال درمیان میں کرسی کے ہتھے پر ہاتھ رکھے آنکھیں بند کیئے بیٹھے ہیں۔ مولانا غور سے اقبال کو دیکھتے ہیں۔

 

مولانا: قائد ایسا لگتا ہے علامہ اب کوئی نیا خواب دیکھ رہے ہیں۔
اقبال (چونک کر) یہ بات نہیں ہے مولانا۔ جس آدمی نے پاکستان کا خواب دیکھا پی آئی اے والے اْس سے کہہ رہے ہیں تْو چانس پر ہے۔
قائد: علامہ چانس کا مطلب آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔ چانس پر تو ہم تینوں ہیں۔ جن کے ٹکٹ کنفرم نہیں ہوتے ہیں ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ چانس پر ہیں۔
اقبال: ایک بات ماننا پڑے گی قائد تم اسلام آباد میں بہت مشہور ہو۔ چودہ اگست کو اسلام آباد کے ہر گلی کوچے سے ایک ہی گانے کی آواز آرہی تھی

یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
اے قائداعظم تیرا احسان ہے احسان

قائد: علامہ میرا آدھا احسان تو یہ لوگ سن انیس سو اکہتًر میں اْتار چکے ہیں۔ حالات دیکھ کر ڈر لگ رہا ہے کہیں پورا احسان نہ اْتار دیں
مولانا: غلطی آپکی ہے قائد – جب آپ نے مجھے پاکستان کا نقشہ دکھایا تھا تو مجھے کچھ خاص اچھا نہیں لگا تھا۔
قائد: مولانا آپ بھول رہے ہیں۔ آپ نے نقشہ دیکھ کر کہا تھا ماشااللہ ماشااللہ
مولانا: آپ کو سننے میں غلطی ہوئی میں نے ماشااللہ ماشااللہ نہیں مارشل لا مارشل لا کہا تھا۔
اقبال: حیرت ہے ان چار دنوں میں کسی ایک نے بھی ہم لوگوں کو نہیں پہچانا۔
قائد: ایسا ہوتا ہے علامہ – جو ہمارا کام تھا وہ ہم کرچکے اور بہت ایمانداری کے ساتھ۔
مولانا: قائد آپکے ساتھ سامان کتنا ہے؟
قائد: سوٹ کیس لایا تھا جس میں پاکستان کا نقشہ تھا۔اب واپس جارہا ہوں۔ نقشہ بریف کیس میں آگیا- سوٹ کیس میں نے اسلام آباد میں چھوڑ دیا۔
مولانا: علامہ آپکا سوٹ کیس بہت بڑا ہے۔ کیا صوبہ پیک کرلیا؟
اقبال: نہیں مولانا اس میں خودی کو پیک کیا ہے۔ اسلام آباد کی سڑکوں پر پڑی ہوئی نظر آئی۔ میں نے سوچا یہاں خودی صرف ہوائی جہاز کے ذریعے بلند ہوسکتی ہے۔
قائد: مولانا آپکی گود میں کیا ہے؟
مولانا: میں نے باڑے سے ایک وی سی آر خریدا ہے۔
علامہ: کیوں؟
مولانا: کسی نے مجھے بھیا کا ویڈیو دیا ہے۔ بیسٹ آف شوکت علی۔
علامہ: آپ کے بھیا شوکت علی کے زمانے میں ویڈیو کہاں تھا۔ یہ ویڈیو پنجاب کے فوک سنگر شوکت علی کا ہے۔
مولانا: پھر ہم کیا کریں؟
علامہ: مجھے دے دیں میری سمجھ میں آجائے گا۔
مولانا: ایک انسان نے پاکستان کا خواب دیکھا- ایک نے اْس کی تعبیر پیش کی اور یہاں ان دونوں کو کسی نے بھی نہیں پہچانا۔ کمال ہے۔
ایک بچی بھاگتی ہوئی قائد کے پاس آتی ہے اور کہتی ہے۔
بچی: آٹوگراف پلیز
قائد: بیٹی آپکا نام؟
بچی: آمنہ
قائد: بہت پیارا نام ہے۔ مجھے چھوٹے بچوں سے امید ہے کہ یہ بڑے ہوکر اس سرزمین کا نام روشن کریں گے
مولانا: بیٹی آپ نے کیسے پہچانا کہ یہ کون ہیں؟
بچی: میں نے نہیں ڈیڈی نے مجھ سے کہا جلدی جاکر آٹوگراف لے لو بہت مشہور ایکٹر کرسٹوفرلی بیٹھے ہوئے ہیں۔
قائد بچی سے آٹوگراف بک واپس لے کر اپنا نام کاٹ دیتے ہیں
قائد: بیٹی میں وہ نہیں ہوں ۔
پی آئی اے کا ایک ملازم آتا ہے
ملازم: آپ تینوں کے ٹکٹ کنفرم ہوگئے ہیں آپ لوگ جہاز پر جاسکتے ہیں۔
جہاز میں ۔
ایئر ہوسٹس: آپ لوگوں کو ہمارا کھانا اگر اچھا لگا ہو تو اس کارڈ پر اپنی رائے کا اظہار کردیں۔
مولانا: (کارڈ لینے کے بعد کارڈ پر لکھتے ہیں)

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

علامہ: کیا لکھ رہے ہیں مولانا؟
مولانا: تمہارا شعر لکھ دیا۔

تحریر: انور مقصود
بشکریہ۔ بی بی سی اردو

Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...