امتناعِ قادیانیت آرڈیننس نمبر ٢٠ مجریہ ١٩٨٤ء

Posted on 07/09/2007. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , , , , , |

١٩٨٤ء میں جنرل ضیاءالحق مرحوم کے دور میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مطالبہ پر جنرل ضیاءالحق نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا جس کی رو سے قادیانیوں کو شعائر اسلام استعمال کرنے سے روکا گیا۔ اس طرح مسلمانوں کے تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، سیاسی جماعتوں کی شراکت عام مسلمانوں کی قربانیوں سے اللہ تعالٰی نے اس مسئلہ کو حل کیا۔ اس کا تمام تر سہرا اور کریڈٹ عام مسلمانوں کو جاتا ہے جو آج بھی عقیدہ ختم نبوت پر جان نچھاور کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔

سلام ہے ختم نبوت کے ان پروانوں پر

امتناعِ قادیانیت آرڈیننس نمبر ٢٠ مجریہ ١٩٨٤ء
قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کرنے کا آرڈیننس
چونکہ یہ قرین مصلحت ہے کہ قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کی جائے۔
اور چونکہ صدر کو اطمینان ہے کہ ایسے حالات موجود ہیں جن کی بنا پر فوری کاروائی کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
لہذا اب ٥ جولائی ١٩٧٧ کے اعلان کے بموجب اور اس سلسلے میں اسے مجاز کرنے والے تمام اختیارات استعمال کرتے ہوئے صدر نے حسب ذیل آرڈیننس وضع اور جاری کیا۔

حصہ اول ابتدائیہ

١۔مختصر عنوان اور آغاز نفاذ
(١) یہ آرڈیننس قدیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کی خلاف اسلام سرگرمیاں (امتناع و تعزیر) آرڈیننس ١٩٨٤ء کے نام سے موسوم ہو گا۔
(٢) یہ فی الفور نافذالعمل ہو گا۔

٢۔ آرڈیننس عدالتوں کے احکام اور فیصلوں پر غالب ہو گا۔
اس آرڈیننس کے احکام کسی عدالت کے کسی حکم یا فیصلے کے باوجود موثر ہوں گے۔

حصہ دوم

مجموعہ تعزیرات پاکستان
(ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء) کی ترمیم
٣۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعات ٢٩٨۔ب اور ٢٩٨۔ج کا اضافہ
مجموعہ تعزیراتپاکستان (ایکٹ نمبر ٤٥، ١٨٦٠ء میں باب ١٥ میں، دفعہ ٢٩٨ الف کے بعد حسب ذیل نئی دفعات کا اضافہ کیا جائے گا یعنی ۔۔۔
٢٩٨۔ب بعض مقدس شخصیات یا مقامات کے لئے
مخصوص القاب، اوصاف یا خطابات وغیرہ کا ناجائز استعمال
(١) قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود ‘احمدی‘ یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے۔
(الف) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ یا صحابی کے علاوہ کسی شخص کو امیرالمومنین، خلیفتہ المومین، خلیفتہ المسلمین، صحابی یا رضی اللہ عنہ کے طور پر منوب کرے یا مخاطب کرے۔
(ب) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ مطہرہ کے علاوہ کسی ذات کو ام المومنین کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔
(ج) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان (اہل بیت) کے کسی فرد کے علاوہ کسی شخص کو اہل بیت کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے یا۔
(د) اپنی عبادت گاہ کو ‘مسجد‘ کے طور پر منسوب کرے یا موسوم کرے یا پکارے۔
تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔

(٢) قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود ‘احمدی‘ یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری، یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب میں عبادت کے لئے بلانے کے طریقے یا صورت کو اذان کے طور پر منسوب کرے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں تو اسے کسی قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا مستوجب بھی ہو گا۔

٢٩٨۔قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان کہے
قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود ‘احمدی‘ یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو بلاوسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کی مذہبی احساسات کو مجروح کرے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔

٤۔ ایکٹ نبر ٥ بابت ١٨٩٨ء کی دفعہ ٩٩۔الف کی ترمیم
مجموعہ ضابطہ فوجداری ١٨٩٨ء (ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء) میں جس کا حوالہ بعدازیں مذکورہ مجموعہ کے طور پر دیا گیا ہے دفعہ ٩٩، الف میں، ذیلی دفعہ (١) میں
(الف) الفاظ اور سکتہ ‘اس طبقہ کے‘ کے بعد الفاظ، ہند سے، قوسین، حروف اور سکتے اس نوعیت کا کوئی مواد جا کا حوالہ مغربی پریس اور پبلی کیشنز آرڈیننس ١٩٦٣ء کی دفعہ ٢٤ کی ذیلی دفعہ (١) کی شق (ی ی ) میں دیا گیا ہے شامل کر دئیے جائیں گے، اور
(ب) ہندسہ اور حرف ‘٢٩٨۔الف کے بعد الفاظ، ہندسے اور حرف‘ یا دفعہ ٢٩٨۔ب یا دفعہ ٢٩٨۔ج‘ شامل کر دئیے جائیں گے۔ یعنی ۔۔

 

8 7 6 5 4 3 2 1
ایضاً تین سال کےلئے کسی ایک قسم کی سزائے قید اور جرمانہ ایضاً ناقابل ضمانت ایضاً ایضاً بعض مقدس شخصیات کےلئے مخصوص القاب، اوصاف اور خطابات وغیرہ کا نا جائز استعمال ٢٩٨۔ب
ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے ٢٩٨۔ج

Read Full Post | Make a Comment ( 5 so far )

امتناع قادیانیت بل

Posted on 07/09/2007. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , , , , , |

١٩٧٤ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے تحریک ختم نبوت کو دبانے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی جس کے بعد قومی اسمبلی کو خصوصی کیمٹی کا درجہ دیا اور اس مسئلہ پر بحث شروع کی۔ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو قومی اسمبلی میں بلایا گیا، ان کا بیان ہوا، مولانا مفتی محمود نے قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے اٹارنی جنرل یحٰیی بختیار کے ذریعہ جرح کی۔ مرزا ناصر نے واضح طور پر اعلان کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے والے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ لاہوری گروہ کے مرزا صدرالدین کو بلا گیا ان دونوں پر تقریبا ١٣ دن جرح ہوئی بالآخر قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد منظور کر لی۔ اس طرح ٧ستمبر ١٩٧٤ء وہ تاریخی دن قرار پایا جب نوے سالہ پرانا مسئلہ حل ہوا۔ امت مسلمہ نے سکون کا سانس لیا اور عقیدہ ختم نبوت کو فتح و بلندی عطا ہوئی۔مجلس عمل تحفظ ختم نبوت اور اپوزیشن کے درج ذیل افراد کی طرف سے مولانا شاہ احمد نورانی نے قادیانوں کو غیر مسلم اقیلت قرار دینے کی قرارداد پیش کی ۔۔۔۔
نام درج ذیل ہیں۔
مولانا مفتی محود، مولانا عبدالمصطفٰی ازہری، مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی، پروفیسر غفور احمد، مولانا سید محمد علی رضوی، مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک، چوہدری ظہور الہی، سردار شیرباز خان مزاری، مولاناظفر احمد انصاری، عبدالحمید خان جتوئی، صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری، محمود اعظم فاروقی، مولانا صدر الشہید، مولانا نعمت اللہ، عمرہ خان، مخدوم نور محمد، جناب غلام فاروق، سردار مولا بخش سومرو، سردار شوکت حیات خان، حاجی علی احمد تالپور، راؤ خورشید علی خان، رئیس عطا محمد خان مری
بعد میں درج ذیل افراد نے بھی تائیدی دستخط کئے۔
نوابزادہ میاں ذاکر قریشی، غلام حسن خان، کرم بخش اعوان، صاحبزادہ محمد نذر سلطان، میر غلام حیدر بھروانہ، میاں محمد ابراہیم برق، صاحبزادہ صفی اللہ، صاحبزادہ نعمت اللہ خان شنواری، ملک جہانگیر خان، عبدالسبحان خان، اکبر خان مہمند، میجر جنرل جمالدار، حاجی صالح خان، عبدالمالک خان، خواجہ جمال محمد گوریجہ۔

اپوزیشن کی جانب سے پیش ہونے والی قرارداد

جناب سپیکر
قومی اسمبلی پاکستان
محترمی!
ہم حسب ذیل تحریک پیش کرنے اجازت چاہتے ہیں۔
ہرگاہ کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد نے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی ہونے کا دعوٰی کیا، نیز ہرگاہ کہ نبی ہونے کا اس جھوٹا اعلان، بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے اور جہاد کو ختم کرنے کی اس کی کوششیں اسلام کے بڑے بڑے احکام کے خلاف ورزی تھیں۔
نیز ہر گاہ کہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اور اس کا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اور اسلام کو جھٹلانا تھا۔
نیز ہرگاہ کہ پوری اُمت مسلمہ کو اس پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار، چاہے وہ مرزا غلام احمد مذکور کہ نبوت کا یقین رکھتے ہوں یا اسے اپنا مصلح یا مذہبی رہمنا کسی بھی صورت میں گردانتے ہوں، دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
نیز ہرگاہ کہ ان کے پیروکار چاہے انہیں کوئی بھی نام دیا جائے۔ مسلمانوں کے گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانہ کر کے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
نیز ہرگاہ کہ عالمی تنظیموںکی ایک کانفرنس میں جو مکہ مکرمہ کے مقدس شہر میں رابطہ عالم اسلامی کے زیرانتظام ٦ اور ١٠ اپریل ١٩٧٤ء کے درمیان منقعد ہوئی اور جس میں دنیا بھر کے تمام حصوں سے ١٤٠ مسلمان تنظیموں اور اداروں کے وفود نے شرکت کی، متفقہ طور پر رائے ظاہر کی گئی کہ قادیانیت اسلام اور عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعوٰی کرتی ہے۔
اب اس کو یہ اعلان کرنے کی کاروائی کرنی چاہیے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار انہیں چاہے کوئی بھی نام دیا جائے، مسلمان نہیں اور یہ کہ مومی اسمبلی میں ایک سرکاری بل پیش کیا جائے تاکہ اس اعلان کو موثر بنانے کے لئے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر ان کے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کے لئے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری ترمیمات کی جائیں۔

٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو منظور ہونے والی تاریخی ترمیم
قومی اسمبلی کے کل ایوان پر مشتمل خصوصی کیمٹی متفقہ طور پر طے کرتی ہے کہ حسب ذیل سفارشات قومی اسمبلی کو غور اور منظوری کے لئے بھیجی جائیں۔
کل ایوان کی خصوصی کیمٹی اپنی رہمنا کیمٹی اور ذیلی کیمٹی کی طرف سے اس کے سامنے پیش یا قومی اسمبلی کی طرف سے اس کو بھیجی گئی قراردادوں پر غور کرنے دستاویزات کا مطالعہ کرنے اور گواہوں بشمول سربراہان انجمن احمدیہ ربوہ اور انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور کی شہادتوں اور جرح پر غور کرنے کے بعد متفقہ طور پر قومی اسمبلی کو حسب ذیل سفارشات پیش کرتی ہے۔
(الف) کہ پاکستان کے آئین میں حسب ذیل ترمیم کی جائے۔
(اول) دفعہ ١٠٦ (٣) میں قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) کا ذکر کیا جائے۔
(دوم) دفعہ ٢٦٠ میں ایک نئی شق کے ذریعے غیر مسلم کی تعریف درج کی جائے مذکورہ بالا سفارشات کے نفاذ کے لئے خصوصی کیمٹی کی طرف سے متفقہ طور پر مسودہ قانون منسلک ہے۔

(ب) کہ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ٢٩٥ الف میں حسب حسب ذیل تشریح درض کی جائے۔
تشریح:- کوئی مسلمان جو آئین کی دفعہ ٢٦٠ کی شق (٣) کی تصریحات کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کے تصور کے خلاف عقیدہ رکھے یا عمل یا تبلیغ کرے وہ دفعہ ہذا کے تحت مستوجب سزا ہو گا۔

(ج) کہ متفقہ قوانین مثلا قومی رجسٹریشن ایکٹ ١٩٧٣ء اور انتخابی فہرستوں کے قواعد ١٩٧٤ء میں منتنحبہ اور ضابطہ کی ترمیمات کی جائیں۔

(ہ) کہ پاکستان کے تمام شہریوں خواہ وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں، کے جان و مال، آزادی، عزت اور بنیادی حقوق کا پوری طرح تحفظ اور دفاع کیا جائے گا۔

(قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے کے لئے)
آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مزید ترمیم کرنے کا بل
ہرگاہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعدازاں درج ذیل اغراض کے لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید ترمیم کی جائے۔
لہذا بذریعہ ہذا حسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے۔
١۔ مختلف عنوان اور آغاز نفاظ
(١) یہ ایکٹ آئین (ترمیم دوم) ایکٹ ١٩٧٣ء کہلائے گا۔
(٢) یہ فی الفور نافذالعمل ہو گا۔

٢۔ آئین کی دفعہ ١٠٦ کی شق (٣) میں لفظ فرقوں کے بعد الفاظ اور قوسین ‘اور قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں)‘ درج کئے جائیں گے۔

٣۔ آئین کی دفعہ ٢٦٠ میں ترمیم، آئین کی دفعہ ٢٦٠ میں شق (٢) کے بعد حسب ذیل نئی شق درج کی جائے گی یعنی ‘ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعوٰی کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا نبی مصلح تسلیم کرتا ہے وہ آئین یا قانون کی اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...