کیری لوگر بل کا متن

Posted on 01/10/2009. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

واشنگٹن: ذیل میں جمعرات24 ستمبر 2009ء کو سینیٹ سے پاس ہونے والے کیری لوگربل کامتن پیش کیا جارہا ہے۔ یہ ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوو میں پیش کیا جارہا ہے، اور اگر یہ بغیرکسی ترمیم کے منظور ہوگیا تو صدر اوباما کے پاس قانون دستخط کے لیے بھیج دیاجائے گا،

جس کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔
s.1707
پاکستان کے ساتھ تعلقات کے فروغ ایکٹ برائے 2009 ء
(مستغرق، متفق یاسینیٹ سے منظور)
SEC. 203
کچھ امداد کے حوالے سے متعین حدود

(a)
سیکورٹی تعلقات میں معاونت کی حدود: مالی سال 2012 ء سے 2014ء کے لیے، پاکستان کومالی سال میں اس وقت تک کوئی سیکورٹی تعلقات میں معاونت فراہم نہیں کی جائے گی،جب تک سیکریٹری آف اسٹیٹ، صدر مملکت کی ہدایت پرسب سیکشن
(c)
میں درج ہدایات کے مطابق منظوری نہ دے دیں۔

(b)
اسلحہ کی فراہمی کی حدود: مالی سال 2012ء سے 2014ء تک کے لیے، پاکستان کواس وقت تک بڑا دفاعی سامان کی فروخت کا اجازت نامہ یا لائسنس، دی آرم ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ (22
usc 2751et seq.)
کے مطابق جاری نہیں کیا جائے گا ، جب تک امریکی وزیر خارجہ امریکی صدرکی ہدایت کے مطابق، سب سیکشن
(c)
میں درج ضروریات کے مطابق منظوری نہ دے دیں

(c)
تصدیق کاعمل: اس سب سیکشن کے تصدیقی عمل کے لیے ضروری ہے کہ اسے سیکریٹری آف اسٹیٹ ، صدرکی ہدایت کے مطابق منظورکریں گے، کانگریس کی کمیٹیزکے مطابق کہ

(1)
امریکا، حکومت پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گاکہ پاکستان جوہری ہتھیاروں سے متعلق مواد کی منتقلی کے نیٹ ورک کو منہدم کرنے میں کردار ادا کرے، مثلاً اس سے متعلقہ معلومات فراہم کرے یا پاکستانی قومی رفاقت جو اس نیٹ ورک کے ساتھ ہے تک یابراہ راست رسائی دے۔ حکومت پاکستان نے موجودہ مالی سال کے دوران مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اب بھی دہشت گرد گروپوں کے خلاف موثر کوششیں کررہی ہے۔

سیکشن 201میں امداد کے جن مقاصد کو بیان کیا گیا ہے۔ ان کے تحت حکومت پاکستان نے مندرجہ ذیل امور میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

(الف) مدد روکنا: پاکستانی فوج یا کسی انٹیلی جنس ایجنسی میں موجود عناصر کی جانب سے انتہا پسندوں یا دہشتگرد گروپوں ، خصوصی طور پر وہ گروپ جنہوں نے افغانستان میں امریکی یا اتحادی افواج پر حملے کئے ہوں،یا پڑوسی ممالک کے لوگوں یا علاقوں پر حملوں میں ملوث ہوں

(ب) القاعدہ ، طالبان اور متعلقہ گروپوں جیسے کہ لشکر طیبہ اور جیش محمد سے بچاؤ اور پاکستانی حدود میں کارروائیاں سے روکنا ، سرحد پر پڑوسی ممالک میں حملوں کی روک تھام ، قبائلی علاقوں میں دہشت گرد کیمپوں کی بندش ،ملک کے مختلف حصوں بشمول کوئٹہ اور مریدکے میں موجود دہشت گرد ٹھکانوں کا مکمل خاتمہ، اہم دہشت گردوں کے بارے میں فراہم کردہ خفیہ معلومات کے بعد کارروائی کرنا،

(ج)انسداد دہشتگردی اور اینٹی منی لانڈرنگ قانون کو مضبوط بنانا،

(3)
پاکستان کی سیکورٹی فورسز پاکستان میں عدالتی و سیاسی معاملات میں عملاًیا کسی اور طریقے سے دخل اندازی نہیں کرینگی۔ بعض ادائیگیاں

(1)
عام طور پر ان کا تعلق پیرا گراف

(2)
سے ان فنڈز میں سے کسی کا تعلق مالی سال 2010ء سے 2014ء تک کے مالی سال سے نہیں ہے یا اس فنڈ کا کوئی تعلق پاکستان کے کاؤنٹر انسرجینسی کیسے بلیٹی فنڈ سے بھی نہیں ہوگا جو سپلی مینٹل ایپرو پری ایشن ایکٹ 2009ء (پبلک لاء 32-III کے تحت قائم ہے) اس کا دا ئرہ کار ان ادائیگیوں تک وسیع ہوگا جن کا تعلق (الف) لیٹر آف آفر اینڈ ایکسپٹینس
(Letter Of Offer And Acceptnce)، PK-D- NAP
سے ہے۔ جن پر امریکا اور پاکستان نے 30ستمبر 2006ء کو دستخط کئے تھے اور (ب)پاکستان اور امریکا کی حکومتوں کے درمیان 30ستمبر 2006کو دستخط شدہ لیٹر آف آفر اینڈ ایکسپٹنس
PK-D-NAP
اور
(ج )
(Letter Of Offer And Acceptnce)، PK-D- NAP جس پر امریکی حکومت اور حکومت پاکستان کی جانب سے 30ستمبر 2006ء کو دستخط ہوئے تھے۔

استثنیٰ: مالی سال 2010ء سے 2014ء تک کیلئے جو فنڈز سیکورٹی میں مدد دینے کے لئے مختص کئے گئے ہیں وہ تعمیرات اور متعلقہ سرگرمیوں کے لئے استعمال کئے جاسکتے ہیں جن کی وضاحت
Letter Of Offer And Acceptnce کے پیرا گراف

(1)
میں کی گئی ہے۔ تحریری دستاویز: وزیر خارجہ صدر کی ہدایت کے تحت مختص رقم میں سیکشن
(B)-A) اور (D)
کے تحت ایک سال کے لئے کمی کرسکتے ہیں وزیر خارجہ یہ اقدام اس وقت اٹھائیں گے جب انہیں خیال ہوگا کہ یہ اقدام امریکا کی قومی سلامتی کے مفاد میں ہے۔

تحریری دستاویز کا نوٹس: وزیر خارجہ کو صدر کی ہدایت کے مطابق رقوم میں کمی کا اختیار پیرا گراف
(1)
کے مطابق اس وقت تک استعمال نہیں کرسکیں گے جب تک کانگریس کی متعلقہ کمیٹی کو اس سلسلے میں سات روز کے اندر تحریر نوٹس نہ مل جائے جس میں رقوم میں کمی کی وجوہات درج ہوں یہ نوٹس کلاسیفائیڈ یا نان کلاسیفائیڈ شکل میں ضرورت کے مطابق پیش کیا جائے گا۔

(ف) مناسب کانگریسی کمیٹیوں کی تعریف: اس حصے میں مناسب کانگریسی کمیٹیوں کی اصطلاح سے مراد ایوان نمائندگان کی نمبر 1 کمیٹی برائے خارجہ امور، کمیٹی برائے مسلح افواج، کمیٹی برائے حکومتی اصلاحات اور فروگذاشت، 2 سینیٹ کی امور خارجہ تعلقات کمیٹی، مسلح افواج کمیٹی اور نتیجہ کمیٹی برائے انٹیلی جنس ہیں۔ سیکشن 204 خانہ جنگی سے نمٹنے کی پاکستانی صلاحیت کا فنڈ (ایف) مالی سال 2010 (1) عمومی طور پر۔ برائے مالی سال 2010 کیلئے ریاست کے محکمہ نے ضمنی تخصیص ایکٹ 2009 (بپلک لا 111-32) کے تحت پاکستان کی خانہ جنگی سے نمٹنے کی صلاحیت کافنڈ قائم کر دیا گیا ہے۔ (اس کے بعد اسے صرف فنڈ لکھا جائے گا) پر مشتمل ہو گا۔ مناسب رقم پر جو اس سب سیکشن پرعملدرآمد کیلئے ہو گی (جو شاہد شامل نہیں ہو گی اس مناسب رقم میں 70 ایکٹ کے عنوان نمبر ایک پر عملدرآمد کیلئے ہے۔

(ب) وزیر خارجہ کو دستیاب رقم بصورت دیگر اس سب سیکشن پر عملدرآمد کیلئے ہو گی۔

(2) فنڈ کے مقاصد ، فنڈز کی رقم اس سب سیکشن پرعملدرآمد کیلئے کسی بھی مالی سال دستیاب ہو گی اور اس کا استعمال وزیر خارجہ، وزیر دفاع کی اتفاق/ مشاورت سے کریں گے اور یہ پاکستان کی انسداد خانہ جنگی صلاحیت کے فروغ اور استحکام پر انہی شرائط کے تحت صرف ہو گی۔ ماسوائے اس سب سیکشن جو مالی سال 2009 کیلئے دستیاب فنڈ اور رقوم پر لاگو ہو گا۔

(3) ٹرانسفر اتھارٹی ،

(الف) عمومی طور پر: امریکی وزیر خارجہ کسی بھی مالی سال کیلئے پاکستان انسداد خانہ جنگی فنڈ جو ضمنی تخصیص ایکٹ 2009 کے تحت قائم کیا گیا ہے، کو رقوم منتقل کرنے کی مجاز ہوں گی اور اگر وزیر دفاع کے اتفاق رائے سے یہ طے پائے کہ فنڈ کی ان مقاصدکیلئے مزید ضرورت نہیں جن کیلئے جاری کئے گئے تھے تو وہ وزیر خارجہ یہ رقوم واپس کر سکتے ہیں۔

(ب) منتقل فنڈ کا استعمال۔ سیکشن 203 کی ذیلی شق (د) اور (ع) کے تحت پیرا گراف (الف) میں دی گئی اتھارٹی اگر فنڈ منتقل کرتی ہے تو انہی اوقات اور مقاصد کے تحت پاکستان انسداد خانہ جنگی فنڈ کے لئے استعمال ہو گی۔

(ج) دوسری اتھارٹیوں سے تعلقات۔ اس سب سیکشن کے تحت معاونت فراہم کرنے والی اتھارٹی اضافی طور پر دیگر ممالک کو بھی امداد کی فراہمی کا اختیار رکھے گی۔

(د) نوٹیفکیشن۔ وزیر خارجہ سب پیرا گراف (اے) کے تحت فنڈز کی فراہمی سے کم از کم 15 روز قبل کانگریس کی کمیٹیوں کو تحریری طور پر فنڈز کی منتقلی کی تفصیلات سے آگاہ کریں گی۔

(ر) نوٹیفکیشن کی فراہمی۔ اس سیکشن کے تحت کسی نوٹیفکیشن کی ضرورت کی صورت میں کلاسیفائیڈ یا غیر کلاسیفائیڈ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

(س) کانگریسی کمیٹیوں کی وضاحت۔ اس سیکشن کے تحت مجاز کانگریشنل کمیٹیوں سے مراد

(1)
ایوان نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی اور خارجہ تعلقات کمیٹی

(2)
سینیٹ کی آرمڈ سروسز اور خارجہ تعلقات کمیٹی ہے۔ سیکشن 205 فراہم کی گئی امداد کا سویلین کنٹرول ضروریات (1) مالی سال 2010 سے مالی سال 2014 کے دوران حکومت پاکستان کو سیکورٹی کیلئے فراہم کی گئی براہ راست نقد امداد پاکستان کی سویلین حکومت کے سویلین حکام کو فراہم کی جائے گی۔ کیری لوگر بل کی سیکشن 205 کے تحت مخصوص امدادی پیکیج پر سویلین کنٹرول کی شرط کیری لوگر بل میں سیکشن 205 کے تحت پاکستان کو امداد کی فراہمی کیلئے سویلین کنٹرول کی شرائط عائد کی گئی ہیں۔

(ا) شرائط :

(1)
عمومی طور پر 2010ء سے 2014ء تک حکومت پاکستان کو امریکہ کی جانب سے ملنے والی سیکورٹی معاملات سے متعلقہ کیش امداد یا دیگر نان اسسٹنس (غیر امدادی) ادائیگیاں صرف پاکستان کی سویلین حکومت کی سویلین اتھارٹی کو دی جائیگی۔

(2)
دستاویزی کارروائی مالی سال 2010-2014ء تک امریکی وزیر خارجہ، وزیر دفاع کی معاونت اور تعاون سے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ امریکہ کی جانب سے حکومت پاکستان کو دی جانے والی غیر امدادی
(Non-Assistance)
ادائیگیوں کی حتمی دستاویزات پاکستان کی سویلین حکومت کی سویلین اتھارٹی کو وصول ہو چکی ہیں۔

(ب) شرائط میں چھوٹ :

(1)
سیکورٹی سے متعلق امداد، بل کے مطابق امریکی وزیر خارجہ، وزیر دفاع سے مشاورت کے بعد ذیلی سیکشن (a) کے تحت سیکورٹی سے متعلق امداد پر عائد شرائط کو ختم کر سکتے ہیں۔ تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ یہ سیکورٹی امداد امریکی بجٹ کے فنکشن نمبر 150 (بین الاقوامی معاملات) سے دی جا رہی ہو اور امریکی وزیر خارجہ کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو اس امر کی یقین دہانی کرائیں کہ شرائط میں چھوٹ امریکہ کی قومی سلامتی کیلئے ضروری اور امریکی مفاد میں ہیں۔،

(2)
غیر امدادی
(Non-Assistance)
ادائیگیاں امریکی وزیر دفاع، وزیر خارجہ کی مشاورت سے ذیلی سیکشن
(a)
کے تحت ایسی غیر امدادی ادائیگیاں جو بجٹ فنکشن 050 (قومی دفاع) کے اکاؤنٹس سے کی جا رہی ہوں۔ پر عائد شرائط کو ختم کر سکتے ہیں۔ تاہم اس چھوٹ کیلئے وزیر دفاع کو کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو یقین دہانی کرانا ہو گی۔ کہ پابندیاں میں چھوٹ امریکہ کے قومی مفاد کیلئے اہم ہے۔

(ج) بعض مخصوص سرگرمیوں پر سیکشن (205) کا اطلاق۔ درج ذیل سرگرمیوں پر سیکشن 205 کے کسی حصے کا اطلاق نہیں ہوگا۔

(1)
ایسی کوئی بھی سرگرمی جس کی رپورٹنگ 1947 کے قومی سلامتی ایکٹ (50
U.S.C. 413 et Seq)
کے تحت کیا جانا ضروری ہے۔

(2)
جمہوری انتخابات یا جمہوری عمل میں عوام کی شرکت کی فروغ کیلئے دی جانے والی امداد،

(3)
ایسی امداد یا ادائیگیاں جن کا وزیر خارجہ تعین کریں اور کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو یقین دہانی کرائیں کہ مذکورہ امداد یا ادائیگیوں کو ختم کرنے سے جمہوریت حکومت اقتدار میں آ گئی ہے۔،

(4)
مالی سال 2005ء میں رونلڈ ڈبلیو ریگن نیشنل ڈیفنس آتھورائزیشن ایکٹ کی سیکشن (20 (ترمیم شدہ) کے تحت ہونے والی ادائیگیاں
(Public Law 108-375, 118 Stat 2086) ،

(5)
امریکی محکمہ دفاع اور وزارت دفاع اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مابین کراس سروسنگ معاہدے کے تحت کی جانے والی ادائیگیاں،

(6) مالی سال 2009ء کیلئے ڈنکن ہنٹر نیشنل ڈیفنس آتھورائزیشن ایکٹ کی سیکشن (943) کے تحت کی جانے والی ادائیگیاں
(Public Law 110-417, 122 Stat 457
(د) اصطلاحات کی وضاحت / تعریف سیکشن 205 میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کی تعریف / وضاحت اس طرح ہے۔

(1)
متعلقہ کانگریس کمیٹیوں سے مراد ایوان نمائندگان اخراجات سے متعلق کمیٹیاں، آرمڈ سروسز اور فارن افیئرز کی کمیٹیاں سینٹ کی اخراجات سے متعلق کمیٹیاں، آرمڈ سروسز اور فارن افیئرز کمیٹیاں ہیں۔،

(2)
پاکستان کی سویلین حکومت کی اصطلاح میں ایسی پاکستانی حکومت شامل نہیں ۔جس کے باقاعدہ منتخب سربراہ کو فوجی بغاوت یا فوجی حکم نامے کے ذریعے اقتدار سے ہٹا دیا گیا ہو۔ عنوان III حکمت عملی، احتساب، مانیٹرنگ اور دیگر شرائط سیکشن 301 حکمت عملی رپورٹس

(اے) پاکستان کی امداد سے متعلق حکمت عملی کی رپورٹ۔ اس ایکٹ کے نافذالعمل ہونے سے 45 روز کے اندر سیکرٹری خارجہ کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو پاکستان کی امداد سے متعلق امریکی حکمت عملی اور پالیسی کے حوالے سے رپورٹ پیش کرے گا۔ رپورٹ میں درج ذیل چیزیں شامل ہوں گی۔

(1)
پاکستان کو امریکی امداد کے اصولی مقاصد

(2)
مخصوص پروگراموں، منصوبوں اور سیکشن 101 کے تحت وضع کردہ سرگرمیوں کی عمومی تفصیل اور ان منصوبوں، پروگراموں اور سرگرمیوں کے لئے مالی سال 2010ء سے 2014ء تک مختص کردہ فنڈز کی تفصیلات۔

(3)
ایکٹ کے تحت پروگرام کی مانیٹرنگ آپریشنز، ریسرچ اور منظور کردہ امداد کے تجزیئے کا منصوبہ۔

(4)
پاکستان کے قومی، علاقائی، مقامی حکام، پاکستان سول سوسائٹی کے ارکان، نجی شعبہ، سول، مذہبی اور قبائلی رہنماؤں کے کردار کی تفصیلات جو ان پروگراموں، منصوبوں کی نشاندہی اور ان پر عملدرآمد میں تعاون کریں گے جن کے لئے اس ایکٹ کے تحت امداد دی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ حکمت عملی وضع کرنے کے لئے ایسے نمائندوں سے مشاورت کی تفصیل:

5:
اس ایکٹ کے تحت اٹھائے گئے اور اٹھائے جانے والے اقدامات سے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ امداد افراد اور دہشت گرد تنظیموں سے الحاق رکھنے والے اداروں تک نہ پہنچے۔

6:
اس ایکٹ کے تحت پاکستان کو فراہم کردہ امداد کی سطح کا تخمینہ لگانے کیلئے اسے مندرجہ ذیل کیٹیگریوں میں تقسیم کیاگیا جسے میلینیم چیلنج اکاؤنٹ امداد
(Assistance)
کے لئے اہل امیدوار ملک کے تعین کے طریقہ کار کے حوالے سے سالانہ معیاری رپورٹ
(Criteria Report)
میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ یہ کیٹیگریز مندرجہ ذیل ہیں۔

(I)
عوامی آزادی

(II)
سیاسی حقوق

(III)
آزادی اظہار رائے اور احتساب

(IV)
حکومت کی موثریت

(V)
قانون کی بالادستی

(VI)
بدعنوانی پر قابو

(VII)
بیماریوں کی شرح

(VIII)
شعبہ صحت پر خرچ

(IX)
لڑکیوں کی پرائمری تک تعلیم مکمل کرنے کی شرح

(X)
پرائمری تعلیم پر بجٹ

(XI)
قدرتی وسائل کا استعمال

(XII)
کاروباری مشکلات کے خاتمے

(XIII)
لینڈ رائٹس اور ان تک رسائی

(XIV)
تجارتی پالیسی

(XV)
ریگولیٹری کوالٹی

(XVI)
مہنگائی پر قابو

(XVII)
مالی پالیسی

7:
پاکستان کے پاس پہلے سے موجود ہیلی کاپٹرز کی تبدیلی اور اس حوالے سے تربیت اور ان کی درستگی کے لئے سفارشات اور تجزیہ بھی کیا جائے گا۔

(B)
علاقائی حکمت عملی کی تفصیلی رپورٹ کانگریس کی فہم و فراست: یہ کانگریس کی فہم و فراست ہے کہ امریکی قومی سلامتی کے مقاصد کے حصول، پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کے لئے ایک تفصیلی ترقیاتی منصوبے کی ضرورت ہے جس میں دیگر متعلقہ حکومتوں کے تعاون و اشتراک سے قومی طاقت کے تمام عناصر کو اس مقصد کے لئے استعمال میں لایا جائے۔ پاکستان کی دیرپا خوشحالی اور سلامتی کے لئے بھی ضروری ہے کہ پاکستان، افغانستان اور بھارت کے مابین مضبوط تعلقات ہوں۔ علاقائی سلامتی کی تفصیلی حکمت عملی : پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کے لئے صدر پاکستانی حکومت اور دیگر علاقائی حکومتوں اور اداروں کے اشتراک سے علاقائی سلامتی کی حکمت عملی ترتیب دینگے۔ پاک افغان سرحدی علاقوں فاٹا، صوبہ سرحد، بلوچستان اور پنجاب کے علاقوں میں اس علاقائی سلامتی کی حکمت عملی پر موثر عملدرآمد اور انسداد دہشت گردی کے لئے موثر کوششیں عمل میں لائی جائیں گی۔

3:
رپورٹ: عمومی طور پر اس ایکٹ کے لاگو ہونے کے 180 روز کے اندر اندر صدر علاقائی سلامتی کی حکمت عملی کے حوالے سے رپورٹ کانگریس کمیٹی کو جمع کروائیں گے جس کے مندرجات میں علاقائی سلامتی کی حکمت عملی کی رپورٹ کی کاپی، اہداف کا تعین اور تجویز کردہ وقت اور حکمت عملی پر عمل کے لئے بجٹ کی تفصیل شامل ہے۔

(ب) رپورٹ میں ریجنل سیکورٹی کی جامع حکمت عملی کی ایک نقل شامل ہوگی جس میں اہداف سمیت حکمت عملی پر عملدرآمد کیلئے مجوزہ وقت اور بجٹ کی تفصیلات شامل ہوں گی۔

(C)
مناسب کانگریسی کمیٹی کی تعریف اس پیراگراف کے مطابق مناسب کانگریسی کمیٹی کا مطلب۔

(i )
ایوان نمائندگان کی کمیٹی برائے
Appropriations
امورکمیٹی برائے مسلح افواج کمیٹی برائے خارجہ امور اور مستقل سلیکٹ کمیٹی برائے انٹیلی جنس ہوگا اور

(ii)
سینٹ کی کمیٹی برائے
Appropriations
کمیٹی برائے مسلح افواج کمیٹی برائے خارجہ امور اور مستقل سلیکٹ کمیٹی برائے انٹیلی جنس ہوگا۔

(C)
سکیورٹی میں مدد کے حوالے سے منصوبہ: اس قانون کے بنائے جانے کے 180 دن کے اندر وزیر خارجہ مناسب کانگریسی کمیٹی کے سامنے وہ منصوبہ پیش کریں گے جس کیلئے فنڈز مختص کئے جائیں گے اور یہ مالی سال 2010ء سے 2014ء تک ہرسال ہوگا اس منصوبے میں یہ بتایا جائے گا کہ رقم کا استعمال کس طرح سے سیکشن 204 میں مذکورہ رقوم سے متعلقہ ہے۔

سیکشن :302 مانیٹرنگ رپورٹس
(a)
سیکشن 301(اے) پر عمل کرتے ہوئے
Pakistan Assistance Strategy Report
پیش کئے جانے کے 180 دن کے اندر (ششماہی) اور بعدازاں 30 ستمبر 2014ء تک ششماہی بنیادوں پر سیکرٹری خارجہ کی طرف سے سیکرٹری دفاع کے ساتھ مشاورت کے بعد مناسب کانگریسی کمیٹی کو رپورٹ پیش کی جائے گی جس میں اس طرح (180 دنوں میں) میں فراہم کی گئی مدد/ معاونت کی تفصیلات ہوں گی۔ اس رپورٹ میں درج ذیل تفصیلات ہوں گی۔

(1)
جس عرصے کیلئے یہ رپورٹ ہوگی اس عرصے کے دوران اس ایکٹ کے ٹائٹل ایک کے تحت کسی پروگرام پراجیکٹ اور سرگرمی کے ذریعے فراہم کی گئی معاونت اور اس کے ساتھ ساتھ جس علاقے میں ایسا کیا گیا ہوگا اس کا حدود اربعہ اس رپورٹ میں شامل ہوگا اور اس میں اس رقم کا بھی ذکر ہوگا جو اس کے لئے خرچ ہوگی جہاں تک پہلی رپورٹ کا تعلق ہے تو اس میں مالی سال 2009ء میں پاکستان کی معاونت کیلئے فراہم کی گئی رقوم کی تفصیل ہوگی اور اس میں بھی ہر پروگرام پراجیکٹ اور سرگرمی کے بارے میں بتایا جائے گا۔

(2)
رپورٹ کے عرصے کے دوران اس ایکٹ کے ٹائٹل ایک کے تحت پراجیکٹ شروع کرنے والے ایسے امریکی یا کسی اور ملک کے شہریوں یا تنظیموں کی فہرست بھی رپورٹ میں شامل ہوگی جو ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ رقم /فنڈز حاصل کریں گے اور یہ فہرست کسی کلاسیفائیڈ ضمیمہ میں دی جاسکتی ہے تاکہ اگر کوئی سکیورٹی رسک ہوتو اس سے بچا جاسکے اور اس میں اس کو خفیہ رکھنے کا جواز بھی دیا جائے گا۔

(3)
رپورٹ میں سیکشن 301 (اے) کی ذیلی شق (3) میں مذکورہ منصوبے کے بارے میں تازہ ترین اپ ڈیٹس/پیش رفت اور اس ایکٹ کے ٹائٹل ایک کے تحت دی گئی معاونت کے اثرات کی بہتری کے لئے اقدامات کی تفصیل بھی شامل ہوگی۔

(4)
رپورٹ میں ایک جائزہ بھی پیش کیا جائے گا جس میں اس ایکٹ کے تحت فراہم کی گئی معاونت کے موثر/اثر پذیری کا احاطہ کیا گیا ہوگا اور اس میں سیکشن 301 (اے) کی ذیلی شق 3 میں بتائے گئے طریقہ کار کو مد نظر رکھ کر مطلوبہ مقاصد کے حصول یا نتائج کا جائزہ لیا گیا ہوگا اور اس سب سیکشن کے پیراگراف 3 کے تحت اس میں ہونیوالی پیش رفت یا اپ ڈیٹ بھی بیان کی جائے گی جوکہ یہ جانچنے کیلئے کہ آیا مطلوبہ نتائج حاصل ہوئے ہیں یا نہیں ایک منظم مربوط بنیاد فراہم کرے گی اس رپورٹ میں ہر پروگرام اور پراجیکٹ کی تکمیل کا عرصہ بھی بتایا جائے گا۔

(5)
امریکا کی طرف سے مالیاتی فزیکل تکنیکی یا انسانی وسائل کے حوالے سے کوئی کمی وبیشی جوکہ ان فنڈز پر موثر استعمال یا مانیٹرنگ میں رکاوٹ ہوگی کے بارے میں بھی اس رپورٹ میں ذکر کیا جائے گا۔

(6)
امریکا کی دوطرفہ یا کثیر الطرفہ معاونت کے منفی اثرات کا ذکر بھی اس رپورٹ میں شامل ہوگا اور اس حوالے سے اگر کوئی ہوگی تو پھر تبدیلی کیلئے سفارشات بھی دی جائیں گی اور جس علاقے کیلئے یہ فنڈز یا معاونت ہوگی اس کی انجذابی صلاحیت /گنجائش بھی رپورٹ میں مذکور ہوگی۔

(7)
رپورٹ میں اس ایکٹ کے ٹائٹل ایک کے تحت ہونے والے اخراجات کے ضیاع فراڈ یا غلط استعمال کے حوالے سے کوئی واقعہ یا رپورٹ بھی شامل کی جائے گی۔

( ان فنڈز کی رقم جوکہ سیکشن 102 کے تحت استعمال کیلئے مختص کی گئی اور جوکہ رپورٹ کے عرصے کے دوران انتظامی اخراجات یا آڈٹ یا سیکشن 103 یا 101 (سی) کی ذیلی شق 2 کے تحت حاصل اختیارات کے ذریعے استعمال کی گئی کی تفصیلات بھی رپورٹ میں شامل ہوں گی۔

(9)
سیکشن 101 (سی) کی ذیلی شق 5 کے تحت قائم/ مقرر کردہ چیف آف مشن فنڈ کی طرف سے کئے گئے اخراجات جوکہ اس عرصے کے دوران کئے گئے ہوں گے جس کیلئے رپورٹ تیار کی گئی ہے اس رپورٹ میں شامل ہوں گے اس میں ان اخراجات کا مقصد بھی بتایا جائے گا اور اس میں چیف آف مشن کی طرف سے ایک لاکھ ڈالر سے زائد کے اخراجات کے وصول کنندگان کی فہرست بھی شامل ہوگی۔

(10)
اس ایکٹ کے ٹائٹل ایک کے تحت پاکستان کو فراہم کی گئی معاونت کا حساب کتاب (اکاؤنٹنگ) جوکہ سیکشن 301 (اے) کی ذیلی شق 6 میں دی گئی مختلف کٹییگریز میں تقسیم کی گئی ہے کی تفصیل بھی رپورٹ میں بیان کی جائے گی۔

(11)
اس رپورٹ میں درج ذیل مقاصد کیلئے حکومت پاکستان کی طرف سے کی گئی کوششوں کے جائزہ بھی پیش کیا جائے گا۔

(الف) فاٹا یا بندو بستی علاقوں میں القاعدہ طالبان یادیگر انتہا پسند اور دہشت گرد گروپوں کے خاتمے ان کو غیر موثر یا شکست دینے کیلئے کی گئی کوششیں۔

(ب) ایسی قوتوں کے پاکستان میں موجود محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کیلئے کی گئی کوششیں

(ج) لشکر طیبہ اور جیش محمد کے تربیتی مراکزکی بندش

(د) دہشت گرد اور انتہا پسند گروپوں کوہر قسم کی مدد و تعاون کا خاتمہ

(ر) ہمسایہ ممالک میں حملوں کی روک تھام کیلئے کوششیں / اقدامات

(س) مدارس کے نصاب کی نگرانی میں اضافہ اور طالبان یا دہشت گرد یا انتہا پسند گروپوں سے تعلق رکھنے والے مدارس کی بندش کیلئے کی گئی کوششیں۔

(ش) انسداد منی لانڈرنگ قوانین اور دہشت گردی کے انسداد کیلئے فنڈز کے استعمال میں بہتری یا اضافے کی کوششیں یا اقدامات مالیاتی ایکشن ٹاسک فورس کیلئے مبصر کا درجہ اور دہشت گردی کیلئے مالی وسائل کی فراہمی روکنے کیلئے اقوام متحدہ کے بین الاقوامی کنونشن پر عملدرآمد کیلئے کی گئی کوششیں۔

(12)
پاکستا ن کی طرف سے جوہری عدم پھیلاؤ (جوہری مواد اور مہارت) کیلئے کی گئی کوششوں کی جامع تفصیل بھی اس رپورٹ میں شامل ہوگی۔

(13)
اس رپورٹ میں ایک جائزہ بھی پیش کیا جائے گا تاکہ آیا پاکستان کو فراہم کی گئی معاونت اس کے جوہری پروگرام کی توسیع میں بالواسطہ یا بلاواسطہ مددگار ثابت ہوئی ہے یانہیں آیا امریکی معاونت کے انحراف یا پاکستان کے وسائل کی
Realloction
جوکہ بصورت دیگر پاکستان کے جوہری پروگرام سے غیر متعلقہ سرگرمیوں پر خرچ ہوں گے۔

(14)
رپورٹ میں سیکشن 202 (بی) کے تحت مختص کئے گئے اور خرچ کئے گئے فنڈز کی جامع تفصیلات بھی شامل ہوں گی۔

(15)
اس رپورٹ میں حکومت پاکستان کا فوج پر موثر سویلین کنٹرول بشمول سویلین ایگزیکٹو لیڈرز اور پارلیمنٹ کا فوجی /ملٹری بجٹ کی نگرانی اور منظوری کمانڈ کے تسلسل سینئر فوجی افسروں کی ترقی میں عمل دخل کی تفصیلات سٹریٹجک پلاننگ میں سویلین عمل دخل اور سول انتظامیہ میں فوجی مداخلت کی تفصیلات بھی شامل ہوں گی۔

(b)
حکومتی احتساب دفتر کی رپورٹس پاکستان معاونت لائحہ عمل رپورٹ: سیکشن 301 (اے) کے تحت پاکستان معاونت لائحہ عمل رپورٹ پیش کئے جانے کے ایک سال کے اندر کنٹرولر جنرل آف امریکا مناسب کانگریسی کمیٹی کو ایک رپورٹ پیش کرے گا جس میں درج ذیل تفصیلات مذکور ہوں گی۔

(الف) پاکستان معاونت لائحہ عمل رپورٹ کا جائزہ اور اس حوالے سے رائے

(ب) اس ایکٹ کے تحت مقاصد کے حصول کیلئے امریکی کوششوں کو موثر بنانے کیلئے اگر کنٹرولر جنرل کوئی اضافی اقدامات مناسب سمجھتا ہے تو وہ بھی بیان کئے جائیں گے۔

(پ) آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ (22 یو ایس سی) کی شق 22 کے تحت دی گئی گرانٹ کے مطابق پاکستان کی طرف سے کئے گئے اخراجات کی مفصل رپورٹ بھی پیش کی جائے گی۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

آرٹیکل6

Posted on 18/08/2009. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , |

آجکل میڈیا میں ہر طرف آرٹیکل ٦ کا چرچہ ہو رہا ہے، پاکستانی قارئین کے لئے آڑٹیکل ٦ کے نکات یہاں پیشِ خدمت ہیں تاکہ انہیں آرٹیکل ٦ کو سمجھنے اور حالات جائزہ لینے میں آسانی ہو۔

آئین کے آرٹیکل٦ کے تحت آئین توڑنے اس اقدام میں معاونت کرنے والے ریاست کیخلاف بغاوت کے مجرم تصور کئے جائیں گے اور سب اس جرم میں برابر کے شریک ہونگے، جس کی سزا پارلیمنٹ کی منظوری پر عمر قید یا موت تجویزکی گئی ہے۔

آئین کے آرٹیکل ٦ کے تحت آئین توڑنے اس اقدام میں معاونت کرنے والے ریاست کیخلاف بغاوت کے مجرم تصور کئے جائیں گے اور سب اس جرم میں برابر کے شریک ہونگے، جس کی سزا پارلیمنٹ کی منظوری پر عمر قید یا موت تجویزکی گئی ہے۔

شق ٦ پر عمل کیلئے پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کے تحت سنگین بغاوت کے اس مقدمہ کی سماعت سپریم کورٹ کے بجائے سیشن عدالت سننے کی مجاز ہے جبکہ آئینی ماہرین اس تاثر کی تردید کرتے ہیں کہ سنگین بغاوت کے مقدمہ کی تیاری اور اس کی پیروی کیلئے مطلوبہ قواعد و ضوابط موجود نہیں ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ سنگین بغاوت کی سزاکے قانون کے ذریعے پارلیمنٹ نے مقدمہ درج کئے جانے کی تمام تفصیل طے کر دی ہے۔

آئین میں آرٹیکل ٦ کی تین ضمنی دفعات بھی درج ہیں۔

اول: کوئی فرد جو آئین منسوخ کرے یاایسا کرنے کی کوشش کرے، آئین کو توڑے یا ایسا کرنے کی سازش کرے، طاقت کے ذریعے، طاقت دکھا کر یاکسی دوسرے غیر آئینی طریقے سے آئین توڑے وہ سنگین بغاوت کا مجرم ہو گا۔

دوم: ایسا شخص جو شق ایک میں درج اقدام میں مددیاتعاون کرے وہ بھی سنگین بغاوت کا مجرم تصور کیا جائیگا۔

سوم: مجلس شوریٰ یا پارلیمنٹ اس جرم میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے تحت سزا تجویز کریگی ۔ اس ایکٹ پر عمل کرنے میں صرف ایک سقم باقی ہے اور وہ یہ کہ اس ایکٹ کے تحت وفاقی حکومت کو اپنے ایک افسر کو یہ شکائت یا مقدمہ درج کرانے کیلئے نامزد کرنا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ چند منٹ کا کام ہے اگر حکومت چاہے تو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن یا کسی دوسرے افسر کو شکائت کنندہ مقرر کر سکتی ہے۔

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ناصر اسلم زاہد کے مطابق اس ضمن میں بننے والے قانون کے تحت اگر کسی فرد یا افراد کے خلاف آئین کی شق ٦ کے تحت کارروائی مقصود ہو تو اس کے خلاف مقدمہ یا شکائت درج کرانے کا اختیار صرف وفاقی حکومت کو حاصل ہے اس حوالے سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی یہ دلیل کہ عدالت اس آرٹیکل کے تحت کسی کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں رکھتی۔

١٤ اگست ١٩٧٣ء کو آئین کی منظوری کے بعد اس پر عمل کیلئے قانونی ڈھانچے کی تشکیل بھی فوری طور پر شروع کر دی گئی تھی اورپارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد ٢٦ ستمبر کو صدر مملکت نے سنگین بغاوت کی سزا کے قانون پر دستخط بھی کر دئیے تھے آئین کی اس شق پر عملدرآمد کیلئے بنائے گئے سنگین بغاوت کی سزا کے قانون ١٩٧٣ءکی بھی تین ذیلی شقیں ہیں۔

i۔ اس قانون کا نام سنگین بغاوت کی سزا کا قانون ہو گا

ii۔ ایسا شخص جو اس وقت ملک میں نافذ آئین کو توڑنے یا ایسا کرنے کی کوشش یا سازش کرنے کے جرم کا مرتکب ہو اس کی سزا عمر قید یا موت ہو گی، یہاں پر آئین سے مراد مارچ ١٩٥٦ءکے بعد لاگو ہونیوالے تمام آئین ہیں۔

iii۔ کوئی عدالت اس قانون کے تحت اس وقت تک کارروائی نہیں کرسکتی جب تک اس جرم کے واقعہ ہونے کی تحریری شکائت کسی ایسے فرد کی جانب سے متعلقہ سیشن عدالت میں دائر نہ کی جائے جسے وفاقی حکومت نے ایسا کرنے کا اختیار دیا ہو۔

جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد کے مطابق قانون کی یہ شق اس سزا پر عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹ ہے انہوں نے تجویز پیش کی کہ عدالت کے ذریعے حکومت کو اس افسرکی نامزدگی پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ سابق جج کا کہنا ہے کہ اس شق کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی عام شہری سنگین بغاوت کے جرم کی شکائت نہیں کر سکتا۔ کوئی بھی پاکستانی شہری اس جرم کے واقعہ ہونے کی تصدیق کر سکتا ہے۔ لیکن وہ یہ شکائت عدالت کے بجائے وفاقی حکومت کے پاس جمع کرائے گا، جو اپنے نامزد کردہ افسر کے ذریعے یہ شکائت عدالت کے پاس لے جا سکتی ہے۔

ناصر اسلم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یہ شکائت عدالت میں نہ لے جانے پر شکائت کرنے والا شہری یہ معاملہ عدالت میں لے جا سکتا ہے، جیسا کہ اکثر پولیس کی طرف سے ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر پر کوئی شہری عدالت سے رجوع کر سکتا ہے اور عدالتی مداخلت پر ایف آئی آر درج کر لی جاتی ہے سنگین بغاوت کے جرم میں بھی ایسا ممکن ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ایسی صورت میں بھی سپریم کورٹ کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ ابتدائی طور پر یہ درخواست سیشن عدالت میں ہی دائر کی جائیگی البتہ اپیل کے عمل میں معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ سکتا ہے۔
بشکریہ اردو ٹائمز

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

پنجاب اسمبلی میں پیش کردہ قرارداد کا مکمل متن

Posted on 07/11/2008. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال خان کی زیر صدارت پیر کے روز منعقدہ پنجاب اسمبلی کے ٨ ویں اجلاس کے دوران صوبائی وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ خان نے صدر پاکستان کے الیکٹورل کالج سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے یا اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینے یا پارلیمٹ سے انکے کے مواخذے کے نوٹس کے اجراء کے مطالبہ پر مبنی قرارداد پیش کی گئی ہے۔ جس کا مکمل متن اس طرح ہے۔

”پنجاب اسمبلی یہ اخذ‘ تصور‘ خیال کرتی ہے کہ آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل ٤١ کے تحت پنجاب اسمبلی صدر مملکت کے الیکٹورل کالج کا حصہ ہے جبکہ پنجاب اسمبلی اکتوبر ٢٠٠٧ء میں صدر مملکت کے انتخاب کے بارے میں تحفظات اور اعتراضات رکھتی ہے جس کا اسے قانونی حق حاصل ہے اور پنجاب اسمبلی کا موقف ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف آئین پاکستان کی مبینہ خلاف ورزی کے باعث صدر کا منصب مزید اپنے پاس رکھنے کے اہل نہ ہیں۔ جبکہ کئی دیگر ایسی وجوہات بھی ہیں جن کے باعث وہ خود کو اس عہدہ پر برقرار رکھنے کی اہلیت کے حامل نہیں۔

انہوں نے دو مرتبہ آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مختلف شقوں کی صریحاً خلاف ورزی کی اور آئین و قانون کو پامال کرتے ہوئے جمہوریت کی گاڑی کو پٹڑی سے اتارنے سمیت غیر جمہوری اقدامات کی حوصلہ افزائی کی۔ آئین کی دفعہ ٤١ (١) کے تحت صدر چاروں صوبوں کی زنجیر اور وفاق کی علامت ہوتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے فرائض سے کوتاہی برتتے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بین الصوبائی ٹینشن پیدا کی‘ صوبوں کے حقوق غصب کئے‘ صوبائی خود مختاری سے انحراف کیا اور وفاق کو کمزور کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

اسی طرح گزشتہ ٨ سالوں کے دوران اختیار کی گئی ملک و قوم کے مفاد کے منافی پالیسیوں نے ملک کو سیاسی و اقتصادی تباہی کے دھانے پر پہنچا دیا۔ انکی ناقص حکمت عملی کے باعث ملک میں توانائی جیسے بدترین بحرانوں کو فروغ حاصل ہوا جبکہ بدامنی‘ لاقانونیت‘ افراتفری‘ غربت‘ بیروزگاری‘ مہنگائی اور عوام و ملک دشمن اقدامات نے عوام کے اعصاب شل کر دیئے۔

انکی پالیسیوں نے وفاق کو مفلوج کر دیا اور قومی اداروں سے عوام کا اعتماد ختم ہو گیا۔ لہٰذا درج بالا اور بہت سی دیگر وجوہات کی بناء پر پنجاب اسمبلی کے ارکان صدر پرویز مشرف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے الیکٹورل کالج سے فوری طور پر اعتماد کا ووٹ حاصل کریں یا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل ٤٤ (٣) کے تحت اپنے عہدہ سے مستعفی ہو جائیں اور اگر وہ مذکورہ دونوں اقدام کرنے سے قاصر رہیں تو پارلیمنٹ انہیں آئین کے آرٹیکل ٤٧ کے تحت مواخذے کا فوری نوٹس جاری کرے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

’بیل آؤٹ‘ منصوبہ، کیا ہے، کیوں ہے؟

Posted on 04/10/2008. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , , |

ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات میں آجکل امریکی بیل آؤٹ پلان کا بڑا چرچا ہے لیکن بہت کم لوگوں کو اس پلان کے بارے میں علم ہے کہ یہ دراصل کیا ہے اور کس بارے میں ہے۔ قارئین کی سہولت کے لئے یہاں اس بل کے مندرجات پیش کئے جا رہے ہیں تاکہ قارئین کو اس پلان کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ 

امریکی بینکوں کو کیش یا نقدی سے خالی ہاتھ ہونے سے بچانے یا ’بیل آؤٹ‘ کرنے کے لیے سینیٹ میں پیش کیا جانے والا سات سو ارب ڈالر کے ترمیمی منصوبہ یا بِل کا مسودہ بھی کم و بیش وہی ہے جو کہ ایوانِ نمائندگان سے نامنظور ہونے والے بل کا تھا۔

اس بل میں چند تبدیلیاں کی گئی ہیں جو حکومتی ضمانت کی شقوں سے تعلق رکھتی ہیں اور کھاتے داروں کی بچتوں پر حکومتی ضمانت ایک لاکھ سے بڑھا کر ڈھائی لاکھ ڈالر تک کر دی گئی ہے۔

بینکوں کو بیل آؤٹ بل کی ضرورت کیوں پڑی ہے؟

امریکہ کی مارٹگیج مارکیٹ میں بھاری سرمایہ کاری کے بعد ساری دنیا میں سرمائے کی مارکیٹیں شدید مشکلات کی شکار ہیں۔ بینکوں نے بڑے پیمانے پر گھروں کے لیے ایسے قرضے دے دیے جن کی واپسی کی توقعات غیر یقینی ہیں۔ بظاہر یہ معاملہ مقامی دکھائی دیتا ہے لیکن اب اس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

امریکی بینک اب یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں کہ انہوں نے جو قرضے دیے تھے ان کی حقیقی مالیت اب کتنی رہ گئی ہے، اس لیے ان قرضوں کو آگے فروخت نہیں کیا جا سکتا، اس ڈر سے کہ دوسرا مشکل میں پھنس جائے گا، بینک ایک دوسرے سے ان قرضوں کے سودے بھی نہیں کر رہے اور قرضوں کے اس بحران کے نتیجے میں امریکہ اور یورپ کے کئی بینک بیٹھ چکے ہیں۔

بل پر سینیٹ میں ووٹنگ کیوں ہو رہی ہے؟

ترمیم شدہ بل پر پہلے سینیٹ میں ووٹنگ اس لیے کرائی گئی کیونکہ کانگریسی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ اسے سینیٹ میں زیادہ حمایت حاصل ہے۔

ایوان نمائندگان کے ارکان کے برخلاف سینیٹ میں ہر سال ایک تہائی رکن انتخاب کا سامنا کرتے ہیں۔ اس لیے بیل آؤٹ پلان سے اگر لوگوں میں ناراضی پیدا ہو گی تو اس کا اثر سینیٹ پر کم پڑے گا۔

اس کے علاوہ سینیٹ میں نظریاتی تقسیم بھی ایوانِ نمائندگان کے برخلاف کم ہے اور ریپبلکن سینیٹر ایوانِ نمائندگان کے ارکان کے مقابلے میں زیادہ میانہ رو ہیں۔

اس لیے بیل آؤٹ منصوبے کے حامیوں کا خیال تھا کہ سینیٹ میں بل کی منظوری سے ایوان نمائندگان کے ارکان پر دباؤ بڑھ جائے گا اور اس کے ارکان باہمی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر بل کی منظوری دے دیں گے۔

ایوانِ نمائندگان نے بل کو مسترد کیوں کیا؟

اس بل کے مخالف امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتوں میں موجود ہیں اور انہوں نے مل کر کوشش کی کہ بل منظور نہ ہو۔ ان کا خیال ہے کہ بل انتہائی غیر منصفانہ ہے اور لالچی بینکاروں کو یہ تحفظ نہیں ملنا چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر اس بل کی منظوری دے دی گئی تو اس سے ٹیکس دہندگان پر پڑنے والے بوجھ میں مزید اضافہ ہو گا۔

اس کے علاوہ اس بل سے فیضیاب ہونے والے اداروں کے سربراہوں اور اعلیٰ افسران کی تنخواہیں بھی اعتراض کا باعث ہیں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ان تنخواہوں کی بھی حد مقرر کی جانی چاہیے۔

بیل آؤٹ پلان میں کن بڑی تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا ہے؟

ترمیمی منصوبے میں متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ نہ صرف عوام کو اس مالیاتی امداد کا زیادہ فائدہ پہنچے بلکہ ٹیکس دہندگان کی رقم بھی کم خرچ ہو۔

ترمیم شدہ بل میں نہ صرف ’ڈپازٹر پروٹیکشن‘ کی حد میں اضافہ کیا گیا ہے بلکہ چھوٹے کاروباروں کی مدد اور رینیو ایبل انرجی کی تشہیر کے لیے کچھ ٹیکسوں میں چھوٹ بھی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس منصوبے میں چائلڈ ٹیکس کریڈٹ کے پھیلاؤ اور امریکہ کے کچھ علاقوں میں آنے والے حالیہ سمندری طوفان کے متاثرین کی مدد کی بات بھی کی گئی ہے۔

ایوانِ زیریں میں کچھ ڈیموکریٹس چاہتے ہیں کہ ان گھر مالکان کی مدد بھی کی جائے جنہیں دیوالیے کا سامنا ہے تاہم سینیٹ میں موجود ریپبلیکنز دیوالیہ ہونے کے قوانین میں کسی قسم کی تبدیلی کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔

یہ تجاویز بھی ہیں کہ اس مالیاتی امداد میں حکومت کا حصہ کم کر دیا جائے اور اس کے لیے بینکوں کے اکاؤنٹنگ قوانین میں تبدیلی کی جائے جنہیں موجودہ قانون کے تحت اپنے سب پرائم قرضوں کے ڈوبنے سے ہونے والے نقصانات کی کل مالیت دینی ہوتی ہے۔

تاہم اگر اس بل میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی جاتی ہیں تو اس پر اجماع کے امکانات کم سے کم ہو جائیں گے۔

اگر بل منظور نہ ہوا تو کیا ہو گا؟

ایوانِ نمائندگان کی جانب سے ابتدائی بل کی نامنظوری کے بعد دنیا بھر میں بازارِ حصص شدید مندی کا شکار اور متزلزل رہے۔ صرف امریکی ڈاؤ جونز ہنڈریڈ انڈیکس میں سات سو ستر پوائنٹس کی کمی دیکھنے میں آئی۔ یہی نہیں بلکہ تیل کی قیمتوں اور ڈالر کی قدر میں بھی کمی ہوئی اور یہ تمام عوامل سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑا دردِ سر ثابت ہوئے ہیں۔

بہت سے سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ مرکزی مسئلہ مالیاتی نظام کی بحالی کے حوالے سے پیدا ہونے والی بے یقینی کی کیفیت ہے۔ بل منظور نہ ہونے کی صورت بینک باہمی قرضوں کی فراہمی سے کتراتے رہیں گے اور کریڈٹ مارکیٹیں منجمد رہیں گی۔

اس کے نتیجے میں بڑے اور چھوٹے کاروباری اداروں اور حتٰی کہ عام افراد کو بھی قرضوں کے حصول میں نہ صرف مشکلات کا سامنا ہوگا بلکہ جو لوگ یا کمپنیاں یہ قرضے حاصل کر بھی لیں گے انہیں زیادہ شرحِ سود ادا کرنا ہوگی۔

بیل آؤٹ بل کی منظوری کے بارے میں کتنی امید کی جا سکتی ہے؟

دونوں صدارتی امیدوارں، باراک اوبامہ اور جان میکین کی حمایت کے بعد یہ امید بڑھ گئی ہے کہ بل کی منظوری کے لیے مفاہمت کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیا جائے گا۔

صدر بش متنبہ کر چکے ہیں کہ اگر بل منظور نہ ہو سکا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے سیاستدانوں پر زور دیا ہے کہ وہ مفاہمت کا راستہ تلاش کریں۔

بدھ کو سینیٹ میں ووٹنگ کے بعد امکان ہے کہ جمعرات کو ایوان نمائندگان میں بل پر بحث ہو گی اور توقع کی جا رہی ہے کہ سینیٹ میں بل کی منظوری ایوانِ نمائندگان میں بل کی منظوری کی راہ کو قدرے ہموار کر دے گی۔

بیل آؤٹ پلان کس طرح کام کرے گا؟

منصوبے کے تحت امریکی وزیر خزانہ ہنری پولسن اس سرمائے سے بڑے مالیاتی اداروں کے مشکوک قرضوں کی خریداری کریں گے اور اس کے بدلے میں امریکی ٹیکس دہندگان کو ان بینکوں میں نان ووٹنگ اختیار حاصل ہو جائے گا جن کے قرضے خریدے جائیں گے۔ اس طرح اگر بینک اس بحران سے نکل کر منافع میں آئے تو ٹیکس دہندگان کو بھی منافع حاصل ہو سکے گا۔ تاہم اگر ٹیکس دہندگان کو خسارہ ہوا تو مالیاتی اداروں کو اس کی کچھ نے کچھ قیمت ادا کرنی ہو گی۔

بینکوں کے سربراہوں اور اعلیٰ عہدیداروں کی تنخواہوں اور مالیاتی فوائد پر پابندیاں لگا دی جائیں گی اور اب انہیں ملازمتیں چھوڑنے کے صورت میں نام نہاد گولڈن پیرا شوٹ اور ان جیسے بھاری معاوضے حاصل نہیں ہو سکیں گے۔

بینکوں اور مالیاتی اداروں کو مستقبل میں مارٹگیج قرضوں میں خساروں سے تحفظ کے لیے ’انشورنس پالیسیاں‘ خریدنا ہوں گی۔

امریکی حکومت قرضے خریدنے کے لیے کیا منصوبہ بندی کر رہی ہے؟

امریکی حکومت عالمی مالیاتی مارکیٹوں سے قرضہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت وزارتِ خزانہ کو سات سو ارب ڈالر مالیت کی’ٹریژری سکیورٹیز‘ جاری کرنے کا اختیار مل جائے گا۔

منصوبہ یہ ہے کہ وزارتِ خزانہ ان ڈوبے ہوئے اثاثوں کو ہاؤسنگ مارکیٹ میں بہتری کے بعد دوبارہ مالیاتی مارکیٹ میں فروخت کر دے گی اور اسے کچھ نفع بھی ہوگا۔

یہ بھی خدشات ہیں کہ مزید حکومتی قرضوں کا اجراء اس مسئلے کا حل نہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں بجٹ خسارہ قریباً دوگنا ہو جائےگا۔ اس سے غیر ملکی بینکوں پر امریکہ کو زیادہ انحصار کرنا پڑے گا کیونکہ ممکنہ طور پر یہی بینک ہی’ٹریژری سکیورٹیز‘ کے خریدار ہوں گے۔

اس ’بیل آؤٹ‘ کا عام امریکی پر کیا اثر ہو سکتا ہے؟

اگر آپ امریکہ میں رہتے ہیں تو آپ کے حصہ کے قومی قرضے میں تیئیس سو ڈالر کا اضافہ ہو جائے گا۔ ان امدادی منصوبوں کی کل رقم ایک اعشاریہ آٹھ کھرب ڈالر ہونے کا امکان ہے اور یہ فی امریکی خاندان پندرہ ہزار ڈالر کے مساوی ہے۔

 

 

بشکریہ بی بی سی اردو

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

آئینی پیکیج

Posted on 02/06/2008. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , |

نئے آئینی پیکیج کے تحت تمام معزول ججوں اورچیف جسٹس صاحبان کو2نومبر والی پوزیشن پر بحال کر دیا جائے گا۔نئے آئینی پیکیج میں صدر مشرف کے3 نومبر2007کے اقدامات کوآئینی تحفظ دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

پیپلزپارٹی کی جانب سے تیار کیا گیا 80نکاتی آئینی پیکیج منظرعام پرآگیا ہے جس میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت اعلیٰ عدلیہ کے تمام ججوں کو 2نومبرکی پوزیشن اور سینیارٹی پربحال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

آئینی پیکیج میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ہائی کورٹس کے چیف جسٹسسز سمیت اعلیٰ عدلیہ کے تمام جج جنہیں3نومبر2007کو کام کرنے سے روک دیا گیاتھا،2نومبر2007کی پوزیشن اور سینیارٹی پر بحال ہوجائیں گے تاہم ریٹائرمنٹ کی عمر مکمل کرنے اور کسی سرکاری ادارے میں کام کرنے والے جج صاحبان اس میں شامل نہیں ہوں گے ۔

آئینی پیکیج کے دیگراہم نکات میں یہ تجاویز دی گئی ہیں ۔ایک بار چیف جسٹس رہنے والا دوبارہ یہ عہدہ حاصل نہیں کرسکے گا۔ججز کی مدت ملازمت کا فیصلہ صلاح مشورہ سے ہوگا،آئین توڑنے والوں پرغداری کے مقدمات چلائے جائیں گے۔اہم عہدوں پرتقرری کے اختیارت وزیراعظم کو دینے کی تجویز ہے جبکہ صدر وزیراعظم کے مشورے پر15دن میں عمل کا پابند ہوگا۔سپریم کورٹ میں چاروں صوبوں کو مساوی نمائندگی دینے اورمقامی حکومتوں سے انتظامیہ کے اختیارات واپس لیکرصوبوں کودینے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے ۔جبکہ قدرتی وسائل کی آمدنی کا50فی صد صوبوں کو دینے اور کنکرنٹ لسٹ ختم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے ۔پیکیج میں خواتین اوراقلیتوں کی نشستوں کو چھوڑ کر17ویں ترمیم ختم کرنے اورسینیٹ میں میں اقلیتوں کیلئے5نشستیں مخصوص کرنے کیلئے اوراین ایف سی میں وفاقی محاصل کی تقسیم آبادی اور وسائل کی بنیاد پر کرنے کا نکتہ بھی شامل ہے ۔وزیراعلیٰ کے مستعفی ہونے پرگورنر سینئر صوبائی وزیرکو حلف لینے کی دعوت دیگا وزیراعظم کے مستعفی ہونے پرسینئر وزیر وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالے گا۔کابینہ کے ارکان نئے وزیراعظم کے انتخاب تک فرائض ادا کرتے رہیں گے۔وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کی قرارداد میں نئے وزیراعظم کا نام بھی دینا ہوگا۔اعلان جنگ کا اختیار وزیراعظم کو دینے کی تجویز ہے۔چیف جسٹس کے از خود نوٹس لینے کے اختیارات پر بعض پابندیوں کی تجویزعدالت عظمیٰ کے از خود نوٹس کے اختیارات پانچ رکنی بینچ استعمال کرسکے گا۔سپریم کورٹ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر68سال مقررکرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

آئینی پیکیج کے تحت آئین کی کئی شقوں میں ترمیم اور صدر سے قومی اسمبلی توڑنے کا اختیار واپس لینے کی بھی تجویز ہے ۔ذرائع کے مطابق آئینی پیکیج میں صدر پرویز مشرف کے3 نومبر کے اقدامات کو قانونی تحفظ دینے اور12 جولائی سے15دسمبر2007 کے درمیان کیے گئے اقدامات کو آئینی تحفظ دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے تاہم اسے تحریری طورپر مسودے میں شامل نہیں کیا گیا۔ بحوالہ روزنامہ جنگ

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

قائدِ قانون

Posted on 09/11/2007. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , |

قائد قانون ہی قومِ عقیق کی عمق ہے۔ قانون حکمران ہو تو قوم کی شان ہوتی ہے، جب انسان ایمان کے ساتھ امان بھی رکھے تو یہ ازاں سے اذعان کا ہی اعلان ہے۔ جسکو اِذن ہوتا ہے وُہ ہر حال قانون شکنی سے اعراض کرتا ہے۔ اعتزال میں بھی اعتصام ِ علم”بالادستیءِ قانون“ تھامے رکھتا ہے۔ اسی کو اعتزاز کا اعزاز کہتے ہیں، جو معاشرے کو معاشروں میں معزز بناتا ہے۔ اسی افتخار کے اقبال کو تاریخ ضیافشاں کی ضوفشاں ٹھہراتی ہے۔
قانون ا قدار، اُصول، قاعدہ، ضابطہ اور پابندی ہیں۔ قانون کچھ بھی ہوسکتا ہے، جس میں کچھ حدود مقرر ہو اور انسانیت کی فلاح واضح ہو۔ ہر گھر کا ایک اُصول، رشتہ کی قدر، کھانے کے آداب، بات کرنے کا انداز، لباس پہننے کا سلیقہ، گفتگو کے قواعد، محافل میں شرکت کرنے کے کچھ ضوابط اور مذہبی احکامات کی کچھ پابندیاں لازم ہوتی ہیں۔ یہ وُہ تمام معاملات ہے جو ایک انفرادی انسان کی ذات کا جز ہونا ضروری ہے۔ تبھی وُہ ایک مہذب انسان کہلاتا ہے۔ لائیبریری میں بیٹھنے،  بازار میں خرید و فروخت، سڑک پر چلنا  کے کچھ قاعدے بھی طےشُد ہیں اور قانون بھی مقرر ہیں، جن میں ٹکراؤ بھی نہیں۔ اِسی طرح جب ہم ایک فرد سےگروہ، تنظیم اور قوم کی حد تک چلتے ہیں تو انسان کی مضبوطی سے لے کر معاشرہ کے استحکام اور پھر مملکت کی طاقت اور امّہ کا اتحاد صرف اور صرف اپنے اپنےدائرہ  کے حدود کی مکمل پاسداری میں ہے۔ ہر درجہ کے کچھ اُصول اور قانون ہوتے ہیں۔ قانون احترام  سے ہوتا ہے، احترام قانون  سے نہیں۔
قانون ہمیں حدود سے تجاوز کرنے سے روکتا ہے۔ قانون کی پابندی ہی قانون کی بالادستی  ہے جو پابند نہیں وُہ عہد شکن  ہے جو باغی کہلاتا ہے اور باغی شیطان بھی ہوتا ہے۔ جب کبھی قانون کو توڑا جاتا ہے۔ ادارے، ملک اور قوم کمزور ہو کر انتشار کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کسی قوم کی ترقی کا راز قانون کی حکمرانی اور بالادستی میں مضمر ہے۔ مگر آج یہ بات ہمیں شائد سمجھ نہ آئے کیونکہ ہمیں کسی کی عزت اور قدر کا احساس نہیں۔ قانون کی حکمرانی انسان کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ قانون توڑنے والا قانون نافذ نہیں کرسکتا؛ وُہ صرف قانون شکنی کرنا جانتا ہے۔ کیونکہ اُس کا مزاج ہی شکن افروز ہوتا ہے۔ عہد شکن، مزاج شکن، قانون شکن،  روایت شکن، مذہب شکن مگر وُہ بت شکن نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہ بت کدوں سے ہی شکن مزاجیاں بنتی ہیں؛ جو اُسکی شہ سُرخیاں رہتی ہے۔
اسلام نےقانون کی بالادستی کی بنیاد لاالہ الااللہ محمد الرسول اللہ سےسمجھا دی۔ لفظ ’پاکستان‘  کلمہ طیبہ ہی سے ہیں تو پاکستان کا قانون بھی یہی ہوا۔ ذرا سوچیئے! یہ ہمارا اللہ سے وعدہ ہے؟ دین اسلام کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپکو اللہ کی رضا کے تابع کرلینا۔ کیا آج ہم سب اپنے آپکو اللہ کی رضا کے تابع کر چکے ہیں؟ تو پھر قانون کی بالادستی بہت دور ہے۔ کیونکہ قانون کی بالادستی والدین کا احترام اور خدمت کرنے سے شروع ہوتی ہے، اپنےقول کو ہر حال نبھانا، وعدہ کی پاسداری کرنا بھی ہے۔
آج ہمارا قانون اپنی ذات کے لئے نہیں ہوتا دوسروں کی ذات کے لئے ہوتا ہے۔ قانون سزا دینے کے لئے بناتے ہیں معاشرہ کی اصلا ح کے لئے نہیں بناتے بلکہ اصطلاح اپنی جزاء کے لئے کرتے ہیں۔ جبکہ یہ قانون شکنی ہوتی ہے۔ عادل کا انصاف دیانتداری سے ترازو کےدونوں پلڑوؤں کو مساوی کر کے ہم وزن کر دینا ہی قانون کی بالادستی ہے۔ کیا آج ہماری خواہشات قانون کے آگے سرخم کرتی ہیں اگر کر دیں تو قانون کی حکمرانی معاشرہ میں ہوگی۔ جس سے ہمارےگھر، شہر، ملک اور دُنیا بلکہ ہر معاملہ شعبہءزندگی میں امن قائم ہو جائےگا۔ قانون کا احترام well mannered لوگ کیا کرتے ہیں، وُہ افراد اعلٰی ظرف، تہذیب یافتہ عالی خاندانوں کے چشموں چراغ اور مہذب قوم کے نمائندے کہلاتے ہیں۔ جو قانون کا احترام نہ کرسکیں وُہ well mannered  نہیں ہوسکتا۔ جو well-mannered نہیں وُہ نہ تو respected ہو سکتا ہے اور نہ ہی Honoarable ۔
آج ہم قاعدہ کیوں نہیں بناتے کہ ایک کہانی ہے کہ ’چور اپنے اصول کی وجہ سے پکڑا گیا ورنہ چوری تو وُہ کر بیٹھا تھا۔ اصول نے مروا دیا۔ وُہ بے وقوف تھا۔‘حقیقتاً وُہ معاشرہ اور چور نادان نہ تھے نہایت ہی عاقل تھے۔ چوروں کے کچھ لوٹنے کے اُصول بھی ہوتے تھے۔ آج اصول نہیں تبھی اخبارات ڈاکو کے ڈاکے کے ساتھ قتل، ظلم اور زیادتی کی خبر ہیں۔ جہاں قانون کی حکمرانی ہو وہاں چور چوری مجبوری سےکرتا ہے، اور اپنی ضرورت سے بڑھ کر زیادتی نہیں کرتا۔ صرف اپنی ضرورت پوری کرتا ہے، ہوس (دولت، مرتبہ، نگاہ) کی تسکین نہیں کرتا۔
اگر کسی قوم کو کامیاب بننا ہے تو ہرفرد کو اپنے اندر دوسروں کی عزت کرنے کا جذبہ پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اُصولوں پر ڈٹ جانا؛ چاہے موت واقع ہو جائے مگر ضمیر کا سودا نہ کرے۔ اس کا عملی نمونہ قائد اعظم رول ماڈل کے طور پر ایک مشعلچی کی صورت میں مشعل راہ ہے۔ جب ہم اپنے دل اور مزاج پر اللہ  کی حاکمیت کو تسلیم کریں گے تو قانون کی حکمرانی آہستہ آہستہ ہماری ذات، گھر، خاندان، شہر، معاشرے اور ملک میں نافذ ہو جائےگی۔ ہمیں خود مشعلچی نہیں بننا بلکہ اُس مشعل راہ کو اپنانا ہے جو قائداعظم نےعطاء کی۔
بالادستیءِ قانون انسان کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ہر طرح کا تحفظ جو آپ سوچ سکتے ہیں۔ صحتمند قوم صحتمند سوچ سے ہی ہوتی  ہے اور صحتمند سوچ قانون کی حکمرانی سے ہوتی ہے۔
اے اللہ ہر مسلمان کو اپنے والدین کا احترام کرنے کی توفیق عطاء فرما یہی احترام قانون کی اساس ہے اور ملک پاکستان پر اخلاق کی قدر سے قانون کی بالادستی عطاء فرما دے۔ اسی اغلاق کا اطلاق ہونا باقی ہے۔ یہی اعماق ہیں جنکو عملی طور پر اختیار کر کےسمجھنا اَشد ضروری ہے۔ (فرخ)
عقیق (قیمتی) ، عمق (گہرائی) ، ازاں (آغاز)، اذعان (فرمانبرداری سےاطاعت)، اِذن (اختیار سونپنا)، اعراض (بچنا)، اعتزال (دستبرداری)، اعتصام ِ علم (مضبوطی سےجھنڈا تھامےرکھنا)، اعتزاز (وُہ خوبی جسکا اثر بھی ہو) ، ضیافشاں (روشنی پھیلانا) ، ضوفشاں (روشنی پھیلنا)

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

عبوری آئینی حکم 2007ء کا متن

Posted on 04/11/2007. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , , |

چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ہفتہ کے روز عبوری آئینی فرمان جاری کیا گیا ہے، جس کا متن حسب ذیل ہے۔

”حکم نامہ 3 نومبر 2007ء  کی پیروی اور اس ضمن میں حاصل تمام اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف نے 3 نومبر 2007ء کے ہنگامی حالت کے فرمان کے تحت درج ذیل حکمنامہ جاری اور نافذ کیا ہے۔

(1) اس حکم کو عبوری آئینی حکمنامہ نمبر (1) آف 2007ء کہا جائے گا۔
(2) یہ پورے پاکستان پر محیط ہوگا۔
(3) یہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

(1) اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دفعات کے التواء کے باوجود پاکستان کا نظم و نسق اس حکم اور صدر مملکت کی جانب سے جاری کیے جانے والے کسی دوسرے حکم کے تابع جس حد تک بھی ممکن ہوا، آئین کے مطابق چلایا جائے گا۔
بشرطیکہ، صدر مملکت وقتاً فوقتاً حکم کے ذریعے آئین میں ضروری سمجھی جانے والی ترمیم کر سکیں گے۔
بشرطیکہ، آرٹیکلز 9,10,15,16,17,19 اور 25 کے تحت بنیادی حقوق معطل رہیں گے۔
(2) باوجود یہ کہ3 نومبر 2007ء کے حکمنامے یا اس حکم یا نافذ کیے جانے والے کسی اور قانون میں بیان کردہ کوئی چیز، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آرٹیکلز2 2A, 31, 203A سے,203J 227  سے 231 اور 260 (3) a اور(b) سمیت اسلامی احکامات کی حامل تمام شقیں نافذ العمل رہیں گی۔
(3) حکمنامے کی کلاز(1) اور عہدے (ججز)کے حلف حکمنامہ 2007ء سے مشروط اس آرڈر کے نفاذ سے قبل موجود تمام عدالتیں کام کرتی رہیں گی اور اپنے متعلقہ اختیارات اور دائرہ اختیار کو بروئے کار لاتی رہیں گی۔ بشرطیکہ سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ اور کسی دیگر عدالت کو صدر مملکت وزیراعظم یا ان کی اتھارٹی کے تحت اختیارات بروئے کار لانے والے کسی اور شخص کے خلاف کوئی حکم جاری کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔
(4) تمام افراد جو اس حکمنامے کے نفاذ سے فوری قبل سپریم کورٹ، وفاقی شرعی عدالت یا ہائیکورٹ کے ججز کی حیثیت سے عہدے پر تھے، عہدے (ججز) کے حلف آرڈر 2007ء اور صدر کی طرف سے جاری کئے جانے والے ایسے کسی مزید حکم کے تحت اور تابع ہونگے۔
(5) کلاز (1) سے مشروط مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) اور صوبائی اسمبلیاں کام کرتی رہیں گی۔
(6) تمام افراد، جو اس حکم کے نفاذ سے عین قبل وفاق یا کسی صوبے بشمول آل پاکستان سروس، مسلح افواج میں سروس اور سروس آف پاکستان یا مجلس شوریٰ کے ایکٹ یا صوبائی اسمبلی یا چیف الیکشن کمشنر یا آڈیٹر جنرل قرار دی جانے والی کوئی اور سروس کے حوالے سے کسی سروس، عہدے یا منصب پر تھے، انہی شرائط پر مذکورہ خدمات سر انجام دیتے رہیں گے اور انہیں وہی مراعات حاصل ہونگی جب تک کہ صدر کے احکامات کے تحت تبدیل نہیں کی جاتیں۔

(1) سپریم کورٹ وفاقی شرعی عدالت اور ہائیکورٹس سمیت کوئی بھی عدالت یا کوئی ٹربیونل یا کوئی اور اتھارٹی اس حکم، 3 نومبر 2007ء کے ہنگامی حالت کے نفاذ، عہدے (ججز) کے حلف حکمنامہ 2007ء یا اس حوالے سے جاری کردہ کسی اور حکم پر سوال نہیں اٹھائے گی اور نہ ہی اس کی اجازت دیگی۔
(2) صدر، وزیراعظم یا صدر کی طرف سے نامزد کی جانے والی کسی اتھارٹی کے خلاف کسی عدالت یا ٹربیونل کی طرف سے کوئی فیصلہ، ڈگری، حکم یا کارروائی نہیں کی جائیگی۔

(1) آئین کی دفعات کے التواء کے باوجود لیکن صدر کے احکامات سے مشروط آئین کے علاوہ تمام قوانین، تمام آرڈیننس، آرڈرز، رولز، بائی لاز، ریگولیشنز، نوٹیفکیشنز اور دیگر قانونی دستاویزات جو پاکستان کے کسی حصے میں نافذ العمل ہوں خواہ صدر یا کسی صوبے کے گورنر کی طرف سے جاری کی گئی ہوں، صدر یا ان کی نامزد کردہ کسی شخصیت کی طرف سے تبدیلی، ترمیم یا منسوخی تک نافذ العمل رہیں گی۔

(1) صدر یا کسی صوبے کے گورنر کی طرف سے نافذ کردہ کوئی آرڈیننس آئین میں مقرر کردہ دورانیے کے حوالے سے کسی تحدید سے مشروط نہیں ہوگا۔
(2) کلاز(1) کی شقیں صدر یا گورنر کی جاری کردہ کسی آرڈیننس جو 3 نومبر 2007ء کے ہنگامی حالت کے نفاذ سے فوری پہلے نافذ العمل تھا، پر بھی لاگو ہونگی۔
بشکریہ روزنامہ جنگ

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

امتناعِ قادیانیت آرڈیننس نمبر ٢٠ مجریہ ١٩٨٤ء

Posted on 07/09/2007. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , , , , , |

١٩٨٤ء میں جنرل ضیاءالحق مرحوم کے دور میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مطالبہ پر جنرل ضیاءالحق نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا جس کی رو سے قادیانیوں کو شعائر اسلام استعمال کرنے سے روکا گیا۔ اس طرح مسلمانوں کے تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، سیاسی جماعتوں کی شراکت عام مسلمانوں کی قربانیوں سے اللہ تعالٰی نے اس مسئلہ کو حل کیا۔ اس کا تمام تر سہرا اور کریڈٹ عام مسلمانوں کو جاتا ہے جو آج بھی عقیدہ ختم نبوت پر جان نچھاور کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔

سلام ہے ختم نبوت کے ان پروانوں پر

امتناعِ قادیانیت آرڈیننس نمبر ٢٠ مجریہ ١٩٨٤ء
قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کرنے کا آرڈیننس
چونکہ یہ قرین مصلحت ہے کہ قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کی جائے۔
اور چونکہ صدر کو اطمینان ہے کہ ایسے حالات موجود ہیں جن کی بنا پر فوری کاروائی کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
لہذا اب ٥ جولائی ١٩٧٧ کے اعلان کے بموجب اور اس سلسلے میں اسے مجاز کرنے والے تمام اختیارات استعمال کرتے ہوئے صدر نے حسب ذیل آرڈیننس وضع اور جاری کیا۔

حصہ اول ابتدائیہ

١۔مختصر عنوان اور آغاز نفاذ
(١) یہ آرڈیننس قدیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کی خلاف اسلام سرگرمیاں (امتناع و تعزیر) آرڈیننس ١٩٨٤ء کے نام سے موسوم ہو گا۔
(٢) یہ فی الفور نافذالعمل ہو گا۔

٢۔ آرڈیننس عدالتوں کے احکام اور فیصلوں پر غالب ہو گا۔
اس آرڈیننس کے احکام کسی عدالت کے کسی حکم یا فیصلے کے باوجود موثر ہوں گے۔

حصہ دوم

مجموعہ تعزیرات پاکستان
(ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء) کی ترمیم
٣۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعات ٢٩٨۔ب اور ٢٩٨۔ج کا اضافہ
مجموعہ تعزیراتپاکستان (ایکٹ نمبر ٤٥، ١٨٦٠ء میں باب ١٥ میں، دفعہ ٢٩٨ الف کے بعد حسب ذیل نئی دفعات کا اضافہ کیا جائے گا یعنی ۔۔۔
٢٩٨۔ب بعض مقدس شخصیات یا مقامات کے لئے
مخصوص القاب، اوصاف یا خطابات وغیرہ کا ناجائز استعمال
(١) قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود ‘احمدی‘ یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے۔
(الف) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ یا صحابی کے علاوہ کسی شخص کو امیرالمومنین، خلیفتہ المومین، خلیفتہ المسلمین، صحابی یا رضی اللہ عنہ کے طور پر منوب کرے یا مخاطب کرے۔
(ب) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ مطہرہ کے علاوہ کسی ذات کو ام المومنین کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔
(ج) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان (اہل بیت) کے کسی فرد کے علاوہ کسی شخص کو اہل بیت کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے یا۔
(د) اپنی عبادت گاہ کو ‘مسجد‘ کے طور پر منسوب کرے یا موسوم کرے یا پکارے۔
تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔

(٢) قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود ‘احمدی‘ یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری، یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب میں عبادت کے لئے بلانے کے طریقے یا صورت کو اذان کے طور پر منسوب کرے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں تو اسے کسی قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا مستوجب بھی ہو گا۔

٢٩٨۔قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان کہے
قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود ‘احمدی‘ یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو بلاوسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کی مذہبی احساسات کو مجروح کرے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔

٤۔ ایکٹ نبر ٥ بابت ١٨٩٨ء کی دفعہ ٩٩۔الف کی ترمیم
مجموعہ ضابطہ فوجداری ١٨٩٨ء (ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء) میں جس کا حوالہ بعدازیں مذکورہ مجموعہ کے طور پر دیا گیا ہے دفعہ ٩٩، الف میں، ذیلی دفعہ (١) میں
(الف) الفاظ اور سکتہ ‘اس طبقہ کے‘ کے بعد الفاظ، ہند سے، قوسین، حروف اور سکتے اس نوعیت کا کوئی مواد جا کا حوالہ مغربی پریس اور پبلی کیشنز آرڈیننس ١٩٦٣ء کی دفعہ ٢٤ کی ذیلی دفعہ (١) کی شق (ی ی ) میں دیا گیا ہے شامل کر دئیے جائیں گے، اور
(ب) ہندسہ اور حرف ‘٢٩٨۔الف کے بعد الفاظ، ہندسے اور حرف‘ یا دفعہ ٢٩٨۔ب یا دفعہ ٢٩٨۔ج‘ شامل کر دئیے جائیں گے۔ یعنی ۔۔

 

8 7 6 5 4 3 2 1
ایضاً تین سال کےلئے کسی ایک قسم کی سزائے قید اور جرمانہ ایضاً ناقابل ضمانت ایضاً ایضاً بعض مقدس شخصیات کےلئے مخصوص القاب، اوصاف اور خطابات وغیرہ کا نا جائز استعمال ٢٩٨۔ب
ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے ٢٩٨۔ج

Read Full Post | Make a Comment ( 5 so far )

امتناع قادیانیت بل

Posted on 07/09/2007. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , , , , , |

١٩٧٤ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے تحریک ختم نبوت کو دبانے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی جس کے بعد قومی اسمبلی کو خصوصی کیمٹی کا درجہ دیا اور اس مسئلہ پر بحث شروع کی۔ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو قومی اسمبلی میں بلایا گیا، ان کا بیان ہوا، مولانا مفتی محمود نے قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے اٹارنی جنرل یحٰیی بختیار کے ذریعہ جرح کی۔ مرزا ناصر نے واضح طور پر اعلان کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے والے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ لاہوری گروہ کے مرزا صدرالدین کو بلا گیا ان دونوں پر تقریبا ١٣ دن جرح ہوئی بالآخر قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد منظور کر لی۔ اس طرح ٧ستمبر ١٩٧٤ء وہ تاریخی دن قرار پایا جب نوے سالہ پرانا مسئلہ حل ہوا۔ امت مسلمہ نے سکون کا سانس لیا اور عقیدہ ختم نبوت کو فتح و بلندی عطا ہوئی۔مجلس عمل تحفظ ختم نبوت اور اپوزیشن کے درج ذیل افراد کی طرف سے مولانا شاہ احمد نورانی نے قادیانوں کو غیر مسلم اقیلت قرار دینے کی قرارداد پیش کی ۔۔۔۔
نام درج ذیل ہیں۔
مولانا مفتی محود، مولانا عبدالمصطفٰی ازہری، مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی، پروفیسر غفور احمد، مولانا سید محمد علی رضوی، مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک، چوہدری ظہور الہی، سردار شیرباز خان مزاری، مولاناظفر احمد انصاری، عبدالحمید خان جتوئی، صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری، محمود اعظم فاروقی، مولانا صدر الشہید، مولانا نعمت اللہ، عمرہ خان، مخدوم نور محمد، جناب غلام فاروق، سردار مولا بخش سومرو، سردار شوکت حیات خان، حاجی علی احمد تالپور، راؤ خورشید علی خان، رئیس عطا محمد خان مری
بعد میں درج ذیل افراد نے بھی تائیدی دستخط کئے۔
نوابزادہ میاں ذاکر قریشی، غلام حسن خان، کرم بخش اعوان، صاحبزادہ محمد نذر سلطان، میر غلام حیدر بھروانہ، میاں محمد ابراہیم برق، صاحبزادہ صفی اللہ، صاحبزادہ نعمت اللہ خان شنواری، ملک جہانگیر خان، عبدالسبحان خان، اکبر خان مہمند، میجر جنرل جمالدار، حاجی صالح خان، عبدالمالک خان، خواجہ جمال محمد گوریجہ۔

اپوزیشن کی جانب سے پیش ہونے والی قرارداد

جناب سپیکر
قومی اسمبلی پاکستان
محترمی!
ہم حسب ذیل تحریک پیش کرنے اجازت چاہتے ہیں۔
ہرگاہ کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد نے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی ہونے کا دعوٰی کیا، نیز ہرگاہ کہ نبی ہونے کا اس جھوٹا اعلان، بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے اور جہاد کو ختم کرنے کی اس کی کوششیں اسلام کے بڑے بڑے احکام کے خلاف ورزی تھیں۔
نیز ہر گاہ کہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اور اس کا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اور اسلام کو جھٹلانا تھا۔
نیز ہرگاہ کہ پوری اُمت مسلمہ کو اس پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار، چاہے وہ مرزا غلام احمد مذکور کہ نبوت کا یقین رکھتے ہوں یا اسے اپنا مصلح یا مذہبی رہمنا کسی بھی صورت میں گردانتے ہوں، دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
نیز ہرگاہ کہ ان کے پیروکار چاہے انہیں کوئی بھی نام دیا جائے۔ مسلمانوں کے گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانہ کر کے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
نیز ہرگاہ کہ عالمی تنظیموںکی ایک کانفرنس میں جو مکہ مکرمہ کے مقدس شہر میں رابطہ عالم اسلامی کے زیرانتظام ٦ اور ١٠ اپریل ١٩٧٤ء کے درمیان منقعد ہوئی اور جس میں دنیا بھر کے تمام حصوں سے ١٤٠ مسلمان تنظیموں اور اداروں کے وفود نے شرکت کی، متفقہ طور پر رائے ظاہر کی گئی کہ قادیانیت اسلام اور عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعوٰی کرتی ہے۔
اب اس کو یہ اعلان کرنے کی کاروائی کرنی چاہیے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار انہیں چاہے کوئی بھی نام دیا جائے، مسلمان نہیں اور یہ کہ مومی اسمبلی میں ایک سرکاری بل پیش کیا جائے تاکہ اس اعلان کو موثر بنانے کے لئے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر ان کے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کے لئے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری ترمیمات کی جائیں۔

٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو منظور ہونے والی تاریخی ترمیم
قومی اسمبلی کے کل ایوان پر مشتمل خصوصی کیمٹی متفقہ طور پر طے کرتی ہے کہ حسب ذیل سفارشات قومی اسمبلی کو غور اور منظوری کے لئے بھیجی جائیں۔
کل ایوان کی خصوصی کیمٹی اپنی رہمنا کیمٹی اور ذیلی کیمٹی کی طرف سے اس کے سامنے پیش یا قومی اسمبلی کی طرف سے اس کو بھیجی گئی قراردادوں پر غور کرنے دستاویزات کا مطالعہ کرنے اور گواہوں بشمول سربراہان انجمن احمدیہ ربوہ اور انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور کی شہادتوں اور جرح پر غور کرنے کے بعد متفقہ طور پر قومی اسمبلی کو حسب ذیل سفارشات پیش کرتی ہے۔
(الف) کہ پاکستان کے آئین میں حسب ذیل ترمیم کی جائے۔
(اول) دفعہ ١٠٦ (٣) میں قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) کا ذکر کیا جائے۔
(دوم) دفعہ ٢٦٠ میں ایک نئی شق کے ذریعے غیر مسلم کی تعریف درج کی جائے مذکورہ بالا سفارشات کے نفاذ کے لئے خصوصی کیمٹی کی طرف سے متفقہ طور پر مسودہ قانون منسلک ہے۔

(ب) کہ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ٢٩٥ الف میں حسب حسب ذیل تشریح درض کی جائے۔
تشریح:- کوئی مسلمان جو آئین کی دفعہ ٢٦٠ کی شق (٣) کی تصریحات کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کے تصور کے خلاف عقیدہ رکھے یا عمل یا تبلیغ کرے وہ دفعہ ہذا کے تحت مستوجب سزا ہو گا۔

(ج) کہ متفقہ قوانین مثلا قومی رجسٹریشن ایکٹ ١٩٧٣ء اور انتخابی فہرستوں کے قواعد ١٩٧٤ء میں منتنحبہ اور ضابطہ کی ترمیمات کی جائیں۔

(ہ) کہ پاکستان کے تمام شہریوں خواہ وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں، کے جان و مال، آزادی، عزت اور بنیادی حقوق کا پوری طرح تحفظ اور دفاع کیا جائے گا۔

(قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے کے لئے)
آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مزید ترمیم کرنے کا بل
ہرگاہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعدازاں درج ذیل اغراض کے لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید ترمیم کی جائے۔
لہذا بذریعہ ہذا حسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے۔
١۔ مختلف عنوان اور آغاز نفاظ
(١) یہ ایکٹ آئین (ترمیم دوم) ایکٹ ١٩٧٣ء کہلائے گا۔
(٢) یہ فی الفور نافذالعمل ہو گا۔

٢۔ آئین کی دفعہ ١٠٦ کی شق (٣) میں لفظ فرقوں کے بعد الفاظ اور قوسین ‘اور قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں)‘ درج کئے جائیں گے۔

٣۔ آئین کی دفعہ ٢٦٠ میں ترمیم، آئین کی دفعہ ٢٦٠ میں شق (٢) کے بعد حسب ذیل نئی شق درج کی جائے گی یعنی ‘ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعوٰی کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا نبی مصلح تسلیم کرتا ہے وہ آئین یا قانون کی اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...