بینک لوٹنے والے شرفاء

Posted on 24/12/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

عدالت عظمیٰ این آر او پرتاریخی فیصلہ دینے کے بعد اب قوم کے اربوں روپے کھاجانے والوں کے حلق میں ہاتھ ڈال کر یہ پیسہ نکلواناچاہتی ہے۔ کیا یہ اس غریب قوم پرظلم کی انتہا نہیں کہ صرف 13 برس میں 196 ارب روپے کے قرضے لے کر معاف کرالیے گئی؟ فہرست اٹھاکر دیکھیں تو ان میں سے کوئی بھی ایسا نہ نکلے گا جس کے قرضے اس کی غربت کی وجہ سے معاف کیے گئے ہوں۔ کتنے ایسے ہیں جنہوں نے ایک طرف تو قرضے ہڑپ کرلیے اور دوسری طرف ان کے عیش وعشرت میں کوئی کمی نہ آئی بلکہ اب بھی اللیّ تللّے کرتے پھررہے ہیں۔ اب ان کی پکڑتو ہورہی ہے لیکن کیا ایسے لوگوں سے قوم کی دولت اگلوائی جاسکے گی‘ یہ ایک اہم سوال ہے۔ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس افتخار محمدچوہدری نے 2006ءہی میں اربوں روپے معاف کرانے والوں کے خلاف ازخود نوٹس لیا تھا جس کی سماعت 2007ءتک ہوتی رہی۔ اسی سال جنرل پرویز مشرف نے عدالتوں پر حملہ کردیا اور یہ اہم معاملہ کھٹائی میں پڑگیا۔ ممکن ہے کہ جسٹس افتخار محمدچوہدری کے خلاف آمرانہ اقدامات کے پس منظرمیں یہ بھی ایک وجہ رہی ہو۔ جنہوں نے قرضے معاف کروائے وہ بہرحال بااثر افراد ہیں اور ہرحکومت میں اقتدارکی غلام گردشوں کے چوب دار رہے ہیں ۔ تجارت‘ صنعت یا کسی بھی کاروبارکے لیے قرض لینا ایک معمول ہے اور کوئی معیوب بات نہیں۔ لیکن اس قرض کی ادائیگی بھی تو ضروری ہوتی ہے۔ بینک کسی کو قرضہ دیتے ہوئے ایسی ضمانتیں ضرور طلب کرتے ہیں کہ قرض ادانہ ہونے کی صورت میں رقم وصول کی جاسکے۔ یہ صورتحال عام افراد کے معاملہ میں آئے دن نظرآتی ہے اور بقول چیف جسٹس کے کہ اگر ایک بیوہ قرض ادانہ کرسکے تو اس کا مکان چھین لیا جاتاہے۔ ایک افسوسناک واقعہ کراچی میں یہ ہوچکاہے کہ ایک بینک سے لیے گئے قرض کی قسط وقت پر ادانہ کرنے پر بینک نے اپنے پالتو غنڈوں کو اس شہری کے گھرپر بھیج دیا اور انہوں نے خواتین تک کی ایسی بے عزتی کی کہ مقروض نوجوان نے خودکشی کرلی۔ کیا اس بینک یا دیگر بڑے بڑے بینکوں نے لاکھوں‘ کروڑوں کے قرضے لینے والوں کے گھروں پربھی اپنے غنڈے بھیجے؟ ہرگز نہیں۔ اس کی جرات ہی نہیں ہوسکتی کہ وہ سب بااثر افرادہیں۔اسٹیٹ بینک نے عدالت کے مطالبہ پرگزشتہ 13 برس میں قرضے معاف کرانے والے 19 ہزار 711 افراد کی فہرست جمع کرادی ہے۔ یہ لوگ ملک بھرکے 37 بینکوں سے 196 ارب روپے کے قرضے لے کر کھاگئے۔ سب سے زیادہ قرض حبیب بینک سے معاف کرایا گیا۔ چیف جسٹس نے ان قرض خوروں کو آخری انتباہ کیاہے اور اس عزم کا اظہارکیاہے کہ کسی کو قوم کا پیسہ نہیں کھانے دیاجائے گا۔ جناب افتخارمحمدچوہدری نے کہاہے کہ قرضوں کی واپسی کے لیے ایک موقع ضرور دیں گے اس کے بعد کرمنل کیسز بنائیں گے اور بلا امتیازکارروائی ہوگی۔ عدالت نے 1971ءسے قرضے معاف کرانے والوں کی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔ قوم کو معلوم تو ہونا چاہیے کہ یہ کون لوگ ہیں جو عوام کو لوٹ کر کھاگئے اور ان میں سے کئی شاید اب بھی ہیروبنے ہوئے ہوں معاملہ اب عدالت عظمیٰ میں ہے۔ یہ تحقیق بھی ہونی چاہیے کہ بینکوں نے کس کی ضمانت پر قرضے فراہم کیے اور کس کے دباﺅ پر معاف کیے۔ بینک ازخود تو قرضہ معاف کرنے سے رہے۔ ممکن ہے کچھ عناصرکی طرف سے اچھل کود بھی ہو تاہم چیف جسٹس نے کہاہے کہ وہ ہرمزاحمت کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ سے بھی کہاہے کہ قرض خوروں کے خلاف ضروری قانون سازی کی جائے ورنہ آئین کی دفعہ 184(3)کے تحت عدالت اپنی ذمہ داریاں انجام دینے پرمجبورہوگی۔ انہوں نے نادہندگان سے وصولی پرحکومتی تساہل پرشدید تنقید بھی کی۔ ہمیں توقع ہے کہ موجودہ حکومت ان بڑے بڑے مگرمچھوں سے قوم کا پیسہ اگلوائے گی اور اس طرح اپنی نیک نامی کاسبب کرے گی اور اس معاملہ میں عدالت سے مزاحم ہونے کا تصورقائم نہیں کرے گی۔ اس ضمن میں کسی بھی پارٹی کا لحاظ نہ کیاجائے اورجوبھی نادہندہ ہو اس سے پیسہ وصول کیاجائے۔ 196 ارب روپے کچھ کم نہیں ہوتے ۔ممکن ہے کہ اس فہرست میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں جنہوں نے مجبوراً اورجائز وجوہات کی بناپر قرضے معاف کرائے ہوں کہ وہ اداکرنے کی پوزیشن ہی میں نہ ہوں تاہم نادہندگان کی موجودہ مالی پوزیشن کو دیکھ کر فیصلہ کیاجاسکتاہے۔ اتنی بڑی رقم واپس مل جائے تو اس سے بہت سے کام نکل سکتے ہیں۔ یہ مجبور وبے کس قوم ہرطرف سے پس رہی ہے۔ ایک طرف تو بڑے بڑے سرمایہ دار اور سیاستدان قوم کا پیسہ کھاگئے دوسری طرف مہنگائی کا عذاب مسلط ہورہاہے۔ آئے دن بجلی‘ گیس‘ ڈیزل ‘پیٹرول کے نرخ بڑھ رہے ہیں اوریہ سارا بوجھ عوام ہی پرپڑرہاہے۔ بینکوں نے جو قرضے معاف کیے ہیں وہ کسی بینکار نے اپنی جیب سے ادانہیں کیے۔ بینک ہوں یا خدمات فراہم کرنے والے سرکاری ادارے‘ عام آدمی پر ایک پیسہ بھی نہیں چھوڑا جاتا ۔یہ امتیاز کب تک ؟ کیا قرضے معاف کرانے والے بھی بینکوں کو لوٹنے والوں سے کم ہیں؟۔لنک

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...