وطن کی فکر کر ناداں

Posted on 23/09/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |



Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

حقیقت، قومِ پاکستان

Posted on 16/08/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , , , , , , |

پاکستان ایک ایسی حقیقت ہے، جس کو نہ تو بھلایا جاسکتا ہے اور نہ ہی اُسکا انکار ممکن ہے۔ حقیقت کو سمجھنے کے لیئے یہ خود ایک حقیقت ہے۔ پاکستان نہ تو کوئی فرضی داستان ہے اور نہ ہی کوئی فرضی حد بندی۔ یہ ایک ایسا وجود ہے، جسکا تسلیم کیا جانا ہی حقیقت کا آغاز ہے۔ اس کی حقیقت کو سمجھنے کے لیئے تحریک پاکستان کو سمجھنا ضروری ہے۔
حقیقت کیا ہے؟ یہ راز کھولتی ہے۔ حقائق سے جب پردہ اُٹھتا ہے تو نئے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ حقیقت اصلیت ہے، نہ چاہتے ہوئے بھی تسیلم ہوجانا حقیقت ہی ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے، مانیں یا نہ مانیں؛ جو بات دِل پر اثر کر جائے تو ایسی بات کچھ نہ کچھ وزن تو رکھتی ہے۔
نظریہ پاکستان ایک ایسی حقیقت ہے؛ جس کے حقائق کو جان لینا؛ ہر پاکستانی کیلیئے لازم ہے۔ یہ وُہ نظریہ ہے؛ جس کی حد محدود نہیں، اِسکا نقطہ نظر سوچ کو وسعت کے ساتھ بصیرت بھی عطاء کرتا ہے۔ جسکا ہر پہلو حقیقی و عملی ہے؛ اسکے ہر معاملہ کے پیچھے صرف وسیع ترمعنٰی پنہاں نہیں بلکہ ١٤٠٠ سال کے کامیاب ترین تجربات کا عیّاں ہونا بھی ہے۔ جن کی بنیاد رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی تعلیم ہی ہے۔ جو اسکی عالمگیری وسعت اور تسلیمیت کا مظہر ہے۔
نظریہ قوم دراصل نظریہ وحدت ہے، نظریہ فرد نہیں۔ قوم رنگ، نسل، زبان، علاقہ یا قبیلہ وغیرہ کی بنیاد پر نہیں بنتی بلکہ عقیدہ کی بنیاد قوم ہے۔ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ یہ وُہ بنیاد ہے جو وسعت نظری اور قومی احساس کا وجود لاتی ہے۔ علاقائی قوم کا تصور تنگ نظری پیدا کرتا ہے، یہ وحدت کی بجائے تعصب سے علیحدگی کا باعث بنتا ہے۔ جو تقسیم، نفرت اور احساس محرومی کی کثرت کا سبب بنتے ہیں۔

موج دریا میں ہے، بیرون دریا کچھ نہیں
فرد ملت سے ہے، بیرون ملت کچھ نہیں


قوم پاکستان کا نظریہ ہمارے ہر رنگ کا حصّہ ہے۔ قوم کی تعریف سے ہٹ کر زبان، مذہب، ثقافت اور تمدن کے معاملات کو دیکھ لیں؛ آپکو ہر جگہ پاکستان نظر آئےگا۔
قومی زبان اُردو علاقائی زبانوں اور لب و لہجہ کو وحدت بخشتی ہے۔ سوچ، خیال اور عمل کو ایک دھارے میں لاتی ہے۔ دھارا کیا ہے؟ صوفیانہ رنگ۔ وُہ کیسے؟ پاکستان میں بولی جانے والی تمام علاقائی زبانوں کا اعلٰی ترین ادبی رنگ دیکھیئے تو وُہ شاعرانہ رنگ؛ صوفیانہ کلام ہے۔ تمام خطہء پاکستان کی مشترکہ تعلیم؛ صوفیانہ تعلیم رہی۔ اُردو کا ظہور یہیں سے ہوا۔ ”کسی شعر میں جسقدر صوفیانہ رنگ غالب ہوگا، اُسکا مقام اُسقدر بلند اور اعلیٰ ترین تصور کیا جائےگا“ (واصف صاحب)۔
بطور مسلمان ہماری پہچان کلمہ طیبہ ہے، مسلک یا فرقہ نہیں۔ ولی اللہ مسلک کی نہیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کی بات عمل سے کر کے بتاتے ہیں۔ قائداعظم سے کسی نے دوران انٹرویو پوچھ لیا؛ آپکا فرقہ کونسا ہے؟ آپ نےکچھ یوں جواب میں فرمایا میرا فرقہ وہی ہے جو رسول پاک کا تھا۔ تو اُس فرد نے کہا اُس دور میں تو کوئی فرقہ نہ تھا۔ تو محترم قائداعظم نے فرمایا میں رسول پاک کی دی گئی تعلیم کےمطابق عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ١٨٥٧ء سے قبل فرقہ کا اختلاف نہ تھا۔ انگریز نے” تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کےاصول پر یہ فتنہ پیدا کیا۔ سید احمد شہید کی تحریک اسی سازش کا شکار ہوئی۔ آج اصل اور نقل کے الزام میں جانشینی کے اختلاف کیا ہیں۔ ہم مسلک، علاقہ، ذات، زبان، برادری ، جماعت کے انفراد ی ذاتی مفاد کے نام پر تقسیم ہوئے اور منقسم کیئے بھی گئے۔ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےآخری خطبہ کی اہمیت تقریر کے علاوہ عملاً بھول جاتے ہیں۔
مسجد اتحاد پیدا کرتی ہے۔ یہاں پر ہم محبت کا عملی درس سیکھتے ہیں۔ بیشک آج حقیقی تعلیم دینے والےمحترم افراد قلیل ہے مگر معاملات آج بھی تعلیم دے رہے ہیں۔ ایک قبلہ کی جانب منہ کر کے، امام کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں۔ اُسکا احترام مدنظر رکھتے ہیں۔ صف بندی میں بلا امتیاز کھڑے ہوتے ہیں۔ مل کر خدا کےحضور سجدہ کرتے ہیں، دعا مانگتے ہیں۔ صدقہ، خیرات اور زکوٰ ة سے کمزوروں کی مدد کرتے ہیں ہماری عبادات کا عمل محبت سے قوم میں وحدت کا جذبہ بیدار رکھتا ہے۔
مسجد معاشرہ میں ایک ایسے معاشرتی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے؛ جہاں عبادات، تعلیم (مدارس)، انتظامی امور، مالی معاونت اور قانونی فیصلے تک کیئے جاتے ہیں۔
تعمیرا ت کو ہی لیجیئے۔ اللہ خود ایک ہے، اُسکو یکتائی پسند ہے اسی لیئے عمارات میں محرابوں کی تعداد اطاق رکھتے ہیں۔ اسلامی فن تعمیرات میں جیومیٹریکل ڈیزائن، خطاطی، نقش کاری، کاشی کاری اور کندہ کاری کے کام میں ہر فنکار نے اَن گنت ڈیزائن تخلیق کیئے اور ہر تخلیق کار اور تخیل گو کا بنیادی نقطہ ”وحدت“ (unity) رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیزائن میں یکتائیت کی افراط کے باوجود ؛اسلامی نظریہ وحدت یکسانیت رکھتا ہے۔ حتٰی کہ ہمارےگھروں کی کھڑکیاں، دروازی، چھتیں، باغات میں بارہ دریوں، فواروں اور پودوں وغیرہ کی ترتیب میں طاق اعداد اور وحدت کے نقطہ نظر کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ مینار ہی کو لیجیئے یہ ذات باری تعالیٰ کی برتری اور اقتدار اعلیٰ کا نظریہ؛ ارتقاء سے بلندی کی جانب لیجانےکا ترجمان ہے۔ آغازِ اسلام میں اذان بلند چھت یا مقام پر جا کردی جاتی تھی۔ جس کے دو مقاصد تھے، ظاہری یہ تھا کہ آواز تمام شہر یا حد آخر تک سنائی دے۔ عمارات کی تعمیر میں آواز کی گونج اور رفتار پر خصوصی توجہ رکھی جاتی تھی۔ باطنی مقصد بلند مقام سے اللہ کی راہ میں پکار اللہ کےمقام کا اظہار بھی تھا۔ دیگر اقوام میں مینار کئی مقاصد کےتحت تعمیر ہوئے، عہد قدیم میں جنگی مقاصد، عہد جدید میں ترقی و آزادی کی علامت تک کا یہ سفر ہے۔ مگر اسلام میں یہ ہمیشہ وحدت اور عروج کا ترجمان رہا ہے۔ مینار قومی تحریک کا ایک سنگ میل ہوتا ہے۔ برصغیر میں پہلی باقاعدہ اسلامی حکومت کے قیام کی علامت قطب مینار، پاکستان کےقیام کی یادگار مینار پاکستان، مساجد میں مینار کی تعمیر ملت اسلامیہ میں عقیدہ کی مضبوطی کی پہچان ہے۔
اسلامی فن تعمیر میں دیگر اقوام اور مسلمانوں میں ایک فرق رہا ہے۔گھر کی تعمیر میں مسلمان اپنے ہاں کھلےصحن کےساتھ ساتھ مناسب مقدار میں روشنی اور ہوا کی آمد ورفت کو مدنظر رکھتے ہیں، جو ذہنی و قلبی وسعت کا ترجمان ہے۔
تعمیرات میں بات عمارات تک نہیں بلکہ رنگوں کے مطالب اور استعمال میں بھی مشترکہ خصوصیات رکھتے ہیں۔ ہماری مساجد، مقابر، مدارس کی تعمیر میں نیلے رنگ کے ٹائیل ورک کا کثرت سے استعمال تاریخی تسلسل میں فارسی کے اثرات کا آئینہ دار ہے۔ سبز رنگ کو مقدس رنگ کےطور پر استعمال کرتے ہیں۔ سیاہ رنگ کے استعمال کو رسول کے پہلےعَلم (جھنڈا) کی حیثیت سے لیتے ہیں۔ مزید اس رنگ کو حکمت و دانائی کےمعنی میں بھی لیتے ہیں۔ سفید کو اتحاد اور آغاز کی ترجمانی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اِن رنگوں کے ایک ہی معنوں سے استعمال اِس قوم (پاکستانی) کےجمالیاتی احساسات کو جوڑتا ہے۔
پاکستان کےکسی بھی خطہ میں چلے جائیں، موسم، حالات اور ماحول میں فرق کےباوجود اقدار یکساں ہے۔ بڑوں سےعزت اور احترام سے پیش آنا، چھوٹوں کےسر پہ دست شفقت رکھنا، ہم مرتبہ افراد سے (نفرت، بغض، حسد اور کینہ کو ختم کرتے ہوئے) گلےملنا۔ ایسے ثقافتی اور تمدنی اظہاری اعمال ہیں۔ جو محبت کا نظریہ پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کے ہر دیہات میں عملی تربیت کی یہ اقدار آج بھی جاری ہے۔
علاقائی مشاورت کے لیئے اگر بلوچستان، سرحد اور کشمیر میں جرگے ہوتے ہیں تو پنجاب میں پنچائیت اور سندھ میں اس کو مَیڑھ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان اجتماعات کی سربراہی کوئی بزرگ ہی کر رہا ہوتا ہے۔ اگر سرحد میں یہ مَلک یا خان ہے تو بلوچستان میں سردار، پنجاب میں سرپنچ اور سندھ میں اسی کو مُکھ کا نا م دے دیا جاتا ہے۔ مگر بنیادی اندازِ مشاورت اور مقصد یکساں ہے۔
پاکستان ایسا ملک ہے، جس کے وجود میں آنے سے قبل یہاں کئی تہذیبوں (سندھ، ٹیکسلا، گندھارا) کا جنم ہوا، بیشمار ثقافتیں پھلی پھولیں۔ آج بھی ثقافت، رسم، رواج اپنے اپنے دائرہ میں پھل پھول رہے ہیں۔ مگر یہ تمام جدا نہیں۔ اِنکی مشترکہ خصوصیا ت قوم پاکستان کو یکجا کرتی ہے۔ مشترکہ خاصیت کیا ہے، صوفیانہ تعلیم۔ اس قوم کی پہچان مہمان نوازی ، جفاکشی ، محنتی ، بہادری ہے۔
پاکستانی قوم کا وجود ”واعتصموا بحبل اللہ جمعیا ولاتفرقوا“ (ترجمہ: ”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ میں نہ پڑو“) میں ہے۔ پاکستانی قوم پنجابی، سندھی، بلوچی، پٹھان، کشمیری نہیں۔ یہ وحدت ہے صرف اور صرف پاکستانی۔ افسوس! تقسیم در تقسیم کی بات ہوتی ہے۔ مزید انتظامی تقسیم کا شور ہوتا ہے، صوبے بنانے کی شورش پیدا کی جاتی ہے؛ ظلم، زیادتی، محرومی کے نعرے لگتے ہیں۔ آج عام فرد کا مزاج ایسا بن چکا ہے کہ وُہ ذاتی نا اہلی کو ذاتی مفاد میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اصلاح کے لیئے اصطلاحات نہیں ہوئیں مگر صلاح پر زور رکھا جاتا ہے۔
قائد اعظم نے ایک پیغام دیا۔ ایمان، اتحاد، تنظیم۔ یہی قوم ِپاکستان کی تعمیر سے ترقی کے سفر کا پیغام ہے۔
قوم پاکستان انفرادی سوچ نہیں، اجتماعی سوچ کا نام ہے۔
علامہ اقبال نےفرمایا تھا:

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے، ترکیب میں قومِ رسول ہاشمی
اُن کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری
دامنِ دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں
اور جمعیت ہوئی رُخصت تو مِلت بھی گئی

آج پاکستانی قوم اَن گنت نواسیر (ناسور کی جمع) کا شکار ہے۔ جہاں قدرتی طور پر ہر شئے اس قوم کو وحدت بخشتی ہے۔ اُسی طرح افراد اس وحدت کو تسلیم کرنے سے منکر ہو چلے ہیں۔ قوم میں وحدت جذبہ سے قائم ہوتی ہے۔ جس کو سیاسی، مذہبی، معاشرتی، ثقافتی اور تمدنی پہلوئوں سے اُجاگر رکھا جاتا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ٹھہرا کہ ہر شعبہِ زندگی پہ کاری ضرب ذاتی مفادات کے تحت خود ہی لگائی۔
سیاسی اعتبار سے قیادت کے فقدان کی بات کرتے ہیں، مگر کیا خود اس فقدان کے لیئے اپنے حصہ کا کردار ادا کرتے ہیں؟ کسی قابل فرد کو نا اہل رہنما موقع دیتا ہے؟ سیاسی جماعتیں اپنی نمائش کےعلاوہ کبھی قومی و مِلی فکر کا جذبہ پیش کرتی ہیں؟ زلزلہ یا سیلاب میں متاثرین کی مدد تب تک نہیں کی جاتی جب تک میڈیا کوریج نہ دے۔ ممکن ہے اس دوران قیمتی جانوں کا نقصان بھی ملک کو برادشت کرنا پڑا ہو۔ قومی جماعتوں کی کیا یہی قومی سوچ ہے؟ مگر کچھ جماعتوں کا ایسا رویہ نہیں بھی ہوتا۔ بلکہ اُن کا کردار قابل تحسین ہوتا ہے۔
اکثر علاقائی جماعتیں عوامی استحصالی اور محرومی کے نام پر ؛ اپنےبھائیوں میں بھائیوں کے خلاف تعصب کا پرچار پھیلاتی ہیں، احساس محرومی کا شکار کرتی ہیں، اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کے لیئے عوام کو گمراہ رکھتی ہے اور ملکی ترقی میں رکاوٹ بنائے رہتی ہیں۔ برس ہا برس ایک مسئلہ کو اُجاگر کر کےسیاست چمکائی جاتی ہے۔ شائد آج ہم اپنے مسائل حل کرنے میں خود سنجیدہ نہیں اور الزام دوسروں پر تھونپ دیتے ہیں۔
تاریخی و جغرافیائی تسلسل کے تحت رہتے ہوئے بھی، ایک خطرناک اور نہایت ہی مہلک سوچ ؛انتہائی پڑھے لکھے افراد میں پروان چڑھ رہی ہے کہ غیر علاقہ کا فرد کبھی بھی اُن کا دوست نہیں بن سکتا۔ جبکہ پاکستان کے ہر علاقہ کا باشندہ دوستی نبھاتا رہا ہے، اپنی جان دوست پر نچھاور کرتا رہا ہے۔ ہمارا ادب اور فلم اس بات کی گواہی بھی دیتے ہیں۔
میں علاقائی سیاسی جماعتوں کے خلاف نہیں ، بلکہ ملکی ترقی میں ان کا کردار بڑا ہی اہم ہوجاتا ہے۔ یہ اپنےعلاقہ اور عوام کےحقیقی مسائل کو نہ صرف بہتر انداز میں اُجاگر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں بلکہ اپنے ہی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کرلینےکی انمول خصوصیت بھی رکھتی ہیں۔ آج یہ سوال ہے کہ ایسی جماعتوں نے اپنے ذاتی مفادات کو پس و پشت ڈالتے ہوئے ؛ اپنےعوام کےحقیقی مسائل حل کرنے کے لیئے کیا کوئی اہم کردار ادا کیا؟ چند جماعتیں اپنی بقاء قائم رکھنے کے لیئے جھوٹے پروپیگنڈہ پھیلاتی ہیں۔ عوام احساس محرومی کا اس قدر شکار ہو گئی ہے کہ اگر کسی جگہ کوئی میرٹ پر مکمل نہ اُتر سکے تو بیشمار افراد اپنےعلاقائی تعلق کومسترد کیئے جانے کی وجہ گردانتے ہیں۔ بطور پاکستانی ہر فرد کو دُکھ ہے کہ ایسی سوچ پروان چڑھائی جا رہی ہے۔ ہم غلط ایک جانب کو نہیں ٹھہرا سکتے۔ کوتاہیاں تمام جانب سے سرزد ہوئیں ۔ بہت جلد یہ تمام ٹھیک ہو سکتا ہے اگر ہماری سوچ پاکستان اور ملت کے مفاد کی سطح تک وسیع ہوجائے اور ہر فرد اپنے حصہ کا کردار ادا کرے۔ یہ سوال کرنا چھوڑ دے؛ یہ ملک اُسکو کیا دیتا ہے؟ ملک ماں کی طرح ہوتا ہے، ماں سے یہ سوال نہیں کیا جاتا کہ اُس نےکیا دیا۔ ماں کا جنم دینا ہی احسان ہے۔ ماں سے علیحدہ ہونے والا بچہ کیا کبھی خوش رہتا ہے؟ ناراض ہو کر نیا گھر بنا لینا تو ممکن ہے مگر ماں کی دل آزاری کے بعد کیا اُس گھر میں خوشیاں لوٹیں گی۔ ماں معاف کرتی ہے، بیٹا معافی مانگتا ہے۔ ماں کے سامنے ”میں“ نہیں رہتی۔ آج ہر جماعت کو ماں کے پاؤں دبا کر اُسکی خدمت کرنی چاہیئے۔ محبت سے محرومی کی طرف نہیں جانا چاہیے، محبت تک ہی رہو ۔
١٩٦٥ء کی جنگ میں قوم کا مورال بلند تھا۔ ہر فرد نے جنگ میں اپنا کردار ادا کر کےحصہ لیا۔ کانوائےگزر رہا ہے تو نہایت بوڑھے بزرگ جو چل بھی نہ سکتے تھے، پاکستان اور اُسکے محافظ فوج کے لیئے دُعا کرتے، لاغر و ضعیف بڑھیا مٹھی بھر بھنے چنےگھر سےلیکر نکل کھڑے ہوتی اور جوانوں کو پیش کرتی۔ جوان بھی شفیق لہجہ سے یوں پیش آتا کہ جذبات مجروح بھی نہ ہونے پاتے، فنکار ایک جذبہ اور ولولہ سےاپنا کام بغیر معاوضہ کےصرف اور صرف پاکستان کی خاطر ادا کر رہے تھے۔ فوج شہر سےگزر رہی ہے تو شہر والے استقبال کی تیاری میں پہلے سے منتظر کھڑے رہتے اور آمد پر تمام بازار اُن پر نچھاور کر دیتے۔ دودھ والا تمام دودھ مفت میں دیکر خوش ہے، حلوہ پوڑی والا ناشتہ بھیج کر فوج کا ولولہ قائم کر رہا ہے۔ حجام کی دُکان میں جو خبریں اور تجزیہ زیر گفتگو ہے وُہ قوم میں مورال بلند کر رہا ہے۔ وہاں یہ سوال نہ تھا کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا؟ بلکہ جواب تھا کہ جو میلی نگاہ سے پاک وطن کو دیکھےگا، اُسکی آنکھیں نکال لی جائےگی۔ ہر فرد براہ راست جنگ میں شامل تھا، اپنا کردار ہر فرد نے خوب نبھایا کہ دُنیا کو یہ تحقیق کرنا پڑی قوم کا مورال کیا ہوتا ہے۔١٩٧١ء میں ہم مورال سے محروم کر دیےگئےتھے۔
اس ملک کو سب سے زیادہ مذہبی سطح پر فرقہ وارانہ اور شر انگیز نفرت نے نقصان پہنچا ڈالا۔ مسلمان اپنے ہی دوسرے مسلمان بھائی پر کفر کا فتوی جڑتا ہے، اور مسلمان واجب القتل مسلمان کو ٹھہراتا ہے۔ کیا یہی امن، رواداری، درگزر اور محبت والے مذہب کی تعلیم ہے؟ بچہ کو مسلمان نہیں دیوبندی، بریلوی، شیعہ کی تعلیم میں دیگر مسالک کے لئے نفرت سکھائی جاتی ہے۔ ایک ہی محلہ اور ایک ہی مسلک کی مساجد میں، مغرب کی اذان کے وقت پر بھی فرق لازماً رکھا جاتا ہے۔ ایک ہی مدرسہ کے فارغ التحصیل ہم جماعت ہی لےلیجیئے، جب اُن میں مفادات کا ٹکراؤ آتا ہے تو عقائد کے اختلاف کی بات لے بیٹھتے ہیں۔ اِن خونی جھگڑوں اور اختلافات کے باعث آج کا نوجوان مذہبی ٹھیکیداروں سے متنفر ہو کر دین سے بھی دور ہوا۔ اس سے ہرگز یہ تصور نہ لیا جائے کہ تمام مذہبی مبلغین ایسے ہیں۔ دراصل جس کی لاٹھی اُسکی کی بھینس کے مصداق ؛ آج وُہ لوگ نمایاں ہیں جو دھینگا مُشتی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ علماء و مبلغین نہایت ہی حلیم ، مہذب ، بحث اور جھگڑا میں نہ پڑنے والے افراد ہوتے ہیں۔ ایسے شریف لوگ گمنامی میں اس ملک اور دین اسلام کی خدمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وُہ کبھی کسی کو برا نہیں کہتے، بس اصلاح کا عمل مسلسل جاری رکھے رہتے ہیں۔ سلام ہو ایسےعظیم انسانوں پر۔
مزارات پر مجاورین اللہ والوں کے قصیدے سناتے ہیں، اُنکو بشر سے مافوق الفطرت بنا ڈالتے ہیں، اپنی تجوریوں کو لنگر کےنام پر بھرتے ہیں۔ کاش! ایسےچند افراد اُن نیک بندوں کے نقش قدم پر خود بھی چلیں اور لوگوں کو اُس پر چلنے کے لیئے رہنمائی فراہم کریں۔ مگر آج تو چند خانوادوں میں ماضی کے بادشاہوں کی طرح گدی نشینی کے جھگڑے چل پڑتے ہیں۔ ہمیں ایسے جھگڑوں سے پرہیز کرتے ہوئے محبت کا درس دینا چاہیے۔
روپے کی دوڑ نے قوم کی اکثریت کو ”پیسےکا پتر“ بنا دیا ہے۔ Status کے چکر میں زبان بھی امپورٹ کی، زبان سے غیر مانوس ہونے کے باعث احساس منتقل نہیں ہو پا رہا۔ جذبات، کیفیات ہر فرد کے اندر منجمد رہنے لگے ہیں۔ اظہار اندر ہی گُھٹ گُھٹ کر مر جائےگا۔ آج زندگی گلیمر کے سواء کچھ نہیں، انسان معاشرہ سے کٹ چکا ہے۔ انسان کی اہمیت مایا (دولت) سے ہے اور معاشرہ کا رویہ اس مثل کے مانند ہے، مایا کو رامو، رام، رام داس ۔
یہ تصور حقیقت سمجھا جا رہا ہے؛ جس کے پاس روپیہ ہے اُسکی اہمیت ہے۔ رشتہ داری دولت سے ہے افراد سے نہیں۔ گاڑی کا ماڈل، مکان کی لاگت، مہنگی آسائشی اشیاء اور صرف حاصل کی گئی تعلیمی ڈگری امارت طے کر رہے ہیں۔ صرف قصور اُمراء کا نہیں، غریب خاندان بھی بہو کے لیئے ملازمت کی شرط عائد کر رہا ہے، جہیز کو لعنٰت قرار دیتے ہیں، شائد آج بہو کو پیسہ بنانے والی مشین بھی تصور کیا جاتا ہے۔ اپنی بیٹی کو یاد نہیں رکھتے، دوسروں کی بیٹیوں کی قیمت لگاتے ہیں۔ بیٹی والے بیٹیاں بیچ کر بچھتا رہے ہیں۔ لڑکی والے بھی جھوٹی شان کی تلاش میں ہیں۔ اُنکو ایسا داماد چاہیے جو اُنکے لیئے ایک مشین ہو۔ شائد آج معاشرہ کو بیٹا یا بیٹی نہیں حسن کے ساتھ دولت بنانے والی نافرمان مشینیں بھی چاہیے۔گھر بسانے کی بجائے، طلاق کی ترویج ہو رہی ہے۔ تربیت کرنے والے افراد آج ایک مایوسی کا شکار ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ آج وُہ جس معاشرہ میں رہ رہے ہیں وہاں محبت سکھائی نہیں جا سکتی، کیونکہ اب یہ بات معاشرہ میں خیالی بات ہو چلی ہے۔
ثقافت ختم ہو رہی ہے، پکوان کےذائقہ کی جگہ fast food نے لے لی۔ حلال، حرام کی تحقیق کی بجائے سہولت اور status کو دیکھنے لگے۔ گھر میں فنکشن نیچرل پن کےمعنی رکھتا ہے، آج بکنگ کے دور میں حسن سے محروم، لباس شائستگی کی بجائے بیہودگی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ کیبل چینلز رنگ اور ڈیزائن معاشرہ کے طے کر رہے ہیں۔ مذہبی و ثقافتی نظریات کےتحت ڈیزائن اور رنگ کے انتخاب نہیں کئے جاتے۔ پلاسٹک کی بوتل کا”منرل واٹر“ صحت افزاء نام سے فروغ پا رہا ہے جبکہ پلاسٹک تو خود بیماریوں کا سبب ہے۔گھڑے کا پانی بہترین پانی تصور ہوتا ہے مگر وُہ status کہاں جائے؟ علاقائی مشروب موسم کے حوالے سے مخصوص ہیں۔ مگر مہمان اور میزبان دونوں کانجی، سکنج بین، لسی وغیرہ کو قابل توہین سمجھتے ہیں۔ ثقافت صرف چند نظریاتی لوگ قائم رکھنےکی کوشش کر رہے ہیں۔
ڈرامہ نگار کا ڈرامہ خود ڈرامہ بن چکا ہے۔ وُہ جو معاشرہ پیش کر رہا ہے، وُہ exist ہی نہیں کرتا اور لوگ اُس existense کی جانب بھاگ رہے ہیں۔ محبت صرف دِل ڈول کر شادی رچا لینے کا trend بنا دیا ہے۔ کیا حقیقی محبت یہی ہوتی ہے؟ آئندہ چند سالوں تک پاکستان پر بنایا گیا ڈرامہ خیالی بات ہی معلوم ہوگی۔ تحریک پاکستان افسانہ یا چند پاگل لوگوں کا جنون کہا جانے لگےگا۔
تمدنی اعتبار سےگھر بنائے نہیں جا رہے۔ مغرب سے خیالات امپورٹ ہوتے ہیں مشرقی انداز میں گھر بنانے کو اب ہتک سمجھا جانے لگا ہے۔ مغربی طرز کا گھر فخر تو بنتا ہے مگر ذرا سوچئیے کیا موسم اور ثقافت کےاعتبار سے یہ گھر قابل رہائش رہتے بھی ہیں یا نہیں۔ کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا۔ ہمارا ہر قدم قانون فطرت کےعین مطابق تھا اور آج مکمل خلاف ہے۔
اللہ کرے، اس قوم سے روپےکی ہوس والی دولت چھن جائے اور ہمیں حقیقی دولت عطاء فرما۔ امارات نے اس قوم کو بھٹکا دیا ہے۔ اس قوم کی عمارت درویشی میں ہے۔

(فرخ نور)

متعلقہ تحریریں
نظریہِ پاکستان
درویش پاکستان

Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

لوگو سوچو!

Posted on 09/08/2009. Filed under: پاکستان, سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , |

کافی دنوں بعد آپ سے مخاطب ہوں اس لئے آج کرنے کو بہت سی باتیں ہیں، کچھ ہوں گی بھی سہی، ہو سکتا ہے ان میں ربط نظر نہ آئے کیونکہ آجکل کے حالات نے میرے ذہن کو ماؤف سا کر دیا ہے۔ میں کسی ڈرامے یا فلم میں بھی ظلم یا دھوکہ ہوتا دیکھوں تو ٹی وی بند کر دیتا ہوں یا اٹھ کر باہر چلا جاتا ہوں جبکہ حقیقی زندگی میں پورا ملک ظلم اور فریب کی منڈی دکھائی دیتا ہے، ایسے حالات میں باتوں کے اندر ربط کیسے باقی رہ سکتا ہے۔ میرا بس چلے تو ان ظالموں، فریب کاروں اور بہروپیوں کی دھجیاں اڑا دوں، ان کا ریشہ ریشہ علحیدہ کر دوں، جھوٹ اور استحصال کی ہر علامت کو عبرت کی ایسی مثال بنا دوں کہ سالہا سال کسی کو آدم خوری کی جرآت نہ ہو، ان کے ساتھ اس سے بھی بدتر سلوک کروں جو بنوعباس نے بنواُمیہ کے ساتھ کیا تھا۔
قسم اللہ کی بزرگی و برتری کی، قسم پاکستان اور پاکستانیوں کی محرومیوں اور بدنصیبیوں کی اس قوم کے حکمران ‘ایک نمبر‘ ہوں تو اس جیسی ایک نمبر قوم پوری دنیا میں نہیں مگر مغرب سے مرعوب زدہ ہمارے یہ روبوٹس نما حکمران اس ملک کو مقروض منڈی کے طور پر چلا رہے ہیں۔ ان کا زیادہ سے زیادہ فخر صرف یہی ہے کہ ‘آئی ایم ایف راضی ہو گیا‘ اور ‘ہم قرضہ لے آئے ہیں‘ یا ہم قرضے کی قسط جاری کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں، ہم نے آئی ایم ایف کو رجھا لیا ہے ۔۔۔۔۔لیکن قوم کو کبھی نہیں بتائیں گے کہ یہ سب کس قیمت پر کیا ہے۔
قوموں اور ملکوں کو نہ ایٹم بم بچاتے ہیں نہ ان کی میعشت۔
ملک ایٹم بموں سے بچائے جا سکتے تو روس ٹکڑے ٹکڑے نہ ہوتا۔
ملک معاشی مضبوطی سے مضبوط ہوتے تو برونائی اور سعودی عرب مضبوط ترین ہوتے۔
قوموں کی حفاظت ۔۔۔ خود قومیں کرتی ہیں جیسے کسی بھی گھر کا آخری اور حقیقی محافظ چوکیدار نہیں ۔۔۔ اہل خانہ ہی ہوتے ہیں، اُسی طرح ملکوں کے محافظ اس کے عوام ہوتے ہیں، یہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب عوام کو اقتدار میں شرکت اور عزت دی جائے، اہمیت دی جائے، انصاف دیا جائے ۔۔۔ لیکن یہاں کیا ہے؟
پیپلز پارٹی کے وڈیرے اور جاگیردار، مسلم لیگ کے سرمایہ دار
لوگو سوچو!
کیا یہ تمھارے بارے میں کبھی کچھ سوچ سکتے ہیں؟

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

وفا

Posted on 05/08/2009. Filed under: پاکستان, تعلیم, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , |

ہم کواُن سے وفا کی ہے اُمید
جو نہیں جانتے کہ وفا کیا ہے؟

اس زمانے میں کوئی کسی سے وفا نہےں کرتا۔ اعتبار کسی پر کرتے ہے وفا کوئی اور کرتا ہے۔ وفا تو دِل کی الفت سے ہوتی ہے۔ جس میں وفا نہےں اُس میں کچھ نہیں ہے۔ وُہ زندگی کےجذبات سے محروم ہے۔ دُعا وفا ہے۔ محبت کے لئے وفا کا ہونا لازم ہے۔
وفا کا عمل دِل میں احترام سے ہوتا ہے، یہ مادی جذبہ نہےں روحانی معاملہ ہے۔
انسانی جذبوں میں سب سے حسین جذبہ ”وفا“ہے۔ ہرخوبصورت رشتہ کی بنیاد ایفا ہے۔ رشتہ دار کا فخر وفا میں ہے۔ محبت کا درخت وفا کے پانی سے پھلتا پھولتا ہے اور اعتماد کا پھل دیتا ہے۔ وفا ایک عہد ہے اپنی ذات کے ساتھ قربانی کا جذبہ۔ وفا میں ہمیں صرف وُہ چہرہ پسند ہوتا ہے؛ جسکی خاطر ہم جیتے ہیں۔ اُسکی خوشی ہماری خوشی، اُسکا غم ہمارا غم ہوتا ہے۔
وفا ایک ایسا جذبہ ہے، جس کے رشتے بے شمار ہیں۔ دین، ملک، خطہ، قوم، خاندان، دوست ہمیں تمام اپنی جان سےعزیز ہیں۔ وفا میں فریب موجود نہیں۔ وفا میں دھوکہ نہیں ہوت اوفا تو مر مٹنا ہوتا ہے۔
وفا احساس نہیں بلکہ عہد نبھانا ہے۔ ایساعہد جو فخر کا باعث ہو۔ تمام زندگی کا اثاثہ وفا ہے۔ وفا محبت کا ایسا لمحہ ہے۔ جس میں فراق نہیں۔ وفا محبوب کی جانب سے نہیں اپنی جانب سے ہوا کرتی ہے۔ وفا محبت کی ترجیح طے کرتی ہے۔ وفا زندگی جینے کا ڈھنگ سکھاتی ہے۔ وفامادہ پرستی کی بجائےخلوص سکھاتی ہے۔ حقیقت سے روشناس کراتی ہے۔ وفا ہی انسان میں وُہ جذبہ پیدا کرتی ہے۔ جس میں انسان کسی کے لئے کٹ مرتا ہے۔ حسین جذبہ! وفا۔
باکردار انسان وفا کاجذبہ رکھتا ہے۔ با وقار اقوام اپنے وطن سے وفا کا رشتہ نبھاتے ہیں۔ خود کو قربان کرڈالتے ہیں۔ وفا میں اپنی ’میں‘ نہیں رہتی۔ دوسرے کی تعظیم و تکریم ہی تحریم بن جاتی ہے۔ قوموں میں عظمت کا نشاں وفا کا ہی ہوا ہے۔
آج ایک سوال آن پڑا! وفا کا کبھی جائزہ نہیں لیا جاسکتا۔ میاں بیوی کا رشتہ وفا سے ہی پھلتا پھولتا ہے۔ امپورٹڈ کلچر نے اس خطہ کے حسین ترین جذبہ وفا کا قتل عام شروع کردیا۔
ایک دور تھا،؛ آقا و غلام کا رشتہ تھا۔ مالک خیال رکھتا تھا، ملازم جان پیش کرتا تھا۔ Profesionalism رویہ اپنے ساتھ leg pulling کو قانونی اجازت دے رہا ہے۔ آج وفا معدوم ہے۔ ملکی حالات مخدوش تر ہوئے۔ نااہل اہل بن بیٹھے۔ ہر فرد دوسرے کی کرسی پہ نظر لگائے بیٹھا ہے۔ آج زندگی کیلیئے امان کی دُعا کرنے والاکوئی نہیں، ایمان خود امان میں نہیں رہے۔
خاندان دولت کے بکھیڑوں میں، آپسی دشمن بن کر بکھر چکے، دوست دوستی میں نفع کما رہا ہے، فائدہ گن رہا ہے۔ جذبات کی تباہی گنتی سے ہوا کرتی ہے۔ جذبات کیلیئے تعداد بے معنٰی ہے، خلوص اہم ہے۔ دین کی وفاداری کو چند لوگ دُکان بنائےبیٹھے ہیں۔ مجاورین مزار پہ مزار والے کےنام پہ اپنی اپنی جلیبیوں کی کڑھائیاں سجائے بیٹھے ہیں۔
ملازمین ملازمت کر رہے ہیں، ملکی خدمت کتابی بات رہ گئی ہے۔ افسوس! جذبات میں وفا کا قتل ہوچکا۔ محبت ناپید ہوئی۔
وفادار تو ہر لمحہ امتحان میں ہوتا ہے۔ وفا تو دِل میں ہوتی ہے۔ اُسکی نمائش نہیں ہوسکتی۔ وفا تو ظاہراً محسوس ہوتی ہے مگر حقیقتاً یہ احساس دلوں سے دِلوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اِسکی پیمائش کے لیئے پیمانے مقرر نہیں۔ آپکے دِل میں جو درجہ ہے اُسکی کیا کوئی درجہ بندی کرسکتا ہے؟ ایسا کرنا تو نا انصافی ہے۔ جذبات کا مجروح کر دینا ہے جرم ہے۔ اندر کے انسان کے خوبصورت احساس کوقتل مت کرو۔ جو خود کو تمہارے حق میں بیچ چکا۔ جیسا بھی ہو! اُسکی قدر رکھو! بات تسلیم کرو یا نہ کرو مگر اُسکو جھٹلاؤ مت۔ وفادار توخدمت میں ہمیشہ کے لیئے خود پیش ہوچکا۔ پیش کیا نہیں گیا۔ جس نے خود اپنے اندر وفا پیدا نہ کی۔ وُہ محبت کو کیا جان پائےگا؟
آج وفا کیوں نہیں رہی؟ مادہ پرستی نے وفا کو حالت نزع پہ لا ٹھہرایا۔ اب مزید ایک سوال آن پڑا، وفا خود میں کیسے پیدا کی جائے؟ دِلوں میں خلوص پیدا کیجیئے، وفا خود بخود پیدا ہونے لگےگی۔ خلوص کیسے پیدا ہوتا ہے؟ چاہت سے۔ دوسروں کا خیال رکھنے سے بھی وفا پیدا ہوتی ہے۔ میاں بیوی کا ’قبول کرنا‘ دراصل یہی ہے۔ پاکستا ن کو تحریک پاکستان سےسمجھیئے؛ اِک روز کوئی جملہ، کوئی بات آپکےدِل پر اثر کر جائےگی۔ وطن سے وفا کیا ہے؟ ملازمت کو ضرورت نہ سمجھیئے، ملکی خدمت جانیئے۔ ماہوار ٢٤٨٠٠ روپوں تنخواہ ١٨ گھنٹے یومیہ کی ڈیوٹی کو کم نہ جانیئے بلکہ مزید١٠ گھنٹوں کو بھی قومی خدمت سمجھیے۔
وطن کی مٹی میں خوشبو وفا کے جذبہ سے ہے۔ وفا پریشانیاں لاتی نہیں پریشانیاں دور کرتی ہے۔ وطن کی مٹی کو وفا کےجذبہ سے ماتھے پہ مل لو، بھول جاؤ گے تمام غموں کو۔ پاکیزہ مٹی بھی اِک روحانی دوا ہے۔ مٹی کی پاکیزگی وفا میں ہے۔
اللہ والے اللہ اور رسول سے وفا رکھتے ہوئےمٹی میں شامل ہوکر بھی وفا کی خوشبو بکھیرتے ہیں، یہی وفا عشق کی معراج ہے۔
(فرخ نور)

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

پاکستانی بچے …. آہ ہماری نوجوان نسل!!!

Posted on 17/06/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , |



















Read Full Post | Make a Comment ( 5 so far )

سوالیہ تحریری حقائق

Posted on 11/06/2009. Filed under: پاکستان, تاریخ, تعلیم, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , |

خیالات کے بےہنگم ہجوم میں سوچتاہوں، کہوں تو کیا کہوں۔ پھول کی خوشبو سحر انگیز تاثیر رکھتی ہے۔ لفظوں کے اثرات ما بعد ضبطِ تحریر کیاگل کھلا رہے ہیں، یہ دُنیا دیکھ رہی ہے۔ تحریر میں خیال اچھا ہو، تو کیا خوب بات ہے۔
آفرین! اِک نقطہ نظر ہے، دُنیا میں انسان کے رُجحانات کتابوں نے بدلے ہیں۔ قوموں کی تقدیر بدلی، ممالک کی قسمت بنی ۔۔۔۔ حتیٰ کہ زمانے کتابوں کے ٹھہر پائے۔ یہ دور کس کتاب کا ہے؟ کتابوں کے انبار میں، شائد کسی بھی کتاب کا دور نہیں چل رہا۔
لکھنے والے رہے نہیں، پڑھنے والےعالم بنے، پڑھانے والے نہ جانے کیا کر رہے ہیں۔ ہُو کا یہ عالم ٹھہرا کہ زمانے کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ دوڑ اپنی اپنی ہوئی، چور پوری قوم ہوئی۔ مایا کی تلاش میں، نام کمایا۔ فاترالعقل نے زمانہ میں، انجانہ خوف بنایا۔
حادثاتی مصنفین کا حادثاتی دور چل پڑا اللہ نہ کرے، یہ قوم بُرے حادثات کا شکار ہو۔اعتراض مصنف نہیں، معترض تو متنفر سوچ کی نفرت اور شر انگیز اشاعت سے ہوں۔ مغرب دشمن ہے، ہمارا مسلمان بھائی لسانی و مذہبی تنازعات کا شکار ہے، ہمارے خلاف ساز ش ہو رہی ہے، محبوب بے مروت ہے، زندگی گلیمر ہے، حقیقت کیا ہے؟ بس! جو مفروضے پیش ہوئے، وُہ حقیقت ٹھہرے۔ آج عام فرد کی دسترس میں ایسی ہی کتب دستیاب ہیں۔ جو مایوسی کا سبب بن رہی ہیں۔ اصل حقیقت غور و فکر سے محروم! حادثاتی دور کا یہ بھی اِک زمانہ ہے۔
محقق قلابے ملاتےہوئے، بنیادیں ہلا رہے ہیں، تحقیق کار تحقیق نہیں کر رہے۔ اشاعتی ادارے اغلاط سے بھرپور چند نشریات بھی چلا رہے ہیں۔ مگرمیں مایوس نہیں۔ اِن حالات میں بھی، اس قوم میں چند نَول کِشور (١) صاحب جیسے ناشر موجود ہیں۔
دو لفظ بولنے والا لکھنے والاہو گیا، چار باتیں جاننے والا محقق بن گیا، کسی کو متاثر کرنے کی کوشش میں ناکام ہو جانے والا شاعر بن بیٹھا۔ سستی شہرت والوں نے بہت کچھ لکھ ڈالا۔ مگر اُنکا مقصد صرف اپنی ذات کی رونمائی ہے۔ کاش! ایسے افراد کا مقصد قوم کی خدمت ہو جائے تو حقیقی مقصد کے حصول میں سمت کا تعین ہو جائےگا۔
عجیب عجیب تماشہ دیکھنے کو مِل رہا ہے۔ چور بے خبر بہروپیا کا انٹرویو لے رہا ہے، کتاب چھپی تو معلوم ہوا، تصوف سے نابلد افراد کی گفتگو مغربی نفسیا ت پہ چل پڑی، ایک اور سنجیدہ مضحکہ خیز حادثہ۔
دامن بچانے کایہ دور ہے، جس میں ہر شےءگنی جا رہی ہے۔ اَگنی کی تعلیم دُگنی، تِگنی، چُگنی سے ہے۔ حادثات ہمارے منتظر ہے، جبکہ ہم کسی خوشنما حادثہ کے انتظار میں ٹھہرگئےہیں۔
حادثہ ہمارا ہو چکا، کتاب ہماری اور ہے۔ تعلیم کسی اور جانب چل پڑی۔ہمارا مصنف آج گنتیوں میں مصروف ہے، مغرب اپنے جن دانشوروں کی تقلید پر ہے، اُنکا نشوونمائی دور محرومیات اور لالچ سے اثر انداز ہوا۔ اُنکے افکار سوالیہ نشان !عربی، فارسی اور ہندی سے ہوئے ناواقف ہم، تکیہ ٹھہرا ہمارا تراجم پہ، بھول چکے اپنےمشاہرین اسلام کی اَصل تعلیم کو۔
(فرخ )
(١) نَول کشور: قیام پاکستان سےقبل برصغیر کےنامور پبلشر، جنھوں نے قرآن پاک کی اشاعت بھی فرمائی۔ اُن پر مسلمانوں نے مقدمہ دائر کیا کہ یہ بےحُرمتی ہے۔ وُہ عدالت میں پیش ہوئے اور فرمانےلگے۔ میں ہندو ہوں، مگر میں چاہتا ہو کہ اس کی اشاعت دیکھو مگر ایسا کر نہیں سکتا۔ کیونکہ اُس جگہ تمام کام کرنے والے افراد مسلمان ہے، کوئی فرد بغیر وضو اور پاک لباس کے داخل نہیں ہو سکتا۔ وہاں استعمال ہونے والے پانی کا نکاس گنگا کی ندی میں ہے (جو ہندوؤں کے نزدیک پاکیزہ ترین ہے)۔ جس کے لئے ایک خصوصی نہر کھدوائی گئی ہے۔ اب بھی اگر مجرم ہو تو سزا دے دیجئیے۔ جس پر تمام حاضرینِ عدالت نادم ہوئے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

حقیقتِ زمانہ

Posted on 31/05/2009. Filed under: تاریخ, تعلیم, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , |

نشوونما ایسا باقاعدہ عمل ہے، جو کبھی ٹھہرتا نہیں۔ مسلسل اپنی مخصوص رفتار سےچلتا رہتا ہے۔ قدرت کےعوامل میں ٹھہراؤ بالکل نہیں۔ اِن کےمشاہدہ کےلیئے نگاہ کا ٹھہراؤ ضروری ہے۔نشوونمائی عمل کو اگر روکا جائے تو وُہ بگاڑ لاتے ہیں۔ ایسی رکاوٹیں بربادی کا سبب بھی بن جایا کرتی ہیں۔ یہ ایسےعوامل ہیں جو قدرت کےرنگوں میں زندگی کی دانش کو سمجھنے کے لیئے لازم ٹھہرے۔ بیج کا پودا بننا ہر موسم میں ایک سا دِکھائی دیتا ہے مگر ہر دانہ ایک ہی ذائقہ نہیں رکھتا۔ یونہی بیرونی موسم اور حالات بھی افزائش پر اثر انداز ہوتےہیں۔
انسان کی نشوونما اُسکے مخصوص حالات کےمطابق ہو رہی ہے۔ جیسا کہ بیشمار نباتات مصنوعی ماحول سے مصنوعات کی بہترین صورت بن چکی ہیں۔ اسی طرح قدرتی ماحول سے ناواقفیت، مخصوص پیدا کردہ نظریات اِنسان کی افزائشی سوچ کو مخصوص اور محدود کر رہے ہیں مگر نتائج اُلجھنوں، بیماریوں اور رکاوٹوں کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔
گنوار اقوام عروج حاصل کر کےمہذب ہوجایا کرتی تھی، نئی تہذیبوں کا جنم ہوا کرتا تھا۔ آج کی مہذب دُنیا وحشت سے دہشت پیدا کر رہی ہے۔ حقیقی تہذیبیں ختم ہو رہی ہیں۔ اِنکی موت اَصل دانشور کی موت ہے۔ دانشور اپنی حکمت سے ہر دور میں تہذیب کو حالات کے تحت نئی روح بخشتا ہے۔ یوں وُہ اقوام اپنی بنیادوں پر ٹھہرتے ہوئےتعمیری مراحل سےگزرتی ہیں۔
آج کا intellectual دانا و بینا نہیں رہا۔ وُہ اپنی intellectual ہونے کے زعم میں اسقدر مبتلا ہے کہ وُہ قوم کو تعمیر نہیں بخش رہا۔ وُہ انوکھی بات پیش کرنے کی عادت سے ملت کو مایوسی اور اضطراب دے رہے ہیں۔
تجزیہ خیالات کو فروغ دیتا ہے، دروغ پن چاشنی کے باوجود بیزاری پیدا کرتا ہے۔ واویلے حکمت سے عاری ہوتے ہیں۔وُہ بس سامعین کی رائے بدلتے ہیں۔ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ ایک سچ کہتا ہے ننانوے کچھ اور ہی کہتے ہیں، حقیقت حقائق سے کچھ اور ہی حقیقت بن جاتی ہے۔ پیش آنےوالی نہیں، پیش کی جانے والی افواہ بیش بہاء انداز سے کی جاتی ہیں۔ آج انسان حقیقت سے محروم ہو رہا ہے، حقیقی چہرے معدوم ہو چکے ہیں۔ ہم کیا جانے حقیقی خوشی، حقیقی غمی کیا ہیں؟
ہم اصل حقائق سے بےخبر رکھے تو گئے ہی ہیں، اب غافل بھی ہو چکے ہیں۔ آزادیِ خیال ہی غلامیِ افکار ثابت ہوئی ہے۔ اِنسان آزادی کا خواہاں رہا ہے مگر آج ہنگامی خبر کی سرُخیوں نے انسانی سوچ کو مائوف کر ڈالا ہے۔ منفی پروپیگنڈہ کا رجحان انگریز نے برصغیر میں یوں پیدا کیا کہ جس قبیلہ نے انگریز کی غلامی قبول نہ کی، اُسکو معاشی و معاشرتی بدحالی سے دوچار کیا، جرائم پیشہ اور نکمے افراد حالات سے پیدا کیئے، ذاتوں کی تحقیق کے نام پر ایسے قبائل کےخلاف منفی اور غیر حقیقی آراء پیش کیں۔ مزید معاشرہ میں کردار کشی اور مکروہ القاب کےذریعہ سے اُنکے لیئےایسے حالات پیدا کر ڈالے کہ انگریز کا یہ افسانہ حقیقت کا روپ دھار گیا۔ آج بھی ہم ایسے پروپیگنڈہ کا شکار قبائل سے نفرت، اُنکی مسخ شدہ تاریخ سے کرتے ہیں۔ جبکہ اصل تاریخ سے ہم ناواقف ہو چکے ہیں۔ کھرل سپت رائےاحمد خان کھرل صاحب کی انگریز کے خلاف مزاحمت کا سامنا آج بھی کر رہے ہیں۔
پروپیگنڈہ expire ہو کر بھی کسی اور انداز سے سامنے آیا ہے۔ رِیت وہی رہی، مذہب کے نام پر اپنے مفاد کی جنگ، دین کی اشاعت کے نام پر اقتدار کی ہوس، حصول تخت کی خاطر مستحکم سلطنت کے نام پر نامزد ولی عہد بھائیوں کا قتل، آج جارحیت کے نام پر ہر طرح کی جارحیت۔ نعرے بدل چکے، امن اور سکون کے نام پر نیندیں کروٹیں بدلنے لگیں۔
جب ہم کسی کا سکون تباہ کرتے ہیں تو اپنا سکون بھی برباد کر ڈالتے ہیں۔ سوال تو اب یہ آن ٹھہرا ، اِن حالات میں امن، محبت، بھائی چارہ اور رواداری کا درس دینے والوں کے ہاں اب خیال کیا پرورش پائےگا؟ انقلاب یا انتقام جو بھی نتیجہ ہو تعمیر نہیں غارت گری ہے۔ ”صوفیاء کی سرزمین تعمیر“ کے حالات ہٹلر یا نپولین پیدا کرنے چل پڑے ہیں۔ منصوبہ ساز بہت کچھ طے کر چکے ہیں، جبکہ تقدیر ملت کچھ اور ہی طے ہے۔ (فرخ )

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

درویش پاکستان

Posted on 14/08/2008. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , |

لفظ پاکستانی پُر عمیق حروف کا عقیق مجموعہِ لفظ ہے۔ جو پُر اثر تاثیر رکھتا ہے۔ پاکستان کا وِچار امن، محبت، بھائی چارہ کا پرچار ہے۔ پاکستانیوں کی تربیت اللہ کے درویش کر رہے ہیں۔ یوں سر زمین پاکستان کا ہر فرد قلندرانہ و درویشانہ رنگ رکھتا ہے۔ یہ ملک صرف ایک زمین کا خطہ نہیں، اِسکے پیچھے ایک بہت بڑا تربیت اور ترتیب کا سلسلہ جاری ہے۔ اسکے پیچھے اِک راز ہے ۔۔۔۔۔ راز ِحقیقت۔
ٰ ظاہری تعلق سےظاہری باتیں ہی سمجھ آتی ہے۔ نکتے اور بات کا احساس روحانی تعلق سے ہوتا ہے۔ والدین اور بچوں کا آپس میں احساس اور فکرمندی کا تعلق، بہن بھائیوں کا آپس میں خون کی کشش کا رشتہ، ہزاروں میل دور بیٹھے کسی کی تکلیف کا احساس ہو جانا۔ روحانی رشتہ ہے۔ یہی وُہ ربط ہے جو ہمیں بطور قوم پاکستانی بناتا ہے۔
ماں اور بچے کا آپس میں روحانی رشتہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ ماں شفقت اور احساس کا ایسا امتزاجی تعلق ہے، جو ہمارے اندر کے احساسات کو محسوس کرتے ہوئےہماری  بے چینی دور کرنے کی حتیٰ الواسع کوشش فرماتی ہیں۔ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل ۔۔۔۔۔۔ وطن عزیز اور انسان کا رشتہ ماں اور بچہ کے رشتہ کی مانند ہے ۔۔۔۔۔ افسوس! آج یہ معاملہ کمزور محسوس ہو رہا ہے۔ ماں بچےکی تربیت کرتی ہے۔ اُسکی سب سے بڑی خوبی خودداری ہے۔ ہر ذی شعور ماں تربیت کا آغاز خودداری کے عمل سے کرواتی ہے۔
خودداروں میں سے سب سے بڑے خوددار خودداری کی علامت بنتے ہیں۔ شاہین ایک خوددار پرندہ کی علامت ہے۔ تناور درخت ہمیں خوددار بننا سکھاتے ہیں۔قدرتی مخلوقات ہمیں اللہ  پر بھروسہ رکھتے ہوئے خودداری کا درس دیتی ہیں۔
لفظ پاکستان بڑا ہی معنٰی خیز ہے۔ اِسکے ایک معنی ہے پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ! یہ معنٰی صرف نام کی حد تک نہیں۔ بلکہ یہ مسلسل ایک چلتے رہنے والے عمل کا نام ہے۔ آج بھی یہ ملک اپنے ابتدائی معنوں کے مراحل سےگزر رہا ہے۔ تکمیل میں ابھی وقت باقی ہے!!!
یہ ملک درویشوں نے ملکر بنایا ہے۔ یہ ایک سنگ میل تھا۔ جس کی قیادت بغیر داڑھی والے درویشوں نے بھی کی۔ قیام پاکستان کے دوران درویش خاموش نہ تھے۔ بلکہ عملی طور پر سیاسی میدان میں قیادت کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ علامہ محمد اقبال مسلم لیگ پنجاب کے صدر تھے، قائد اعظم کی قیادت ایک زندہ مثال ہے۔ فکر اور عملی یکجہتی کے یہ دو درویشانہ کردار ہیں۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد درویش ملکی قیادت میں خاموشی اختیار کرگئے۔ اُنکی یہ خاموشی بہت بڑی گویائی بیان کر رہی ہے۔
آج درویش قیادت کیوں نہیں کر رہا؟ اِس چپ اور خاموشی کی ریاضت میں کوئی بات ہے! ہوسکتا ہے درویش مسلسل فرد فرد کی تربیت محسوس کر رہا ہو۔ ملک کی آزادی کے بعد وُہ قوم کی روحانی تربیت میں مصروف عمل ہیں۔ مفکر درویش (مفکرِ پاکستان) نےخودی کی آگاہی دی۔
ذرا غور فرمائیے! اگر درویش اِس ملک کی قیادت کو چھوڑ سکتے ہیں تو وقت آنے پر اِس ملک کی بھاگ دوڑ سنبھال بھی سکتے ہیں۔وُہ مشیت الہی کےتابع ہیں۔
درویش حکم ِ الہی کے تابع ہوتے ہیں۔ اُنکی سوچ، افکار اور رویہ عام فرد کو حقیقی آزادی عطاء کرتے ہیں۔ وُہ انسان کی روح کو صحت بخش کر ہمیشہ کے لیئے ذہن کی غلامی اور پستی سے نکال باہر کرتے ہیں۔ یہ ملک ظاہری طور پر ہی نہیں، باطنی طور پر بھی آزاد ہوا۔ یوں حقیقی آزادی پاکستان کا نصیب بنی۔ ( ابھی یہ آزادی کےاندرونی مراحل سےگزر رہا ہے۔)
ہو سکتا ہے دورانِ سفر کسی درویش صفت شخصیت نے ملک کو اسلام کا قلعہ بنا کر خاموشی اختیار کر لی ہو۔ قیام پاکستان سے ہی درویش بہت سے نامورین کی عملی تربیت اور رہنمائی گمنامی میں رہ کر فرما رہے ہیں۔
پاکستان کی آزادی تمام دُنیا کے لیئے امن کا پیغام ہے۔ قوم کی تربیت جس سمت میں کی گئی، کی جائےگی وُہ ایک تعمیری شاہراہ ہے۔ کیونکہ قوم کی تعمیر میں اللہ والے مصروفِ عمل ہیں۔ اُولیاءکرام کی تعلیم منفی پہلوئوں سے پاک ہوتی ہے۔ اُنکی تعلیم نہ صرف باطن کو پاکیزگی عطاء فرماتی ہے بلکہ حلقہ احباب کو بھی ِمطہر (پاکیزہ) کر دیتی ہے۔ لفظ پاکستان مطہرِ عطرِمعطر (ایسی مسحور کن پاکیزہ خوشبو جو سارے جہاں میں پھیل کر دلکشی کا انمول نمونہ بن جائے) ہے۔
یہ ملک درویشوں کا ملک ہے۔ درویش موتی بکھیرتا ہے۔ وُہ انسان کو انسان کا احساس دلاتے ہوئے احساس کی اساس بتلاتا ہے۔ انسانیت سے محبت سکھاتا ہے۔ اُنکا مزاج رہا ہے کہ ”وُہ کبھی کسی کا احسان نہیں رکھتا“۔ وُہ دینے والا ہاتھ ہوتا ہے۔ وُہ بس دیتا ہے، بانٹتا ہے، بکھیرتا ہے درویش صفت انسان کٹ سکتا ہے مگر جھک نہیں سکتا۔
اللہ نے اس قوم کو کس قدر خوش نصیب بنایا ہے۔ یہ ملک بھیک میں مانگا نہیں گیا۔ اللہ نے حکمت سے عطاء کیا ہے۔ اللہ جسکو کچھ عطاء کر دے۔ وُہ بس پھر دیتا ہے، بانٹتا ہے، رہنمائی کرتا ہے۔ جو چھینتا ہے وُہ ہمیشہ چھینتا ہی رہےگا کیونکہ اُسکی فطرت چھیننا ٹھہر پائی ہے، جبکہ جو دیتا ہے وُہ ہر حال دیتا ہے، وُہ بے ہتھل ہو کر بھی دیتا ہے کیونکہ اُسکا نصیب دینا قرار پایا ہے۔ یہ اللہ کی رحمت ہے اللہ نے پاکستان کو دینے والا پیدا فرمایا ہے۔ یہ خطہِ زمین دُنیا بھر کو سونا اُگل کر دیتا ہے۔ ابھی تو اس کو بہت بڑا کردار ادا کرنا ہے۔ بڑے پن کا کردار
مملکت خدداد“  کی وُہ ابتدائی کوشش جو شہید ٹیپو سلطان نے جاری رکھی۔ پاکستان اُس جدوجہد کی عملی تصویر بھی بنا۔ تبھی اِس ملک کو ”مملکت خداداد“ قرار دیا گیا۔ مملکت خداداد کا تصور رکھنے والی شخصیت نے اُمت مسلمہ کو اپنی سوانح سے ایک قول دیا ۔”شیر کی ایک دِن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے“۔۔۔۔۔۔
لاہور شہر میں ایک یاد گار ”مینار پاکستان“ ہے۔ جو سلسلہِ قوم ”پاکستان“  کی یگانگت اور اتحاد کی علامت ہے۔ جو سفر ٢٣ مارچ ١٩٤٠ء کو آغاز ِعمل میں آیا تھا۔ اُسکی ایک منزل ١٤ اگست ١٩٤٧ء کو طے ہو گئی۔ اُسکا اصل مقصد ابھی بھی باقی ہے۔ جسکی ایک یادگار لاہور ہی میں” سِمٹ مینار“  کی صورت میں باقی ہے۔ جو اتحاد ِ بین المسلمین کے لیئےتعمیر ہوا۔ ابھی یہ سفر ادھورا ہے آدھا باقی ہے۔
ہمیں ایک پاکستانی کی حیثیت سے یہ ضرور سوچنا ہوگا۔ اللہ نے ہمیں اُوپر والا ہاتھ ہونے کا اعزاز بخشا ہے مگر انتہائی افسوس!  ہم نیچےوالا ہاتھ بننے کی تگ و دو میں ہیں۔ آج ہماری غیرت مرگئی ہے، ہم میں اعناء کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ہم دوسروں کی امداد پر نظریں لگائے بیٹھے رہتے ہیں۔ ”اپنی مدد آپ کےتحت“  کا جذبہ ماند پڑ گیا ہے۔ ہم پہ آفت آتی ہے تو مفت کی امداد کے سہارے بیکار بیٹھ کر ناکارہ ہی ہو جاتے ہیں۔
اےاللہ ہمیں بطور قوم لفظ پاکستانی کی اہمیت سے روشناس کروا ۔ ہم میں خودداری، غیرت اور یگانگت کو اُجاگر فرما!
(فرخ)

 

 

 

(گیدڑ کی زندگی ہے کیا؟ وُہ میر صادق کی مانند تخت کے کھو جانے اور کھو جانے کےخوف میں موجود رہنا، میر جعفر کی طرح خدمات سرانجام دیتے ہوئے ریڑھ کی ہڈی تڑوا لینا۔ خدمات کا صلّہ اذیت کی موت سے بہتر کتے کی موت!  پستول سے نکلی گولی کا انعام موت کی صورت میں حاصل کر لینا۔)

 

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

بہترین مفاد میں

Posted on 04/04/2005. Filed under: پاکستان, رسم و رواج, سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , , , , |

فرض کریں آپ ایک کاروباری ادارے کے سربراہ ہیں، آپ کے مقابلے میں ایک اور ادارہ بھی ہے،کاروباری مخالفت کے باعث آپ اس کے مالک کو اچھا نہیں سمجھتے
اسے کرپٹ ، بے ایمان ، لٹیرا اور وطن دشمن قرار دیتے ہیں اس کی پراڈکٹ کو آپ ناقص اور گھٹیا تصور کرتے ہیں
وہ بھی آپ کو بے ایمان ، چور اور وطن دشمن تصور کرتا ہے ، اور آپ کی پراکٹ کو انتہائی غیر معیاری قرار دیتا ہے، کچھ عرصہ یونہی گزرتا ہے اسی دوران ایک مٹی نیشنل کمپنی مارکیٹ میں اپنے قدم جمانے لگتی ہے جس کی وجہ سے آپ اور آپ کے مخالف کا کاروبار انتہائی متاثر ہوتا ہے ، آرڈر کی شرح میں واضع کمی نوٹ کی گئی ، بزنس دن بہ دن نقصان میں جا رہا ہے ، آپ اپنے کاروبار کو پھر سے پہلی جگہ پر دیکھنا چاہتے ہیں
آپ کسی بھی طرح ملٹی نیشنل کمپنی کو ناک آوٹ کرنا چاہتے ہیں اس کے لئیے آپ کسی اچھے اور قابل عمل فارمولا کی تلاش میں ہیں ، اسی دوران آپ کے ذہن میں ایک خیال آتا ہے کہ کیوں نا ہم دونوں مخالف ایک ہو جائیں، آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے کاروبار کے لیئے یہی بات سود مند ہے
آپ کے دل میں یہ خواہش مچل اٹھتی ہے کہ ” کاش ” ہم دونوں ایک ہو جائیں تو ہی ملٹی نیشنل کمپنی کا مقابلہ کر سکتے ہیں ، بعض اوقات ایسا ہو بھی جاتا ہے کیونکہ دونوں ضرورت مند ہوتے ہیں کسی تقریب میں گلے ملتے ہیں تو سارے گلے شکوے جاتے رہتے ہیں، آپ اسے کہتے ہیں کہ ” مقابلے کے اس دور میں ہمارا ایک ہو جانا ہی بہتر ہے ” اس پر وہ بھی کہتا ہے کہ ”میری دلی خواہش بھی یہی کہ کاروبار کے بہترین مفاد میں ہمارا ایک ہونا ہی بہتر ہے ” پھر اگلے ہی دن وہی کرپٹ ، بے ایمان ، لٹیرا ، وطن دشمن اور گھٹیا پراڈکٹ فروخت کرنے والی کمپنی کا مالک آپ کے پہلو میں بطور حصہ دار بیٹھا ہوتا ہے
کسی بھی جگہ کسی بھی کاروبار میں ایک آدھ مرتبہ کسی کے ساتھ اس واقع کا ہیش آجانا کوئی بڑی بات نہیں ہے کیونکہ بعض صورتوں میں انسان کی انائیں چھوٹی چھوٹی غلط فہمیوں کو رائی کا پہاڑ بنا دیتی ہیں ایسی صورت میں جب غلط فہمیوں کے بادل چھٹتے ہیں تو انسان ایک دوسرے کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے کے قابل ہوجاتے ہیں ، تعلقات اور رشتے اگر خلوص کی بنا، پر قائم ہوں تو پھر وہ تعلقات اور رشتے انتہائی مضبوط اور پائیدار ہوتے ہیں اور اگر مفاد پر قائم ہوں چند دنوں بعد ہی حالات اس نہج پر پہنچ جائیں گے کہ آپ اسے بار پھر کرپٹ اور جھوٹا قرار دے کر اس سے علیحدہ ہو جائیں گے
کچھ عرصہ گزرنے ےک بعد گلے ملنے پر کاروبار کے بہترین مفاد میں ایک ہوجائیں پھر علیحدہ ہو جائیں اور پھر کاروبار کے بہترین مفاد میں ایک ہو جائیں، ادھر آپ کا کاروباری مخالف بھی بخوشی کاروبار کے بہترین مفاد کی خاطر آپ سے مل بیٹھے گا، ایسے تعلقات کو کسی بھی صورت میں پر خلوص تعلقات نہیں کہا جا سکتا
یہ صرف مفادات کے تعلقات ہونگے اور مفادات بھی ایسے جو انتہائی گھٹیا ہونگے
ہماری پاکستانی سیاست بھی کچھ ایسے ہی مفادات سے وابستہ ہے ، میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو جو کل تک ایک دوسرے کو غدار ، کرپٹ، بے ایمان اور وطن دشمن کہتے اور سمجھتے تھے اور ایک دوسرے سے ملنا تو دور کی بات ایک دوسرے کو دیکھنا بھی گناہ عظیم سمجھتے تھے آج جدہ میں ملک کے بہترین مفاد میں اکٹھا ہو گئے ہیں ، بھائی بہن کا رشتہ قائم ہوا تو سارے گلے شکوے بھی جاتے رہے ، ان کے نئے تعلقات نے حکومتی صفوں میں ہلچل مچا دی ہے لیکن ،، قارئین کرام مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ ہمارے سیاستدانوں کی انائیں اور ضمیر آخر کس چیز کے بنے ہوئے ہیں ؟ وہ کونسی انائیں ہیں جن کے ہوتے ہوئے بے ہودہ گالیاں ان کی صحت پر دیسی گھی کا اثر کرتی ہیں وہ کون سے زریں اور بہترین اصول ہیں جن کو سامنے رکھ کر یہ ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں اور الزامات لگاتے ہیں
لیکن جب کسی بہترین مفاد کی خاطر ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو سینکڑوں بازو ان کی گردنوں میں حائل ہونے کےلئیے بے تاب ہوتے ہیں اور اس سارے تماشے کے باوجود ان کے ذہن میں کوئی خلش پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے دماغوں پر کوئی خراش آتی ہے

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...