تعلیم، ماں اور ریاست

Posted on 06/11/2005. Filed under: پاکستان, تعلیم | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

عید کے پہلے دن صدر بازار سے گزرتے ہوئے مجھے سکول کے زمانے کا ایک کلاس فیلو مل گیا وہ میرا آئیڈیل سٹوڈنٹ تھا میں برسوں اللہ سے اس جیسا بننے کی دعا کرتا رہا تھا لیکن اب میں نے اسے دیکھا تو آنسو ضبط نہ کر سکا نشے نے اس کی ہڈیوں میں گھونسلے بنا رکھے تھے اور غربت سرنگیں۔ میں تیسرے درجے کا ایک کند ذہن طالب علم تھا۔ لیکن میری کلاسوں میں انتہائی ذہین اور جسمانی طور پر فٹ لڑکے تھے ہر امتحان میں فرسٹ پوزیشن لیتے، پوری پوری کتابیں انہیں حفظ ہوتی تھیں، طالب علمی کے دور میں ہی ایسے ایسے فقرے لکھتے کہ استاد حیران رہ جاتے، میرا ایک کلاس فیلو جسے ہم کیلکولیٹر کہتے تھے وہ حساب میں ایسا ماہر تھا کہ ضرب، تقسیم، جمع، تفریق اور جزر کا کوئی بھی سوال کیا جاتا تو سوال کرنے والے کا ابھی منہ بند نہ ہوتا جواب پہلے آ جاتا، غالب، اقبال، میر، جگر اور فیض کو یوں سناتے جیسے انہوں نے پوری زندگی انہی کے ساتھ بسر کی ہو۔ لڑکوں کو ہزاروں شعر، محاورے اور لطیفے یاد ہوتے تھے۔ بڑے بڑے لاجواب کھلاڑی تھے، کبڈی کے میچ ہوتے تو تیلے پہلوان مخالف کھلاڑی کو کندھے پر اٹھا کر لکیر پار کر جاتے۔ کرکٹ، فٹبال اور ہاکی کے کھلاڑی ایسے کھیلتے کہ بڑے بڑے ماہر کھلاڑی حیران رہ جاتے۔ انٹرٹینمنٹ کے پیریڈ میں کچھ لڑکے ایسی تان اٹھاتے کہ محسوس ہوتا پٹیالہ گھرانے کا کوئی استاد گا رہا ہے۔ چند ایک جعلساز بھی تھے دستخطوں کی ایسی نقل کرتے تھے کہ اچھے اچھے چکرا جاتے۔ ‘لیکن‘ ان میں چند ایک ہی آگے بڑھ پائے وہ بھی ایسے جن کے والدین افورڈ کر سکتے تھے ان کو معاشی سہارا دے سکتے تھے، باقی سب زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے، وقت کا عفریت ایک ایک کر کے ان سب کو نگل گیا، یہ لوگ ترقی کی شاہراہ سے مشقت کی پگڈنڈی پر اتر گئے، زندگی کی تلخیاں، روزگار کا غم اور معاشرتی دکھ ان کے وجود میں اترتے چلے گئے اور یہ جیتے جاگتے لوگ، زندگی، ذہانت اور جذبے سے معمور لوگ عبرت کا نشان بن گئے۔ اس ملک میں ہر سال لاکھوں سٹوڈنٹ سکولوں اور کالجوں میں داخل ہوتے ہیں مگر ان میں چند ہی آگے بڑھ پاتے ہیں، باقیوں کی قسمت میں دھکے ہی لکھے ہوتے ہیں۔ اس میں قصور کس کا ہے؟ یقینا اس ملک کے نظام تعلیم کا ہے۔ حضرت عمر رضي اللہ عنہ نے فرمایا تھا ‘ماں کا دودھ اور علم ہر بچے کا حق ہے‘ بچوں کو دودھ مائیں دیتی ہیں اور علم ریاست، جو ماں اپنے بچے کو دودھ نہیں پلا سکتی اسے ماں اور جو ریاست اپنے بچوں کو علم نہیں دے سکتی اسے ریاست کہلانے کا کوئی حق نہیں، مائیں تو اپنا کام کر رہی ہیں ریاست غافل ہے۔ ہماری حکومت لاکھ مجبور سہی مگر ایک مجبور حکومت کم از کم تمام بچوں کو تعلیم کے یکساں مواقع تو فراہم کر سکتی ہے، وہ اتنا تو کر سکتی ہے جو بچہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے حکومت اسے میڈیکل کالج تک پہنچانے کی ذمہ دارہ قبول کر لے۔ جس میں کمپیوٹر کی صلاحیت ہے اسے سافٹ ویئر میں پی ایچ ڈی کی ضمانت دے دے، یہی اعلان کر دے کہ ڈیرہ غازی خان کی خاک اڑاتے دیہاتوں سے لیکر گلبرگ کی روشنیوں تک سب بچوں کو ایک جیسے سکولوں میں ایک ہی سطح کی تعلیم دی جائے گی، سب کو یکساں اور مساوی مواقع ملیں گے کیونکہ کسی ایک شخص کی موت فقط ایک شخص کی موت ہوتی ہے مگر ایک باصلاحیت نوجوان کی موت پورے معاشرے کی موت ہوتی ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

عورت – ایثار و محبت کا لازوال شاہکار

Posted on 28/08/2005. Filed under: رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , |

کہتے ہیں عورت ایک پہیلی ہے، ایسی پہیلی جسے بوجھنے والا اکثر حیران ہوتا ہے۔ عورت ماں بھی ہے، بیوی بھی، بہن اور بیٹی بھی ہے۔ اپنے ہر کردار میں اس کے جذبات و احساسات ایسے ایسے انوکھے رنگ دکھاتے ہیں کہ دیکھنے والے حیران رہ جائیں۔
کہتے ہیں عورت جفا پیشہ اور فتنہ گر ہوتی ہے، یہ سب الزام نسوانی احترام اور فطرت کے بنائے ہوئے قوانین کی نفی کرتے ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ عورت وفا پیشہ اور ایثار و محبت کا لازوال شاہکار ہے۔ ماں، بیوی، بہن، بیٹی چاہے وہ ان میں سے کسی بھی روپ میں ہو اس کا ہر رشتہ تقدس کا داعی ہے۔ وہ عہدوفا کی سچی اور کردار کی بےداغ ہوتی ہے۔ لیکن کیا آج معاشرے میں اس کو وہ اہمیت حاصل ہے جس کی وہ حقدار ہے۔
مرد عورت کو کمزور سمجھتا ہے اور پھر ہر دور میں ناپاک خواہشات کے حامل لوگ عورت سے زیادتی کرتے آئے ہیں۔ لیکن اسلام ایک ایسا واحد مذہب ہے جس نے عورت کو اس کا صیحیح مقام و مرتبہ دیا، اسے عزت و توقیر عطا کی۔ اسلام نے عورت کو ظلم کی کال کوٹھری سے نکال کر اسے اس مقام پر بٹھا دیا جس کی وہ حقدار تھی۔ اسلام نے عورت کا جو معتبر اور قابل قدر کردار متعین کیا تھا مسلمانوں نے اسے ملحوظ خاطر نہ رکھا، کہیں تو انہوں نے عورت کو گھر کی چاردیواری میں قید کر دیا اور پردے کو اس قدر سخت کر دیا کہ اس کے لئے سانس تک لینا مشکل ہو گیا اور کہیں اتنی چھوٹ دے دی کہ اس نے چادر اور چاردیواری کا تقدس کھو دیا اور گھر کی چاردیواری پھلانگ کر شرافت و عزت کی تمام سرحدیں پار کر گئی۔
اسلام نے عورت کو جو رتبہ دیا دوسری قوموں نے اس سے متاثر ہو کر اس کی تقلید میں آزادی نسواں کے نام پر اس قدر آگے بڑھیں کہ عورت ہر میدان میں مرد کی ہمسر بن گئی۔ دوسری طرف مغربی معاشرے کے رنگ ڈھنگ کو اکثر مسلمانوں نے ترقی کی علامت سمجھ لیا، جس سے مسلم معاشرہ دو حصوں میں بٹ گیا، ایک وہ جس میں عورت مجبوری و بے بسی کی تصویر ہے اور دوسرا حصہ وہ جس میں عورت مکمل خود مختیار ہے۔ یوں اسلام کا حقیقی نظریہ نظروں سے اوجھل ہو گیا جو متوازن اور قابل عمل ہے۔
کبھی ہم نے سوچا کہ ہمارے معاشرے کی عورت اتنی مجبور اور بے بس کیوں ہے۔ کبھی ہم نے غور کیا کہ آج عورت کی عزت کیوں محفوظ نہیں رہی، علاج کے نام پر مسیحا، انصاف کے نام پر قانون کے محافظ، تعویز اور ٹونے ٹوٹکے کے نام پر جعلی پیر اور ملاں، حصول علم کی خواہش پر اساتذہ عورت کو بے آبرو کے دیتے ہیں۔ آج بازار سے لیکر ہسپتال تک اور کالج سے لیکر گھر کی چاردیواری تک عورت کی عزت کہیں بھی محفوظ نہیں رہی۔ خدا جانے مرد کی انفرادی غیرت سو گئی یا اجتماعی غیرت موت کے گھاٹ اتر گئی۔
آخر اس معاشرے کے مرد کا ذہن اتنا چھوٹا کیوں ہے کہ وہ عورت کو اتنا حقیر سمجھتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے اعلٰی تعلیم یافتہ لوگ بھی بیٹوں کو بیٹیوں کی نسبت زیادہ فوقیت دیتے ہیں۔ نچلے طبقے کا عورت سے رویہ دیکھ کر شرم سے نگاہیں جھک جاتی ہیں۔ ہمارے معاشرے آج بھی بہت سے خاندان بیٹیوں کو تعلیم نہیں دلواتے کہ اس نے پڑھ لکھ کر کیا کرنا ہے، سینا پرونا، کھانا پکانا اور جھاڑو دینا سیکھ جائے تاکہ دوسرے گھر میں جا کر کچھ فائدہ ہو۔ ان لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ سینا پرونا اور کھانا پکانا گو کہ زندگی کے لئے لازمی سہی مگر زندگی کو بنارتی سنوارتی تو تعلیم ہے۔ تعلیم ہی انسان کو انسان کے رتبے پر فائز کرتی ہے۔ تعلیم ہی انسان کو اچھے برے کی تمیز سکھاتی ہے۔ بیٹیاں اس لئے بھی ماں، باپ کو بوجھ لگتی ہیں کہ ان کو کچھ دینا پڑتا ہے، یہ والدین کا سہارا نہیں بن سکتی، اسی خوش فہمی میں والدین بیٹوں کو سر چڑھا لیتے ہیں کہ یہ ان کے بڑھاپے کا سہارہ بنیں گے لیکن اکثر لڑکے بعد میں والدین کو بوجھ سمجھتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم نے عورت کو اس کا صیحیح مقام دے دیا ہے لیکن یہ ہم سب کی بہت بڑی بھول ہے۔ عورت باپ کے گھر میں ہو تو شادی تک پابندیوں میں گھری رہتی ہے اور شادی کے بعد سسرال والوں کی پابندیاں جھیلنی پڑتی ہیں، جہیز کم ملنے یا نا ملنے پر ان کی جلی کٹی باتوں پر ساری زندگی گزار دیتی ہے اور کبھی سسرال والوں کے مزاج کے خلاف کوئی بات ہو جائے تو اس کا شوہر طاقت استعمال کر کے اسے مارپیٹ سکتا ہے اور طلاق جیسا گھناؤنا لفظ سنا کر اسے ذلیل و رسوا کر سکتا ہے۔ عورت کیا کیا باتیں اور کون کون سے ظلم برداشت نہیں کرتی، اس کے باوجود وہ سارا دن کولہو کے بیل کی طرح کام کرتی ہے گھر کو بناتی سنوارتی ہے، بچوں کی تربیت کرتی ہے لیکن بدلے میں اسے کیا ملتا ہے ذلت اور رسوائی کا تمغہ۔
عورت کے چار فورس ہیں۔ ماں، بیوی، بہن، بیٹی، ان چاروں رشتوں میں وہ پیار و محبت اور کی سچی تصویر ہے۔ عورت محبت کی دیوی ہے، کیونکہ اس کا ضمیر محبت سے اٹھا ہے۔ وہ جب محبت کرتی ہے تو ٹوٹ کر کرتی ہے اور اس میں کسی کو رتی برابر بھی شریک نہیں کر سکتی۔ اگر کسی کے سامنے تن جائے تو ٹوٹ سکتی ہے جھک نہیں سکتی۔ عورت زمین پر رینگنے والا کیڑا نہیں، عورت احساسات سے عاری نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی انسان ہے۔

عورت ۔ جفا پیشہ اور فتنہ گر

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...