امریکی مسلمان اور پاکستانی سکھ

Posted on 16/10/2009. Filed under: وڈیو زون | ٹيگز:, , , , , , |

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

ماہ رمضان کی دُعا

Posted on 15/09/2009. Filed under: پاکستان, تعلیم, رسم و رواج, عالم اسلام | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , |

یا اللہ
استحقاق تو نہیں رکھتے
ایسے اعمال تو نہیں ہیں
چوپایوں سے بھی بدتر ہیں
وعدہ خلاف اور اڑیل ہیں گناہوں پر
مگر اے اللہ، اے پروردگار، اے تنہا مالک
اور کس سے مانگیں
اور کس کے در پر جھکیں
ہمیں، مسلمانوں کو، پاکستانیوں کو معاف کردے
معاف کردے اے مالک
اس ماہ رمضان میں
تیرے رحمتوں کے خزانے ہی خزانے کھلے ہیں
یا اللہ ہمیں معاف کردے
عذاب سے محفوظ کردے
ایک اور بوسنیا، کشمیر، عراق، افغانستان، چیچینیا مسلم امت کا مقدر نہ ہو
اور اے مالک
اگر تو یہ ہمارا نصیب ہے
تو پھر یہ تیرے دشمنوں کے خلاف آخری معرکہ ہو
ہمیں ہمت دے، حوصلہ دے، عزم دے، ولولہ دے
موت سے محبت عطا فرما
یا اللہ
تیری رضا کے ہم طلبگار ہیں
ہم سے راضی ہوجا
اس امت مسلمہ سے راضی ہوجا
آمین

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

سوالیہ تحریری حقائق

Posted on 11/06/2009. Filed under: پاکستان, تاریخ, تعلیم, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , |

خیالات کے بےہنگم ہجوم میں سوچتاہوں، کہوں تو کیا کہوں۔ پھول کی خوشبو سحر انگیز تاثیر رکھتی ہے۔ لفظوں کے اثرات ما بعد ضبطِ تحریر کیاگل کھلا رہے ہیں، یہ دُنیا دیکھ رہی ہے۔ تحریر میں خیال اچھا ہو، تو کیا خوب بات ہے۔
آفرین! اِک نقطہ نظر ہے، دُنیا میں انسان کے رُجحانات کتابوں نے بدلے ہیں۔ قوموں کی تقدیر بدلی، ممالک کی قسمت بنی ۔۔۔۔ حتیٰ کہ زمانے کتابوں کے ٹھہر پائے۔ یہ دور کس کتاب کا ہے؟ کتابوں کے انبار میں، شائد کسی بھی کتاب کا دور نہیں چل رہا۔
لکھنے والے رہے نہیں، پڑھنے والےعالم بنے، پڑھانے والے نہ جانے کیا کر رہے ہیں۔ ہُو کا یہ عالم ٹھہرا کہ زمانے کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ دوڑ اپنی اپنی ہوئی، چور پوری قوم ہوئی۔ مایا کی تلاش میں، نام کمایا۔ فاترالعقل نے زمانہ میں، انجانہ خوف بنایا۔
حادثاتی مصنفین کا حادثاتی دور چل پڑا اللہ نہ کرے، یہ قوم بُرے حادثات کا شکار ہو۔اعتراض مصنف نہیں، معترض تو متنفر سوچ کی نفرت اور شر انگیز اشاعت سے ہوں۔ مغرب دشمن ہے، ہمارا مسلمان بھائی لسانی و مذہبی تنازعات کا شکار ہے، ہمارے خلاف ساز ش ہو رہی ہے، محبوب بے مروت ہے، زندگی گلیمر ہے، حقیقت کیا ہے؟ بس! جو مفروضے پیش ہوئے، وُہ حقیقت ٹھہرے۔ آج عام فرد کی دسترس میں ایسی ہی کتب دستیاب ہیں۔ جو مایوسی کا سبب بن رہی ہیں۔ اصل حقیقت غور و فکر سے محروم! حادثاتی دور کا یہ بھی اِک زمانہ ہے۔
محقق قلابے ملاتےہوئے، بنیادیں ہلا رہے ہیں، تحقیق کار تحقیق نہیں کر رہے۔ اشاعتی ادارے اغلاط سے بھرپور چند نشریات بھی چلا رہے ہیں۔ مگرمیں مایوس نہیں۔ اِن حالات میں بھی، اس قوم میں چند نَول کِشور (١) صاحب جیسے ناشر موجود ہیں۔
دو لفظ بولنے والا لکھنے والاہو گیا، چار باتیں جاننے والا محقق بن گیا، کسی کو متاثر کرنے کی کوشش میں ناکام ہو جانے والا شاعر بن بیٹھا۔ سستی شہرت والوں نے بہت کچھ لکھ ڈالا۔ مگر اُنکا مقصد صرف اپنی ذات کی رونمائی ہے۔ کاش! ایسے افراد کا مقصد قوم کی خدمت ہو جائے تو حقیقی مقصد کے حصول میں سمت کا تعین ہو جائےگا۔
عجیب عجیب تماشہ دیکھنے کو مِل رہا ہے۔ چور بے خبر بہروپیا کا انٹرویو لے رہا ہے، کتاب چھپی تو معلوم ہوا، تصوف سے نابلد افراد کی گفتگو مغربی نفسیا ت پہ چل پڑی، ایک اور سنجیدہ مضحکہ خیز حادثہ۔
دامن بچانے کایہ دور ہے، جس میں ہر شےءگنی جا رہی ہے۔ اَگنی کی تعلیم دُگنی، تِگنی، چُگنی سے ہے۔ حادثات ہمارے منتظر ہے، جبکہ ہم کسی خوشنما حادثہ کے انتظار میں ٹھہرگئےہیں۔
حادثہ ہمارا ہو چکا، کتاب ہماری اور ہے۔ تعلیم کسی اور جانب چل پڑی۔ہمارا مصنف آج گنتیوں میں مصروف ہے، مغرب اپنے جن دانشوروں کی تقلید پر ہے، اُنکا نشوونمائی دور محرومیات اور لالچ سے اثر انداز ہوا۔ اُنکے افکار سوالیہ نشان !عربی، فارسی اور ہندی سے ہوئے ناواقف ہم، تکیہ ٹھہرا ہمارا تراجم پہ، بھول چکے اپنےمشاہرین اسلام کی اَصل تعلیم کو۔
(فرخ )
(١) نَول کشور: قیام پاکستان سےقبل برصغیر کےنامور پبلشر، جنھوں نے قرآن پاک کی اشاعت بھی فرمائی۔ اُن پر مسلمانوں نے مقدمہ دائر کیا کہ یہ بےحُرمتی ہے۔ وُہ عدالت میں پیش ہوئے اور فرمانےلگے۔ میں ہندو ہوں، مگر میں چاہتا ہو کہ اس کی اشاعت دیکھو مگر ایسا کر نہیں سکتا۔ کیونکہ اُس جگہ تمام کام کرنے والے افراد مسلمان ہے، کوئی فرد بغیر وضو اور پاک لباس کے داخل نہیں ہو سکتا۔ وہاں استعمال ہونے والے پانی کا نکاس گنگا کی ندی میں ہے (جو ہندوؤں کے نزدیک پاکیزہ ترین ہے)۔ جس کے لئے ایک خصوصی نہر کھدوائی گئی ہے۔ اب بھی اگر مجرم ہو تو سزا دے دیجئیے۔ جس پر تمام حاضرینِ عدالت نادم ہوئے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

نماز پڑھو اس سے پہلے کہ تمہاری نماز پڑھادی جائے

Posted on 11/04/2009. Filed under: اسلام | ٹيگز:, , , |

اپنی زندگی پہ غور کریں
نماز جو ہم پہ فرض کر دی گئی

فجر بسترمیں
ظہر نوکری میں
عصر چائے میں
مغرب راستے میں
عشاء ٹی وی میں
جمعہ سونے میں
عید بازاروں میں

نہ درود نہ قرآن
یہ کیسا ہے مسلمان
پھر کہتے ہو کیوں نہیں ہے
اللہ ہم پر مہربان

تو نماز پڑھو اس سے پہلے کہ تمہاری نماز پڑھادی جائے






























Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

انڈیا ۔ ہندو، مسلم

Posted on 03/03/2009. Filed under: وڈیو زون, پاکستان, سیاست, عالم اسلام | ٹيگز:, , , , |

دو قومی نظریہ کے مخالف، دوستی کا اراگ الاپنے والے اس وڈیو کو دیکھ لیں اُن پر دو قومی نطریے کی حقیقت واضح ہو جائے گی۔

مزے کی بات یہ کہ تین بار اس وڈیو کو یوٹیوب پر اپلوڈ کیا گیا مگر وہاں فوراََ ہی اس وڈیو کو ختم کر دیا گیا مجبوراََ اسے دوسرے ہوسٹ پر لوڈ کرنا پڑا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

میرا پاکستان ڈوب رہا ہے

Posted on 16/02/2009. Filed under: پاکستان, اسلام | ٹيگز:, , , , |

اللہ تعالٰی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے
‘تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو، اے مومنو! تاکہ تم فلاح پا جاؤ’ (سورہ النور من آیت ٣١)
ہم جانتے ہیں کہ پاکستان ہم نے اللہ کے نام پر لیا تھا اور اللہ نے ٢٧ رمضان کو یہ تحفہ ہمیں عطا فرمایا۔
پھر ہم نے کیا کیا؟؟؟؟؟؟؟
اللہ سے اس ملک کو بچانے کی دعا تو بعد میں کریں گے پہلے اپنے گناہوں کا اعتراف تو کر لیں۔
یہ جانتے ہوئے بھی کہ رشوت لینا اور دینا لعنت زدہ فعل ہے، اپنے لئے ناجائز سفارش کروانا اپنے بھائی کا حق مارنا ہے۔ ہم نے پاکستان کو ان برائیوں سے داغدار کیا۔
اللہ نے فرمایا سود برباد کر دیتا ہے، ہم نے کہا سود کے بغیر آج کام کون سا ہوتا ہے۔
اللہ نے بتایا کہ ناجائز زمین کا چھوٹا سا ٹکڑا بھی روز قیامت گلے میں آگ کا طوق ہو گا، ہم نے ناجائز زمین اپنے نام لگوانے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دی۔
اللہ نے فرمایا حرام کمائی بےبرکت ہے، عذاب ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘جو گوشت حرام سے پیدا ہوا اسے آگ ہی جلائے گی’ تو ہم نے حرام کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔
اللہ نے فرمایا مال اور اولاد فتنہ و آزمائش ہیں ہم نے مال کو دین اور اولاد کو ایمان بنا لیا۔
جب ہمیں پتا چلا کہ بے حیائی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناپسندیدہ باتوں میں سے ہے تو ہم نے
Cable, Vulgar e-mails, non-sense SMS, Movies, Video Songs … ets
کو زندگی کا حصہ بنا لیا۔
ہمیں معلوم ہوا کہ وقت کی قدر کرو، اس کو ضائع نہ کرو، ہم نے گھنٹوں موبائل پر وقت برباد کرنا فرض سمجھ لیا۔
جب عورت کو حکم ہوا کہ تمھارے پاؤں کی جھانجر کی آواز بھی پردہ ہے تو عورت نے فیشن اور its to move in society کے نام پر ہر حد پار کر دی۔
اللہ نے تمام مسلمانوں کو آپس میں بھائی بہن بنایا تو ہم نے اس رشتے کو دوستی میں بدل دیا۔
رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ام المنومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کو اند بھیج دیا کہ نابینا صحابی پر بھی نظر نہ پڑے، وہ پاکیزہ نگاہ کہ جس کی معصومیت کی گواہی فرشتے بھی دیں اور ایک طرف صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم جن کے مرتبے کو ہم جان ہی نہیں سکتے، یہ صرف امت کو بتانے کے لئے کہ اندازہ کر لو، مرد اور عورت میں فاصلہ اور پردہ کس حد تک ضروری ہے! تو ہم نے کہا لڑکے لڑکیوں کی دوستی تو بہت پاکیزہ ہے، تھوڑا اور حد سے گزرے اور اس بیہودگی کو تہوار کی شکل دے دی اور Valentine Day منانا شروع کر دیا۔
اللہ نے دوستی کے لئے مرد کو مرد اور عورت کو عورت کے لئے منتخب کیا تو ہم نے دوستی تو بنی ہی لڑکی لڑکے کے لئے ہے۔
اللہ نے نامحرم پر ایک نظر اٹھانے سے بھی منع فرمایا تو ہم نے کہا کہ ہماری یہ دوستیاں، phone calls اور ملاقاتیں تو بے ضرر ہیں۔
اللہ نے موسیقی اور آلات موسیقی کو حرام کہا تو ہم نے اسے Music, Songs, FM radio کی شکل میں روح کی غذا بنا لیا۔
دل کا سکون قرآن پاک میں رکھا گیا تو ہم نے حرام موسیقی میں ڈھونڈنے کی کوشش شروع کر دی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ‘نماز کے لئے نہ نکلنے والوں کے گھروں کو آگ لگا دینے کو دل کرتا ہے تو ہم نے سرے سے نماز پڑھنے کے تصور کو ہی ذہن سے رخصت کر دیا، یہاں کوئی جمعے والا مسلمان ہے تو کوئی عید والا اور کسی کو یہ توفیق بھی نہیں ہوتی۔
اللہ نے فرمایا کہ دنیا کے کھیل تماشوں میں پڑ کر کہیں وقت برباد نہ کر دینا تو ہم نے entertainment کے نام پر Restuarants, Clubs, Shopping, Dresses, Jewelry, Shoes کو ہی زندگی مان لیا۔
شیطان نے کہا کہ میں اولاد آدم کو گمراہ کروں گا تو ہم نے کہا لبیک، ہم تمھارے ساتھ ہیں۔
اللہ نے سورہ الاحزاب میں فرمایا کہ ‘اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کا فیصلہ (یا حکم) فرما دیں تو ان کے لئے (مومنوں کے لئے) اپنے کام میں (کرنے یا نہ کرنے کا) کوئی اختیار ہو اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے تو یقیناََ کھلی گمراہی میں بھٹک گیا’۔
ہم نے سب کام، سب احکام اپنے ہاتھ میں لے لئے۔
میرے مالک! کس کس گناہ کی معافی مانگوں
میرا پاکستان ڈوب رہا ہے۔
میرے لوگ بے آسرا ہیں۔
میرے بہن بھائی تکلیف میں ہیں۔
دکھ مرنے کا نہیں، موت تو برحق ہے، دکھ عذاب میں گھِر کر مرنے کا ہے۔
یا اللہ!
جو جان تیری راہ میں تیرے احکامات کی پیروی کرتے ہوئے نکلنی تھی وہ گناہوں کے سبب تیرے عذاب کا شکار ہو کر نکلے تو ہم مسلمان رہ گئے یا منافق ہو گئے۔
پھر بھی میرے اللہ! تو معاف فرما دے۔
میرے مالک! ہم اپنے گناہوں سے توبہ کر لیتے ہیں تو ہمیں توفیق بخش۔
اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں ہمیں معاف فرما دے۔
اس سیلاب کو آخری آزمائش بنا کر گزار دے
کہیں یہ طوفان نوح بن کر ہم کو غرق نہ کر دے
کہیں عاد و ثمود کی طرح ایسا نہ ہو کہ ایک پل کی مہلت بھی نہ ملے۔
ہم جانتے ہیں کہ ہم اجتماعی پر عذاب نہیں آئے گا کہ یہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے اپنی امت کے لئے۔
میرے مالک! ہمیں انفرادی عذاب سے بچا۔
اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی سے نواز اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ (سورہ البقرہ ٢٠١)

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

واعتصمو بحبل اللہ جميعا و لاتفرقوا

Posted on 13/12/2008. Filed under: پاکستان, دنیا بھر سے, عالم اسلام | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

اس وقت عالم اسلام کو مخلص قیادت کے ساتھ ساتھ آپس کے سیاسی نفاق کا بھی سامنا ہے جس کی وجہ سے کبھی عراق ایران کے ساتھ آٹھ سال لڑتا ہے تو کبھی کویت پر حملہ کر دیتا ہے۔ کبھی سعودی عرب کے تعلقات ایران سے بگڑ جاتے ہیں تو کبھی ایران اور پاکستان کے تعلقات خراب ہو جاتے ہیں۔ پاکستان آزاد ہوتا ہے تو افغانستان اسے اقوام متحدہ میں تسلیم ہی نہیں کرتا اور پھر جب افغانستان پر بُرا وقت آتا ہے تو پاکستان تیس لاکھ افغانیوں کو اپنے ہاں پناہ دے دیتا ہے۔ لیکن شمالی اتحاد کی حکومت سارے اقدامات ماننے سے انکاری ہوتی ہے اور پاکستان کے مقابلے میں بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھاتا ہے، افغانستان کی دوبارہ تعمیرِنو میں زیادہ تر ٹھیکے ہندوؤں کو مل جاتے ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالٰی واضح طور پر ارشاد فرماتا ہے۔
‘‘واعتصمو بحبل اللہ جميعا و لاتفرقوا‘‘
کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور تفرقہ نہ ڈالو ”
لیکن اس کے باوجود مسلمان آپس میں متحد نہیں ہو رہے ہیں۔
نفاق کی حد تو یہ ہے کہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر کئی پاکستانی فوجیوں نے ایرانی ساخت کے بم بھی پکڑے ہیں جبکہ (او، آئی، سی) اسلامی سربراہی کانفرنس کے تقریباََ چونتیس ممالک بھارت سے دوستی اور تجارت کی پینگیں بڑھاتے نظر آ رہے ہیں، کچھ عرصہ پہلے ایران اور بھارت کے درمیان جنگی معاہدے کی بازگشت بھی گردش میں رہی ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کے مسئلے پر عربوں کا ساتھ دیا جبکہ خود یاسر عرفات مرحوم اور ان رفقاء بھارت کے حامی ہیں اور سابق مرحوم عراقی صدر صدام حسین کی طرح یاسر عرفات نے کشمیر کے بارے میں کبھی پاکستان کی حمایت نہیں کی بلکہ الٹا بھارت سے دوستی بڑھاتے نظر آئے۔
پاکستان اسلامی نظریہ کے اصول پر معرض وجود میں آتا ہے تو مصر کے حکمران ہنس پڑتے ہیں کہ پاکستانیوں کو دیکھو اب یہ ہماری رہنمائی کریں گے لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وہی پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا اور واحد ایٹمی ملک بن گیا۔
بھارت کے شہر ممبئی میں دو ہوٹلوں پر حملہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے پاکستان کا نام لیا جاتا ہے پھر جماعت الدعوۃ کر اس میں ملوث کیا جاتا ہے۔ اس کے فوراََ بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوتا ہے اور اس میں جماعت الدعوۃ کو دہشت گرد قرار دے کر اس پر پابندی لگا دی جاتی ہے اور پاکستان کو حکم دیا جاتا ہے کہ ان کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے۔ جبکہ اس کے برعکس بھارت میں گجرات اور دیگر علاقوں میں ہزاروں مسلمانوں کو مار دیا جاتا ہے، سینکڑوں کو زندہ جلایا جاتا ہے، ہندو انتہا پسند تنظیم اس سارے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتی ہے لیکن اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔ سلامتی کونسل چپ سادھ لیتی ہے۔
ان سارے واقعات کی روشنی میں بتائیے اس وقت پاکستان کہاں کھڑا ہے۔ عالم اسلام میں مخلص قیادت نہ ہونے اور آپس کا نفاق مسلسل پاکستان اور خود عالم اسلام کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

آئیے ماتم کریں

Posted on 20/01/2007. Filed under: اسلام, سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ظلم اپنے عروج پر ہوتا ہے تو مظلوم کی آہ سوزاں ہمیشہ اس کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ ظلم مٹنے والی چیز ہے کیونکہ
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
جبکہ مظلومیت مٹ کر اپنی بقا کو پہنچتی ہے۔ ابتدا کائینات سے ہی ظالم اور مظلوم کی جنگ جاری ہے۔ قابیل سے لیکر آج کے قاتلین تک کا ایک ہی کردار رہا ہے اور ہابیل سے لیکر آج تک کی مظلومیت ایک ہی صف میں کھڑی نظر آتی ہے۔
دنیا میں جتنے بھی جابر و ظالم گزرے ہیں ان کے ظلم کے خلاف ماتم کیا گیا۔ ماتم مظلوم کی حمایت اور ظالم سے نفرت کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے تاکہ ظالم کا چہرہ دنیا کے سامنے آ سکے۔ اس لئے ۔۔
آئیے ماتم کریں! ہر ظالم کے خلاف چاہے وہ کسی بھی روپ میں چھپا ہو اور
آئیے نفرت کا اظہار کریں! اہل کوفہ والوں سے جہنوں نے امام حسین کو خط تو لکھے مگر وفا نہ کی۔
آئیے نفرت کا اظہار کریں! ابن زیاد سے جس نے امام حسین کے بارے میں کہا ‘اگر وہ اپنے آپ کو ہمارے حوالے نہیں کرتے تو پھر بلا تامل حملہ کرو، خون بہاؤ، لاشیں بگاڑو۔
آئیے نفرت کا اظہار کریں! یزیدی فوج سے اور
آئیے لعنت بھیجیں! کربلا کے بہتر شہیدوں کے قاتلین پر
آئیے لعنت بھیجیں! حرملہ پر
آئیے لعنت بھیجیں! شمرذوالجوشن پر
آئیے لعنت بھیجیں! علی اصغر کے حلق میں تیر مارنے والے پر
آئیے لعنت بھیجیں! سنان بن انس پر جس نے امام حسین کا سر تن سے جدا کیا
آئیے لعنت بھیجیں! امام حسین کے جسم مبارک کو روندھنے والوں پر
آئیے لعنت بھیجیں! امام حسین کے لبوں پر چھڑی مارنے والوں پر
آئیے لعنت بھیجیں! ہر یزیدی عمل پر اور یزید کے ہر پیروکار پر
آئیے ماتم کریں ظالموں کے خلاف اور خراج تحسین پیش کریں کربلا کے شہدا کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! غفاری و جابری لڑکوں کی بہادری اور فداکاری کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! علی اکبر بن حسین کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! قاسم بن حسین کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! اہل بیت اور بنی ہاشم کے مقتولوں کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! اس لڑکے کو جس نے کربلا کے میدان میں حضرت امام حسین کو دشمنوں کے سامنے اکیلا دیکھ کر مدد کو دوڑ پڑا اور حضرت کے پہلو میں جا پہنچا عین اسی وقت بحر بن کعب نے آپ پر تلوار اٹھائی لڑکا فورا چلایا ‘او خبیث! میرے چچا کو قتل کرے گا‘ سنگدل حملہ آور نے اپنی تلوار لڑکے پر چھوڑ دی معصوم جان نے اپنی جان سے بے پرواہ ہو کر تلوار کے وار کو اپنے ہاتھ پر روکا، ہاتھ کٹ گیا ذرا سی کھال لگی رہ گئی۔
آئیے خراج تحسین پیش کریں! علی کے سورما بیٹے حسین کو
وہ حسین! جس کے لبوں کی خشکی دیکھ کر فرات کی موجیں آب آب ہو کر رہ گئیں۔
وہ حسین! جس نے اپنے نانا کی امت کے چراغ کو بچانے کے لئے اپنے گھر کے تمام چراغوں کو بجھا دیا۔
وہ حسین! جو موت کے سامنے اس حقارت سے مسکرایا کہ خود موت کی نبضیں رک گئیں۔
میدان کربلا میں کوئی اقتدار کی جنگ نہ تھی بلکہ حق و باطل کا معرکہ تھا جسے حسین نے سر کر لیا۔ وہاں حسین کمزور تھا اور یزید طاقتور، قانونِ فطرت کے مطابق یزید حسین کو مٹا دیتا لیکن حسین نے اپنی مظلومیت کی ایک ہی ضرب سے قاتلین کو مٹا دیا۔ حسین ہار کر امر گیا، یزید جیت کر فنا ہو گیا۔ حسین آج بھی کروڑوں دلوں میں راج کر رہا ہے، ان دلوں میں یزید کے لئے نفرت ہی نفرت ہے اور حسین کے لئے پیار ہی پیار۔
کربلا کی داستان کو زندہ رکھنے کا اصل مقصد یہی ہے کہ جب بھی ظالم سر اٹھائے، سر کچل دیا جائے۔ واقعہ کربلا سے یہی سبق ملتا ہے کہ ظالم کی اطاعت کسی صورت میں جائز نہیں بلکہ اس کے خلاف آواز بلند کی جائے اور اسکے گھناؤنے چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے۔ اس لئے
آئیے عالمی قاتلین سے نفرت کا اظہار کریں! جہنوں نے کشمیر و فلسطین، عراق اور افغانستان میں قتل و غارت گری اور خون خرابے کا بازار گرم کر کھا ہے۔
آئیے خود کو سپر منوانے والوں سے نفرت کریں! جن کے دل و دماغ مسلمانوں کو تباہ برباد کرنے میں لگے رہتے ہیں۔
آئیے ماتم کریں! ان لوگوں کا جو بے وقت کی موت مارے گئے۔
آئیے ماتم کریں! کشمیر و فلسطین، عراق اور افغانستان میں خون میں لت پت تڑپتی لاشوں کا اور آنسو بہائیں ان بیگناہوں کا جو بے خبری کی موت مارے گئے۔
آئیے ماتم کریں! لیکن کس کس کا ماتم یہاں تو ہر گھر سے بینوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔ یتیم بچے آسمان کی طرف منہ اٹھائے دھاڑیں مار کر پوچھ رہے ہیں کہ آخر ہمارا قصور کیا ہے؟ کس جرم کی سزا ہے کہ ظالموں نے پل بھر میں ہنستے کھیلتے گھر کو ماتم کدے میں تبدیل کر دیا۔
اے خون کو پانی کی طرح بہانے والو!
اے ڈالروں کے پجاریو!
اے غیرملکی اشارے پر ناچنے والو!
اے فرعون کے جادوگرو!
اے نمرود کے خزانو!
اے ابوجہل کے ساتھو!
اے شداد کے جنتیو!
اے ابو طاہر قرامطی کے شیدائیو!
اے حسن بن صباح کے فدائیو!
اے یزیدی لشکر کے سردارو!
اے چنگیز خان کے چمچو!
اے ہٹلر کے جانشینو!
اے اسرائیل کے گندے دماغو!
اے بھارت کی سہنو!
اے امریکہ کی فوجو!
اے خفیہ جگہوں سے ہٹ کرنے والو!
ڈرو اس وقت سے جب تمھارے ہاتھوں میں مارے جانے والے بیگناہوں کے یتیم بچوں کی چیخیں آسمان سے ٹکرائیں گی۔ یتیم بچوں کے ننھے منے ہاتھ اوپر اٹھیں گے۔ جب ان کی توتلی زبان سے تمھارے لئے بدعا نکلے گی اور تمھیں خوب معلوم ہے کہ خدا کسی مظلوم اور یتیم کی آواز جلد سنتا ہے اور پھر تمھیں زمین و آسمان میں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ خدا کا قہر آخرکار تمھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ دنیا میں بھی تم ذلیل و خوار ہو گے اور آخرت میں یہ یتیم بچے تمھیں گریبان سے پکڑے گھسیٹتے ہوئے خدا کے حضور پیش کریں گے اور چیخ چیخ کر کہیں گے کہ یہی ہمارے قاتل ہیں، یہی ہمارے مجرم ہیں تو اس وقت تمھاری کوئی پش و پیش اور کوئی بہانہ تمہیں نہ بچا سکے گا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

پاپائے روم کے بیان کا مکمل متن

Posted on 17/09/2006. Filed under: دنیا بھر سے | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

پاپائے روم بینیڈکٹ نے مسلمانوں کی طرف سے ان کے بارہ ستمبر کے بیان پر ناراضگی کے بعد افسوس کا اظہار کیا ہے۔ پاپائے روم کے بیان کا متن۔

پیارے بہنو اور بھائیو،
لوگوں کے نجی معاملات میں مدد کے حوالے سے حال ہی میں بواریا کا میرا دورہ طاقتور روحانی تجربہ تھا جس میں جانی پہچانی جگہوں سے اور مقدس پیغام کے مؤثر اظہار کے لیئے شروع کیئے جانے والے لوگوں کی فلاح کے منصوبوں سے وابستہ یادیں شامل تھیں۔

میں اندرونی خوشی کے لیئے خدا کا شکر گزار ہوں اور میں ان لوگوں کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے اس پیسٹورل دورے (لوگوں کی نجی زندگی میں مدد کے لیئے کئے جانے والے کام) میں میری مدد کی۔

اس دورے کے بارے میں مزید بات چیت روایت کے مطابق آئندہ بدھ کو ہونے والے جلسۂ عام میں ہوگی۔

اس وقت میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ مجھے جرمنی میں دیئے گئے اپنے بیان کے کچھ حصوں پر، جو مسلمانوں کو برے لگے تھے، چند ممالک میں ہونے والے رد عمل پر بہت افسوس ہے۔

وہ دراصل قرون وسطیٰ کی ایک دستاویز سے لیئے گئے تھے اور میرے جذبات کی عکاسی نہیں کرتے۔

کل خارجہ امور کے نگران نے اس کے بارے میں ایک بیان جاری کیا تھا میرے بیان کا صحیح مفہوم سمجھایا گیا تھا۔

میں امید کرتا ہوں کہ اس سے بے چینی ختم ہوگی اور میرے بیان کا درست مطلب واضح ہوگا جو باہمی احترام کے ساتھ بلا تکلف اور مخلصانہ مکالمے کی دعوت ہے۔

اس سے پہلے ویٹیکن میں خارجہ امور کے نگران تارسیسیو بیرٹونے نے ایک بیان پڑھ کر سنایا جس میں پاپائے روم بینیڈکٹ نے کہا ہے کہ انہیں افسوس ہے کہ ان کی ایک تقریر جس میں انہوں نے اسلام کا حوالہ دیا تھا مسلمانوں کو بری لگی ہے۔

مسلمانوں کی جانب سے مقدس باپ کی جامعۂ رجینزبرگ میں تقریر کے کچھ حِصّوں پر اعتراض اور ’ہولی سی‘ کے پریس آفس کے ناظم کی طرف سے جاری کی گئی وضاحت میں مندرجہ ذیل اضافہ کرنا چاہتا ہوں۔

اسلام کے بارے میں پاپائے روم کا مؤقف وہی ہے جو کلیسا کے غیر عیسائی مذاہب کے ساتھ روابط کے بارے میں اعلامیے میں بیان کیا گیا ہے۔

’کلیسا مسلمانوں کو بھی تقریم کی نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ اس ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں، جو کسی کا محتاج نہیں، مہربان اور قدرت والا ہے، آسمان اور زمین کا خالق ہے، جو انسان سے مخاطب ہوا، وہ(مسلمان) اس کے مشکل ترین احکامات کی بجا آوری میں ہر تکلیف برداشت کرتے ہیں جیسا کہ ابراہیم نے کیا تھا جس کے ساتھ مذہبِ اسلام اپنا ناطہ جوڑے جانے پر خوشی محسوس کرتا ہے۔

وہ عیسیٰ کو خدا نہیں مانتے لیکن اس کا بحیثیت پیغمبر احترام کرتے ہیں۔ وہ مریم کو بھی بلند مقام دیتے ہیں اور بعض اوقات ان سے عقیدت کے ساتھ رجوع بھی کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ ان کا آخرت پر ایمان ہے جب خدا مردوں کو زندہ کر کے ان کے میدانوں میں کھڑا کر دے گا۔

آخر میں وہ اچھی زندگی گزارنے پر یقین رکھتے ہیں اور خدا کی عبادت کرتے ہیں خاص طور پر دعا، خیرات اور روزے کے ذریعے‘۔

پاپائے روم کی بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے کے بارے میں سوچ میں کوئی شک و شبہہ نہیں۔

انہوں نے جرمنی کے شہر کولون میں بیس اگست سن دو ہزار پانچ میں مسلمانوں سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان مکالمے کو ممکنات کے زمرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔

’ماضی کے تجربات یقیناً ہمیں غلطیوں دہرانے سے روک سکتے ہیں۔ ہمیں صُلح کے راستے تلاش کرنے چاہیں اور ایک دوسرے کی شناخت کو قبول کرتے ہوئے باہمی احترام کے ساتھ جینا چاہیے‘۔

جہاں تک بازنتینی بادشاہ مینویل دوئم کے ان خیالات کا تعلق ہے، جن کا حوالہ انہوں نے ریجنزبرگ میں دیا تھا، پاپائے روم کا ان کو کسی بھی طرح نہ اپنانے کا کوئی ارادہ تھا اور نہ ہی ان کی بات کا یہ مطلب تھا۔

ان کا یہ حوالہ دینے کا مقصد صرف تعلیمی تناظر میں مذہب اور تشدد کے درمیان تعلق کے موضوع پر عمومی طور پر کچھ خیالات کا جائزہ لینا اور سختی سے اس سوچ کو مسترد کرنا تھا کہ مذہب میں تشدد کا جواز تلاش کیا جا سکتا ہے اور یہ ان کے بیان کے مکمل متن کے بغور مطالعے سے واضح ہے۔

اس موقع پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاپائے روم نے حال ہی میں اپنے پیش رو کی طرف سے شروع کیئے جانے والے امن کے بین المذاہبی دعائیہ اجلاس کی بیسویں برسی کے موقع پر کہا تھا کہ ’۔۔۔۔تشدد کی وجہ مذہب نہیں بیان کی جا سکتی بلکہ یہ ان ثقافتی حدوں کا نتیجہ ہے جن میں اس پر عمل ہوتا ہے اور جن میں یہ پنپتا ہے۔۔۔۔۔در حقیقت خدا کے ساتھ رشتہ اور اخلاقیاتِ محبت میں تعلق کی تمام عظیم مذہبی روایات سے تصدیق ہوتی ہے‘۔

مقدس باپ پس مخلصی کے ساتھ معذرت خواہ ہیں کہ ان کے بیان کے کچھ حصے مسلمانوں کو برے لگے ہوں گے اور ان کا ایسا مطلب نکالا گیا جو کسی بھی طرح ان کا ارادہ نہیں تھا۔

اور یہ پاپائے روم ہی تھے جنہوں نے مسلمانوں کے مشتعل ہونے سے پہلے سیکولر مغربی ثقافت کو متنبہ کیا تھا کہ ’خدا کی توہین‘ اور آزادی اظہار کے ایسے خبط سے باز رہیں جو مقدس چیزوں کی تضحیک کو جائز سمجھتا ہو۔

پاپائے روم نے اسلام کے ماننے والوں کے لیئے اپنے احترام کا اعادہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ ان کے الفاظ کا درست مطلب سمجھ سکیں گے تاکہ موجودہ بے چینی کو پیچھے چھوڑ کر ’انسان سے مخاطب ہونے والے آسمان اور زمین کے خالق‘ کی گواہی دی جا سکے اور ’مِل کر تمام انسانیت کے لیئے انصاف اور اخلاقی بہبود اور امن اور آزادی‘ کے لیئے کوششیں تیز کی جا سکیں۔ بشکریہ بی بی اردو

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

ایمان فروشی

Posted on 31/10/2005. Filed under: اسلام, تاریخ | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , |

اکتوبر 1760 سے جنوری 1761 تک مرہٹوں کی اتحادی افواج مختلف مقامات پر ابدالی لشکر سے ٹکراتی رہی، مر ہٹوں کی اتحادی افواج میں مسلمانوں کا ایک سردار ابراہیم خان گاردی بھی تھا جو کہ اپنے ساتھ دو ہزار سوار اور 9 ہزار پیدل فوج لایا تھا۔
آخری لڑائی میں مرہٹوں کی اتحادی افواج کا سپہ سالار بسواں راوُ مارا گیا، ابدالی کے لشکر نے اتحادی لشکر کا قتل عام شروع کر دیا، مرہٹوں کی کمر توڑ دی گئی تو احمد شاہ ابدالی نے تلوار نیام ڈال دی، شکست خوردہ اتحادی افواج کے گرفتار ہونے والے سرداروں اور فوجیوں میں گیارہ ہزار فوجی مہیا کرنے والا مسلمان سردار ابراہیم خان گاردی بھی شامل تھا۔ جب اسے فاتح بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا تو احمد شاہ ابدالی نے نفرت آمیز لہجے میں اس سے پوچھا ، کہو خان صاحب کیا حال ہے ؟ کس طرح تشریف آوری ہوئی ؟ ابراہیم گاردی نے کہا ، میں ایک جاں فروش سپاہی ہوں، حضور جان بخشی کرینگے تو اسی طرح حق نمک ادا کرونگا، نفرت اور غصے سے احمد شاہ ابدالی کا چہرہ سرخ ہو گیا، گاردی ! جاں فروشوں کی جان بخشی تو ہو سکتی ہے لیکن ایمان فروش دنیا میں رہنے کے قابل نہیں ہوتے ّ یہ تاریخی جملہ کہنے کے بعد احمد شاہ ابدالی نے حکم دیا ” اس ایمان فروش کو میری آنکھوں سے دور کر کے صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے ” پوری ذمہ داری سے حکم کی تعمیل کر دی گئی۔
ہمیں اپنی تاریخ میں ابراہیم خان گاردی جیسے ایمان فروش جگہ جگہ ملتے ہیں عالم اسلام کی ہر شکست، ہر ذلت، ہر ہزمیت کا سبب ڈھونڈ لیا جائے تو اس میں کسی نہ کسی ابراہیم گاردی جیسے ایمان فروش کا ہاتھ ہو گا۔
آج کے دور میں بھی ہم انہی ایمان فروشوں میں گھرے ہوئے ہیں، عالم اسلام کے پاس ساٹھ لاکھ سے بھی زائد فوج ہے لیکن چند ہزار اتحادی فوجی آتے ہیں اور ابراہیم گاردی جیسے ایمان فروشوں کی مدد سے کبھی افغانستان کو روندھتے چلے جاتے ہیں اور کبھی عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دیتے ہیں۔ اتحادی افواج ایران کی طرف رُخ کرتی ہے تو ایران کو دور دور تک کوئی مددگار دکھائی نہیں دیتا ، شام کو دھمکیاں دی جاتی ہیں تو اسے عالم اسلام میں ہمدرد نظر نہیں آتا ، ابراہیم گاردی جیسے ایمان فروشوں کو اتحادیوں کا ساتھی بنا دیکھ کر سارا عالم اسلام سرنگوں ہوتا چلا جا رہا ہے۔
آج عالم اسلام کو ایک بار پھر احمد شاہ ابدالی کی ضرورت ہے جو ایمان فروشوں کو بھولا ہوا سبق یاد دلا سکے کہ جاں فروشوں کی جان بخشی تو ہوسکتی ہے لیکن ایمان فروشوں کی جان بخشی نہیں ہو سکتی۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...