بجلی چوری

Posted on 12/10/2009. Filed under: طنز و مزاح | ٹيگز:, , , , , , |

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

لوگو سوچو!

Posted on 09/08/2009. Filed under: پاکستان, سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , |

کافی دنوں بعد آپ سے مخاطب ہوں اس لئے آج کرنے کو بہت سی باتیں ہیں، کچھ ہوں گی بھی سہی، ہو سکتا ہے ان میں ربط نظر نہ آئے کیونکہ آجکل کے حالات نے میرے ذہن کو ماؤف سا کر دیا ہے۔ میں کسی ڈرامے یا فلم میں بھی ظلم یا دھوکہ ہوتا دیکھوں تو ٹی وی بند کر دیتا ہوں یا اٹھ کر باہر چلا جاتا ہوں جبکہ حقیقی زندگی میں پورا ملک ظلم اور فریب کی منڈی دکھائی دیتا ہے، ایسے حالات میں باتوں کے اندر ربط کیسے باقی رہ سکتا ہے۔ میرا بس چلے تو ان ظالموں، فریب کاروں اور بہروپیوں کی دھجیاں اڑا دوں، ان کا ریشہ ریشہ علحیدہ کر دوں، جھوٹ اور استحصال کی ہر علامت کو عبرت کی ایسی مثال بنا دوں کہ سالہا سال کسی کو آدم خوری کی جرآت نہ ہو، ان کے ساتھ اس سے بھی بدتر سلوک کروں جو بنوعباس نے بنواُمیہ کے ساتھ کیا تھا۔
قسم اللہ کی بزرگی و برتری کی، قسم پاکستان اور پاکستانیوں کی محرومیوں اور بدنصیبیوں کی اس قوم کے حکمران ‘ایک نمبر‘ ہوں تو اس جیسی ایک نمبر قوم پوری دنیا میں نہیں مگر مغرب سے مرعوب زدہ ہمارے یہ روبوٹس نما حکمران اس ملک کو مقروض منڈی کے طور پر چلا رہے ہیں۔ ان کا زیادہ سے زیادہ فخر صرف یہی ہے کہ ‘آئی ایم ایف راضی ہو گیا‘ اور ‘ہم قرضہ لے آئے ہیں‘ یا ہم قرضے کی قسط جاری کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں، ہم نے آئی ایم ایف کو رجھا لیا ہے ۔۔۔۔۔لیکن قوم کو کبھی نہیں بتائیں گے کہ یہ سب کس قیمت پر کیا ہے۔
قوموں اور ملکوں کو نہ ایٹم بم بچاتے ہیں نہ ان کی میعشت۔
ملک ایٹم بموں سے بچائے جا سکتے تو روس ٹکڑے ٹکڑے نہ ہوتا۔
ملک معاشی مضبوطی سے مضبوط ہوتے تو برونائی اور سعودی عرب مضبوط ترین ہوتے۔
قوموں کی حفاظت ۔۔۔ خود قومیں کرتی ہیں جیسے کسی بھی گھر کا آخری اور حقیقی محافظ چوکیدار نہیں ۔۔۔ اہل خانہ ہی ہوتے ہیں، اُسی طرح ملکوں کے محافظ اس کے عوام ہوتے ہیں، یہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب عوام کو اقتدار میں شرکت اور عزت دی جائے، اہمیت دی جائے، انصاف دیا جائے ۔۔۔ لیکن یہاں کیا ہے؟
پیپلز پارٹی کے وڈیرے اور جاگیردار، مسلم لیگ کے سرمایہ دار
لوگو سوچو!
کیا یہ تمھارے بارے میں کبھی کچھ سوچ سکتے ہیں؟

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

پیپلز پارٹی کی (دیدہ) دلیری

Posted on 28/02/2009. Filed under: سیاست | ٹيگز:, , , , , |

HTML clipboard

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

اکرم شیخ کی میڈیا سے گفتگو

Posted on 26/02/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , , |

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

المیہ مشرقی پاکستان اور زبان کا مسئلہ ۔ ایک جائزہ

Posted on 17/12/2008. Filed under: پاکستان, تاریخ | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , |

١٩٥٢ء میں جب مرکزی حکومت نے بنگلہ زبان کے لئے عربی رسم الخط اختیار کرنے کی کوشش کی تو لسانی مسئلہ پھر سے کھڑا ہو گیا پاکستان کے دوسرے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین خود بنگالی تھے انہوں نے اردو کو قومی زبان بنانے کی تصدیق کی۔ خواجہ ناظم الدین کے اس اعلان سے حالات مزید بگڑ گئے اور مشرقی پاکستان میں ہنگامے شروع ہو گئے۔ لسانی تحریک اس قدر پرتشدد تھی کہ مرکز اور صوبے میں تصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ اگر اس وقت ملک میں کوئی صیحح عوامی نمائندہ حکومت ہوتی تو حالات بہتر ہو سکتے تھے۔ دوسری طرف مشرقی پاکستان کی صوبائی اسمبلی نے متفقہ طور پر بنگلہ کو قومی زبان تسلیم کرنے کی قرارداد منظور کی لیکن مرکزی حکومت نے معاملے کو سلجھانے کی بجائے طول دینے کی پالیسی اختیار کی۔ بنگالیوں نے اسے مغربی پاکستان کی طرف سے اپنی مرضی تھوپنے کی کوشش قرار دیا اور اپنے مطالبے کے لئے فروری ١٩٥٢ء میں مشرقی پاکستان میں ہڑتالوں اور مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ٢١ فروری کو پولیس کے ہاتھوں دو طالب علم ہلاک ہو گئے امن و امان کی نازک صورتحال کے باعث فوج طلب کرنا پڑی۔ اس تحریک نے گہرے اثرات چھوڑے اور اس میں ہلاک ہونے والوں کو بنگالی تحریک کے اولین شہداء کا خطاب دیا گیا۔ فسادات کو روکنے کے لئے جلسہ، جلوسوں اور پانچ سے زائد افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی لگا دی گئی۔
مئی ١٩٥٩ء کے انتخابات میں جو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہوئے  یونائٹیڈ فرنٹ نے ٢٣٧ میں سے ٢٢٣ نشتیں جیت کر مسلم لیگ کو زبردست شکست دی۔ مسلم لیگ کو صرف دس نشتوں سے کامیابی حاصل ہو سکی۔ یونائٹیڈ فرنٹ علاقائی اور صوبائی سیاسی قوتوں کا اتحاد تھا جس میں عوامی لیگ، کرسک سرامک پارٹی، نظام اسلام پارٹی، گاناتانتری عادل شامل تھیں۔ فرنٹ سے ٢١ نکات پر مبنی ‘منشور آزادی‘ کی بنیاد پر انتخاب میں حصہ لیا۔ منشور  کی بنیاد ہی صوبائی عصیبت اور مرکز خلاف سرگرمیوں کو فروغ دے کر خود مختاری حاصل کرنا تھی۔ اس اتحاد کے رہنما حسین شہید سہروردی اور اے کے فضل الحق تھے۔ سہروردی تقسیم ہند سے قبل مسلم لیگ بنگال کے صدر رہ چکے تھے۔ اور ان سے دس سال قبل اے کے فضل الحق مسلم لیگ کے صدر تھے۔ فرنٹ نے اپنے منشور میں کہا تھا ‘درس و تدریس کے لئے مشرقی زبان بنگالی کو نصاب کا لازمی جزو بنا جائے‘ انتخاب کے بعد صوبے میں صنعتی بدامنی بلوؤں مظاہروں اور قتل و غارت کا آغاز ہو گیا صوبے میں کئی مقامات پر بنگالیوں کے درمیان خوفناک تصادم ہوئے جن میں متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔
١٩٥٦ء کے آئین نے بھی دونوں حصوں کو قریب لانے کی بجائے ان میں دوریاں پیدا کیں۔ مشرقی پاکستان کی پارٹیاں مخلوط طریقہ انتخاب کے حق میں اور ون یونٹ کی تشکیل کے خلاف تھیں۔
جنرل محمد ایوب خان کے دور مین بنگالیوں کے احساس محرومی اضافہ ہوا، فوج میں ان کی تعداد پہلے ہی بہت کم تھی۔ فوج کے لئے ان کے جذبات مغربی پاکستان کے عوام سے مختلف تھے۔
١٩٦٢ء کا آئین بھی بنگالیوں کو مطمئین نہیں کر سکا۔ لسانی بنیادوں پر پیدا ہونے والے اختلافات بڑھتے چلے گئے اور ان اختلاف کا دائرہ زندگی کے تمام شعبوں میں پھیل گیا۔ ایوب خان کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مشرقی پاکستان میں نوجوان طبقہ تحریک میں آگے آگے تھا۔ پرتشدد مظاہروں اور جھڑپوں میں کئی نوجوان ہلاک اور زخمی ہوئے اور سینکڑوں گرفتار ہوئے۔ ایوب خان کے آخری دنوں میں اور یحییٰ خان کے دور میں مشرقی پاکستان میں جو کچھ ہوا وہ ہماری تاریخ کا تلخ باب ہے جس کا انجام مشرقی پاکستان کی علحیدگی کی صورت میں ہوا۔ مشرقی پاکستان میں زبان کے مسئلے پر اختلافات آزادی کے فوراََ بعد شروع ہوئے تھے اگر اس مسئلے کو طاقت اور محلاتی سازشوں کے ذریعے حل کرنے کی بجائے سیاسی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی جاتی تو شاید پاکستان آج آدھا نہ ہوتا، ہم مکمل قوم ہوتے۔

حصہ اول کے لئے یہاں کلک کریں۔

۔۔۔۔۔۔ ختم شد ۔۔۔۔۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...