اُستاد حامد علی خان بمقابلہ اُستاد پرویز مشرف علی خان

Posted on 10/08/2009. Filed under: موبائیل زون, وڈیو زون, پاکستان, سیاست, طنز و مزاح | ٹيگز:, , |

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

انرجی بچاؤ وقت

Posted on 07/04/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , |

موجودہ حکومت کی پالیسیاں بھی مشرف حکومت کی طرح چل چلاؤ اور حکومت کرو کی طرح ہیں، نہ کوئی واضع پالیسی نہ کوئی ٹھوس اقدامات۔ اب یہی دیکھ لیں لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کے موجودہ حکومت نے بھی مشرف حکومت کی طرح گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے ٢٥٠ میگا واٹ بجلی کی بچت ہو گی۔ اس اقدام کے تحت٣٠ اپریل اور یکم مئی کی درمیانی رات کو پاکستان کے معیاری وقت کی بجائے انرجی بچاؤ وقت شروع ہو جائے گا اور پاکستان بھر میں گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کر دی جائیں گی۔ ان کوڑھ دماغوں کو ذرا مشرف دور کے اعداد و شمار ہی دیکھ لینے چاہیے تھے کہ اس اقدام سے لوڈشیڈنگ پر کس قدر قابو پایا جا سکا تھا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

مروا دیا آپ کی رجائیت پسندی نے مروا دیا

Posted on 12/03/2009. Filed under: پاکستان, سیاست | ٹيگز:, , , , , , |

ہم آپ کے مداح اور قارئین آپ کے کالم پڑھ کر یہ سمجھنے لگے تھے کہ مشرف کے منظر سے ہٹتے ہی خوش منظر سویرا ہوگااور سفینہ غم دل ساحل مراد پر لنگرانداز ہو جائے گامگر معاملہ منیر نیازی کے شعر کی طرح نکلا… ایک اور دریا کا سامنا تھا منیرمجھ کو۔
ہم لوگ مشرف کے بعد کا منظر نامہ نہ دیکھ سکے۔ نہ صرف یہ کہ مشرف کو Scotfree چھوڑ دیا گیا بلکہ اس کی جگہ جو ذات شریف تخت طاؤس پر متمکن ہوئی ہے۔ اس کے خیال سے خوف آتا ہے کیا صدر پاکستان کا آفس اس قدر بے توقیر ہوگیا ہے کہ اس میں سیاسی مسخرے بیٹھا کریں گے؟
رشک سے بھارت کو دیکھتا ہوں، جہاں رادھا کرشنن اور ذاکر حسین خان جیسے عظیم المرتبت خدام وطن نے اس کرسی کو رونق اور عزت بخشی جبکہ ہمارے ملک میں کبھی مفلوج غلام محمد، مردود یحییٰ خان یا مجبور فضل الٰہی اس آفس کوبے وقار کرتے رہے۔ لگتا ہے پیپلز پارٹی کی قیادت اندھی اور گونگی ہوگئی ہے جسے صدارت کے لئے اعتزاز احسن نظر آئے نہ رضا ربانی۔
پیپلز پارٹی پر قبضہ جمانے کے بعد زرداری نے سب سے پہلے دونوں مخدوموں کو چت Out smart کیا، پھر مشرف والی کرسی پر قبضہ کرنے کے لئے الطاف حسین کی پارٹی سے مل کر ایک Un Hoby Alliance بنا لیا۔ امامت کے لئے انہوں نے ایسے مولانا کو منتخب کیا جو سیاسی بلیک میلنگ کے امام ہیں۔ اس ٹرائیکا کے کارناموں کو دیکھ کر لوگ مشرف کو بھول جائیں گے پاکستان کی زمین میں پوشیدہ خزانوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے اس قدر لوٹ مار کے باوجود ختم ہونے میں نہیں آرہے۔ کیا زیر زمین دولت کا دریا اُبل رہا ہے؟ لیکن یہ ٹرائیکا اس سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کو ذبح کرکے ہی دم لے گا اور ہم آپ کے مداحین و قارئین آپ کے لئے عمر خضر کی دعا مانگیں گے۔ تاکہ آپ تا قیامت سچی جمہوریت کے قیام کے لئے کالم لکھتے رہیں۔
پاکستان کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں نہ کبھی آئین نافذ رہا نہ آئین کے تحت بننے والے اداروں (پارلیمینٹ، عدلیہ، الیکشن کمیشن) کو تسلسل اور آزادی سے کام کرنے کی اجازت دی گئی۔ آئین روح اور ادارے اعضائے رئیسہ کی مانند ہوتے ہیں۔ پاکستان اس لحاظ سے ایک سیاسی معجزہ ہے کہ روح اور اعضائے رئیسہ کے بغیر ہی چل رہا ہے۔ گو نمائش کے لئے یہ ادارے موجود ہوتے ہیں لیکن ان کی کنپٹی پر پستول رکھ کر یا چمک دکھا کر ان سے مرضی کے مطابق فیصلے (یا فتوے) حاصل کرلئے جاتے ہیں۔ وزیراعظم پارلیمینٹ کو خود مختار بنانے کے دعوے کرتے رہتے ہیں لیکن جانتے ہیں کہ پارلیمینٹ سے باہر بیٹھیں ہوئی طاقتوں کی موجودگی میں پارلیمینٹ کو خود مختار نہیں بنایا جاسکتا۔ اخبار والے اشاروں اشاروں میں ان طاقتوں کو AA کہتے ہیں (یعنی آرمی اور ا مریکہ)۔ اس کے علاوہ ایک طاقت اور بھی ہے وہ سیاسی کھلاڑی جن کے پاس زر کے بڑے بڑے انبار ہیں، جنہیں دیکھ کر ممبران پارلیمینٹ کی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں، یہ تینوں طاقتیں ایک پاور فل الیکٹرومیگنیٹ کی طرح پارلیمینٹ پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ پارلیمینٹ کی آزادی جو عوام کی امنگوں اور خواہشوں کا دوسرا نام ہے ایک موہوم خواب کی طرح تعبیر کی تلاش میں بھٹکتی رہتی ہے۔
اس وقت ملک میں زبردست سیاسی اور معاشی بحران ہے، سماجی افراتفری ہے، بے یقینی ہے Confusion ہے۔ ملک کے حالات تیزی سے بے قابو ہوتے جا رہے ہیں۔ بیڑہ تباہی کے قریب آن لگا ہے یعنی ٹائی ٹینک چٹانوں میں گھرگیا ہے۔ اب پھر کوئی طالع آزما، سفاک مسیحا، یا عصا بردار موسیٰ کے روپ میں آن دھمکے گا سانپ اور سیڑھی کا کھیل پھر شروع ہوجائے گا۔ یعنی گردش تیز تر اور سفر آہستہ۔
محترم حقانی صاحب! لگتا ہے گلشن کا کاروبار یونہی چلتا رہے گا اور یہ چمن یونہی رہے گا۔ اجڑا، اجڑا، دنیا جہاں کے جانور یہاں چرتے پھریں گے۔
ہم احمقان چمن ہر روز جیئں گے، ہر روز مریں گے۔ گھبرا گھبرا کے کہا کریں گے: مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے؟ البتہ دانشمندان چمن اپنے آئینہ ادراک میں بہت کچھ دیکھ رہے ہیں۔
اے حکمرانو! اے طبقہ اعلیٰ کے لوگو!
ڈرو اس وقت سے… پڑیں گے جب جان کے لالے… اور کوئی نہ ہوگا جو بچالے۔
خیر اندیش…عادل اختر، راولپنڈی
کالم ۔ ارشاد احمد حقانی

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

مشرف اور زرداری کا قوم کے لئے تحفہ

Posted on 20/02/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , |

پاکستان میں سی آئی اے کا خفیہ بیس کیمپ
گوگل سیٹلائٹ  لنک
Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

صدر مشرف استعفے کے بعد !!!

Posted on 13/09/2008. Filed under: طنز و مزاح | ٹيگز:, , , , |

غریب مشرف کی حالتِ زار استعفے کے بعد  ۔۔۔۔۔۔  دیکھیئے ان دستی (بناؤٹی) تصویروں میں۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

عوام کے تابع نظام

Posted on 04/04/2005. Filed under: سیاست | ٹيگز:, , , , , , , |

محترم جناب صدر جنرل پرویز مشرف ! آپ نے جو نظام اس ملک کو دیا ہے آپ اس پر ہمیشہ اپنی ہر بات اور ہر تقریر میں فخر کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ محترم صدر ! گستاخی معاف ، آپ نے کبھی اپنے اس نظام پر غور کیا ،کبھی عوام سے پوچھا کہ آپ کے اس نظام کے تحت ان کی عزت و آبرو،جان و مال کس حد تک محفوظ ہیں ؟ نہیں جناب آپ کوتو کچھ بھی معلوم نہیں، آپ کو بس سب اچھا ہے کی روپورٹ مل جاتی ہے۔خدارا آپ ذرا پریذیڈنٹ ہاؤس سے باہر نکل کر دیکھیں یہاں کسی کی بھی عزت و آبرو، جان ومال محفوظ نہیں۔ ہر طرف اندھیر نگری مچی ہوئی ہے، گھر سے باہر نکلو تو واپسی کا کوئی پتہ نہیں کہ انسان واپس گھر پہنچتا بھی ہے یا نہیں، اگر گھر میں بیٹھو تو بھی کچھ معلوم نہیں کہ کس وقت کوئی آفت کہاں سے ٹوٹ پڑے،امجد علی طاہر کے بھائی کا کیا قصور تھا وہ بیچارہ تو ہنسی خوشی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ شادی کی تقریب سے واپس آ رہے تھےمگرظالموں نے انہیں گھر تک پہنچنے کی مہلت بھی نہ دی، اس جیسی روزانہ سینکڑوں وارداتیں ہوتی ہیں، صرف ایف آئی آر درج ہوتی مگر کسی بھی واردات میں قاتل آج تک نہیں پکڑےگئے۔ یہ کیسا نظام ہےصدر محترم جو صرف قاتلوں کی پست پناہی کرتا ہے؟ ۔

عورت ہے تو اس کی عزت و آبرو کہیں بھی محفوظ نہیں، علاج کے نام پر مسیحا،انصاف کے نام پر قانون کے محافظ، تعویز اور ٹونے ٹوٹکے کے نام پر جعلی پیر،حصول علم کی خواہش پر اساتذہ عورت کو بےآبرو کر دیتے ہیں، آج بازار سے لیکر ہسپتال تک اور کالج سے لیکر گھر کی چار دیواری تک کہیں بھی عورت کی عزت محفوظ نہیں رہی آخر آپ کا یہ نظام کتنی مختیار مائیاں پیدا کرنا چاہتا ہے۔
محترم صدر! آپ اپنے قیمتی وقت میں سے تھوڑا سا وقت عوام کے لئے بھی نکال لیں، مگر آپ کے پاس ان فضولیات کے لئے وقت کہاں، آپ نے ابھی کالا باغ ڈیم کے بارے میں سوچنا ہے، بلوچستان کا مسئلہ حل کرنا ہے اور سب سے بڑی بات کرکٹ میچ دیکھنے بھارت بھی جانا ہے آپ کے پاس ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے وقت کہاں، آپ بھی اگر ان معمولی کاموں میں لگ گئے تواتنے بڑے بڑے کام بھلا کون کرےگا۔ محترم صدر! اگر آپ کوئی بڑا کام کرنا ہی چاہتے ہیں، کوئی نظام دینا ہی چاہتے ہیں تو اس ملک کی عوام کے لئے صرف ایک معمولی سا کام کر دیں، اس ملک کے اداروں کو مضبوط کر دیں، انہیں عوام کے تابع کر دیں اگر آپ یہ کر دیں تو یہی آپ کا سب سے بڑا کام ہو گا، یہی سب سے بڑا نظام ہو گا۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...