ڈیرہ لہو لہو

Posted on 08/02/2009. Filed under: ڈیرہ نامہ | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , |

ڈیرہ غازی خان بم دھماکے کے بعد آج تیسرے روز بھی سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس دوران شہر بھر میں تمام کاروباری مراکز، تعلیمی ادارے، سرکاری و غیر سرکاری ادارے بند رہے۔ مشتعل مظاہرین نے پتھراؤ  اور توڑ پھوڑ  کی جبکہ اکا دکا فائرنگ کے واقعات بھی سامنے آئے۔ پولیس جائے وقوع سے ملنے والے اعضاء کی مدد سے حملہ آور کی تصویر مکمل کر کے میڈیا کو جاری کر دی ہے۔
ڈیرہ غازی خان کا جڑواں شہر ڈیرہ اسماعیل خان پہلے ہی لہو لہو ہے، اب یہ امن کے دشمن ڈیرہ غازی خان کے پیچھے پڑ گئے ہیں، ڈیرہ کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے جس میں اتنی زیادہ جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ گو حکومت کی طرف سے امدادی رقوم کا اعلان کیا گیا لیکن یہ قیمتی جانوں کا ہرگز نعم البدل نہیں ہے۔
اس وقت جب ڈیرہ لہو میں ڈوبا ہوا ہے، سیاستدان ان بیگاہوں کے خون پر اپنی سیاست چمکانے میں مصروف ہیں، ایسے نازک وقت میں ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاستدان ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر ملک و قوم کی بہتری کے لئے کردار ادا کریں، اس واقعہ میں جو سیکورٹی خامیاں نظر آئی ہیں ان کا سدباب کریں اور ذمہ دار افسران کی غلطی اور کوتاہی کو نظر انداز نہ کریں کیونکہ ان کی ذرا سے غلطی کی وجہ سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہو گئی ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

پنجاب اسمبلی میں پیش کردہ قرارداد کا مکمل متن

Posted on 07/11/2008. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال خان کی زیر صدارت پیر کے روز منعقدہ پنجاب اسمبلی کے ٨ ویں اجلاس کے دوران صوبائی وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ خان نے صدر پاکستان کے الیکٹورل کالج سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے یا اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینے یا پارلیمٹ سے انکے کے مواخذے کے نوٹس کے اجراء کے مطالبہ پر مبنی قرارداد پیش کی گئی ہے۔ جس کا مکمل متن اس طرح ہے۔

”پنجاب اسمبلی یہ اخذ‘ تصور‘ خیال کرتی ہے کہ آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل ٤١ کے تحت پنجاب اسمبلی صدر مملکت کے الیکٹورل کالج کا حصہ ہے جبکہ پنجاب اسمبلی اکتوبر ٢٠٠٧ء میں صدر مملکت کے انتخاب کے بارے میں تحفظات اور اعتراضات رکھتی ہے جس کا اسے قانونی حق حاصل ہے اور پنجاب اسمبلی کا موقف ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف آئین پاکستان کی مبینہ خلاف ورزی کے باعث صدر کا منصب مزید اپنے پاس رکھنے کے اہل نہ ہیں۔ جبکہ کئی دیگر ایسی وجوہات بھی ہیں جن کے باعث وہ خود کو اس عہدہ پر برقرار رکھنے کی اہلیت کے حامل نہیں۔

انہوں نے دو مرتبہ آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مختلف شقوں کی صریحاً خلاف ورزی کی اور آئین و قانون کو پامال کرتے ہوئے جمہوریت کی گاڑی کو پٹڑی سے اتارنے سمیت غیر جمہوری اقدامات کی حوصلہ افزائی کی۔ آئین کی دفعہ ٤١ (١) کے تحت صدر چاروں صوبوں کی زنجیر اور وفاق کی علامت ہوتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے فرائض سے کوتاہی برتتے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بین الصوبائی ٹینشن پیدا کی‘ صوبوں کے حقوق غصب کئے‘ صوبائی خود مختاری سے انحراف کیا اور وفاق کو کمزور کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

اسی طرح گزشتہ ٨ سالوں کے دوران اختیار کی گئی ملک و قوم کے مفاد کے منافی پالیسیوں نے ملک کو سیاسی و اقتصادی تباہی کے دھانے پر پہنچا دیا۔ انکی ناقص حکمت عملی کے باعث ملک میں توانائی جیسے بدترین بحرانوں کو فروغ حاصل ہوا جبکہ بدامنی‘ لاقانونیت‘ افراتفری‘ غربت‘ بیروزگاری‘ مہنگائی اور عوام و ملک دشمن اقدامات نے عوام کے اعصاب شل کر دیئے۔

انکی پالیسیوں نے وفاق کو مفلوج کر دیا اور قومی اداروں سے عوام کا اعتماد ختم ہو گیا۔ لہٰذا درج بالا اور بہت سی دیگر وجوہات کی بناء پر پنجاب اسمبلی کے ارکان صدر پرویز مشرف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے الیکٹورل کالج سے فوری طور پر اعتماد کا ووٹ حاصل کریں یا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل ٤٤ (٣) کے تحت اپنے عہدہ سے مستعفی ہو جائیں اور اگر وہ مذکورہ دونوں اقدام کرنے سے قاصر رہیں تو پارلیمنٹ انہیں آئین کے آرٹیکل ٤٧ کے تحت مواخذے کا فوری نوٹس جاری کرے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

بہترین مفاد میں

Posted on 04/04/2005. Filed under: پاکستان, رسم و رواج, سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , , , , |

فرض کریں آپ ایک کاروباری ادارے کے سربراہ ہیں، آپ کے مقابلے میں ایک اور ادارہ بھی ہے،کاروباری مخالفت کے باعث آپ اس کے مالک کو اچھا نہیں سمجھتے
اسے کرپٹ ، بے ایمان ، لٹیرا اور وطن دشمن قرار دیتے ہیں اس کی پراڈکٹ کو آپ ناقص اور گھٹیا تصور کرتے ہیں
وہ بھی آپ کو بے ایمان ، چور اور وطن دشمن تصور کرتا ہے ، اور آپ کی پراکٹ کو انتہائی غیر معیاری قرار دیتا ہے، کچھ عرصہ یونہی گزرتا ہے اسی دوران ایک مٹی نیشنل کمپنی مارکیٹ میں اپنے قدم جمانے لگتی ہے جس کی وجہ سے آپ اور آپ کے مخالف کا کاروبار انتہائی متاثر ہوتا ہے ، آرڈر کی شرح میں واضع کمی نوٹ کی گئی ، بزنس دن بہ دن نقصان میں جا رہا ہے ، آپ اپنے کاروبار کو پھر سے پہلی جگہ پر دیکھنا چاہتے ہیں
آپ کسی بھی طرح ملٹی نیشنل کمپنی کو ناک آوٹ کرنا چاہتے ہیں اس کے لئیے آپ کسی اچھے اور قابل عمل فارمولا کی تلاش میں ہیں ، اسی دوران آپ کے ذہن میں ایک خیال آتا ہے کہ کیوں نا ہم دونوں مخالف ایک ہو جائیں، آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے کاروبار کے لیئے یہی بات سود مند ہے
آپ کے دل میں یہ خواہش مچل اٹھتی ہے کہ ” کاش ” ہم دونوں ایک ہو جائیں تو ہی ملٹی نیشنل کمپنی کا مقابلہ کر سکتے ہیں ، بعض اوقات ایسا ہو بھی جاتا ہے کیونکہ دونوں ضرورت مند ہوتے ہیں کسی تقریب میں گلے ملتے ہیں تو سارے گلے شکوے جاتے رہتے ہیں، آپ اسے کہتے ہیں کہ ” مقابلے کے اس دور میں ہمارا ایک ہو جانا ہی بہتر ہے ” اس پر وہ بھی کہتا ہے کہ ”میری دلی خواہش بھی یہی کہ کاروبار کے بہترین مفاد میں ہمارا ایک ہونا ہی بہتر ہے ” پھر اگلے ہی دن وہی کرپٹ ، بے ایمان ، لٹیرا ، وطن دشمن اور گھٹیا پراڈکٹ فروخت کرنے والی کمپنی کا مالک آپ کے پہلو میں بطور حصہ دار بیٹھا ہوتا ہے
کسی بھی جگہ کسی بھی کاروبار میں ایک آدھ مرتبہ کسی کے ساتھ اس واقع کا ہیش آجانا کوئی بڑی بات نہیں ہے کیونکہ بعض صورتوں میں انسان کی انائیں چھوٹی چھوٹی غلط فہمیوں کو رائی کا پہاڑ بنا دیتی ہیں ایسی صورت میں جب غلط فہمیوں کے بادل چھٹتے ہیں تو انسان ایک دوسرے کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے کے قابل ہوجاتے ہیں ، تعلقات اور رشتے اگر خلوص کی بنا، پر قائم ہوں تو پھر وہ تعلقات اور رشتے انتہائی مضبوط اور پائیدار ہوتے ہیں اور اگر مفاد پر قائم ہوں چند دنوں بعد ہی حالات اس نہج پر پہنچ جائیں گے کہ آپ اسے بار پھر کرپٹ اور جھوٹا قرار دے کر اس سے علیحدہ ہو جائیں گے
کچھ عرصہ گزرنے ےک بعد گلے ملنے پر کاروبار کے بہترین مفاد میں ایک ہوجائیں پھر علیحدہ ہو جائیں اور پھر کاروبار کے بہترین مفاد میں ایک ہو جائیں، ادھر آپ کا کاروباری مخالف بھی بخوشی کاروبار کے بہترین مفاد کی خاطر آپ سے مل بیٹھے گا، ایسے تعلقات کو کسی بھی صورت میں پر خلوص تعلقات نہیں کہا جا سکتا
یہ صرف مفادات کے تعلقات ہونگے اور مفادات بھی ایسے جو انتہائی گھٹیا ہونگے
ہماری پاکستانی سیاست بھی کچھ ایسے ہی مفادات سے وابستہ ہے ، میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو جو کل تک ایک دوسرے کو غدار ، کرپٹ، بے ایمان اور وطن دشمن کہتے اور سمجھتے تھے اور ایک دوسرے سے ملنا تو دور کی بات ایک دوسرے کو دیکھنا بھی گناہ عظیم سمجھتے تھے آج جدہ میں ملک کے بہترین مفاد میں اکٹھا ہو گئے ہیں ، بھائی بہن کا رشتہ قائم ہوا تو سارے گلے شکوے بھی جاتے رہے ، ان کے نئے تعلقات نے حکومتی صفوں میں ہلچل مچا دی ہے لیکن ،، قارئین کرام مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ ہمارے سیاستدانوں کی انائیں اور ضمیر آخر کس چیز کے بنے ہوئے ہیں ؟ وہ کونسی انائیں ہیں جن کے ہوتے ہوئے بے ہودہ گالیاں ان کی صحت پر دیسی گھی کا اثر کرتی ہیں وہ کون سے زریں اور بہترین اصول ہیں جن کو سامنے رکھ کر یہ ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں اور الزامات لگاتے ہیں
لیکن جب کسی بہترین مفاد کی خاطر ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو سینکڑوں بازو ان کی گردنوں میں حائل ہونے کےلئیے بے تاب ہوتے ہیں اور اس سارے تماشے کے باوجود ان کے ذہن میں کوئی خلش پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے دماغوں پر کوئی خراش آتی ہے

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...