ممبئی حملے، ثبوت اور پاکستانی شہری

Posted on 10/01/2009. Filed under: پاکستان, سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , , |

کچھ دن پہلے ممبئی حملوں کے ثبوت جو بھارت نے امریکہ کے ذریعے پاکستان کو فراہم کئے ہیں کے بارے میں بھارت کا کہنا ہے کہ یہ ناقابلِ تردید ثبوت ہیں اور پاکستان ان ثبوتوں کو جھٹلا نہیں سکتا۔ ان ثبوتوں کے بارے میں اگر بات کی جائے تو دفترِ خارجہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ان میں ممبئی حملوں کے دوران بنائی گئی وڈیو ریکارڈنگز، دہشت گردوں کی میڈیا کیمروں سے لی گئی تصاویر اور وہ نیٹ کالز کے نمبرز شامل ہیں۔ معلومات کے مطابق ان میں سے ایک نمبر امریکہ کا ہے اور دوسرا نمبر آسٹریا کا (واقعی ناقابل تردید ثبوت ہیں، تردید کی ضرورت ہی نہیں)۔ ممبئی حملوں حملے میں استعمال کیا گیا اسلحہ جس کا تعلق ایک ایسی پاکستانی آرڈیننس فیکٹری سے جوڑا جا رہا ہے جو پاکستان ہے ہی نہیں (ہے نا مزے کی بات)  سب کو معلوم ہے کہ پاکستان چھوٹے ہتھیاروں کا ایکسپورٹر ہے جسے وہ بہت سے ممالک کو فراہم کرتا ہے اور ویسے بھی کیا بھارت کے پاس پاکستانی اسلحہ نہیں ہو سکتا؟ اس طرح کا اسلحہ جس پر میڈ ان انڈیا لکھا ہوا ہے ہمارے پاس بھی بہت ہے ہم چاہیں تو ان کے سیریل نمبر بھارت تو دے سکتے ہیں تو کیا اس بنا پر بھارت کو دہشت گرد ملک تسلیم کر لیا جائے گا (کیا بچگانہ ثبوت ہیں، بھارت میں ذہن سے نہیں سوچا جاتا شاید اس لئے ان احمقانہ ثبوتوں کو ناقابل تردید کہا جا رہا ہے)۔ اس کے علاوہ جن چھے لوگوں کا تعلق پاکستان سے جوڑا گیا ہے ان  بے چاروں کے چہرے  یا پھر ان کی تصاویر اس قدر مسخ کر کے بنائی گئی ہیں جنہیں کوئی پہچان ہی نہیں سکتا کہ دراصل یہ ہیں کون۔ اس کے علاوہ  آٹا، میڈی کیم ٹوتھ پیسٹ، ٹچ می کریم اور اسی طرح کی دوسری چیزیں جنہیں بطور ثبوت پیش کیا گیا ہے (اب بندہ پوچھے کہ یہ وہاں دہشت گردی کرنے گئے تھے یا پکنک منانے اور ساتھ میں رنگ گورا کرنے والی ٹچ می کریم ۔۔۔ سبحان اللہ) باقی تو خیر مگر ان دہشت گردوں کو اپنے ساتھ کراچی آٹا لیکر جانے کی کیا ضرورت تھی۔ شاید انہیں معلوم نہیں تھا کہ بیچارے بھارت کے پاس پہلے سے یہ سب چیزیں موجود ہیں یا پھر وہ بھارت کے آٹا خوار نہیں بننا چاہتے تھے یا پھر بھارت میں پاکستانی اشیاء کی مانگ بہت زیادہ ہے۔ بھارت اس لئے بھی پاکستان کے ساتھ تجارت کے ڈھونگ رچاتا رہتا ہے کہ تجارت کے تحت آئی ہوئی ان اشیاء کو ہر دہشت گردی کے بعد بطور ثبوت پیش کر سکے۔
اس سارے واقعہ میں واحد زندہ مبینہ پاکستانی دہشت گرد اجمل قصاب کا ہندی میں لکھا ہوا خط (یہ ہندی اُس نے کہاں سے سکیھی، میرے خیال میں تو اسے ٹھیک طرح سے اردو نہیں آتی ہو گی)  کا اعترافی بیان جس کی قانونی حیثیت ہی مشکوک ہے۔ اس کے علاوہ ڈی این اے رپورٹ جو پکار پکار کے بھارت والوں کو کہہ رہی ہے کہ یہ پاکستانی خون ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اجمل قصاب پاکستانی ہے مگر بھارت یہ کیوں چھپا رہا ہے کہ اجمل قصاب کو کب، کیسے اور کہاں سے اغوا کر کے اس بھونڈے ڈرامے کا اہم کردار بنایا گیا ہے۔ بھارت اصل صورتحال سب کچھ واضح کرے پھر ہی بات آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔ پاکستانی حکومت بھی اب آئیں بائیں شائیں بہت کر چکی، اب بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو دو ٹوک جواب دے اور دنیا پر واضح کرے کہ اجمل قصاب کو کب اور کہاں سے اغوا کیا گیا ہے جس کا ریکارڈ وہاں کی عدلیہ میں موجود ہے۔
دنیا کا کوئی بھی ملک ہو وہ اپنی شہری کو پہنچنے والی گزند پر آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے، پاکستان پر یہ سارا نزلہ صرف اس لئے گرا ہے کہ کوئی بھی پاکستانی حکومت اپنے شہریوں کا تحفظ نہیں کرتی۔ اگر اجمل قصاب کے اغوا کے وقت ہی شور مچایا جاتا تو یہ سب بکھیڑا کھڑا ہی نہ ہوتا۔ حکومتیں ہی اپنے شہریوں کے تحفظ کی ضامن ہوتی ہیں جب شہریوں کو کوئی پوچھنے والا نہ ہو پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر اللہ حافظ ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

واعتصمو بحبل اللہ جميعا و لاتفرقوا

Posted on 13/12/2008. Filed under: پاکستان, دنیا بھر سے, عالم اسلام | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

اس وقت عالم اسلام کو مخلص قیادت کے ساتھ ساتھ آپس کے سیاسی نفاق کا بھی سامنا ہے جس کی وجہ سے کبھی عراق ایران کے ساتھ آٹھ سال لڑتا ہے تو کبھی کویت پر حملہ کر دیتا ہے۔ کبھی سعودی عرب کے تعلقات ایران سے بگڑ جاتے ہیں تو کبھی ایران اور پاکستان کے تعلقات خراب ہو جاتے ہیں۔ پاکستان آزاد ہوتا ہے تو افغانستان اسے اقوام متحدہ میں تسلیم ہی نہیں کرتا اور پھر جب افغانستان پر بُرا وقت آتا ہے تو پاکستان تیس لاکھ افغانیوں کو اپنے ہاں پناہ دے دیتا ہے۔ لیکن شمالی اتحاد کی حکومت سارے اقدامات ماننے سے انکاری ہوتی ہے اور پاکستان کے مقابلے میں بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھاتا ہے، افغانستان کی دوبارہ تعمیرِنو میں زیادہ تر ٹھیکے ہندوؤں کو مل جاتے ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالٰی واضح طور پر ارشاد فرماتا ہے۔
‘‘واعتصمو بحبل اللہ جميعا و لاتفرقوا‘‘
کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور تفرقہ نہ ڈالو ”
لیکن اس کے باوجود مسلمان آپس میں متحد نہیں ہو رہے ہیں۔
نفاق کی حد تو یہ ہے کہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر کئی پاکستانی فوجیوں نے ایرانی ساخت کے بم بھی پکڑے ہیں جبکہ (او، آئی، سی) اسلامی سربراہی کانفرنس کے تقریباََ چونتیس ممالک بھارت سے دوستی اور تجارت کی پینگیں بڑھاتے نظر آ رہے ہیں، کچھ عرصہ پہلے ایران اور بھارت کے درمیان جنگی معاہدے کی بازگشت بھی گردش میں رہی ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کے مسئلے پر عربوں کا ساتھ دیا جبکہ خود یاسر عرفات مرحوم اور ان رفقاء بھارت کے حامی ہیں اور سابق مرحوم عراقی صدر صدام حسین کی طرح یاسر عرفات نے کشمیر کے بارے میں کبھی پاکستان کی حمایت نہیں کی بلکہ الٹا بھارت سے دوستی بڑھاتے نظر آئے۔
پاکستان اسلامی نظریہ کے اصول پر معرض وجود میں آتا ہے تو مصر کے حکمران ہنس پڑتے ہیں کہ پاکستانیوں کو دیکھو اب یہ ہماری رہنمائی کریں گے لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وہی پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا اور واحد ایٹمی ملک بن گیا۔
بھارت کے شہر ممبئی میں دو ہوٹلوں پر حملہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے پاکستان کا نام لیا جاتا ہے پھر جماعت الدعوۃ کر اس میں ملوث کیا جاتا ہے۔ اس کے فوراََ بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوتا ہے اور اس میں جماعت الدعوۃ کو دہشت گرد قرار دے کر اس پر پابندی لگا دی جاتی ہے اور پاکستان کو حکم دیا جاتا ہے کہ ان کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے۔ جبکہ اس کے برعکس بھارت میں گجرات اور دیگر علاقوں میں ہزاروں مسلمانوں کو مار دیا جاتا ہے، سینکڑوں کو زندہ جلایا جاتا ہے، ہندو انتہا پسند تنظیم اس سارے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتی ہے لیکن اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔ سلامتی کونسل چپ سادھ لیتی ہے۔
ان سارے واقعات کی روشنی میں بتائیے اس وقت پاکستان کہاں کھڑا ہے۔ عالم اسلام میں مخلص قیادت نہ ہونے اور آپس کا نفاق مسلسل پاکستان اور خود عالم اسلام کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...