وطن کی فکر کر ناداں

Posted on 23/09/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |



Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

عید وطن

Posted on 21/09/2009. Filed under: پاکستان, شعروادب | ٹيگز:, , , , |

اس طور اب کے گزری ہے اہل چمن کی عید
جیسے وطن سے دور غریب الوطن کی عید

دست جمیل رنگ حنا کو ترس گئے
بوئے سمن کو ڈھونڈتی ہے پیرہن کی عید

عارض ہیں زخم زخم تو آنکھیں لہو لہو
دیکھی نہ ہو گی دوستو اس بانکپن کی عید

گل رنگ قہقوں کی فصیلوں سے دور دور
نالہ بلب گزر گئی غنچہ دہن کی عید

اے ساکنان دشت جنوں کس نشے میں ہو
شعلوں کی دسترس میں ہے سرو و سمن کی عید

Read Full Post | Make a Comment ( 5 so far )

آٹھواں میرا پیار

Posted on 14/08/2009. Filed under: پاکستان, شعروادب | ٹيگز:, , , , |

پاک زمیں کی ہنستی رتوں کا
دھنک دھنک اظہار
دھنک کے سچے سات رنگ اور
آٹھواں میرا پیار
١٤ اگست
آسماں اور دھرتی کے درمیان زندہ
سارے منظر سمیٹے
ایک وطن کی تشکیل کا دن
آج ہم ان منظروں کو کچھ
اور نہ سجا دیں ۔۔۔۔
گیتوں سے ۔۔۔
جھنڈوں سے۔۔۔
اور پھولوں سے ۔۔۔۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

وطن کی مٹی گواہ رہنا

Posted on 10/08/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , |

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

وفا

Posted on 05/08/2009. Filed under: پاکستان, تعلیم, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , |

ہم کواُن سے وفا کی ہے اُمید
جو نہیں جانتے کہ وفا کیا ہے؟

اس زمانے میں کوئی کسی سے وفا نہےں کرتا۔ اعتبار کسی پر کرتے ہے وفا کوئی اور کرتا ہے۔ وفا تو دِل کی الفت سے ہوتی ہے۔ جس میں وفا نہےں اُس میں کچھ نہیں ہے۔ وُہ زندگی کےجذبات سے محروم ہے۔ دُعا وفا ہے۔ محبت کے لئے وفا کا ہونا لازم ہے۔
وفا کا عمل دِل میں احترام سے ہوتا ہے، یہ مادی جذبہ نہےں روحانی معاملہ ہے۔
انسانی جذبوں میں سب سے حسین جذبہ ”وفا“ہے۔ ہرخوبصورت رشتہ کی بنیاد ایفا ہے۔ رشتہ دار کا فخر وفا میں ہے۔ محبت کا درخت وفا کے پانی سے پھلتا پھولتا ہے اور اعتماد کا پھل دیتا ہے۔ وفا ایک عہد ہے اپنی ذات کے ساتھ قربانی کا جذبہ۔ وفا میں ہمیں صرف وُہ چہرہ پسند ہوتا ہے؛ جسکی خاطر ہم جیتے ہیں۔ اُسکی خوشی ہماری خوشی، اُسکا غم ہمارا غم ہوتا ہے۔
وفا ایک ایسا جذبہ ہے، جس کے رشتے بے شمار ہیں۔ دین، ملک، خطہ، قوم، خاندان، دوست ہمیں تمام اپنی جان سےعزیز ہیں۔ وفا میں فریب موجود نہیں۔ وفا میں دھوکہ نہیں ہوت اوفا تو مر مٹنا ہوتا ہے۔
وفا احساس نہیں بلکہ عہد نبھانا ہے۔ ایساعہد جو فخر کا باعث ہو۔ تمام زندگی کا اثاثہ وفا ہے۔ وفا محبت کا ایسا لمحہ ہے۔ جس میں فراق نہیں۔ وفا محبوب کی جانب سے نہیں اپنی جانب سے ہوا کرتی ہے۔ وفا محبت کی ترجیح طے کرتی ہے۔ وفا زندگی جینے کا ڈھنگ سکھاتی ہے۔ وفامادہ پرستی کی بجائےخلوص سکھاتی ہے۔ حقیقت سے روشناس کراتی ہے۔ وفا ہی انسان میں وُہ جذبہ پیدا کرتی ہے۔ جس میں انسان کسی کے لئے کٹ مرتا ہے۔ حسین جذبہ! وفا۔
باکردار انسان وفا کاجذبہ رکھتا ہے۔ با وقار اقوام اپنے وطن سے وفا کا رشتہ نبھاتے ہیں۔ خود کو قربان کرڈالتے ہیں۔ وفا میں اپنی ’میں‘ نہیں رہتی۔ دوسرے کی تعظیم و تکریم ہی تحریم بن جاتی ہے۔ قوموں میں عظمت کا نشاں وفا کا ہی ہوا ہے۔
آج ایک سوال آن پڑا! وفا کا کبھی جائزہ نہیں لیا جاسکتا۔ میاں بیوی کا رشتہ وفا سے ہی پھلتا پھولتا ہے۔ امپورٹڈ کلچر نے اس خطہ کے حسین ترین جذبہ وفا کا قتل عام شروع کردیا۔
ایک دور تھا،؛ آقا و غلام کا رشتہ تھا۔ مالک خیال رکھتا تھا، ملازم جان پیش کرتا تھا۔ Profesionalism رویہ اپنے ساتھ leg pulling کو قانونی اجازت دے رہا ہے۔ آج وفا معدوم ہے۔ ملکی حالات مخدوش تر ہوئے۔ نااہل اہل بن بیٹھے۔ ہر فرد دوسرے کی کرسی پہ نظر لگائے بیٹھا ہے۔ آج زندگی کیلیئے امان کی دُعا کرنے والاکوئی نہیں، ایمان خود امان میں نہیں رہے۔
خاندان دولت کے بکھیڑوں میں، آپسی دشمن بن کر بکھر چکے، دوست دوستی میں نفع کما رہا ہے، فائدہ گن رہا ہے۔ جذبات کی تباہی گنتی سے ہوا کرتی ہے۔ جذبات کیلیئے تعداد بے معنٰی ہے، خلوص اہم ہے۔ دین کی وفاداری کو چند لوگ دُکان بنائےبیٹھے ہیں۔ مجاورین مزار پہ مزار والے کےنام پہ اپنی اپنی جلیبیوں کی کڑھائیاں سجائے بیٹھے ہیں۔
ملازمین ملازمت کر رہے ہیں، ملکی خدمت کتابی بات رہ گئی ہے۔ افسوس! جذبات میں وفا کا قتل ہوچکا۔ محبت ناپید ہوئی۔
وفادار تو ہر لمحہ امتحان میں ہوتا ہے۔ وفا تو دِل میں ہوتی ہے۔ اُسکی نمائش نہیں ہوسکتی۔ وفا تو ظاہراً محسوس ہوتی ہے مگر حقیقتاً یہ احساس دلوں سے دِلوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اِسکی پیمائش کے لیئے پیمانے مقرر نہیں۔ آپکے دِل میں جو درجہ ہے اُسکی کیا کوئی درجہ بندی کرسکتا ہے؟ ایسا کرنا تو نا انصافی ہے۔ جذبات کا مجروح کر دینا ہے جرم ہے۔ اندر کے انسان کے خوبصورت احساس کوقتل مت کرو۔ جو خود کو تمہارے حق میں بیچ چکا۔ جیسا بھی ہو! اُسکی قدر رکھو! بات تسلیم کرو یا نہ کرو مگر اُسکو جھٹلاؤ مت۔ وفادار توخدمت میں ہمیشہ کے لیئے خود پیش ہوچکا۔ پیش کیا نہیں گیا۔ جس نے خود اپنے اندر وفا پیدا نہ کی۔ وُہ محبت کو کیا جان پائےگا؟
آج وفا کیوں نہیں رہی؟ مادہ پرستی نے وفا کو حالت نزع پہ لا ٹھہرایا۔ اب مزید ایک سوال آن پڑا، وفا خود میں کیسے پیدا کی جائے؟ دِلوں میں خلوص پیدا کیجیئے، وفا خود بخود پیدا ہونے لگےگی۔ خلوص کیسے پیدا ہوتا ہے؟ چاہت سے۔ دوسروں کا خیال رکھنے سے بھی وفا پیدا ہوتی ہے۔ میاں بیوی کا ’قبول کرنا‘ دراصل یہی ہے۔ پاکستا ن کو تحریک پاکستان سےسمجھیئے؛ اِک روز کوئی جملہ، کوئی بات آپکےدِل پر اثر کر جائےگی۔ وطن سے وفا کیا ہے؟ ملازمت کو ضرورت نہ سمجھیئے، ملکی خدمت جانیئے۔ ماہوار ٢٤٨٠٠ روپوں تنخواہ ١٨ گھنٹے یومیہ کی ڈیوٹی کو کم نہ جانیئے بلکہ مزید١٠ گھنٹوں کو بھی قومی خدمت سمجھیے۔
وطن کی مٹی میں خوشبو وفا کے جذبہ سے ہے۔ وفا پریشانیاں لاتی نہیں پریشانیاں دور کرتی ہے۔ وطن کی مٹی کو وفا کےجذبہ سے ماتھے پہ مل لو، بھول جاؤ گے تمام غموں کو۔ پاکیزہ مٹی بھی اِک روحانی دوا ہے۔ مٹی کی پاکیزگی وفا میں ہے۔
اللہ والے اللہ اور رسول سے وفا رکھتے ہوئےمٹی میں شامل ہوکر بھی وفا کی خوشبو بکھیرتے ہیں، یہی وفا عشق کی معراج ہے۔
(فرخ نور)

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

رنجیدہ و دلگیر و حزیں عید مبارک

Posted on 01/10/2008. Filed under: پاکستان, رسم و رواج, شعروادب | ٹيگز:, , , |

افسردہ ہیں افلاک و زمیں عید مبارک
آزردہ مکان اور مکیں عید مبارک

یہ صبح مسرت ہے کہ ہے شامِ غریباں
رنجیدہ و دلگیر و حزیں عید مبارک

کہنا ہے بصد عجز یہ اربابِ وطن سے
کب آئے گا وہ دور حسیں و عید مبارک

محبوس جوانوں کے عزیزوں سے یہ کہنا
مولا ہے نگہبان و امین عید مبارک

یہ بات قلندر کی قلندر ہی کہے گا
گو بات یہ کہنے کی نہیں عید مبارک

پھر نعرہ تکبیر سے گونجیں گی فضائیں
آ پہنچا ہے وہ وقت قریں عید مبارک

مومن کبھی مایوس نہیں رحمتِ حق سے
مومن کا ہے دل عرشِ بریں عید مبارک

ملت سے شہیدوں کا لہو کہتا ہے واصف
دنیا کے عوض بیچ نہ دیں عید مبارک

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

درویش پاکستان

Posted on 14/08/2008. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , |

لفظ پاکستانی پُر عمیق حروف کا عقیق مجموعہِ لفظ ہے۔ جو پُر اثر تاثیر رکھتا ہے۔ پاکستان کا وِچار امن، محبت، بھائی چارہ کا پرچار ہے۔ پاکستانیوں کی تربیت اللہ کے درویش کر رہے ہیں۔ یوں سر زمین پاکستان کا ہر فرد قلندرانہ و درویشانہ رنگ رکھتا ہے۔ یہ ملک صرف ایک زمین کا خطہ نہیں، اِسکے پیچھے ایک بہت بڑا تربیت اور ترتیب کا سلسلہ جاری ہے۔ اسکے پیچھے اِک راز ہے ۔۔۔۔۔ راز ِحقیقت۔
ٰ ظاہری تعلق سےظاہری باتیں ہی سمجھ آتی ہے۔ نکتے اور بات کا احساس روحانی تعلق سے ہوتا ہے۔ والدین اور بچوں کا آپس میں احساس اور فکرمندی کا تعلق، بہن بھائیوں کا آپس میں خون کی کشش کا رشتہ، ہزاروں میل دور بیٹھے کسی کی تکلیف کا احساس ہو جانا۔ روحانی رشتہ ہے۔ یہی وُہ ربط ہے جو ہمیں بطور قوم پاکستانی بناتا ہے۔
ماں اور بچے کا آپس میں روحانی رشتہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ ماں شفقت اور احساس کا ایسا امتزاجی تعلق ہے، جو ہمارے اندر کے احساسات کو محسوس کرتے ہوئےہماری  بے چینی دور کرنے کی حتیٰ الواسع کوشش فرماتی ہیں۔ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل ۔۔۔۔۔۔ وطن عزیز اور انسان کا رشتہ ماں اور بچہ کے رشتہ کی مانند ہے ۔۔۔۔۔ افسوس! آج یہ معاملہ کمزور محسوس ہو رہا ہے۔ ماں بچےکی تربیت کرتی ہے۔ اُسکی سب سے بڑی خوبی خودداری ہے۔ ہر ذی شعور ماں تربیت کا آغاز خودداری کے عمل سے کرواتی ہے۔
خودداروں میں سے سب سے بڑے خوددار خودداری کی علامت بنتے ہیں۔ شاہین ایک خوددار پرندہ کی علامت ہے۔ تناور درخت ہمیں خوددار بننا سکھاتے ہیں۔قدرتی مخلوقات ہمیں اللہ  پر بھروسہ رکھتے ہوئے خودداری کا درس دیتی ہیں۔
لفظ پاکستان بڑا ہی معنٰی خیز ہے۔ اِسکے ایک معنی ہے پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ! یہ معنٰی صرف نام کی حد تک نہیں۔ بلکہ یہ مسلسل ایک چلتے رہنے والے عمل کا نام ہے۔ آج بھی یہ ملک اپنے ابتدائی معنوں کے مراحل سےگزر رہا ہے۔ تکمیل میں ابھی وقت باقی ہے!!!
یہ ملک درویشوں نے ملکر بنایا ہے۔ یہ ایک سنگ میل تھا۔ جس کی قیادت بغیر داڑھی والے درویشوں نے بھی کی۔ قیام پاکستان کے دوران درویش خاموش نہ تھے۔ بلکہ عملی طور پر سیاسی میدان میں قیادت کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ علامہ محمد اقبال مسلم لیگ پنجاب کے صدر تھے، قائد اعظم کی قیادت ایک زندہ مثال ہے۔ فکر اور عملی یکجہتی کے یہ دو درویشانہ کردار ہیں۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد درویش ملکی قیادت میں خاموشی اختیار کرگئے۔ اُنکی یہ خاموشی بہت بڑی گویائی بیان کر رہی ہے۔
آج درویش قیادت کیوں نہیں کر رہا؟ اِس چپ اور خاموشی کی ریاضت میں کوئی بات ہے! ہوسکتا ہے درویش مسلسل فرد فرد کی تربیت محسوس کر رہا ہو۔ ملک کی آزادی کے بعد وُہ قوم کی روحانی تربیت میں مصروف عمل ہیں۔ مفکر درویش (مفکرِ پاکستان) نےخودی کی آگاہی دی۔
ذرا غور فرمائیے! اگر درویش اِس ملک کی قیادت کو چھوڑ سکتے ہیں تو وقت آنے پر اِس ملک کی بھاگ دوڑ سنبھال بھی سکتے ہیں۔وُہ مشیت الہی کےتابع ہیں۔
درویش حکم ِ الہی کے تابع ہوتے ہیں۔ اُنکی سوچ، افکار اور رویہ عام فرد کو حقیقی آزادی عطاء کرتے ہیں۔ وُہ انسان کی روح کو صحت بخش کر ہمیشہ کے لیئے ذہن کی غلامی اور پستی سے نکال باہر کرتے ہیں۔ یہ ملک ظاہری طور پر ہی نہیں، باطنی طور پر بھی آزاد ہوا۔ یوں حقیقی آزادی پاکستان کا نصیب بنی۔ ( ابھی یہ آزادی کےاندرونی مراحل سےگزر رہا ہے۔)
ہو سکتا ہے دورانِ سفر کسی درویش صفت شخصیت نے ملک کو اسلام کا قلعہ بنا کر خاموشی اختیار کر لی ہو۔ قیام پاکستان سے ہی درویش بہت سے نامورین کی عملی تربیت اور رہنمائی گمنامی میں رہ کر فرما رہے ہیں۔
پاکستان کی آزادی تمام دُنیا کے لیئے امن کا پیغام ہے۔ قوم کی تربیت جس سمت میں کی گئی، کی جائےگی وُہ ایک تعمیری شاہراہ ہے۔ کیونکہ قوم کی تعمیر میں اللہ والے مصروفِ عمل ہیں۔ اُولیاءکرام کی تعلیم منفی پہلوئوں سے پاک ہوتی ہے۔ اُنکی تعلیم نہ صرف باطن کو پاکیزگی عطاء فرماتی ہے بلکہ حلقہ احباب کو بھی ِمطہر (پاکیزہ) کر دیتی ہے۔ لفظ پاکستان مطہرِ عطرِمعطر (ایسی مسحور کن پاکیزہ خوشبو جو سارے جہاں میں پھیل کر دلکشی کا انمول نمونہ بن جائے) ہے۔
یہ ملک درویشوں کا ملک ہے۔ درویش موتی بکھیرتا ہے۔ وُہ انسان کو انسان کا احساس دلاتے ہوئے احساس کی اساس بتلاتا ہے۔ انسانیت سے محبت سکھاتا ہے۔ اُنکا مزاج رہا ہے کہ ”وُہ کبھی کسی کا احسان نہیں رکھتا“۔ وُہ دینے والا ہاتھ ہوتا ہے۔ وُہ بس دیتا ہے، بانٹتا ہے، بکھیرتا ہے درویش صفت انسان کٹ سکتا ہے مگر جھک نہیں سکتا۔
اللہ نے اس قوم کو کس قدر خوش نصیب بنایا ہے۔ یہ ملک بھیک میں مانگا نہیں گیا۔ اللہ نے حکمت سے عطاء کیا ہے۔ اللہ جسکو کچھ عطاء کر دے۔ وُہ بس پھر دیتا ہے، بانٹتا ہے، رہنمائی کرتا ہے۔ جو چھینتا ہے وُہ ہمیشہ چھینتا ہی رہےگا کیونکہ اُسکی فطرت چھیننا ٹھہر پائی ہے، جبکہ جو دیتا ہے وُہ ہر حال دیتا ہے، وُہ بے ہتھل ہو کر بھی دیتا ہے کیونکہ اُسکا نصیب دینا قرار پایا ہے۔ یہ اللہ کی رحمت ہے اللہ نے پاکستان کو دینے والا پیدا فرمایا ہے۔ یہ خطہِ زمین دُنیا بھر کو سونا اُگل کر دیتا ہے۔ ابھی تو اس کو بہت بڑا کردار ادا کرنا ہے۔ بڑے پن کا کردار
مملکت خدداد“  کی وُہ ابتدائی کوشش جو شہید ٹیپو سلطان نے جاری رکھی۔ پاکستان اُس جدوجہد کی عملی تصویر بھی بنا۔ تبھی اِس ملک کو ”مملکت خداداد“ قرار دیا گیا۔ مملکت خداداد کا تصور رکھنے والی شخصیت نے اُمت مسلمہ کو اپنی سوانح سے ایک قول دیا ۔”شیر کی ایک دِن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے“۔۔۔۔۔۔
لاہور شہر میں ایک یاد گار ”مینار پاکستان“ ہے۔ جو سلسلہِ قوم ”پاکستان“  کی یگانگت اور اتحاد کی علامت ہے۔ جو سفر ٢٣ مارچ ١٩٤٠ء کو آغاز ِعمل میں آیا تھا۔ اُسکی ایک منزل ١٤ اگست ١٩٤٧ء کو طے ہو گئی۔ اُسکا اصل مقصد ابھی بھی باقی ہے۔ جسکی ایک یادگار لاہور ہی میں” سِمٹ مینار“  کی صورت میں باقی ہے۔ جو اتحاد ِ بین المسلمین کے لیئےتعمیر ہوا۔ ابھی یہ سفر ادھورا ہے آدھا باقی ہے۔
ہمیں ایک پاکستانی کی حیثیت سے یہ ضرور سوچنا ہوگا۔ اللہ نے ہمیں اُوپر والا ہاتھ ہونے کا اعزاز بخشا ہے مگر انتہائی افسوس!  ہم نیچےوالا ہاتھ بننے کی تگ و دو میں ہیں۔ آج ہماری غیرت مرگئی ہے، ہم میں اعناء کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ہم دوسروں کی امداد پر نظریں لگائے بیٹھے رہتے ہیں۔ ”اپنی مدد آپ کےتحت“  کا جذبہ ماند پڑ گیا ہے۔ ہم پہ آفت آتی ہے تو مفت کی امداد کے سہارے بیکار بیٹھ کر ناکارہ ہی ہو جاتے ہیں۔
اےاللہ ہمیں بطور قوم لفظ پاکستانی کی اہمیت سے روشناس کروا ۔ ہم میں خودداری، غیرت اور یگانگت کو اُجاگر فرما!
(فرخ)

 

 

 

(گیدڑ کی زندگی ہے کیا؟ وُہ میر صادق کی مانند تخت کے کھو جانے اور کھو جانے کےخوف میں موجود رہنا، میر جعفر کی طرح خدمات سرانجام دیتے ہوئے ریڑھ کی ہڈی تڑوا لینا۔ خدمات کا صلّہ اذیت کی موت سے بہتر کتے کی موت!  پستول سے نکلی گولی کا انعام موت کی صورت میں حاصل کر لینا۔)

 

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

١٤ اگست ۔ غلام قوم کا آزاد دن

Posted on 14/08/2008. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , |

سال کے ٣٦٥ دنوں میں سے ہمیں آج ہی کے دن یعنی ١٤ اگست کو ہی اپنی آزادی کا احساس ہوتا ہے ورنہ تو باقی ٣٦٤ دنوں میں ہم غلاموں سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ حالانکہ آج کا پاکستان ایک آزاد ملک ہے۔ جس کا اپنا جھنڈا، اپنا سکہ، اپنا دستور اور اپنا آئین ہے۔ کسی قوم پر اس سے بڑھ کر اللہ کا انعام اور کیا ہو سکتا ہے مگر یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ اپنا ملک ہونے کے باوجود بھی ہم غلاموں کی سی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ بیشک ہمارا ایک مضبوط آئین ہے، مضبوط قانون ہے مگر یہ صرف لفظوں اور موٹی موٹی کتابوں تک محدود ہے نہ تو آئین پر عمل کیا جاتا ہے اور نہ ہی قانون کی پروا کی جاتی ہے۔
پاکستان میں نظام بدلنے کی بات تو ہمیشہ کی جاتی ہے مگر چہروں کے علاوہ بدلتا کچھ نہیں۔ بڑا آدمی ہمیشہ فرشتہ اور غریب یہاں مجرم کی سی حیثیت رکھتا ہے، شریفوں کی ایک لمبی لائن کے باجود آجکل میں شرف وہی جس کا بس نہیں چلتا۔
ملک میں انصاف نام کی کوئی شئے موجود نہیں، نوکری چاہیے تو ایم این اے کے پاس جاؤ، سکول میں داخلے کے لئے ایم پی اے کام آئے گا، سرکاری ملازمتیں بند مگر وزیراعظم اور وزیراعلٰی سیکرٹریٹ دھڑا دھڑ نئی تقریاں کر رہے ہیں۔ بے روزگاری، غربت، مہنگائی، فیکڑیاں بند، صنعتیں تباہ، سٹاک ایکسچینج کا لیول مسلسل نیچے کی طرف، پیسہ غیر ملک منتقل، سوات و بلوچستان آپریشن، خود کش حملے، افغانستان جیسے ملک کی طرف سے دھمکی آمیز بیانات جبکہ یہ سب کچھ ہونے کے باوجود ہمارے لیڈر آپش میں گتھم گتھا ہیں، ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کے لئے سیاسی قلابازیاں کھائی جا رہی ہیں، نئے رہمنائے اصول مرتب کئے جا رہے ہیں۔
پاکستان میں کبھی ذہن بدلنے کی بات نہیں سوچی گئی یہاں اگر کچھ بدلتا ہے تو وہ ہیں صرف حکمرانوں کے چہرے جو ہر چند سال بعد تبدیل ہو جاتے ہیں، نہ ہوں تو کرا دیئے جاتے ہیں۔ کچھ دن یونہی چلتا ہے پھر حوالے بدلتے ہیں کل کے محب وطن غدار اور غدار حب الوطنی کے علمبردار بن کر سامنے آتے ہیں۔
اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو یوں لگتا ہے کہ وہ تبدیلی، وہ انقلاب، وہ انصاف شاید کبھی نہیں آئے گا جس کی آرزو میں ہم سالہا سال سے ہر نئی پارٹی، ہر نئے لیڈر، ہر نئے نعرے اور ہر نئے نظریے کی طرف دیکھتے ہیں، خوش ہوتے ہیں کہ شاید اب شام غم ڈھلنے کو ہے نئی صبح طلوع ہونے کو ہے مگر تسلیوں، دلاسوں، امیدوں اور آسروں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ وہی برطانوں جمہوریت، الیکشن، سیاسی انارکی، مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سانحہ، ٹوٹتی بنتی اسمبلیاں، ایل ایف او، پی سی او، ایمرجنسی، کسی کا سوشلزم، کسی کا اسلام، کسی کے وعدے، کسی کے دلاسے، معاشی خوشحالی کے دعوے، کشکول توڑنے کی باتیں، لوٹ مار کے قصے، کھوکھلے نعرے ۔۔۔ کون سی تبدیلی اور کون سا انقلاب۔ جب سے ہوش سنبھالا یہی سنا کہ ہر رات کی ایک سویر ہے، اندھیرے کے بعد اجالا ضرور آتا ہے مگر سمجھ نہیں آتی یہ کیسی رات ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔
اگر اس کالی رات کی آخیر کرنی ہے، اسے ختم کرنا ہے، روشنی کی طرف سفر کرنا ہے، اس ملک کو خوشحال بنانا ہے تو ہمیں اس نظام کو بدلنا ہو گا۔ آئین اور قانون کی پاسداری کرنا ہو گی یہ تب ہی ممکن ہے جب قانون کی نظر میں امیر غریب کا فرق ختم ہو گا۔ قانون سب کے لئے برابر ہو پھر دیکھئے ملک میں خوشحالی کا آغاز کیسے نہیں ہوتا۔
کچھ کالی بھیڑیں ہیں جو صرف اپنے مفاد کی خاطر اس ملک کو کھوکھلا کر رہی ہیں ہمیں ان کو بے نقاب کرنا ہو گا۔ چپ رہنے سے خوموشیاں ختم نہیں ہوں گی، یہ بے حسی کی زنجیریں نہیں ٹوٹیں گی اور اس نظام کو بدلنے کے لئے آسمان سے فرشتے نہیں آئیں گے ہمیں خود ہی ہاتھ پاؤں مارنا ہوں گے۔
کاش! ہر فرد کے دل میں اپنے وطن کے لئے محبت پیدا ہو جائے اور بیرون ملک رہنے والے پاکستانی یہ کہہ اٹھیں کہ

پہلے میری سوہنی دھرتی کا افسانہ سنا
پھر ستاروں، آسمانوں، جنتوں کی بات کر

اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ وطن عزیز کو دن دگنی رات چوگنی ترقی دے اور یہ ہمیشہ قائم و دائم رہے اور اس ملک میں رہنے والے ہر فرد کے دل میں اس کی محبت پیدا ہو جائے اور ہمارے حکمرانوں کی ہمت  اور طاقت دے کہ وہ ہمیں غلامی کے اس گھٹاٹوپ اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئیں اور ہمیں صرف ایک دن نہین سال کے ٣٦٥ دنوں میں اپنی آزادی کا احساس ہو اور پھر ہر پاکستانی پکار اٹھے

 

جشن آزادی مبارک

 

 

 

نوٹ۔ قارئین سے انتہائی معذرت کہ وقت کی کمی کے باعث اسے مختصر کر کے جلدی ختم کرنا پڑا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

آزادی کی داستاں

Posted on 14/08/2008. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , |

آزادی بظاہر ایک چھوٹا سا لفظ ہے مگر اس لفظ میں ہزاروں مرنی پنہاں ہیں۔ اس لفظ کی گہرائی اور پذیرائی کو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے غلامی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں زندگی گزاری ہو جن قوموں نے غلامی دیکھی ہے وہی آزادی کی قدر و قیمت جان سکتے ہیں۔
غلام قوم تو مظلوم، بےکس، لاچار انسانوں کے ریوڑ کی طرح ہوتی ہے جس پر حکمران جس طرح چاہیں حکمرانی کریں اور جس طرح زندگی بسر کرنے کی اجازت دیں۔ غلامی ایک ایسا عذاب اور جہنم ہے جس میں قومیں سسک سسک کر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مسلسل مرتی رہتی ہیں۔ اس جہاں رنگ و بو میں آزادی ایک لازوال عطیہ خداوندی ہے جبکہ غلامی ذلت و خواری کا دوسرا نام ہے۔ اس لئے غیور، خودار، باعزت اور باوقار اقوام اپنی آزادی برقرار رکھنے کے لئے عظیم تر قربانیاں دینے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتی ہیں کیونکہ آزادی کا ایک پل صدیوں کی غلامی سے افضل اور بہتر ہوتا ہے۔
آزادی کی جنگیں عام طور پر میدان کارزار میں توپ و تفنگ، اسحلہ بارود، سلاروسپاہ کی قوت اور طاقت سے لڑی جاتی ہیں۔ مگر حصول پاکستان کی جنگ میدانِ سیاست میں عقل و دانش، فہم و فراست، اتحاد و یکجہتی اور سیاسی حکمت عملی سے لڑی گئی۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے آزادی کی جنگ سیاسی میدانوں میں صف بندی کر کے ہوشیاری اور ہوش مندی کے ساتھ ہر محاذ پر جواں مردی سرفروشی اور بے جگری سے لڑی جس کی مثال کوئی مثال نہیں ملتی۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک غیر ملکی اور غیر مسلم قوم کے پنجہ استبداد سے آزاد ہوئے، اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتاکہ مسلمانوں نے یہ آزادی مسلم لیگ کے سبز پلالی پرچم تلے قائداعظم کی عظیم قیادت میں دو قومی نظریہ کی اساس پر حاصل کی۔ یہ سعادت قائداعظم کے حصہ میں آئی کہ مسلماناں ہند نہ صرف آزادی جیسی نعمت سے ہمکنار ہوئے بلکہ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت قائم کرنے میں کامیاب و کامران ہوئے۔
 اس آزادی کی دستان بڑی پرآشوب اور دردناک ہے۔ ہماری آزادی کا کارواں اور قافلہ حریت جن کٹھن راہوں سے گزرا ہے اور آگ و خون کے جس سمندر سے غوطہ زن ہو کر ہماری قوم منزل مراد تک پہنچی ہے وہ ہماری تاریخ کا ناقابل فراموش باب ہے۔ جس کو کوئی بھی مورخ تحریر میں لانے سے گریز نہیں کر سکتا اور نہ یہ تاریخ کے اوراق اسے اپنے اندر تحریر کرنے سے انکار کر سکتے ہیں۔ ہماری آزادی کی داستان ایک زندہ و پائندہ، باہمت، باحوصلہ قوم کی داستان ہے۔ جس پر ہم پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند اور فراز ہے۔
١٨٥٧ء میں انگریزوں کے خلاف آزادی کا پہلا معرکہ ہوا مگر ناکام رہا جس کی وجہ سے انگریزوں نے سارے ہندوستان پر تسلط قائم کر کے مسلماناں ہند کے خلاف انتقامی کاروائیاں کیں، جس سے مسلمانوں کو زندگی کے ہر شعبہ میں مظلوم اور محکوم بن کر گزارنی پڑی۔
مسلم اکابرین نے ہندوؤں کی سازشوں اور پنجہ استبداد سے نکلنے کی راہیں تلاش کرنئ شروع کر دیں، مسلم علماء نے بہت سے سکیموں پر غور فکر کیا۔ چنانچہ ١٩٣٠ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس الہ آباد میں منعقد ہوا جس میں شاعر مشرق، مفکر اسلام ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے ایک علحیدہ وطن کا تصور پیش کیا۔ انہوں نے اپنے خطبہ میں فرمایا۔ میری خواہش ہے کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان ملا کر ایک ریاست بنا دی جائے، شمال مغربی مسلم ریاست کا قیام مغربی علاقوں کے مسلمانوں کے لئے نوشتہ تقدیر ہے۔
علامہ اقبال کے اس تصور کو قائداعظم نے اور مسلم لیگ نے اپنایا اور اس فکر کو اپنی جامہ پہنانے کے لئے سارے ہندوستان میں عملی کوششیں ہونے لگیں۔
٢٣ مارچ ١٩٤٠ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے اس تاریخی اجلاس میں ایک ایسی منفرد، نایاب، انمول قرار داد پاس ہوئی جس نے ہندوستان کے دس کروڑ مسلمانوں کی تقدیر ہی بدل دی۔
اس قرارداد میں کہا گیا تھا کہ ان علاقوں کو جہاں  مسلمانوں کی اکثریت ہے جیسا کہ شمالی مغربی صوبہ اور مشرقی حصوں میں ہے وہاں آزاد مملکتوں کی صورت میں اکٹھا کر دیا جائے۔ مسلمانوں نے اس قرارداد کو اپنا نصب العین بنا لیا اور طے کر لیا کہ ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے اور مسلمان ایک علیحدہ وطن کے مطالبہ پر ڈٹ گئے۔
بالاآخر مسلم لیگ کی سیاسی قوت کے آگے انگریز حکمرانوں اور کانگریسی لیڈروں کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔ مسلمانوں نے پاکستان کے لئے بے انتہا، بت بہا اور بے پناہ قربانیاں دیں اور تاریخ ساز و عہد آفرین جدوجہد کے بعد آج ہی کے دن یعنی ١٤ اگست ١٩٤٧ء کو یہ مملکت خدادعالم وجود میں آئی۔
یہ اللہ تعالٰی کا فضل و کرم اور اسکی عنایت و مہربانی اور قائداعظم محمد علی جناح کی سیاسی حکمت عملی اور ہندوستان کے مسلمانوں کی قربانی، ایثار اور ثمر ہے کہ آج ہم ایک آزاد خودمختار قوم کی حیثیت سے جشن آزادی منا رہے ہیں۔

تمام قارئین کو پاکستانی کی طرف سے جشن آزادی کی خوشیاں مبارک ہوں

Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

میرا، آپ کا اور ہم سب کا پاکستان

Posted on 14/08/2007. Filed under: پاکستان, سیاست | ٹيگز:, , , , |

آج ٦٠ واں یوم آزادی ہے۔

میرے سامنے ٹیبل پر رکھے ٢٠٠٧ء کے کیلنڈر پر ١٤ اگست پر سرخ دائرہ بنا ہوا ہے۔ یہ وہی دن ہے جب دنیا کے نقشے پر اب سے ساٹھ سال پہلے سب سے بڑی اسلامی ریاست “پاکستان“ کی صورت میں نمودار ہوئی۔ یہ آزادی، یہ منزل، یہ دھرتی، یہ مملکت اور یہ ریاست عظیم قربانیوں کے نتیجے میں ہمارا مقدر بنی۔ انگریز بہادر یا ہندو بنیئے نے پلیٹ میں سجا کر ہمیں پاکستان نہیں دیا تھا بلکہ جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں خونریز جنگ کے بعد یہ نعمت عظمٰی ہمارے حصے میں آئی ہے۔ اسی لئے ہم اپنا یوم آزادی انتہائی جوش و خروش کیساتھ مناتے ہیں۔ یہ وطن شہدائے تحریک پاکستان کا ثمر ہے۔ اسی لئے یوم آزادی مناتے وقت ہم انہیں محبت و عقیدت کا خراج پیش کرنا نہیں بھولتے۔ آج ٦٠واں یوم آزادی مناتے وقت بھی یوم اسی جذبے سے سرشار ہے کہ وہ اس مملکت خداداد پاکستان کو اقبال کے دیرنیہ  خواب کی حقیقی تعبیر بنا کر دم لے گی اور قائداعظم نے جو تصورات دیئے ہیں، ان کے رنگ بھرنے کے لئے کوئی وقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جائے گا۔

آزادی کے بعد کا سفر پوری قوم کے سامنے ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ قوموں کی زندگی میں نصف صدی یا ٦٠ سال کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ یہ غلط تصور نجانے کہاں سے آیا کیونکہ قوموں کا ایک ایک لمحہ بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، کسی ایک ساعت کی معمولی سے غلطی کا خمیازہ پوری قوم ہی کو نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اسی طرح  کسی بھی لمحے کا تاریخ ساز فیصلہ صدیوں کے سفر پر حاوی ہوتا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد کئی نسلیں گزر چکی ہیں، جس نسل نے یہ وطن بنایا تھا شاید ہی اس کا کوئی نمائندہ زندہ ہو، دوسری نسل کو بنا بنایا پاکستان ملا تھا یا اس نے اپنے بچپن میں تحریک پاکستان کے چند مناظر دیکھے ہوں گے۔ یہ نسل بھی بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ چکی ہے، جن ہاتھوں میں ابھی کاروبار حیات ہے، یہ اور بات ہے کہ اس کے بعد کی نسل بھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکی ہے۔ گویا پاکستان سے محبت کا ورثہ نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔ یہ وہ محبت ہے جو کہیں دکھائی نہیں دیتی، اس کا رنگ فضاؤں میں کہیں بھی اپنا وجود نہیں رکھتا، اس کی خوشبو اپنی موجودگی کا کبھی احساس نہیں دلاتی، قومی ترانوں، درودیوار کی سجاوٹوں، یوم آزادی پر برقی قمقموں، قومی جھنڈیوں اور خوبصورت ملبوسات میں میں گھروں سے نکلنے والوں کو دیکھ کر جشن سامانی کا احساس ضرور ہوتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم میں وہ جذبہ بھی ہے جو ١٤ اگست ١٩٤٧ء کو جنوبی ایشیاء کی تاریخ اور جغرافیہ کو بدلنے کا سبب بنا ۔۔۔؟

زندہ قومیں آزادی کا دن یقینا بھرپور انداز میں مناتی ہیں لیکن کیا زندہ قومیں ایک دن جوش و خروش سے منا کر ٣٦٤ دن اپنے وطن عزیز کو تباہ و برباد کرنے پر لگی رہتی ہیں؟ یقینا ایسا نہیں ہو سکتا؟ پھر سوال یہ ہے کہ ہم آخر ١٤ اگست کو یوم آزادی شایان شان انداز میں منانے کے بعد اس ملک کو توڑنے پھوڑنے، خراب کرنے اور اپنی اقدار کی مٹی پلید کرنے پر کیوں لگے ہوئے ہیں؟ یہ خوبصورت وطن ہمارا اجتماعی گھر ہے تو ہم اسے سجانے کے لئے یوم آزادی کے منتظر کیوں رہتے ہیں؟ اس کے گلی کوچوں، بازاروں، سڑکوں، چوراہوں، قصبوں، اور شہروں کو امریکی باشندوں نے گندگی کا ڈھیر نہیں بنایا اور نہ ہی ہم اس صورت حال کا ذمہ دار بھارت، اسرائیل یا اتحادی افواج کو قرار دے سکتے ہیں۔ ان خرابیوں کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔

ریاست تین ستونوں پر قائم رہتی ہے۔ کیا ہمارے ہاں یہ تین ستون مضبوط اور مستحکم ہیں؟

عدلیہ کے ساتھ کیا ہوا؟، حکومت اور عدلیہ میں کس طرح جنگ چھڑی رہی اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں سب آپ کے سامنے ہے۔

مقننہ ریاست کا دوسرا اہم ستون ہوتا ہے، کہنے کو تو ملک میں جمہوریت ہے اور پارلیمنٹ کام کر رہی ہے تو کیا قانون سازی بھی ہو رہی ہے؟ یا صرف فرد واحد کے منہ سے نکلے الفاظ ہی قانون بن جایا کرتے ہیں؟

انتظامیہ عوام کی خادم بننے کے بجائے حاکم بنی ہوئی ہے۔

میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کیس، بگٹی کے قتل، کراچی میں لا اینڈ آرڈر اور ریاستی دہشت گردی یا لال مسجد یا اس جیسا کوئی اور واقعہ نہیں دہرانا چاہتا، میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ریاست کا کوئی بھی ستون ایسا ہے جسے توانا سمجھا جا سکے؟ اگر جواب نہیں میں ہے تو پھر کیا اس ریاست کے تابناک مستقبل کے حوالے سے ہمیں کسی خوش فہمی کا شکار رہنا چاہیے؟ یہ سوال ہمیں خود سے دریافت کرنا ہو گا اور اس کے جواب کی روشنی ہی میں ہم کسی حتمی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔

قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانا چاہتے تھے اور جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں ہی میں انہوں نے دہری غلامی سے نجات دلا کر ہمیں آزدی کی نعمت سے سرفراز کیا۔ یہ اور بات ہے کہ پاک دھرتی میں شجر جمہوریت جڑیں نہیں پکڑ سکا اور پاکستان کو ایک جدید فلاحی اسلامی ریاست بنانے کا خواب اب بھی ادھورا ہے۔ ہمارے ساتھ آزادی حاصل کرنے والے ممالک کہیں سے کہیں پہنچ گئے ہیں، جاپان اور چین نے ہمارے بعد آزادی حاصل کی، آج ان کا شمار دنیا کی بڑی طاقتوں میں ہوتا، ہم اپنے وجود کو برقرار نہیں رکھ سکے۔ مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو گیا ہم نے اس اہم واقعہ سے بھی کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور آج پھر سے ہم اسی سفر پر رواں دواں ہیں۔

ہم آزاد ہیں۔ آزادی کا دن منا رہے ہیں لیکن گھمبیر مسائل آج بھی ہمارا مقدر ہیں۔ غربت، جہالت، بیماری، بیروزگاری، پسماندگی اور کون سا مسئلہ ہے جو ہمیں درپیش نہیں۔ ہم نے ان مسائل کے حل کے لئے آج تک کیا کیا؟ حکومت کے دعوے اپنی جگہ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہم پاکستان کو مثالی ریاست بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ کوئی شعبہ ایسا نہیں کہ ہم یہ کہہ سکیں کہ اس میں ہماری ترقی دنیا کے لئے قابل رشک ہے۔

پاکستان محض مشرف، شوکت عزیز، شجاعت، فضل الرحمٰن، قاضی حسین احمد، عمران خان، بے نظیر یا نواز شریف کا نہیں، یہ پاکستان پیارا پاکستان میرا، آپ کا اور ہم سب کا ہے۔ اس لئے آئیے آج یوم آزادی کے اس مبارک دن ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم آئندہ  زبانی جمع خرچ سے کام نہیں لیں گے بلکہ اپنا سب کچھ قربان کر کے وطن کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔ اگر اس عہد پر عمل درآمد ہوا تو یقین کیجیئے کہ قائد اعظم کے پاکستان کو عظیم سے عظیم تر بنانے کا خواب جلد شرمندہِ تعبیر ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ انشاءاللہ
نوٹ۔ میری طرف سے تمام قارئین اور اردو کمیونٹی کو یوم آزادی مبارک کی خوشیاں مبارک ہوں۔

ملتے جلتے عنوان

خوابوں، آرزوؤں اور امیدوں کی سر زمین

نظریاتی مملکت

ہیپی برتھ ڈے پاکستان

فرمانِ قائد

جشنِ آزادی

ہمیں تکمیل کی حد تک اسے تعمیر کرنا ہے

یوم آزادی مبارک

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

« پچھلی تحاریر

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...