بینک لوٹنے والے شرفاء

Posted on 24/12/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

عدالت عظمیٰ این آر او پرتاریخی فیصلہ دینے کے بعد اب قوم کے اربوں روپے کھاجانے والوں کے حلق میں ہاتھ ڈال کر یہ پیسہ نکلواناچاہتی ہے۔ کیا یہ اس غریب قوم پرظلم کی انتہا نہیں کہ صرف 13 برس میں 196 ارب روپے کے قرضے لے کر معاف کرالیے گئی؟ فہرست اٹھاکر دیکھیں تو ان میں سے کوئی بھی ایسا نہ نکلے گا جس کے قرضے اس کی غربت کی وجہ سے معاف کیے گئے ہوں۔ کتنے ایسے ہیں جنہوں نے ایک طرف تو قرضے ہڑپ کرلیے اور دوسری طرف ان کے عیش وعشرت میں کوئی کمی نہ آئی بلکہ اب بھی اللیّ تللّے کرتے پھررہے ہیں۔ اب ان کی پکڑتو ہورہی ہے لیکن کیا ایسے لوگوں سے قوم کی دولت اگلوائی جاسکے گی‘ یہ ایک اہم سوال ہے۔ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس افتخار محمدچوہدری نے 2006ءہی میں اربوں روپے معاف کرانے والوں کے خلاف ازخود نوٹس لیا تھا جس کی سماعت 2007ءتک ہوتی رہی۔ اسی سال جنرل پرویز مشرف نے عدالتوں پر حملہ کردیا اور یہ اہم معاملہ کھٹائی میں پڑگیا۔ ممکن ہے کہ جسٹس افتخار محمدچوہدری کے خلاف آمرانہ اقدامات کے پس منظرمیں یہ بھی ایک وجہ رہی ہو۔ جنہوں نے قرضے معاف کروائے وہ بہرحال بااثر افراد ہیں اور ہرحکومت میں اقتدارکی غلام گردشوں کے چوب دار رہے ہیں ۔ تجارت‘ صنعت یا کسی بھی کاروبارکے لیے قرض لینا ایک معمول ہے اور کوئی معیوب بات نہیں۔ لیکن اس قرض کی ادائیگی بھی تو ضروری ہوتی ہے۔ بینک کسی کو قرضہ دیتے ہوئے ایسی ضمانتیں ضرور طلب کرتے ہیں کہ قرض ادانہ ہونے کی صورت میں رقم وصول کی جاسکے۔ یہ صورتحال عام افراد کے معاملہ میں آئے دن نظرآتی ہے اور بقول چیف جسٹس کے کہ اگر ایک بیوہ قرض ادانہ کرسکے تو اس کا مکان چھین لیا جاتاہے۔ ایک افسوسناک واقعہ کراچی میں یہ ہوچکاہے کہ ایک بینک سے لیے گئے قرض کی قسط وقت پر ادانہ کرنے پر بینک نے اپنے پالتو غنڈوں کو اس شہری کے گھرپر بھیج دیا اور انہوں نے خواتین تک کی ایسی بے عزتی کی کہ مقروض نوجوان نے خودکشی کرلی۔ کیا اس بینک یا دیگر بڑے بڑے بینکوں نے لاکھوں‘ کروڑوں کے قرضے لینے والوں کے گھروں پربھی اپنے غنڈے بھیجے؟ ہرگز نہیں۔ اس کی جرات ہی نہیں ہوسکتی کہ وہ سب بااثر افرادہیں۔اسٹیٹ بینک نے عدالت کے مطالبہ پرگزشتہ 13 برس میں قرضے معاف کرانے والے 19 ہزار 711 افراد کی فہرست جمع کرادی ہے۔ یہ لوگ ملک بھرکے 37 بینکوں سے 196 ارب روپے کے قرضے لے کر کھاگئے۔ سب سے زیادہ قرض حبیب بینک سے معاف کرایا گیا۔ چیف جسٹس نے ان قرض خوروں کو آخری انتباہ کیاہے اور اس عزم کا اظہارکیاہے کہ کسی کو قوم کا پیسہ نہیں کھانے دیاجائے گا۔ جناب افتخارمحمدچوہدری نے کہاہے کہ قرضوں کی واپسی کے لیے ایک موقع ضرور دیں گے اس کے بعد کرمنل کیسز بنائیں گے اور بلا امتیازکارروائی ہوگی۔ عدالت نے 1971ءسے قرضے معاف کرانے والوں کی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔ قوم کو معلوم تو ہونا چاہیے کہ یہ کون لوگ ہیں جو عوام کو لوٹ کر کھاگئے اور ان میں سے کئی شاید اب بھی ہیروبنے ہوئے ہوں معاملہ اب عدالت عظمیٰ میں ہے۔ یہ تحقیق بھی ہونی چاہیے کہ بینکوں نے کس کی ضمانت پر قرضے فراہم کیے اور کس کے دباﺅ پر معاف کیے۔ بینک ازخود تو قرضہ معاف کرنے سے رہے۔ ممکن ہے کچھ عناصرکی طرف سے اچھل کود بھی ہو تاہم چیف جسٹس نے کہاہے کہ وہ ہرمزاحمت کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ سے بھی کہاہے کہ قرض خوروں کے خلاف ضروری قانون سازی کی جائے ورنہ آئین کی دفعہ 184(3)کے تحت عدالت اپنی ذمہ داریاں انجام دینے پرمجبورہوگی۔ انہوں نے نادہندگان سے وصولی پرحکومتی تساہل پرشدید تنقید بھی کی۔ ہمیں توقع ہے کہ موجودہ حکومت ان بڑے بڑے مگرمچھوں سے قوم کا پیسہ اگلوائے گی اور اس طرح اپنی نیک نامی کاسبب کرے گی اور اس معاملہ میں عدالت سے مزاحم ہونے کا تصورقائم نہیں کرے گی۔ اس ضمن میں کسی بھی پارٹی کا لحاظ نہ کیاجائے اورجوبھی نادہندہ ہو اس سے پیسہ وصول کیاجائے۔ 196 ارب روپے کچھ کم نہیں ہوتے ۔ممکن ہے کہ اس فہرست میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں جنہوں نے مجبوراً اورجائز وجوہات کی بناپر قرضے معاف کرائے ہوں کہ وہ اداکرنے کی پوزیشن ہی میں نہ ہوں تاہم نادہندگان کی موجودہ مالی پوزیشن کو دیکھ کر فیصلہ کیاجاسکتاہے۔ اتنی بڑی رقم واپس مل جائے تو اس سے بہت سے کام نکل سکتے ہیں۔ یہ مجبور وبے کس قوم ہرطرف سے پس رہی ہے۔ ایک طرف تو بڑے بڑے سرمایہ دار اور سیاستدان قوم کا پیسہ کھاگئے دوسری طرف مہنگائی کا عذاب مسلط ہورہاہے۔ آئے دن بجلی‘ گیس‘ ڈیزل ‘پیٹرول کے نرخ بڑھ رہے ہیں اوریہ سارا بوجھ عوام ہی پرپڑرہاہے۔ بینکوں نے جو قرضے معاف کیے ہیں وہ کسی بینکار نے اپنی جیب سے ادانہیں کیے۔ بینک ہوں یا خدمات فراہم کرنے والے سرکاری ادارے‘ عام آدمی پر ایک پیسہ بھی نہیں چھوڑا جاتا ۔یہ امتیاز کب تک ؟ کیا قرضے معاف کرانے والے بھی بینکوں کو لوٹنے والوں سے کم ہیں؟۔لنک

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

آصف زرداری جرائم پیشہ اور دھوکے باز ہیں ۔۔۔ مشرف کے الزامات

Posted on 09/11/2009. Filed under: سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , |

روزنامہ جنگ کے مطابق سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے صدر زرداری کے بارے میں پہلی بار سخت لہجہ اختیار کیا ہے۔ مشرف نے معروف صحافی سیمورہرش کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ آصف زرداری ایک جرائم پیشہ اور دھوکے باز ہے۔
ہرش نے پاکستان کے بارے میں اپنی تفصیلی رپورٹ میں لکھا کہ ”مشرف نے اپنے جاں نشین کو نہیں بخشا۔ آصف زرداری ایک جرائم پیشہ اور دھوکے باز ہے۔ اپنے بچاؤ کیلئے کچھ بھی کرسکتا ہے۔ وہ محب وطن ہے نہ پاکستان سے اس کو کوئی لگاؤ ہے۔ وہ ایک معمولی انسان ہے“۔مشرف نے کہا کہ میں اور جنرل کیانی اب بھی فون پر رابطہ رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ فوج میں بغاوت ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ فوج میں بنیاد پرستانہ نظریات رکھنے والے ضرور موجود ہیں لیکن میرا نہیں خیال کہ ان کا منظم ہوکر بغاوت کا کوئی امکان بھی ہو۔ یہ بنیاد پرست ناپسند کئے جاتے ہیں اور ان کی کوئی مقبولیت حاصل نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مسلمان اوباما سے بہت زیادہ توقعات رکھتے ہیں۔ ان کو اپنی مقبولیت کا فائدہ اٹھانا چاہئے۔ حتیٰ کہ طالبان کے ساتھ سیاسی ڈیل کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہئے۔مشرف نے فوج میں ماضی میں ہونے والی بنیاد پرستانہ بغاوت کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں کوششوں میں ملوث افسروں کو پکڑ کر سزا دی گئی۔ میں نے سٹریٹجک اثاثوں کے تحفظ کیلئے 18 سے 20ہزار افراد پر مشتمل مضبوط سٹریٹجک فورس قائم کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے کردار اور امکانی طور پر بنیاد پرست ہونے کے حوالے سے ان کی مانیٹرنگ کی جاتی ہے‘ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ میری رخصتی کے بعد سے بہت کچھ تبدیل ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ طالبان اور ان کے اقدامات کے بارے میں چوکنے ہوگئے ہیں۔ اب ہر شخص چوکنا ہے۔ہرش نے لکھا کہ مشرف ہائیڈ پارک کے قریب لندن میں اپنی اہلیہ کے ساتھ جلاوطنی کی سادہ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے ساتھ رابطہ رکھنے والے حکام نے بتایا کہ بہت سی غلطیوں کے ساتھ ساتھ ان میں ایک نقص یہ بھی ہے کہ بہت زیادہ صاف گو ہیں۔ ہماری بات چیت سے قبل میں (ہرش) نے پوچھا کہ آپ نے گزشتہ جنوری میں واشنگٹن کے دورے کے موقع پر اوباما انتظامیہ کے کسی سینئر عہدیدار سے ملاقات کیوں نہ کی تو انہوں نے کہا کہ میں نے ملاقات کیلئے اس لئے نہیں کہا کہیں انکار نہ ہوجائے۔ایک اور موقع پر عام ڈھیلے ڈھالے اورا سپورٹس شرٹ میں ملبوس مشرف نے کہا کہ میں 2005ء میں شروع ہونے والے امریکی ڈرون حملوں سے بڑا پریشان تھا۔ میں نے امریکیوں سے پریڈیٹر کا مطالبہ کیا لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ میں نے امریکیوں سے کہا کہ پھر اب کم از کم عوام کے سامنے یہ ضرور کہہ دیں کہ آپ ہمیں پریڈیٹر دے رہے ہیں۔ آپ ان پر حملے کرتے رہیں لیکن پی اے ایف کو ان کی نشاندہی کی ذمہ داری دیں لیکن اس سے بھی انکار کردیا گیا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 5 so far )

بجلی چوری

Posted on 12/10/2009. Filed under: طنز و مزاح | ٹيگز:, , , , , , |

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

پرویز مشرف کی پی پی پی

Posted on 26/02/2009. Filed under: وڈیو زون, طنز و مزاح | ٹيگز:, , , |

گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے
میں آ رہا ہوں کہ گلشن کا کاروبار چلے

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

سجن آون تے اکھیں ٹھرن

Posted on 24/02/2009. Filed under: ڈیرہ نامہ, پاکستان | ٹيگز:, , , , , , , |

وہ ‘نہ‘ افتخار کی فصیل جبر ڈھا گئی
وہ حریت کی اک نظر یذیدیت مٹا گئی

عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان جناب افتخار محمد چوہدری اور معزز وکلاء راہنماؤں کو ڈیرہ غازی خان کی دھرتی پر

خوش آمدید

٩مارچ ٢٠٠٧ء جنرل پرویز مشرف نے آزاد عدلیہ کو اپنا غلام بنانے کی مذموم کوشش کی تو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اس جرنیلی سازش کے سامنے آہنی دیوار بن گئے۔
اس فیصلے کے خلاف ملک بھر کے وکلاء، سول سوسائٹی، سیاسی تنظیمیں سراپا احتجاج بن گئیں۔ یہ احتجاج آہستہ آہستہ ایک تحریک کی شکل اختیار کر گیا۔
اس تحریک کے دوران ہزاروں گرفتاریاں، نظربندیاں ہوئیں، لاٹھی چارج، آنسوگیس، تعذیب و تشدد اور قید و بند کی تکلیفیں اس کے علاوہ ہیں۔
١٢ مئی کو افتخار محمد چوہدری کے دورہ کراچی کے موقع پر ایم کیو ایم کی درندگی اور دہشت گردی کے دوران سینکڑوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا۔
٣ نومبر ٢٠٠٧ء کو جنرل مشرف نے دورسری بار آئین توڑ کر عدلیہ پر شب خون مارا، ایمرجنسی پلس نافذ کر دی، باضمیر ججوں کو گھروں میں نظربند کر دیا گیا۔
١٨ فروری کے مینڈیٹ کے بعد حکمران اپنے وعدوں سے منحرف ہو گئے، این آر او سے مستفید حکمران اعلان مری، اعلان اسلام آباد، میثاق جمہوریت اور محترمہ بے نظیر کی وصیت کے مطابق افتخار محمد چوہدری کو ان کے منصب پر بحال کرنے کے وعدے سے مکر گئے جس پر وکلاء برادری نے ١٢ جون ٢٠٠٨ء کو لانگ مارچ کا اعلان کیا تو ہزاروں سرفروش چلچلاتی دھوپ میں راولپنڈی پہنچ گئے۔
حکمرانوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے وکلاء کو ایک بار پھر لانگ مارچ اور دھرنے کی کال دینی پڑ گئی، افتخار محمد چوہدری اسی لئے شہر شہر کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ اس تحریک کو اپنے منتقی انجام تک پہنچایا جائے۔ اس تحریک کا ایک ہی مقصد ہے آزاد عدلیہ۔
ملکی سلامتی، انصاف، عزت نفس کی بحالی، قومی اثاثوں کا تحفظ، سرحدوں کی حفاظت، آزاد اور خود مختیار الیکشن کمیشن، سیاسی عمل میں کالے دھن، چمک اور خرید و فروخت کا سدباب، فوجی آپریشن، فضائی حدود کی خلاف ورزی، غیر ملکی مداخلت کی روک تھام، پارلیمنٹ کی بالادستی، اداروں کی آزادی اور آئین و قانون کی حکمرانی ۔۔۔۔ یہ سب آزاد عدلیہ کے بغیر نا ممکن ہیں۔
لہذا ڈیرہ غازی خان کے غیور شہریوں کا یہ عزم ہے کہ آزاد عدلیہ کی بحالی، باضمیر آزاد منش معزول چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری اور ان کے ساتھیوں کی باعزت بحالی تک وکلاء کے شانہ بشانہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔

بڑا مبارک جہاد ہے یہ سحر کی امید رکھنا زندہ
نہ چین کی ظلمت کو لینے دینا شبوں کی نیندیں اڑائے رکھنا

انشاء اللہ ٢٥ فروری ٢٠٠٩ء بروز بدھ کو ڈیرہ غازی خان کے غیور شہری چیف جسٹس آف پاکستان جناب افتخار محمد چوہدری کا شایان شان استقبال کریں گے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

پنجاب اسمبلی میں پیش کردہ قرارداد کا مکمل متن

Posted on 07/11/2008. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال خان کی زیر صدارت پیر کے روز منعقدہ پنجاب اسمبلی کے ٨ ویں اجلاس کے دوران صوبائی وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ خان نے صدر پاکستان کے الیکٹورل کالج سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے یا اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینے یا پارلیمٹ سے انکے کے مواخذے کے نوٹس کے اجراء کے مطالبہ پر مبنی قرارداد پیش کی گئی ہے۔ جس کا مکمل متن اس طرح ہے۔

”پنجاب اسمبلی یہ اخذ‘ تصور‘ خیال کرتی ہے کہ آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل ٤١ کے تحت پنجاب اسمبلی صدر مملکت کے الیکٹورل کالج کا حصہ ہے جبکہ پنجاب اسمبلی اکتوبر ٢٠٠٧ء میں صدر مملکت کے انتخاب کے بارے میں تحفظات اور اعتراضات رکھتی ہے جس کا اسے قانونی حق حاصل ہے اور پنجاب اسمبلی کا موقف ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف آئین پاکستان کی مبینہ خلاف ورزی کے باعث صدر کا منصب مزید اپنے پاس رکھنے کے اہل نہ ہیں۔ جبکہ کئی دیگر ایسی وجوہات بھی ہیں جن کے باعث وہ خود کو اس عہدہ پر برقرار رکھنے کی اہلیت کے حامل نہیں۔

انہوں نے دو مرتبہ آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مختلف شقوں کی صریحاً خلاف ورزی کی اور آئین و قانون کو پامال کرتے ہوئے جمہوریت کی گاڑی کو پٹڑی سے اتارنے سمیت غیر جمہوری اقدامات کی حوصلہ افزائی کی۔ آئین کی دفعہ ٤١ (١) کے تحت صدر چاروں صوبوں کی زنجیر اور وفاق کی علامت ہوتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے فرائض سے کوتاہی برتتے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بین الصوبائی ٹینشن پیدا کی‘ صوبوں کے حقوق غصب کئے‘ صوبائی خود مختاری سے انحراف کیا اور وفاق کو کمزور کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

اسی طرح گزشتہ ٨ سالوں کے دوران اختیار کی گئی ملک و قوم کے مفاد کے منافی پالیسیوں نے ملک کو سیاسی و اقتصادی تباہی کے دھانے پر پہنچا دیا۔ انکی ناقص حکمت عملی کے باعث ملک میں توانائی جیسے بدترین بحرانوں کو فروغ حاصل ہوا جبکہ بدامنی‘ لاقانونیت‘ افراتفری‘ غربت‘ بیروزگاری‘ مہنگائی اور عوام و ملک دشمن اقدامات نے عوام کے اعصاب شل کر دیئے۔

انکی پالیسیوں نے وفاق کو مفلوج کر دیا اور قومی اداروں سے عوام کا اعتماد ختم ہو گیا۔ لہٰذا درج بالا اور بہت سی دیگر وجوہات کی بناء پر پنجاب اسمبلی کے ارکان صدر پرویز مشرف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے الیکٹورل کالج سے فوری طور پر اعتماد کا ووٹ حاصل کریں یا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل ٤٤ (٣) کے تحت اپنے عہدہ سے مستعفی ہو جائیں اور اگر وہ مذکورہ دونوں اقدام کرنے سے قاصر رہیں تو پارلیمنٹ انہیں آئین کے آرٹیکل ٤٧ کے تحت مواخذے کا فوری نوٹس جاری کرے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

صدر مشرف استعفے کے بعد !!!

Posted on 13/09/2008. Filed under: طنز و مزاح | ٹيگز:, , , , |

غریب مشرف کی حالتِ زار استعفے کے بعد  ۔۔۔۔۔۔  دیکھیئے ان دستی (بناؤٹی) تصویروں میں۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

عبوری آئینی حکم 2007ء کا متن

Posted on 04/11/2007. Filed under: قانون، آرڈیننس | ٹيگز:, , , , |

چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ہفتہ کے روز عبوری آئینی فرمان جاری کیا گیا ہے، جس کا متن حسب ذیل ہے۔

”حکم نامہ 3 نومبر 2007ء  کی پیروی اور اس ضمن میں حاصل تمام اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف نے 3 نومبر 2007ء کے ہنگامی حالت کے فرمان کے تحت درج ذیل حکمنامہ جاری اور نافذ کیا ہے۔

(1) اس حکم کو عبوری آئینی حکمنامہ نمبر (1) آف 2007ء کہا جائے گا۔
(2) یہ پورے پاکستان پر محیط ہوگا۔
(3) یہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

(1) اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دفعات کے التواء کے باوجود پاکستان کا نظم و نسق اس حکم اور صدر مملکت کی جانب سے جاری کیے جانے والے کسی دوسرے حکم کے تابع جس حد تک بھی ممکن ہوا، آئین کے مطابق چلایا جائے گا۔
بشرطیکہ، صدر مملکت وقتاً فوقتاً حکم کے ذریعے آئین میں ضروری سمجھی جانے والی ترمیم کر سکیں گے۔
بشرطیکہ، آرٹیکلز 9,10,15,16,17,19 اور 25 کے تحت بنیادی حقوق معطل رہیں گے۔
(2) باوجود یہ کہ3 نومبر 2007ء کے حکمنامے یا اس حکم یا نافذ کیے جانے والے کسی اور قانون میں بیان کردہ کوئی چیز، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آرٹیکلز2 2A, 31, 203A سے,203J 227  سے 231 اور 260 (3) a اور(b) سمیت اسلامی احکامات کی حامل تمام شقیں نافذ العمل رہیں گی۔
(3) حکمنامے کی کلاز(1) اور عہدے (ججز)کے حلف حکمنامہ 2007ء سے مشروط اس آرڈر کے نفاذ سے قبل موجود تمام عدالتیں کام کرتی رہیں گی اور اپنے متعلقہ اختیارات اور دائرہ اختیار کو بروئے کار لاتی رہیں گی۔ بشرطیکہ سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ اور کسی دیگر عدالت کو صدر مملکت وزیراعظم یا ان کی اتھارٹی کے تحت اختیارات بروئے کار لانے والے کسی اور شخص کے خلاف کوئی حکم جاری کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔
(4) تمام افراد جو اس حکمنامے کے نفاذ سے فوری قبل سپریم کورٹ، وفاقی شرعی عدالت یا ہائیکورٹ کے ججز کی حیثیت سے عہدے پر تھے، عہدے (ججز) کے حلف آرڈر 2007ء اور صدر کی طرف سے جاری کئے جانے والے ایسے کسی مزید حکم کے تحت اور تابع ہونگے۔
(5) کلاز (1) سے مشروط مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) اور صوبائی اسمبلیاں کام کرتی رہیں گی۔
(6) تمام افراد، جو اس حکم کے نفاذ سے عین قبل وفاق یا کسی صوبے بشمول آل پاکستان سروس، مسلح افواج میں سروس اور سروس آف پاکستان یا مجلس شوریٰ کے ایکٹ یا صوبائی اسمبلی یا چیف الیکشن کمشنر یا آڈیٹر جنرل قرار دی جانے والی کوئی اور سروس کے حوالے سے کسی سروس، عہدے یا منصب پر تھے، انہی شرائط پر مذکورہ خدمات سر انجام دیتے رہیں گے اور انہیں وہی مراعات حاصل ہونگی جب تک کہ صدر کے احکامات کے تحت تبدیل نہیں کی جاتیں۔

(1) سپریم کورٹ وفاقی شرعی عدالت اور ہائیکورٹس سمیت کوئی بھی عدالت یا کوئی ٹربیونل یا کوئی اور اتھارٹی اس حکم، 3 نومبر 2007ء کے ہنگامی حالت کے نفاذ، عہدے (ججز) کے حلف حکمنامہ 2007ء یا اس حوالے سے جاری کردہ کسی اور حکم پر سوال نہیں اٹھائے گی اور نہ ہی اس کی اجازت دیگی۔
(2) صدر، وزیراعظم یا صدر کی طرف سے نامزد کی جانے والی کسی اتھارٹی کے خلاف کسی عدالت یا ٹربیونل کی طرف سے کوئی فیصلہ، ڈگری، حکم یا کارروائی نہیں کی جائیگی۔

(1) آئین کی دفعات کے التواء کے باوجود لیکن صدر کے احکامات سے مشروط آئین کے علاوہ تمام قوانین، تمام آرڈیننس، آرڈرز، رولز، بائی لاز، ریگولیشنز، نوٹیفکیشنز اور دیگر قانونی دستاویزات جو پاکستان کے کسی حصے میں نافذ العمل ہوں خواہ صدر یا کسی صوبے کے گورنر کی طرف سے جاری کی گئی ہوں، صدر یا ان کی نامزد کردہ کسی شخصیت کی طرف سے تبدیلی، ترمیم یا منسوخی تک نافذ العمل رہیں گی۔

(1) صدر یا کسی صوبے کے گورنر کی طرف سے نافذ کردہ کوئی آرڈیننس آئین میں مقرر کردہ دورانیے کے حوالے سے کسی تحدید سے مشروط نہیں ہوگا۔
(2) کلاز(1) کی شقیں صدر یا گورنر کی جاری کردہ کسی آرڈیننس جو 3 نومبر 2007ء کے ہنگامی حالت کے نفاذ سے فوری پہلے نافذ العمل تھا، پر بھی لاگو ہونگی۔
بشکریہ روزنامہ جنگ

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...