عوام کے خادم زندہ باد

Posted on 26/05/2009. Filed under: پاکستان | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , |

وفاقی وزراء قمرالزماں کائرہ اور نذر گوندل کی یہ وہ تصاویر ہیں جس کے بارے میں خبریں شائع ہو چکی ہیں۔ وزراء اس جدید لیموزین سے نیچے اتر رہے ہیں جس کا کرایہ پانچ سو ڈالر فی گھنٹہ ہے۔ اس پر تقریباََ دو گھنٹے شہر کی سیر کی۔ اس کے علاوہ مختلف تقاریب میں ڈھول، رقص اور ان پر نچھاور کئے جانے والے ہزاروں ڈالروں کی تصاویر بھی ملاحظہ فرمائیے، مزید ١٦٠٠٠ ڈالر بھارتی رقاصاؤں پر وارے گئے۔
ایسے وقت میں جب پاکستان میں ٢٥ لاکھ انسان بے گھر ہیں۔ عوام بجلی، پانی، دوائی، چھت کو ترس رہے ہیں اور ان کے خادم نیویارک عیاشی کر رہے تھے۔
عوام کے خادم زندہ باد
عوام مردہ باد





Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

میری ناکام ریاست کو فنڈ دینا بند کرو

Posted on 29/04/2009. Filed under: پاکستان, سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , |

سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی بھتیجی فاطمہ بھٹو نے daily beast میں لکھے ایک مضمون میں کہا ہے کہ ہمیں امداد کے طور پر اربوں ڈالر تو موصول ہوئے مگر پاکستان کو محفوظ بنانے میں کامیابی حاصل نہ ہوئی، یہی وجہ ہے کہ ملک میں طالبان کی ایک اور قسم وجود میں آئی جو تجارتی راہداریوں کو بموں سے اڑانے اور نوجوان لڑکیوں کو کوڑے مارنے جیسی تخریبی اور گھناؤنی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ سر سبز وادی سوات میں انتہا پسند طالبان سے دو سال مقابلہ کرنے کے بعد صدر زرداری نے آخر کار ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور نفاذ شریعت کی اجازت دے دی۔ طالبان کے خواب کو قانونی منظوری ملنے کے ایک ہفتے بعد ہی طالبان انتہائی سرعت کے ساتھ ضلع بونیر میں داخل ہو گئے جو وفاقی دارالحکومت سے صرف ٧٠ میل کے فاصلے پر ہے۔
اس مضمون میں فاطمہ بھٹو صدر زارداری اور امریکی صدر بارک اوباما کے درمیان آئندہ ہونے والی ملاقات کے بارے میں لکھتی ہیں کہ اس ملاقات میں صدر زرداری اپنے کشکول میں مزید چندہ ڈالے جانے کے علاوہ اور کوئی سوال نہیں کریں گے۔ وہ اوباما پر صرف اتنا واضح کریں گے کہ پاکستان کو طالبان اور انتہاپسندوں سے مقابلہ کرنے کے لئے مزید فنڈ کی ضرورت ہے۔
سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے دہشت گردی سے مقابلہ کے لئے پاکستان کو دس ملین ڈالر دیئے جو ضائع گئے یا پھر بڑی جیبوں میں چلے گئے۔ ٹوکیو اجلاس کے بارے میں لکھتی ہیں کہ ٹوکیو اجلاس میں تیس ممالک کے نمائندے شریک ہوئے اور دہشتگردی سے مقابلہ کے لئے پاکستان کو پانچ بلین ڈالر فراہم کرنے کا عہد کیا۔ اس کے ساتھ آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کو ٧۔٦ بلین ڈالر رعائتی پیکیج کے طور پر فراہم کیا ہے، سعودی عرب نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئندہ چار برسوں میں ٧٠٠ ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا تو یورپی یونین نے بھی اسی مدت کے دوران اضافی ٦٤٠ ملین ڈالر عطا کرنے کا عہد کیا، علاوہ ازیں صدر اوباما نے سالانہ ١۔٥ بلین ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے اگرچہ وائٹ ہاؤس نے وضاعت کہ ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہنا اس کے نتائج پر منحصر ہے۔
فاطمہ بھٹو نے اس مضمون کے آخر میں وضاعت کی ہے کہ اتنی بڑی بڑی رقومات صدر زرداری کی جھولی میں ڈالنا حماقت کے سوا کچھ نہیں کیونکہ صدارت کا عہدہ سنبھالنے سے قبل سوئزرلینڈ، انگلینڈ اور اسپین میں ان کے خلاف کرپشن کے معاملات درج تھے۔
فاطمہ بھٹو نے آصف زرداری اور مقتول سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو پر پاکستانی خزانے سے تین بلین ڈالر سے زائد اڑانے کا الزام عائد کیا ہے وہ لکھتی ہیں کہ زرداری اسے چھپانے میں ناکام رہے کیونکہ صدر بننے سے قبل انہوں نے اپنی ملکیت میں ایک بلین ڈالر زائد کے اثاثہ جات کا اعلان کیا۔
فاطمہ بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستان کو مزید فنڈ کی فراہمی خطرناک ہو گی، اس کی شکم سیری نامکمن ہے بدعنوان حکومت کو جس قدر بھی فنڈ فراہم کیا جائے کم ہے۔ یہ رقومات پاکستان کو دہشتگردی سے نجات دلانے میں معاون ثابت نہیں سکتیں کہ دنیا کو جن انتہا پسندوں سے نجات دلانے کے لئے رقومات مقصود ہیں انہی کو تقویت بخشنے کے لئے فنڈز کا استعمال ہو رہا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

آئیے ماتم کریں

Posted on 20/01/2007. Filed under: اسلام, سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ظلم اپنے عروج پر ہوتا ہے تو مظلوم کی آہ سوزاں ہمیشہ اس کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ ظلم مٹنے والی چیز ہے کیونکہ
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
جبکہ مظلومیت مٹ کر اپنی بقا کو پہنچتی ہے۔ ابتدا کائینات سے ہی ظالم اور مظلوم کی جنگ جاری ہے۔ قابیل سے لیکر آج کے قاتلین تک کا ایک ہی کردار رہا ہے اور ہابیل سے لیکر آج تک کی مظلومیت ایک ہی صف میں کھڑی نظر آتی ہے۔
دنیا میں جتنے بھی جابر و ظالم گزرے ہیں ان کے ظلم کے خلاف ماتم کیا گیا۔ ماتم مظلوم کی حمایت اور ظالم سے نفرت کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے تاکہ ظالم کا چہرہ دنیا کے سامنے آ سکے۔ اس لئے ۔۔
آئیے ماتم کریں! ہر ظالم کے خلاف چاہے وہ کسی بھی روپ میں چھپا ہو اور
آئیے نفرت کا اظہار کریں! اہل کوفہ والوں سے جہنوں نے امام حسین کو خط تو لکھے مگر وفا نہ کی۔
آئیے نفرت کا اظہار کریں! ابن زیاد سے جس نے امام حسین کے بارے میں کہا ‘اگر وہ اپنے آپ کو ہمارے حوالے نہیں کرتے تو پھر بلا تامل حملہ کرو، خون بہاؤ، لاشیں بگاڑو۔
آئیے نفرت کا اظہار کریں! یزیدی فوج سے اور
آئیے لعنت بھیجیں! کربلا کے بہتر شہیدوں کے قاتلین پر
آئیے لعنت بھیجیں! حرملہ پر
آئیے لعنت بھیجیں! شمرذوالجوشن پر
آئیے لعنت بھیجیں! علی اصغر کے حلق میں تیر مارنے والے پر
آئیے لعنت بھیجیں! سنان بن انس پر جس نے امام حسین کا سر تن سے جدا کیا
آئیے لعنت بھیجیں! امام حسین کے جسم مبارک کو روندھنے والوں پر
آئیے لعنت بھیجیں! امام حسین کے لبوں پر چھڑی مارنے والوں پر
آئیے لعنت بھیجیں! ہر یزیدی عمل پر اور یزید کے ہر پیروکار پر
آئیے ماتم کریں ظالموں کے خلاف اور خراج تحسین پیش کریں کربلا کے شہدا کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! غفاری و جابری لڑکوں کی بہادری اور فداکاری کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! علی اکبر بن حسین کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! قاسم بن حسین کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! اہل بیت اور بنی ہاشم کے مقتولوں کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! اس لڑکے کو جس نے کربلا کے میدان میں حضرت امام حسین کو دشمنوں کے سامنے اکیلا دیکھ کر مدد کو دوڑ پڑا اور حضرت کے پہلو میں جا پہنچا عین اسی وقت بحر بن کعب نے آپ پر تلوار اٹھائی لڑکا فورا چلایا ‘او خبیث! میرے چچا کو قتل کرے گا‘ سنگدل حملہ آور نے اپنی تلوار لڑکے پر چھوڑ دی معصوم جان نے اپنی جان سے بے پرواہ ہو کر تلوار کے وار کو اپنے ہاتھ پر روکا، ہاتھ کٹ گیا ذرا سی کھال لگی رہ گئی۔
آئیے خراج تحسین پیش کریں! علی کے سورما بیٹے حسین کو
وہ حسین! جس کے لبوں کی خشکی دیکھ کر فرات کی موجیں آب آب ہو کر رہ گئیں۔
وہ حسین! جس نے اپنے نانا کی امت کے چراغ کو بچانے کے لئے اپنے گھر کے تمام چراغوں کو بجھا دیا۔
وہ حسین! جو موت کے سامنے اس حقارت سے مسکرایا کہ خود موت کی نبضیں رک گئیں۔
میدان کربلا میں کوئی اقتدار کی جنگ نہ تھی بلکہ حق و باطل کا معرکہ تھا جسے حسین نے سر کر لیا۔ وہاں حسین کمزور تھا اور یزید طاقتور، قانونِ فطرت کے مطابق یزید حسین کو مٹا دیتا لیکن حسین نے اپنی مظلومیت کی ایک ہی ضرب سے قاتلین کو مٹا دیا۔ حسین ہار کر امر گیا، یزید جیت کر فنا ہو گیا۔ حسین آج بھی کروڑوں دلوں میں راج کر رہا ہے، ان دلوں میں یزید کے لئے نفرت ہی نفرت ہے اور حسین کے لئے پیار ہی پیار۔
کربلا کی داستان کو زندہ رکھنے کا اصل مقصد یہی ہے کہ جب بھی ظالم سر اٹھائے، سر کچل دیا جائے۔ واقعہ کربلا سے یہی سبق ملتا ہے کہ ظالم کی اطاعت کسی صورت میں جائز نہیں بلکہ اس کے خلاف آواز بلند کی جائے اور اسکے گھناؤنے چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے۔ اس لئے
آئیے عالمی قاتلین سے نفرت کا اظہار کریں! جہنوں نے کشمیر و فلسطین، عراق اور افغانستان میں قتل و غارت گری اور خون خرابے کا بازار گرم کر کھا ہے۔
آئیے خود کو سپر منوانے والوں سے نفرت کریں! جن کے دل و دماغ مسلمانوں کو تباہ برباد کرنے میں لگے رہتے ہیں۔
آئیے ماتم کریں! ان لوگوں کا جو بے وقت کی موت مارے گئے۔
آئیے ماتم کریں! کشمیر و فلسطین، عراق اور افغانستان میں خون میں لت پت تڑپتی لاشوں کا اور آنسو بہائیں ان بیگناہوں کا جو بے خبری کی موت مارے گئے۔
آئیے ماتم کریں! لیکن کس کس کا ماتم یہاں تو ہر گھر سے بینوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔ یتیم بچے آسمان کی طرف منہ اٹھائے دھاڑیں مار کر پوچھ رہے ہیں کہ آخر ہمارا قصور کیا ہے؟ کس جرم کی سزا ہے کہ ظالموں نے پل بھر میں ہنستے کھیلتے گھر کو ماتم کدے میں تبدیل کر دیا۔
اے خون کو پانی کی طرح بہانے والو!
اے ڈالروں کے پجاریو!
اے غیرملکی اشارے پر ناچنے والو!
اے فرعون کے جادوگرو!
اے نمرود کے خزانو!
اے ابوجہل کے ساتھو!
اے شداد کے جنتیو!
اے ابو طاہر قرامطی کے شیدائیو!
اے حسن بن صباح کے فدائیو!
اے یزیدی لشکر کے سردارو!
اے چنگیز خان کے چمچو!
اے ہٹلر کے جانشینو!
اے اسرائیل کے گندے دماغو!
اے بھارت کی سہنو!
اے امریکہ کی فوجو!
اے خفیہ جگہوں سے ہٹ کرنے والو!
ڈرو اس وقت سے جب تمھارے ہاتھوں میں مارے جانے والے بیگناہوں کے یتیم بچوں کی چیخیں آسمان سے ٹکرائیں گی۔ یتیم بچوں کے ننھے منے ہاتھ اوپر اٹھیں گے۔ جب ان کی توتلی زبان سے تمھارے لئے بدعا نکلے گی اور تمھیں خوب معلوم ہے کہ خدا کسی مظلوم اور یتیم کی آواز جلد سنتا ہے اور پھر تمھیں زمین و آسمان میں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ خدا کا قہر آخرکار تمھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ دنیا میں بھی تم ذلیل و خوار ہو گے اور آخرت میں یہ یتیم بچے تمھیں گریبان سے پکڑے گھسیٹتے ہوئے خدا کے حضور پیش کریں گے اور چیخ چیخ کر کہیں گے کہ یہی ہمارے قاتل ہیں، یہی ہمارے مجرم ہیں تو اس وقت تمھاری کوئی پش و پیش اور کوئی بہانہ تمہیں نہ بچا سکے گا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

لاٹری

Posted on 13/05/2005. Filed under: رسم و رواج, طنز و مزاح | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , |

معلوم نہیں کون سے دشمنوں نے امریکا اور یورپ کے لاٹری والوں کو ہمارا ای میل ایڈریس دیدیا۔ وہاں سے ہر دوسرے تیسرے دن دو چار ای میل آ ہی جاتے ہیں جن میں ہمارے کروڑپتی بننے کی بشارت دی گئی ہوتی ہے ان کی میلز سے ایسا لگتا ہے کہ بس دو چار دنوں میں ہی ہم کروڑپتی بننے والے ہیں، ان میلز میں ہمیں اپنا مالی مشیر مقرر کرنے کا بھی مشورہ دیا جاتا، ان کے خیال میں اتنا مال سنبھالنا ۔۔۔ ہمارے بس کی بات نہیں، کاروں کے جدید ترین ماڈلوں کی تصاویر اور دنیا کے خوبصورت مناظر، ساحلوں کی نقشہ گری کچھ اس انداز میں کی جاتی کہ ہم خوابوں میں اپنے آپ کو محل خریدتے اور پجارو میں سفر کرتے نظر آتے ۔ اسی طرح کی ایک ای میل جو ہمیں تقریبا پانچ ماہ پہلے موصول ہوئی جس نے ہماری نیندیں حرام کر دیں، اس کا تعلق دو کروڑ نوے لاکھ کی لاٹری سے تھا اور اس میں کسی ورلڈ ریسرچ کمیٹی نے ڈیرہ غازیخان کے منیراحمدطاہر کو ضمانت مہیا کر دی تھی کہ وہ امریکن پاور لاٹری میں جس کی رقم دو کروڑ نوے لاکھ کو پہنچ چکی ہے جیتنے کا حقدار قرار دیتی ہے۔ میل میں یہ بھی تحریر تھا کہ آپ جیسا ہیرا موتی ہم نے ہفتوں کی محنت کے بعد دریافت کیا ہے۔ اس فہرست میں متعدد نام تھے مگر پھر یہ مختصر ہوتی گئی اور جب بلکل ہی مختصر ہو گئی تو اس میں آپ کا نام ہیرے کی طرح جگمگا رہا تھا۔ اس میں تحریر تھا کہ منیراحمدطاہر کو کمیٹی اب انعام کی دوڑ میں حصہ لینے کا حق دیتی ہے اور مندرجہ ذیل نمبر الاٹ کرتی ہے جن سے ایک کروڑ ڈالر تک کی جیت تو یقینی ہے بس منظوری فارم پر کر کے اتنے ڈالروں کے ساتھ ارسال کر دیں، یہ سب پڑھ کر ہماری قوت مدافعت جواب دے چکی تھی لیکن ہم اس دوڑ میں چھلانگ لگانے کے سلسلے میں تھوڑے متذبذب بھی تھے مگر میل میں فارم کے ساتھ اس مال و دولت سے کام لینے کے طریقے بھی درج تھے جو ہمیں ملنے والی تھی۔ بس پھر کیا تھا، ہم نے اس دوڑ میں چھلانگ لگا دی اور میل کے انتظار میں بیٹھ گئے۔ کوئی بیس پچیس دنوں بعد ایک میل موصول ہوئی جس میں تحریر تھا کہ کمیٹی کے پاس ہماری انعامی رقم جمع ہے جو مبلغ نوے امریکی سنیٹ کے برابر ہے۔ کمیٹی نے بڑی سخاوت سے کام لیتے ہوئے اس میں دس سنیٹ اپنی طرف سے شامل کر کے ہم سے پوچھا تھا کہ ایک ڈالر کی یہ رقم ہم تک کیسے پہنچائی جائے، ابھی ہم اس صدمے سے سنھبلنے بھی نہ پائے تھے کہ ان کا دوسرا میل موصول ہوا، یہ ایک دعوت نامے کی شکل میں تھا سب سے اوپر بڑے خوبصورت الفاظ میں لکھا تھا “ ہم ایک پارٹی کا اہتمام کر رہے ہیں۔آپ کو پہلے سے مدعو کرتے ہیں کہ آپ ہمارے گیسٹ آف آنر بنیئے“ نیچے کی تحریر کا ایک ایک لفظ پیار، محبت اور عقیدت میں ڈوبا ہوا تھا اورکچھ یوں شروع ہوتا تھا“ پیارے منیراحمدطاہر! اس سال کروڑ پتیوں کے لئے ہماری کمیٹی میں مہمان خصوصی بننے کی منظوری دے کر ازرہ کرم ہماری عزت افزائی کریں۔ ہم ہر سال جیتنے والوں کے اعزاز میں اس قسم کی تقریب کا اہتمام کرتے ہیں اور اس سال اس میں آپ کی موجودگی کے خواہاں ہیں۔ منیراحمدطاہر! 250 خصوصی قسم کے افراد کے اس بین الاقوامی اجتماع میں شامل ہو کر اپنی زندگی کے اہم ترین سال کا لطف اٹھائیے۔ منیراحمدطاہر اس تقریب کا دولہا ہو گا جہاں اسے بہت سے دلچسپ افراد سے ملنے کا موقعہ میسر آئیگا۔“ خیر ہم ایک بار دھوکہ کھا چکے تھے اب ہم نے ان کے چکموں سے محفوظ رہنے کا فیصلہ کر لیا تھا جس پر اب تک قائم ہیں مگر ان کی ای میلز اب بھی برابر آ رہے ہیں بلکہ ان لوگوں نے آسڑیلیا، ہالینڈ، فرانس اور اٹلی کی لاٹری کمپنیوں تک کو ہمارا ای میل غالبا فروخت کر دیا ہے جن کے ای میلز سے جان چھڑانا ہمارے لئے مشکل ہو گیا ہے۔ ان سے بچنے کا کوئی راستہ کسی کے پاس ہو تو وہ مہربانی کر کے ہمیں ضرور اس سے آگاہ کرے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...