اب تو لمحوں کی بھی فرصت نہیں، آرام کہاں؟

Posted on 11/11/2009. Filed under: شعروادب | ٹيگز:, , , , , , |

لے کے آیا ہے کہاں وقت کا گرداب مجھے
کر دیا اپنے ہی خیالات نے غرقاب مجھے

پھر مخاطب ہوں شبِ ہجر کی تنہائی سے
اے سحر! اور کوئی گی کوئی خواب مجھے

درد ہی درد ملے ہاتھ کی ریکھاؤں میں
کم نصیبی نے دئیے حیف یہ اسباب مجھے

اب تو لمحوں کی بھی فرصت نہیں، آرام کہاں؟
زندگی اور سکھائے گی کچھ آداب مجھے

خشک سالی کا یہ عالم ہے کہ شاہین اب تو
اپنے دریا میں بھی پانی ملے، نایاب مجھے

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

زندگی میں موت کا سناٹا

Posted on 15/07/2009. Filed under: پاکستان, رسم و رواج | ٹيگز:, , , , , , , , , , |

بشکریہ خبریں

Read Full Post | Make a Comment ( 3 so far )

تعلیم، ماں اور ریاست

Posted on 06/11/2005. Filed under: پاکستان, تعلیم | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

عید کے پہلے دن صدر بازار سے گزرتے ہوئے مجھے سکول کے زمانے کا ایک کلاس فیلو مل گیا وہ میرا آئیڈیل سٹوڈنٹ تھا میں برسوں اللہ سے اس جیسا بننے کی دعا کرتا رہا تھا لیکن اب میں نے اسے دیکھا تو آنسو ضبط نہ کر سکا نشے نے اس کی ہڈیوں میں گھونسلے بنا رکھے تھے اور غربت سرنگیں۔ میں تیسرے درجے کا ایک کند ذہن طالب علم تھا۔ لیکن میری کلاسوں میں انتہائی ذہین اور جسمانی طور پر فٹ لڑکے تھے ہر امتحان میں فرسٹ پوزیشن لیتے، پوری پوری کتابیں انہیں حفظ ہوتی تھیں، طالب علمی کے دور میں ہی ایسے ایسے فقرے لکھتے کہ استاد حیران رہ جاتے، میرا ایک کلاس فیلو جسے ہم کیلکولیٹر کہتے تھے وہ حساب میں ایسا ماہر تھا کہ ضرب، تقسیم، جمع، تفریق اور جزر کا کوئی بھی سوال کیا جاتا تو سوال کرنے والے کا ابھی منہ بند نہ ہوتا جواب پہلے آ جاتا، غالب، اقبال، میر، جگر اور فیض کو یوں سناتے جیسے انہوں نے پوری زندگی انہی کے ساتھ بسر کی ہو۔ لڑکوں کو ہزاروں شعر، محاورے اور لطیفے یاد ہوتے تھے۔ بڑے بڑے لاجواب کھلاڑی تھے، کبڈی کے میچ ہوتے تو تیلے پہلوان مخالف کھلاڑی کو کندھے پر اٹھا کر لکیر پار کر جاتے۔ کرکٹ، فٹبال اور ہاکی کے کھلاڑی ایسے کھیلتے کہ بڑے بڑے ماہر کھلاڑی حیران رہ جاتے۔ انٹرٹینمنٹ کے پیریڈ میں کچھ لڑکے ایسی تان اٹھاتے کہ محسوس ہوتا پٹیالہ گھرانے کا کوئی استاد گا رہا ہے۔ چند ایک جعلساز بھی تھے دستخطوں کی ایسی نقل کرتے تھے کہ اچھے اچھے چکرا جاتے۔ ‘لیکن‘ ان میں چند ایک ہی آگے بڑھ پائے وہ بھی ایسے جن کے والدین افورڈ کر سکتے تھے ان کو معاشی سہارا دے سکتے تھے، باقی سب زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے، وقت کا عفریت ایک ایک کر کے ان سب کو نگل گیا، یہ لوگ ترقی کی شاہراہ سے مشقت کی پگڈنڈی پر اتر گئے، زندگی کی تلخیاں، روزگار کا غم اور معاشرتی دکھ ان کے وجود میں اترتے چلے گئے اور یہ جیتے جاگتے لوگ، زندگی، ذہانت اور جذبے سے معمور لوگ عبرت کا نشان بن گئے۔ اس ملک میں ہر سال لاکھوں سٹوڈنٹ سکولوں اور کالجوں میں داخل ہوتے ہیں مگر ان میں چند ہی آگے بڑھ پاتے ہیں، باقیوں کی قسمت میں دھکے ہی لکھے ہوتے ہیں۔ اس میں قصور کس کا ہے؟ یقینا اس ملک کے نظام تعلیم کا ہے۔ حضرت عمر رضي اللہ عنہ نے فرمایا تھا ‘ماں کا دودھ اور علم ہر بچے کا حق ہے‘ بچوں کو دودھ مائیں دیتی ہیں اور علم ریاست، جو ماں اپنے بچے کو دودھ نہیں پلا سکتی اسے ماں اور جو ریاست اپنے بچوں کو علم نہیں دے سکتی اسے ریاست کہلانے کا کوئی حق نہیں، مائیں تو اپنا کام کر رہی ہیں ریاست غافل ہے۔ ہماری حکومت لاکھ مجبور سہی مگر ایک مجبور حکومت کم از کم تمام بچوں کو تعلیم کے یکساں مواقع تو فراہم کر سکتی ہے، وہ اتنا تو کر سکتی ہے جو بچہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے حکومت اسے میڈیکل کالج تک پہنچانے کی ذمہ دارہ قبول کر لے۔ جس میں کمپیوٹر کی صلاحیت ہے اسے سافٹ ویئر میں پی ایچ ڈی کی ضمانت دے دے، یہی اعلان کر دے کہ ڈیرہ غازی خان کی خاک اڑاتے دیہاتوں سے لیکر گلبرگ کی روشنیوں تک سب بچوں کو ایک جیسے سکولوں میں ایک ہی سطح کی تعلیم دی جائے گی، سب کو یکساں اور مساوی مواقع ملیں گے کیونکہ کسی ایک شخص کی موت فقط ایک شخص کی موت ہوتی ہے مگر ایک باصلاحیت نوجوان کی موت پورے معاشرے کی موت ہوتی ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...