ڈیرہ بم دھماکہ

Posted on 16/12/2009. Filed under: ڈیرہ نامہ | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , |

جہاں آج پورے ملک میں یوم سقوط ڈھاکہ منایا جا رہا ہے وہی ڈیرہ غازی خان سوگ کا سماں ہے۔ کل برپا ہونے والی قیامت میں ٣٥ افراد شہید اور ٩٥ سے زیادہ زخمی ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق دو کار سوار جن ایک کی بالشت کالی داڑھی تھی، دونوں نے سفید پگڑیاں پہن رکھی تھیں۔ انہوں نے کھوسہ ہاؤس کے آگے بنی دکانوں کے سامنے روڈ پہ گاڑی کھڑی کی اور ٹھیک دو بج کے پنتالیس منٹ پر دھماکہ ہوا جس سے پورا شہر لرز اُٹھا۔ وقوعہ پر ١٨ فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا، شہداء کے اعضاء دور دور تک بکھر گئے، کھوسہ باؤس کے آگے روڈ پر بنی تمام دکانیں زمین بوس ہو گئیں اور کھوسہ ہاؤس کے قریب کی شیخاں والی بستی صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔ دکانوں، بینکوں اور گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ڈی پی او کے مطابق دھماکے میں ایک ہزار کلو مواد استعمال ہوا ہے۔
کھوسہ ہاؤس روڈ ٹریفک چوک کے ساتھ واقع ہے اور یہ شہر کا انتہائی مصروف ترین علاقہ ہے جہاں عام دنوں میں بھی کافی رش رہتا ہے۔ اس واقع کے فوراََ بعد سردار ذوالفقار کھوسہ کا سیاسی بیان آیا کہ یہ انہیں ٹارگٹ کیا گیا جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ان دہشت گردوں کا ٹارگٹ صرف معصوم عوام تھے، اگر انہیں ٹارگٹ کرنے کی کوشش ہوتی تو یقینا وہ گاڑی کوٹھی کے اندر لے جانے کی کوشش کرتے۔
اس دھماکے نے پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں کی کارکردگی کا پول کھول دیا۔ اس دھماکے سے ثابت ہو گیا کہ حکومتی اقدامت صرف بیان بازی تک ہی محدود ہیں۔
کچھ ہی عرصہ قبل راکھی گاج اور بواٹہ سے بارڈر ملٹری پولیس نے بھاری دھماکہ خیز مواد اور ڈیٹونیٹر پکڑا، اسی طرح تریمن چیک پوسٹ پر ٦٠ ہزار کلو دھماکہ خیز مواد پکڑا، یہی سے چند غیر ملکی بھی پکڑے گئے، اسی طرح شادن لنڈ کے علاقے سے بھی بارود سے بھرا ایک ٹرک پکڑا گیا تھا۔ ان حالات میں سیکورٹی ایجنسیوں کو اور سے اور تر اقدامات کرنے چاہیے تھے، اس کے ساتھ ساتھ بارڈر ایریا کی مناسب دیکھ بھال بھی ضروری تھی اور ان سارے اقدمات کی لئے ضروری تھا کہ بارڈر ملٹری پولیس کی نفری میں اضافہ کے ساتھ ان کو جدید اسحلہ سے بھی لیس کیا جاتا مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ ڈیرہ پولیس کی نفری بھی خاصی کم ہے، ڈیرہ کی حساس صورتحال کے پیش نظر اس کمی کو فورا پورا کیا جانا چاہیے۔ ان سارے اقدامات کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس اداروں کو فعال کرنا ازحد ضروری ہے۔ کیونکہ دھماکے والی جگہ ایسے محل وقوع پر واقع ہے جہاں پولیس اور ٹریفک پولیس کی نفری چاروں طرف موجود رہتی ہے، انہوں نے اس بغیر نمبر کی گاڑی کو روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ مالی نقصانات کا ازالہ تو شاید ہو جائے لیکن جانی نقصان کا ازالہ کسی طور ممکن نہیں۔ یہ ساری صورتحال قانون نافظ کرنے والے اداروں کے لئے سوالیہ نشان ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

ڈیرہ آپریشن

Posted on 11/07/2009. Filed under: ڈیرہ نامہ | ٹيگز:, , , , |

ڈی پی او ڈیرہ ڈاکٹر رضوان کی سربراہی میں آج صبح پانچ بجے ڈیرہ غازی خان سے تقریبا ٣٠ کلومیٹر دور شادن لنڈ کے علاقہ میں واقع مدرسہ عثمانیہ پر چھاپہ مارا گیا، اس دوران مدرسے میں چھپے دہشت گردوں جن کا تعلق وزیرستان سے بتایا گیا ہے نے فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں ایک دہشتگرد ہلاک جبکہ دوسرے کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے، پولیس نے ابھی تک علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے۔ ایک دوست کے مطابق مدرسے سے ١٤ مارٹر گولے، ٥ خود کش جیکٹس، ١٥ ٹائم فیوز جیکٹس، ١٠ چھوٹے میزائل، ٢٢ ہینڈ گرنیڈ، ٨ راکٹ لانچر، ١٠ کلو دھماکہ خیز مواد اور بے شمار گنیں، گولیاں وغیرہ برآمد کی گئی ہیں۔
میں حیران ہوں کہ آخر اتنا زیادہ اسلحہ یہاں تک آیا کیسے، ہماری پولیس، فوج اور درجنوں دیگر ادارے آخر کیا کر رہے ہیں، دہشت گرد انتہائی آسانی سے اسلحہ ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے ہیں اور بیج میں خوار ہو رہا ہے بیچارہ عام آدمی۔
ایک طرف قانون نافذ کرنے والے ادارے، دوسری طرف دہشت گرد اور درمیان میں عوام جسے چکی میں پڑی گندم کی طرح پیسا جا رہا ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( 5 so far )

ڈیرہ لہو لہو

Posted on 08/02/2009. Filed under: ڈیرہ نامہ | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , |

ڈیرہ غازی خان بم دھماکے کے بعد آج تیسرے روز بھی سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس دوران شہر بھر میں تمام کاروباری مراکز، تعلیمی ادارے، سرکاری و غیر سرکاری ادارے بند رہے۔ مشتعل مظاہرین نے پتھراؤ  اور توڑ پھوڑ  کی جبکہ اکا دکا فائرنگ کے واقعات بھی سامنے آئے۔ پولیس جائے وقوع سے ملنے والے اعضاء کی مدد سے حملہ آور کی تصویر مکمل کر کے میڈیا کو جاری کر دی ہے۔
ڈیرہ غازی خان کا جڑواں شہر ڈیرہ اسماعیل خان پہلے ہی لہو لہو ہے، اب یہ امن کے دشمن ڈیرہ غازی خان کے پیچھے پڑ گئے ہیں، ڈیرہ کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے جس میں اتنی زیادہ جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ گو حکومت کی طرف سے امدادی رقوم کا اعلان کیا گیا لیکن یہ قیمتی جانوں کا ہرگز نعم البدل نہیں ہے۔
اس وقت جب ڈیرہ لہو میں ڈوبا ہوا ہے، سیاستدان ان بیگاہوں کے خون پر اپنی سیاست چمکانے میں مصروف ہیں، ایسے نازک وقت میں ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاستدان ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر ملک و قوم کی بہتری کے لئے کردار ادا کریں، اس واقعہ میں جو سیکورٹی خامیاں نظر آئی ہیں ان کا سدباب کریں اور ذمہ دار افسران کی غلطی اور کوتاہی کو نظر انداز نہ کریں کیونکہ ان کی ذرا سے غلطی کی وجہ سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہو گئی ہیں۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

تعلیم، ماں اور ریاست

Posted on 06/11/2005. Filed under: پاکستان, تعلیم | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

عید کے پہلے دن صدر بازار سے گزرتے ہوئے مجھے سکول کے زمانے کا ایک کلاس فیلو مل گیا وہ میرا آئیڈیل سٹوڈنٹ تھا میں برسوں اللہ سے اس جیسا بننے کی دعا کرتا رہا تھا لیکن اب میں نے اسے دیکھا تو آنسو ضبط نہ کر سکا نشے نے اس کی ہڈیوں میں گھونسلے بنا رکھے تھے اور غربت سرنگیں۔ میں تیسرے درجے کا ایک کند ذہن طالب علم تھا۔ لیکن میری کلاسوں میں انتہائی ذہین اور جسمانی طور پر فٹ لڑکے تھے ہر امتحان میں فرسٹ پوزیشن لیتے، پوری پوری کتابیں انہیں حفظ ہوتی تھیں، طالب علمی کے دور میں ہی ایسے ایسے فقرے لکھتے کہ استاد حیران رہ جاتے، میرا ایک کلاس فیلو جسے ہم کیلکولیٹر کہتے تھے وہ حساب میں ایسا ماہر تھا کہ ضرب، تقسیم، جمع، تفریق اور جزر کا کوئی بھی سوال کیا جاتا تو سوال کرنے والے کا ابھی منہ بند نہ ہوتا جواب پہلے آ جاتا، غالب، اقبال، میر، جگر اور فیض کو یوں سناتے جیسے انہوں نے پوری زندگی انہی کے ساتھ بسر کی ہو۔ لڑکوں کو ہزاروں شعر، محاورے اور لطیفے یاد ہوتے تھے۔ بڑے بڑے لاجواب کھلاڑی تھے، کبڈی کے میچ ہوتے تو تیلے پہلوان مخالف کھلاڑی کو کندھے پر اٹھا کر لکیر پار کر جاتے۔ کرکٹ، فٹبال اور ہاکی کے کھلاڑی ایسے کھیلتے کہ بڑے بڑے ماہر کھلاڑی حیران رہ جاتے۔ انٹرٹینمنٹ کے پیریڈ میں کچھ لڑکے ایسی تان اٹھاتے کہ محسوس ہوتا پٹیالہ گھرانے کا کوئی استاد گا رہا ہے۔ چند ایک جعلساز بھی تھے دستخطوں کی ایسی نقل کرتے تھے کہ اچھے اچھے چکرا جاتے۔ ‘لیکن‘ ان میں چند ایک ہی آگے بڑھ پائے وہ بھی ایسے جن کے والدین افورڈ کر سکتے تھے ان کو معاشی سہارا دے سکتے تھے، باقی سب زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے، وقت کا عفریت ایک ایک کر کے ان سب کو نگل گیا، یہ لوگ ترقی کی شاہراہ سے مشقت کی پگڈنڈی پر اتر گئے، زندگی کی تلخیاں، روزگار کا غم اور معاشرتی دکھ ان کے وجود میں اترتے چلے گئے اور یہ جیتے جاگتے لوگ، زندگی، ذہانت اور جذبے سے معمور لوگ عبرت کا نشان بن گئے۔ اس ملک میں ہر سال لاکھوں سٹوڈنٹ سکولوں اور کالجوں میں داخل ہوتے ہیں مگر ان میں چند ہی آگے بڑھ پاتے ہیں، باقیوں کی قسمت میں دھکے ہی لکھے ہوتے ہیں۔ اس میں قصور کس کا ہے؟ یقینا اس ملک کے نظام تعلیم کا ہے۔ حضرت عمر رضي اللہ عنہ نے فرمایا تھا ‘ماں کا دودھ اور علم ہر بچے کا حق ہے‘ بچوں کو دودھ مائیں دیتی ہیں اور علم ریاست، جو ماں اپنے بچے کو دودھ نہیں پلا سکتی اسے ماں اور جو ریاست اپنے بچوں کو علم نہیں دے سکتی اسے ریاست کہلانے کا کوئی حق نہیں، مائیں تو اپنا کام کر رہی ہیں ریاست غافل ہے۔ ہماری حکومت لاکھ مجبور سہی مگر ایک مجبور حکومت کم از کم تمام بچوں کو تعلیم کے یکساں مواقع تو فراہم کر سکتی ہے، وہ اتنا تو کر سکتی ہے جو بچہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے حکومت اسے میڈیکل کالج تک پہنچانے کی ذمہ دارہ قبول کر لے۔ جس میں کمپیوٹر کی صلاحیت ہے اسے سافٹ ویئر میں پی ایچ ڈی کی ضمانت دے دے، یہی اعلان کر دے کہ ڈیرہ غازی خان کی خاک اڑاتے دیہاتوں سے لیکر گلبرگ کی روشنیوں تک سب بچوں کو ایک جیسے سکولوں میں ایک ہی سطح کی تعلیم دی جائے گی، سب کو یکساں اور مساوی مواقع ملیں گے کیونکہ کسی ایک شخص کی موت فقط ایک شخص کی موت ہوتی ہے مگر ایک باصلاحیت نوجوان کی موت پورے معاشرے کی موت ہوتی ہے۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

خواجہ سلیمان تونسوی

Posted on 04/04/2005. Filed under: عشق ومعرفت | ٹيگز:, , , , , |

برصضیر پاک و ہند میں بارہویں صدی کے آخر میں حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی کی صورت میں ایک عظیم مصلح اور روحانی پیشوا پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق سلسلہ عالیہ چشتیہ سے تھا۔ہندوستان، پاکستان اور افغانستان میں سینکڑوں مشائخ آپ کو اپنا روحانی مورث تسلیم کرتے ہیں۔ آپ کی رشدوہدایت سے برصضیر پاک و ہند کا کونہ کونہ منور ہوا، برصضیر سے باہر افغانستان، وسط ایشیا، ایران، عراق، شام اور حجازمقدس تک آپ کا فیض پہنچا۔
ولادت و خاندان ۔
آپ کا نام محمد سلیمان ہے لوگ آپ کو “پیرپٹھان” کے نام سے پکارتے ہیں۔ آپ کے والد کا اسم مبارک زکریا بن عبدالواہاب اور والدہ کا نام بی بی ذلیخا ہے۔ آپ کے والد علم و فضل میں یکتا تھے۔ آپکی ولادت 1183ھ، 1769ء کو ضلع لورالائی کے گاؤں گڑگوجی میں ہوئی۔
تعلیم و تربیت ۔
آپ نے علم دینی کی تعلیم گڑگوجی، تونسہ شریف، کوٹ مٹھن اور مہار شریف میں حاصل کی اور علوم باطنی کے لئے خواجہ نور محمد مہاروی (چشتیاں) کے دست مبارک پر بعیت کی اور خلافت حاصل سے سرفراز ہوئے۔
قیام تونسہ ۔
مرشد کے انتقال کے بعد 1214ھ، 1799ء میں گڑگوجی سے ہجرت کر کے تونسہ شریف (ضلع ڈیرہ غازی خان) میں مقیم ہو گئے اور خلق خدا کی رہنمائی کرنے لگے۔ آپ کا فیض عام ہو گیا اور لوگ جوق در جوق بعیت کرنے لگے۔ آپ کے تشریف لانے سے قبل تونسہ شریف سنگھڑ ندی کے کنارے چند گھروں پر مشتمل ایک غیر معروف گاؤں تھا۔ جب آپ تونسہ میں آ کر مقیم ہوئے تو یہ غیر معروف گاؤں علم و عرفان کا مرکز بن گیا اور طاؤسہ سے تونسہ شریف کہلانے لگا۔
دینی خدمات ۔
تیرہویں صدی ہجری و اٹھارویں صدی عیسوی میں ہندوستان میں مسلمانوں کا ہزار سالہ دور حکومت ختم ہونے کو تھا آخری مسلم حکومت یعنی مغلیہ سلطنت اپنی آخری سانس لے رہی تھی اس کی حدود صرف دہلی تک محدود ہو چکی تھی۔ مرہٹوں، جاٹوں اور سکھوں نے افراتفری مچا رکھی تھی۔ حکومت کابل کی شوکت روبہ زوال تھی۔ اس سے فائدہ اٹھا کر سکھوں نے پنجاب پر اپنا قبضہ جمانا شروع کر دیا۔ انگریز کی نظر تخت دہلی پر لگی ہوئی تھی۔ آپ نے تونسہ شریف میں عظیم علمی و دینی درسگاہ قائم کی جہاں پچاس سے زائد علماء و صوفیاء فارسی، عربی، حدیث، تفسیر، فقہ، تصوف، سائنس، طب و ہندسہ وغیرہ کی تعلیم دیتے تھے۔ طلبہ کی تعداد ان مدارس میں ڈیڈھ ہزار سے زائد تھی۔ طلبہ، علماء و فقراء کو لنگرخانہ سے کھانا، کپڑے، جوتے،کتابیں، ادویہ اور دیگر تمام ضروریات زندگی ملتی ہیں۔ آپ کو درس و تدریس کا بے حد شوق تھا۔ مریدیں و خلفاء کو کتب تصوف کی تعلیم دیتے تھے۔ آپ کے خلفا نے برصضیر پاک وہند کے طول وعرض میں اور اس سے باہر اپنی خانقاہیں قائم کیں۔ دینی مدارس کا اجراء کیا لنگر خانے قائم کئے۔ پاکستان میں تونسہ شریف، مکھڈشریف، ترگھ شریف، میراں شریف، گڑھی افغانان، سیال شریف، جلال پورہ، گولڑہ شریف اور بھیرہ شریف وغیرہ کے مدارس قابل ذکر ہیں۔ ان مدارس میں نہ صرف اعلٰی درجہ کی تعلیم دی جاتی بلکہ اعلٰی درجہ کی تربیت بھی کی جاتی۔
تونسہ شریف کی خانقاہ برصضیر پاک و ہند میں صوفیاء کی خانقاہوں میں ایک امتیازی حیثیت رکھتی ہے۔آپ کی علمی، دینی، اصلاحی، اخلاقی و روحانی تعلیمات نے معاشرے کے ہر طبقہ فکر کو متاثر کیا ان میں عام مسلمانوں کے علاوہ علماء و صوفیاء اور روساء بھی شامل ہیں۔
علماء اور عوام کے بڑے بڑے والیاں ریاست اور جاگیردار آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اکثر والیاں ریاست گدی پر بیٹھتے وقت آپ کے دست مبارک سے پگڑی بندھوانے کی خواہش کرتے مگر آپ راضی نہ ہوتے۔ سنگھڑ، ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ اسماعیل خان اور ریاست بہاولپور کے نواب، افغانستان سے والی ریاست شاہ شجاع محمدپوتے احمد شاہ ابدالی و میر دوست محمد والی افغانستان اور پنجاب، سرحدوافغانستان کی چھوٹی بڑی ریاستوں کے نواب کئی مرتبہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ کی شان میں علماء، صوفیاء اور شعراء نے عربی، فارسی، اردو اور ہندی زبان میں بے شمار تذکرے، منقبتیں، قصائد اور سلام عقیدت لکھے۔
آپ نے ماہ صفرالمظفر کی 6 اور 7 تاریخ کی درمیانی رات 84 برس کی عمر میں انتقال فرمایا اور اپنے حجرہ عبادت میں دفن ہوئے۔ آپ کے مزار پر نواب بہاولپور ثالث (1825ء تا 1852ء) مرید خواجہ تونسوی نے 85 ہزار روپے کی لاگت سے ایک عالیشان مقبرہ 1270ء میں مکمل کرایا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 2 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...