شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ

Posted on 27/12/2009. Filed under: اسلام | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

امام حسن اور امام حسین دو بھائی تھے۔ حسن بڑے تھے اور حسین چھوٹے تھے۔ یہ دونوں شہزادے جب فرش زمین پر چلتے اور مدنیہ طیبہ کی گلیوں میں گھومتے تھے، جب مکہ معظمہ میں پھرتے تھے، کبھی احرام پہنے ہوئے، کبھی حلہ یمانی پہنے ہوئے تو ان کا ملاح دور سے دیکھ کر یہ کہتا تھا ‘‘معلوم ہوتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جا رہے ہیں۔
ان کا پورا وجود نورانی تھا اور کیوں نہ ہو کہ

تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
تو ہے عین نور تیرا سب گھرانہ نور کا

یہ شہزادے جب مدنیے کی گلیوں سے گزرتے تھے تو درودیوار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو آتی تھی اور کتنی عجیب بات ہے کہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “کیا زمین پر جنت کے نوجوانوں کے سردار کو دیکھنا چاہتے ہو؟“ صحابہ نے عرض کی! “بیشک“ تو ارشاد فرمایا “ جس کو جنت کے نوجوانوں کے سردار کو دیکھنے کی تمنا ہو وہ حسن اور حسین کو دیکھ لے“ چنانچہ فرمایا “الحسن و الحسین سید شباب اھل الجنۃ“ (ترمذی شریف)
یہ دونوں جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ گلشن مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے مہکتے ہوئے پھول ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلشن کے اس مہکتے پھول (حسین) کو بڑی بے دردی سے امت کے ان منافقین، بدبخت اور بدنصیب لوگوں نے کربلا کے میدان مسل دیا۔
کربلا کا واقعہ کیا ہے؟
امام حسین مظلوم تھےاور یزید پلید تھا، بد نصیب اور بدبخت اور شقی القلب تھا، زمین پر چلتا پھرتا شیطان تھا، بدی کی قوتوں کی علامت تھا جو نیکی کی قوتوں سے ٹکرا رہا تھا۔ امام حسین نیکی کی قوتوں کی علمبردار تھے اور رحمانی قوتوں کی نمائندگی فرما رہے تھے۔ یہ رحمانی اور باطنی قوتوں کا مقابلہ تھا۔ حق و باطل کا معرکہ تھا۔ ظالم و مظلوم کا مقابلہ تھا اور اس مقابلہ میں دنیا نے دیکھا کہ مظلوم نے ظالم سے مقابلہ کیا، ظالم ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا اور مظلوم آج بھی مقبول ہے کہ زمین کے ذرے ذرے پہ اس کا ذکر ہو رہا ہے۔
امام عالی مقام، امام حسین رضی اللہ عنہ شہید کربلا، دافع کرب و بلا نیکی کی قوتوں کے ترجمان تھے اور شیطانی قوتوں کے مقابل صف آراء تھے۔ انہوں نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ یزید کی عظیم الشان سلطنت کے سامنے جھکے بھی نہیں اور بکے بھی نہیں۔
ہم لوگ گرمی سے تڑپتے ہیں، پیاس لگتی ہے تو فریج کا ٹھنڈا پانی پیتے ہیں اور ہم میں سے بہت سے لوگ اکثر قرآن مجید پڑھتے ہیں، تلاوت کرتے ہوئے، وظلائف پڑھتے ہوئے زبان خشک ہونے لگتی ہے۔ دل چاہتا ہے کہ پانی پی لوں تو رک کر ٹھنڈا پانی پی لیتے ہیں اور پھر تلاوت شروع کرتے ہیں۔ لیکن یہ منظر کہیں نظر نہیں آتا کہ ایک شخص تلاوت قرآن کر رہا ہے تیروں کی بارش ہو رہی ہے خون بہہ رہا ہے۔ یہ منظر صرف کربلا والوں ںے دیکھا ہے۔ یہ نظارہ چشم فلک نے صرف کربلا میں دیکھا کہ ایک شخص زخموں سے چور ہے، خون بہہ رہا ہے، تیروں کی بوچھاڑ ہو رہی ہے اور آ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسا سجدہ بھی آپ نے کہیں نہ دیکھا ہو گا تیروں کی برسات ہو رہی ہے، خون بہہ رہا ہے لیکن امام عالی مقام کی جبین اپنے رب کے حضور جھکی ہوئی ہے۔ یہ وہ سجدہ تھا جس کی نظیر صرف نواسہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نظر آتی ہے۔
آج ہم حج کرنے جاتے ہیں، آمدنی کیسی ہے، کہاں سے آئی، کس طرح آئی، سرکاری حج ہے یا غیر سرکاری حج، سود کے پیسے ہیں یا رشوت کے، نشے کی کمائی ہے یا اسمگلنگ کی؟ یہ علحیدہ بات ہے لیکن بڑے آرام سے ہوائی جہاز سے جاتے ہیں، ائرکنڈیشنڈ کاروں میں سفر ہوتا ہے، ہوٹل میں قیام ہوتا ہے یا اپنے کسی جاننے والے کے پاس یعنی کتنے آرام اور پرمسرت طریقے سے حج ہوتا ہے۔ لیکن چشم فلک نے ایسا نظارہ کبھی نہیں دیکھا ہو گا کہ وہ جو صبح شام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں کھیلتے تھے۔ جن کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوئے سجدے سے سر نہیں اٹھایا اور خلاف توقع سجدہ طویل ہو گیا۔ ناز و نعم میں پلے ہوئے حسین جب حج کرنے جاتے تو سواری ہوتی مگر استعمال نہیں فرماتے تھے۔ ایک دو نہیں، پوری زندگی میں امام حسین نے ٢٥ حج پیدل کئے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ “ نیرے اہل بیت سفینہ نوح کی طرح ہیں“ جس نے اہل بیت کے دامن کو تھام لیا اس نے دامن مصطٰفٰے کو تھام لیا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا حقدار ہو گیا۔ اس لئے کہ جنت کی کنجی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہے۔ کیونکہ میرے آقا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ “جنت کی چابیاں میرے دست اقدس میں ہیں“
جنت کی کنجیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست کرم میں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالٰی کی نعمتوں کو لیتے ہیں اور اپنی امت میں تقسیم کرتے ہیں تو امت کو قیامت تک جو نعمت ملتی رہے گی وہ درِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے گی اور ظاہر ہے امام حسن و حسین خون رسول ہیں اس خون کی اللہ تعالٰی کے یہاں کیا قدروقیمت ہو گی اگر امت قدر نہ کرے تو یہ امت پر بات ہو گی۔

اتر جو امۃ قتلت حسینا
شفاعۃ جدہ یوم الحساب

یعنی امت کے وہ لوگ شفاعت کے حقدار کیونکر ہوں گے جنہوں نے امام حسین کو شہید کیا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

کربلا ۔ پس منظر

Posted on 08/01/2009. Filed under: اسلام | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , |

تاریخ میں دین کے نام پر بہت سی لڑائیاں لڑی گئی ہیں، ان سب کا تعلق ایک یا دوسرے طریق عبادت یا نظریہ الوہیت کے اختلاف سے ہوتا تھا۔ اپنے اپنے آباء کے دین کا فروغ یا دفاع اور اپنی اپنی سرزمین پر قبضہ ہی ان کا محرک ہوتا تھا۔ پھر ان میں اکثر اچانک یا وقت کے ایک پیمانے کے اندر چھڑتیں، لڑی جاتیں اور ختم ہو جاتیں، ان میں کوئی لڑائی ایسی لڑائی نہیں جو تمام انسانیت کے لئے کسی بنیادی، اخلاقی، تہذیبی اور معاشرتی قدر کے کے دفاع میں لری گئی ہو۔ ان میں کوئی معرکہ ایسا نہیں جس کے دوران ایک فریق نے جنگ سے پہلے اپنے دشمن کو اس مقصد پر وعظ و تقریر سے نوازا ہو، جس مقصد کے دفاع اور بقاء کے لئے خطیبِ فوج میدان میں اتری ہو۔ ان جوع الارض کے نام خونریز معرکوں میں کوئی ایسا نہیں جس کا پہلا وار کئی صدیاں پہلے، فائنل راؤنڈ کے جرنیل کے آباؤ اجداد نے، ایک شک و شبہ سے بالا اور ایک معتبر آسمانی صحیفے میں درج، اعلٰی تہذیبی اور عمرانی مقصد کے لئے کیا ہو اور پھر اسی نسل کے فرزند جری نے ہزاروں صدیاں بعد معرکے کی تکمیل کی ہو، ۔۔۔ اور ہاں ۔۔ کربلا وہ تنہا معرکہ ہے کہ جس میں رن میں کام آنے والے سپہ سالار اور سپاہی زندہ جاوید ہو گئے ہوں اور فاتح آمروں اور بادشاہوں کی عبرتناک شکست کی یاد دہانی کرہ ارض کے ہر کونے میں ہر سال، ایام مقرہ پر، سرعام، ابن آدم کو یاد دلائی جائے۔ ہاں! ایسا لافانی اور درحقیقت قرآنی معرکہ کربلا ہے، صرف کربلا ۔۔۔۔ ہر آمر کے لئے موت کا پیغام۔
اقبال نے کربلا کے فاتح سپہ سالار، جناب امام حسین رضی اللہ عنہ کے حضور یہ تاریخی ہدیہ پیش کیا۔

تاقیامت قطع استبداد کرد
موج خون اوچمن ایجاد کرد

یعنی، امام عالی مقام نے اپنے خون سے ایسا چمن ایجاد کیا جس میں قیامت تک آمریت کو کاٹ کے پھینک دیا گیا۔
معرکہ کربلا کب شروع ہوا اور کب تکمیل کو پہنچا؟ آج کا طالب علم جس کی تعلیم آستانہ فرہنگ پہ ہوئی یا جس نے اس معرکہ سے سرسری تعارف ایام عاشورہ کے دوران وعظ و تقریر سے حاصل کیا، اس کا جواب یہ ہو گا کہ کربلا کی لڑائی کا زمانہ یکم محرم الحرام سے  دس محرم الحرام ہے۔ یقیناََ امام حسین اور یزید کی فوج میں ظاہری ٹکر انہی دنوں میں ہوئی۔ لیکن اس مجادلہ عظیم کی ابتداء اصل میں ٢٢٦٠ قبل مسیح میں کوہ خاران کی وادی میں ہوئی، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے فرزند اور نبی حضرت اسماعیل علیہ السلام سے مل کر کعبہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے یہ دعا مانگی۔

‘اے میرے رب، میری اولاد سے ایک پیغمبر مبعوث کیجیو، جو ان کو تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائے، کتاب اور دانائی سکھائے، ان کے دلوں کو پاک صاف کرے، بیشک تو غالب اور حکمت والا ہے‘۔ سورہ البقرہ

اس عظیم موقع پر جناب ابراہیم علیہ السلام، الوالانبیاء کو خواب میں یہ حکم ملا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں ذبح کر کے، اللہ کی درگاہ میں قربانی پیش کریں۔ قرآن نے یہ قصہ یوں بیان کیا ہے۔

‘لڑکا حضرت اسماعیل، جب اس عمر کو پہنچا کہ باپ کے ساتھ دوڑ سکے تو باپ نے کہا، فرزند من! میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، دیکھو اس میں تمھارا کیا خیال ہے، بیٹے نے کہا کہ اے میرے باپ جو حکم ملا ہے اسے کر گزریئے، آپ مجھے انشاءاللہ صابر پائیں گے‘۔ سورہ الصافات

اللہ نے اپنے نبی کی آزمائش کر لی، ان کی قربانی کے عزم کو پسند فرمایا، لیکن چونکہ حضرت اسماعیل کی نسل کو جاری رکھنا اور اس نسل میں خاتم النبین جناب مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور دینِ ابراہیم کی تکمیل منشائے ایزدی میں صبح ازل سے طے پا چکی تھی اس لئے جب جناب ابراہیم علیہ السلام، جناب اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر چھری پھیرنے لگے تھے اور آپ نے احتیاطاََ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی تھی تو اللہ نے اس چھری کے آگے حضرت اسماعیل کی جگہ جنت کا ایک دنبہ لٹا دیا، وہ ذبح ہو گیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بچا لیا گیا۔ ہر مسلمان جانتا ہے کہ اس تمام واقعہ کے دوران ابلیس نے اس قربانی کو روکنا چاہا، اللہ نے اپنے کلام میں ابن آدم کو اور خصوصاََ ملت ابراہیمی اور پیروان مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قربانی کا فلسفہ مزید تشریح کے ساتھ بیان کیا ہے فرمایا ‘ہم نے اس قربانی کو آنے والی نسلوں میں ایک بڑی قربانی کے عوض ملتوی کر دیا‘۔ قرآن کی زبان یہ ہے ‘فدینہ بذبح عظیم‘ لوگوں نے یہی سمجھا اور قرآن کے سطحی علماء نے اس کا یہی مطلب کیا کہ چونکہ عیدالضحٰی پر رسالت مآب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر سنت نبوی کی صورت میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اس قربانی کے بدلے جانور ذبح کئے جاتے ہیں۔ قرآن نے اس مسنون ذبح الحیوان کو ہی ذبح عظیم کہا، لیکن سلسلہ یوں نہیں، قرآن کے عالم اور فکر فی القرآن کے ماہر، قرب مصطفٰی کے مسلم فیضیاب ڈاکٹر محمد اقبال کے یہ شعر سنیئے
١۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور سپہ سالار کربلا امام عالی مقام حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا۔

الہہ الہہ بائے بسم اللہ پدر
معنی ذبح عظیم آمد پسر

سبحان اللہ، باپ کو قرآن کے تمام معنی بسم اللہ کی ‘ب‘ میں سمٹے نظر آئے۔ (قول علی)
٢۔ حضرت اسماعیل کی ملتوی شدہ قربانی، میدان کربلا میں شہادت حسین پر پوری ہوئی۔ اقبال کا شعر

غریب و سادہ و رنگین ہے داستاں حرم
نہایت اس کی حسین، ابتدا ہے اسماعیل

یہ ہے معرکہ کربلا کا ابدی، ازلی اور روحانی پس منظر، یہ ایک جنگ ہے حرم اور ابلیس کے درمیان یہ معرکہ ٢٢٦٠ ق م میں شروع ہوا۔ اس کی ابدیت کے خطوط رقم کرنے کے لئے، نینوا کے صحرا میں حسین ابن علی نے حرم اور ابلیس، ابراہیم اور نمرود کی پہلی جھڑپ کے قریباََ سات سو سال ٦٨٠ بعد مسیح آخری اور محکم صف آرائی کی۔ بظاہر نینوا کا معرکہ اولاد ابراہیم نے نینوا کے مقام پر جیتا اور نمرود وقت کو شکست دی، عظیم جنگوں میں کئی معرکے ہوتے ہیں، معرکہ نینوا میں نمرود یزید ہارا لیکن جنگ کربلا ابھی جاری ہے فلسطین میں، کشمیر میں، عراق میں، افغانستان میں اور اصلاََ تمام آمریت تلے سسکتی، اسلامی سرزمینوں میں۔ اقبال نے دور حاضر میں جاری اس ابدی جنگ کے روز و شب برپا معرکے کے متعلق ہمیں خبر دیتے ہوئے یہ کہا۔

آگ ہے، اولاد ابراہیم ہے، نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے
Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

کربلا کا پیغام

Posted on 20/01/2008. Filed under: اسلام | ٹيگز:, , , , , , |

آج یوم عاشور ہے، آج کے دن کربلا میں کرب و بلا کی ایک انمٹ داستان رقم ہوئی تھی۔ میرا عقیدہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ایک بار جنم لینا تھا لیکن یزید بار بار جنم لیتا رہے گا، کیونکہ اس کے نصیب میں بار بار رسوائی لکھی ہوئی ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے جان نثاروں کی قربانی انسان کے عظمت کردار کی ایک ناقابل فراموش گواہی بن کر ابد تک مینارہ نور رہے گی۔ جبکہ یزید کے حصے میں جو رسوائی آئی اس کے نقوش بھی رہتی دنیا تک تاریخ انسانی کے سینے پر ثبت رہیں گے اور ہر دور کا یزید بالآخر دائمی ہزیمت سے دوچار ہو گا۔
امام عالی مقام اور خانوادہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم قربانی آج بھی مصحلت کوش دنیاداروں کو حیران کرتی ہے انہیں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ یزید کی ایک معمولی سی خواہش پوری کر دینے سے جب پورے قافلے کی جانیں بچ سکتی تھیں، تو حضرت امام حسین نے ایسا کیوں کیا؟ ہم جس دنیا میں جی رہے ہیں اس میں اصول پرستی اور سچائی کی اہمیت نہیں رہی، بلکہ اس کی جگہ ڈپلومیسی نے لے لی ہے۔ ڈپلومیسی درحقیقت منافقت کا دوسرا نام ہے۔ حضرت امام حسین نے تو جان تک بچانے کے لئے یزید کی بیعت نہیں کی تھی، موجودہ عہد میں تو اقتدار بچانے کے لئے یزید وقت کی بیعت سے انکار نہیں کیا جاتا۔ اگر تاریخ انسانی کے دامن میں کربلا والوں کی قربانی نہ ہوتی تو آج انسانیت یکطرفہ طور پر ایک گھٹیا نظریہ حیات کی مالک ہوتی، مگر اس عظیم قربانی کے باعث انسانیت اور حیوانیت کے درمیان ایک ناقابل تنسیخ لائن کھینچ دی گئی ہے۔ جس کے ذریعے قیامت تک حق و باطل میں تمیز کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔
حضرت امام حسین اور خانوادہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ قربانی نہ کسی وقتی فیصلے کا نتیجہ تھی اور نہ تاریخ کے پاس اس سے پہلے اور نہ واقعہ کربلا کے بعد کوئی ایسی قربانی ہے جس کے ذریعے اس عظیم نظریے کو زندہ رکھنے کے لئے رہنمائی ملتی ہو جسے حق کے لئے کٹ مرنے کا نام دیا جاتا ہے۔ فوری اور وقتی فیصلے بھی صرف جان بچانے کے لئے کئے جاتے ہیں جان دینے کے لئے نہیں۔ جان دینے کے لئے تو مصمم ارادے اور دائمی جذبے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس قربانی میں تو فنا فی الذات ہونے کا عمل پیش نظر تھا۔ جب کوئی ہستی اپنی ذات سے بالاتر ہو کر اللہ تعالٰی کی خوشنودی اور اپنے نظریے کی حفاظت کے لئے جان نثاری کا راستہ اختیار کرتی ہے تو اس کا عمل سوائے کربلا والوں کے اور کسی کے مماثل نظر نہیں آتا۔
یزید حضرت امام حسین اور اس کے جان نثاروں کو شہید کر کے کتنے برس جی لیا یا حضرت امام حسین وقتی مصحلت کی خاطر یزید کے ہاتھ پر بیعت کر کے مزید کتنے برس جی لیتے، چاہے کتنے ہی برس جی لیتے لیکن آج ہمارے دلوں میں محبت و عقیدت کا سرچشمہ بن کر موجود نہ ہوتے، دوسری طرف یہ بھی نہ ہوتا کہ یزید ہمارے دلوں میں نفرت کا استعارہ بن کر اسی طرح معتوب کردار ہوتا، جیسا کہ اب ہے۔ اس سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں اول یہ کہ حضرت امام حسین نگاہ بصیرت سے مالامال تھے اور دوسرا یہ کہ یزید کوتاہ نظر تھا۔ حضرت امام حسین کو اپنے قافلے والوں کے کٹے ہوئے سروں کی فکر نہیں تھی بلکہ فکر یہ تھی کہ جس دین کی حفاظت کا بار ان کے کاندھوں پر آن پڑا ہے اس کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے، وہ اپنے فیصلے کو کربلا کی زمین تک محدود نہیں رکھ رہے تھے بلکہ ان کی نظر آنے والے زمانوں پر تھی۔ وعدہ معاف گواہوں، لوٹوں، وفاداریاں تبدیل کرنے والوں اور امریکہ کی گیڈر بھبھکیوں سے ڈر کر بزدلانہ فیصلوں کے جس دور میں ہم زندہ ہیں اس میں حضرت امام حسین کے اس فیصلے کی آسانی سے سمجھ نہیں آتی۔ اس میں دنیاداروں کے اندر رہ رہ کر یہ سوال سر ابھارتا ہے کہ کربلا میں یزید کی اطاعت قبول کر کے حضرت امام حسین نے اپنی جان کیوں نہ بچائی اور یزید سے بدلہ لینے کے لئے کسی مناسب وقت کا انتظار کیوں نہ کیا؟ اگر خدانخواستہ حضرت امام حسین ایسا کر گزرتے تو آج انسانی تاریخ کے دامن میں کچھ بھی نہ ہوتا۔ حضرت امام حسین نے قربانی دیکر نہ صرف اپنے عظیم المرتبت نانا کے دین کی لاج رکھی بلکہ انسانیت کو بھی ندامت اور شرمندگی سے بچا لیا۔
آج اگر کمزروں کی طرف سے وقت کے یزیدوں کے خلاف مزاحمت جاری ہے تو اس کا درس بھی واقعہ کربلا نے دیا ہے یہ قربانی نہ ہوتی تو دنیا میں یزید غالب آ چکا ہوتا۔ ہر دور میں اس کی بیعت کرنے والے دست بستہ اس کے سامنے جھک جاتے۔ یہ حضرت امام حسین کی عظیم قربانی کی ہی اعجاز ہے کہ یزید چودہ سو سال پہلے بھی شرمندہ تھا اور آج کا یزید بھی بظاہر فتح یاب ہونے کے باوجود شرمندگی سے دوچار ہے۔ واقعہ کربلا کا یہ پیگام بھی دائمی ہے کہ ہر دور کا یزید طاقت کے لحاظ سے برتر ہو گا۔ مگر اس کی اخلاقی اور اصولی طاقت حسینیت کے پیروکاروں کی نسبت انتہائی کمتر ہو گی۔ وہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر ممکن ہے فتوحات حاصل کر لے مگر وہ اپنے مخالفین کو سر جھکانے پر مجبور نہیں کر سکے گا۔ آج ملت اسلامیہ کے مقابلے میں وقت کا یزید کون ہے؟ ظاہر ہے یہ کردار تقدیر نے امریکہ کو سونپ دیا ہے لیکن قابل غور نکتہ یہ ہے کہ وہ زمینوں اور ملکوں کو فتح کرنے کے باوجود مسلمانوں کو اپنی بیعت پر مجبور نہیں کر سکا۔ سر کٹانے والے اس کے سامنے کسی بھی حالت میں سر جھکانے کو تیار نہیں۔ آج نہیں تو کل یزید وقت نے بھی اسی ذلت و خجالت سے دوچار ہونا ہے جو اصل یزید سے لیکر اس کے پیروکار یزید وقت کا مقدر رہنی ہے۔ یہی واقعہ کربلا کا پیغام ہے جو کل بھی سچ تھا، آج بھی سچ ہے اور آنے والے کل میں بھی اسی طرح سچ ہو گا۔

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

شاہ است حسین، بادشاہ است حسین

Posted on 28/01/2007. Filed under: اسلام | ٹيگز:, , , , |

شاہ است حسین ، بادشاہ است حسین
دین است حسین دین پناہ است حسین
سرداد نہ داد دست در دست یزید
حقّا کہ بنائے لاالہ است حسین

خواجہ معین الدین چستی

 

—-

انسان کوبیدا ر تو ھو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین

جوش ملیح آبادی

 

 

—-

اے کربلا کی خاک اس احسان کو نہ بھول
تڑپی ہے تجھ پہ لاش جگر گوشۂ بتول

مولانا ظفر علی خاں

 

 

—-

قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

ذبح عظیم

 

 

—-

لو آگیا محرم فضا پر سوز زرہ زرہ سوگوار
حسینیت پہ ہوا جو ظلم و ستم اس پہ ہر آنکھ ہے اشک بار
شہادت حسین نے دیا ہر تہذیب کو یہ زریں اصول
سر چڑھ جائے تیرا نیزے کی نوک پر باطل کر اطاعت نہ کر قبول

سانحہ کربل سے ہے لرزاں ہر فرد عبرت کوش
سسکیاں لی رہی ہے فضا ہچکیاں نوائے سروش
ساری زمین ہے نوحہ کناں آسماں بھی ہے رو رہا
ہر نظر ہے اشک فشاں ہر نظارا خموش

اے حسین نواسے نبی سبط علی
ہر تاریخ تری شہادت لکھے گی بحروف جلی
فقط اک تو نے کیا پار عشق کا ساگر
دو عالم میں نہیں تجھ سے بڑا کوئی ولی

حسین تری خوشبو سے مہکے مومن کے دل کی کلی
حسین اھداناالصراط ہے تیری گلی
حسین ترے لہو سے ہوا چراغ اسلام روشن
حسین تری شہادت سے نئی زندگی اسلام کو ملی

حسین تو سردارجواناں خلد بریں
حسین تو سوار شانہ ختم المرسلین
اے شہسوار کربلا اے ذبح عظیم
جام شہادت پی کے بچایا تو نے اللہ کا دین

اے پیکر شجاعت اے ابن علی
رسم حریت ہے تجھ سے چلی
اصول ترا ہے جہاں گیر و جہاں آرا
فاسق کی اطاعت سے ہے شہادت بھلی

بخشی ہے کربلا نے حق کو دوام زندگی
حسینیت ہمیشہ ہے زندہ ہوئی یزیدیت کی شام زندگی
طاقت نہیں ہے حق مگر حق رکھتا ہے طاقت
یزیدیت کو ہر دور میں اٹھانا پرے گی شرمندگی

کم ظرف ہیں وہ جنکے چھلکیں   جام صبر
ہو جائیں رحمت خدا وندی سے مایوس اور بکیں دام کفر
اللہ اللہ دیکھیے مخدرات عصمت کا حوصلہ
شام غریباں میں بھی ہے ذکر حمد و ثناءاستحکام و شکر

دین اسلام اک گلستاں حسیں اس کے باغباں
ذات عالی عجب ہے مالی لہو سے اپنے پالے شجر ایماں
حسین عشق کا سمندر صبر کا اک بحر بیکراں
جو بھی چلے اس ڈگر اسی کے ہیں زماں و مکاں

سانحہ کربلا سے پہلے سادہ تھی تاریخ اسلام
حسین تیرے لہو نے اسے رنگین کر دیا
عظیم انقلاب کے لیے چاہیے اک ذبح عظیم
حسین کے لہو کی سرخی نے اسلام کو سرخرو کر دیا

حسین شہادت کربلا میں اک سدا بہار گلاب
جسکے رنگ و بو کریں ہر دور میں آمریت کا احتساب
حسین ترے لہو کی سرخی سے گلوں میں لالی و شفق صبح و شام
اے شبہہ رسالت ماب اے خون ابو تراب تری پیاس نے کیا سارا عالم سراب

حسین صبر کا پیکر امن کا سفیر
حسین کفر کا منکر حق کا اسیر
حسین محسن انسانیت اسلام کی جگیر
حسین عصر کا دلبر وفا کی تصویر

بندگی حسین کی نہیں کوئی نظیر
کیا سجدہ عشق ادا سایہ تیغ و تیر
دیا حسین نے سبق یہ اہل ایماں کو
سر مقتل بھی نہ بیچو اپنا ضمیر

حسین تو رویائے ابراہیم کی تعبیر
حسین تجھ سے بڑھی اسلام کی توقیر
جو ترا سر اقدس چڑھا نیزے کی نوک پر
مانند خورشید کی اس نے ظلمت کی اخیر

حسین تیری رگوں میں ہے خون خیبر شکن
تو محبوب خدا کا محبوب اے شاہ زمن
اے سردار جوانان ارم جوانمردی ہے تجھ پہ ختم
اے امام عالی اے جگر گوشہ بتول تو حق کا نمائندہ تو سفیر کہن

اے غم شبیر تو نے شہادت کا قرینہ سکھادیا
اے عباس دلگیر تو نے وفا پر مر مر کے جینا سکھادیا
اے اصغر تیری آخری ہچکی ہے آمریت کا طمانچہ
اے زینب ہمشیر تری سخاوت تو نے سارا خزینہ لٹا دیا

اے شہدائے کربلا تمھیں کیسے سلام عقیدت پیش کروں
زبان و الفاظ میں نہیں طاقت تمہاری عظمت پیش کروں
آل رسول جگر گوشہ بتول کی مظلومیت پہ ہے نظر اشک فشاں
اے ذبح عظیم تری ڈگر بہادو ں اپنا لہو، ہو اجازت جاں پیش کروں

حسین سے چمکا اسلام کے مقدر کا ستارہ
ڈگمگاتے اسلام کو حسینیت کا سہارا
حسین نے بخشا ہے اسلام کو وقار
حسین اک اصول جہانگیر و جہاں آرا

حسین پیارا دین کا سہارا
راز عشق ہوا حسین سے آشکارا
یزیدیت پہ لعنت ہر اک نے پکارا
زندہ ہے زندہ رہے گا حسین ہمارا

حسین ذبح عظیم ہے شہادت تری
اے ابن علی حیدری شجاعت ہے تری
تری غلامی سے ملے دوجہاں کی شاہی
گدا کو شہنشاہ بنانا ہے سخاوت تری

غم شبیر ی سے ہوا کربلا کا جگر چاک
طور سینہ سے پاک ہے کربلا کی خاک
کہ اس خاک میں شامل ہے خون پنجتن
اسی لہو سے ہے بنیاد سلطنت پاک

حسین تری عظمت کو سلام
حسین تری ہمت کو سلام
حسین ترے صبر کو سلام
حسین تری استقامت کو سلام

حسین تری شہامت کو سلام
حسین تری استدامت کو سلام
حسین ترے فقر کو سلام
حسین تری امامت کو سلام

حسین تیری وفا کو سلام
حسین تری قضا کو سلام
حسین ترے سجدے کو سلام
حسین تیری ادا کو سلام

حسین تری صفا کو سلام
حسین تیری علا کو سلام
حسین ترے رتبے کو سلام
حسین تری کف پا کو سلام

حسین تیری قناعت کو سلام
حسین تری عبادت کو سلام
حسین ترے عشق کو سلام
حسین تری شہادت کو سلام

زاہداکرام

Read Full Post | Make a Comment ( None so far )

آئیے ماتم کریں

Posted on 20/01/2007. Filed under: اسلام, سیاست | ٹيگز:, , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , |

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ظلم اپنے عروج پر ہوتا ہے تو مظلوم کی آہ سوزاں ہمیشہ اس کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ ظلم مٹنے والی چیز ہے کیونکہ
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
جبکہ مظلومیت مٹ کر اپنی بقا کو پہنچتی ہے۔ ابتدا کائینات سے ہی ظالم اور مظلوم کی جنگ جاری ہے۔ قابیل سے لیکر آج کے قاتلین تک کا ایک ہی کردار رہا ہے اور ہابیل سے لیکر آج تک کی مظلومیت ایک ہی صف میں کھڑی نظر آتی ہے۔
دنیا میں جتنے بھی جابر و ظالم گزرے ہیں ان کے ظلم کے خلاف ماتم کیا گیا۔ ماتم مظلوم کی حمایت اور ظالم سے نفرت کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے تاکہ ظالم کا چہرہ دنیا کے سامنے آ سکے۔ اس لئے ۔۔
آئیے ماتم کریں! ہر ظالم کے خلاف چاہے وہ کسی بھی روپ میں چھپا ہو اور
آئیے نفرت کا اظہار کریں! اہل کوفہ والوں سے جہنوں نے امام حسین کو خط تو لکھے مگر وفا نہ کی۔
آئیے نفرت کا اظہار کریں! ابن زیاد سے جس نے امام حسین کے بارے میں کہا ‘اگر وہ اپنے آپ کو ہمارے حوالے نہیں کرتے تو پھر بلا تامل حملہ کرو، خون بہاؤ، لاشیں بگاڑو۔
آئیے نفرت کا اظہار کریں! یزیدی فوج سے اور
آئیے لعنت بھیجیں! کربلا کے بہتر شہیدوں کے قاتلین پر
آئیے لعنت بھیجیں! حرملہ پر
آئیے لعنت بھیجیں! شمرذوالجوشن پر
آئیے لعنت بھیجیں! علی اصغر کے حلق میں تیر مارنے والے پر
آئیے لعنت بھیجیں! سنان بن انس پر جس نے امام حسین کا سر تن سے جدا کیا
آئیے لعنت بھیجیں! امام حسین کے جسم مبارک کو روندھنے والوں پر
آئیے لعنت بھیجیں! امام حسین کے لبوں پر چھڑی مارنے والوں پر
آئیے لعنت بھیجیں! ہر یزیدی عمل پر اور یزید کے ہر پیروکار پر
آئیے ماتم کریں ظالموں کے خلاف اور خراج تحسین پیش کریں کربلا کے شہدا کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! غفاری و جابری لڑکوں کی بہادری اور فداکاری کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! علی اکبر بن حسین کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! قاسم بن حسین کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! اہل بیت اور بنی ہاشم کے مقتولوں کو
آئیے خراج تحسین پیش کریں! اس لڑکے کو جس نے کربلا کے میدان میں حضرت امام حسین کو دشمنوں کے سامنے اکیلا دیکھ کر مدد کو دوڑ پڑا اور حضرت کے پہلو میں جا پہنچا عین اسی وقت بحر بن کعب نے آپ پر تلوار اٹھائی لڑکا فورا چلایا ‘او خبیث! میرے چچا کو قتل کرے گا‘ سنگدل حملہ آور نے اپنی تلوار لڑکے پر چھوڑ دی معصوم جان نے اپنی جان سے بے پرواہ ہو کر تلوار کے وار کو اپنے ہاتھ پر روکا، ہاتھ کٹ گیا ذرا سی کھال لگی رہ گئی۔
آئیے خراج تحسین پیش کریں! علی کے سورما بیٹے حسین کو
وہ حسین! جس کے لبوں کی خشکی دیکھ کر فرات کی موجیں آب آب ہو کر رہ گئیں۔
وہ حسین! جس نے اپنے نانا کی امت کے چراغ کو بچانے کے لئے اپنے گھر کے تمام چراغوں کو بجھا دیا۔
وہ حسین! جو موت کے سامنے اس حقارت سے مسکرایا کہ خود موت کی نبضیں رک گئیں۔
میدان کربلا میں کوئی اقتدار کی جنگ نہ تھی بلکہ حق و باطل کا معرکہ تھا جسے حسین نے سر کر لیا۔ وہاں حسین کمزور تھا اور یزید طاقتور، قانونِ فطرت کے مطابق یزید حسین کو مٹا دیتا لیکن حسین نے اپنی مظلومیت کی ایک ہی ضرب سے قاتلین کو مٹا دیا۔ حسین ہار کر امر گیا، یزید جیت کر فنا ہو گیا۔ حسین آج بھی کروڑوں دلوں میں راج کر رہا ہے، ان دلوں میں یزید کے لئے نفرت ہی نفرت ہے اور حسین کے لئے پیار ہی پیار۔
کربلا کی داستان کو زندہ رکھنے کا اصل مقصد یہی ہے کہ جب بھی ظالم سر اٹھائے، سر کچل دیا جائے۔ واقعہ کربلا سے یہی سبق ملتا ہے کہ ظالم کی اطاعت کسی صورت میں جائز نہیں بلکہ اس کے خلاف آواز بلند کی جائے اور اسکے گھناؤنے چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے۔ اس لئے
آئیے عالمی قاتلین سے نفرت کا اظہار کریں! جہنوں نے کشمیر و فلسطین، عراق اور افغانستان میں قتل و غارت گری اور خون خرابے کا بازار گرم کر کھا ہے۔
آئیے خود کو سپر منوانے والوں سے نفرت کریں! جن کے دل و دماغ مسلمانوں کو تباہ برباد کرنے میں لگے رہتے ہیں۔
آئیے ماتم کریں! ان لوگوں کا جو بے وقت کی موت مارے گئے۔
آئیے ماتم کریں! کشمیر و فلسطین، عراق اور افغانستان میں خون میں لت پت تڑپتی لاشوں کا اور آنسو بہائیں ان بیگناہوں کا جو بے خبری کی موت مارے گئے۔
آئیے ماتم کریں! لیکن کس کس کا ماتم یہاں تو ہر گھر سے بینوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔ یتیم بچے آسمان کی طرف منہ اٹھائے دھاڑیں مار کر پوچھ رہے ہیں کہ آخر ہمارا قصور کیا ہے؟ کس جرم کی سزا ہے کہ ظالموں نے پل بھر میں ہنستے کھیلتے گھر کو ماتم کدے میں تبدیل کر دیا۔
اے خون کو پانی کی طرح بہانے والو!
اے ڈالروں کے پجاریو!
اے غیرملکی اشارے پر ناچنے والو!
اے فرعون کے جادوگرو!
اے نمرود کے خزانو!
اے ابوجہل کے ساتھو!
اے شداد کے جنتیو!
اے ابو طاہر قرامطی کے شیدائیو!
اے حسن بن صباح کے فدائیو!
اے یزیدی لشکر کے سردارو!
اے چنگیز خان کے چمچو!
اے ہٹلر کے جانشینو!
اے اسرائیل کے گندے دماغو!
اے بھارت کی سہنو!
اے امریکہ کی فوجو!
اے خفیہ جگہوں سے ہٹ کرنے والو!
ڈرو اس وقت سے جب تمھارے ہاتھوں میں مارے جانے والے بیگناہوں کے یتیم بچوں کی چیخیں آسمان سے ٹکرائیں گی۔ یتیم بچوں کے ننھے منے ہاتھ اوپر اٹھیں گے۔ جب ان کی توتلی زبان سے تمھارے لئے بدعا نکلے گی اور تمھیں خوب معلوم ہے کہ خدا کسی مظلوم اور یتیم کی آواز جلد سنتا ہے اور پھر تمھیں زمین و آسمان میں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ خدا کا قہر آخرکار تمھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ دنیا میں بھی تم ذلیل و خوار ہو گے اور آخرت میں یہ یتیم بچے تمھیں گریبان سے پکڑے گھسیٹتے ہوئے خدا کے حضور پیش کریں گے اور چیخ چیخ کر کہیں گے کہ یہی ہمارے قاتل ہیں، یہی ہمارے مجرم ہیں تو اس وقت تمھاری کوئی پش و پیش اور کوئی بہانہ تمہیں نہ بچا سکے گا۔

Read Full Post | Make a Comment ( 1 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...