ماں پہچان ہے میری، میں نام اس کا ہوں

Posted on 10/05/2009. Filed under: رسم و رواج | ٹيگز:, , , , |

میرے خوابوں کی جنت
میری ماں ہے
سراپا عظم و ہمت
میری ماں ہے
مجھے ہر دم دعاؤں میں یاد رکھا
سکون قلب و راحت
میری ماں ہے
مجھے بخشا سرورِ علم و عرفاں
عطائے دستِ قدرت
میری ماں ہے
وہی ہے درسگاہِ علم و حکمت
چراغِ راہِ الفت
میری ماں ہے

زندگی ملی جس کی بدولت آج مجھ کو
ماں پہچان ہے میری، میں نام اس کا ہوں

ابا جی مجھے مارتے تھے، تو امی بچا لیتی تھیں۔ ایک دن سوچا کہ اگر امی جی پٹائی کریں گی تو ابا جی کیا کریں گے ۔۔۔۔ اور یہ دیکھنے کے لئے کہ کیا ہوتا ہے، میں نے امی کا کہا نہ مانا، انہوں نے کہا بازار سے دہی لا دو میں نہ لایا، انہوں نے سالن کم دیا، میں نے زیادہ پر اصرار کیا۔ انہوں نے کہا پیڑھی پر بیٹھ کر روٹی کھاؤ، میں نے زمین پر دری بچھائی اور اس پہ بیٹھ گیا۔ کپڑے بھی میلے کر لئے، لہجہ بھی گستاخانہ تھا مجھے پوری توقع تھی کہ امی ضرور ماریں گی، مگر انہوں نے یہ کیا کہ مجھے سینے سے لگا کر کہا “کیوں دلاور پتر! ۔۔۔۔۔ میں صدقے، بیمار تو نہیں ہے تُو ۔۔۔۔؟“ اس وقت میرے آنسو تھے کہ رکتے ہی نہیں تھے۔ اب اس کے بعد اور لکھوں تو کیا لکھوں، کہ ماں ایک دعا ہے جو سدا سر پہ سایہ فگن رہتی ہے۔
مرزا ادیب ۔ مٹی کا دیا

میں نے ہوش سنبھالا تو ایک ہی فرد کو گھر میں پایا۔ وہ میرے اور میں اس کے دل و نگاہ کا مرکز بن گیا۔ مجھ پر جوانی اور اُس پر بڑھاپا آتا گیا، لیکن ہم گردش لیل و نہار سے بے نیاز ایک دوسرے کے سہارے زندگی کی شاہراہ پر گامزن رہے۔ ہماری تیس سالہ رفاقت میں مفارقت کی دیوار پہلے بار اس وقت حائل ہوئی جب میں اپنے فرائض منصبی کے سلسلے میں مشرقی پاکستان روانہ ہوا۔ جدائی کے چار برسوں میں، خواہ وہ مشرقی پاکستان کے پُرآشوب ماحول میں گزرے ہوں یا بھارت کے تنگ و تاریک بندی خانوں میں، اُس پیکرِ شفقت کا سایہ ہمیشہ میرے ساتھ رہا، چنانچہ جب کبھی میں یاس و حرماں کی ویرانیوں میں بھٹکنے لگا تو ایک مانوس آواز نے مجھے راہ سجھائی اور جب میں قید و بند کی تاریکیوں کو ہمہ گیر سمجھنے لگا تو ایک ٹھنڈی کرن نے مجھے روشنی مہیا کی۔ قید و بند سے رہا ہو کر واہگہ (لاہور) پہنچا تو استقبال کرنے والوں میں بہت سے لوگ تھے لیکن وہاں وہ آواز تھی نہ وہ کرن، جس کی مجھے تلاش تھی، میں بھاگا بھاگا اس گاؤں پہنچا، جہاں برسوں پہلے ہماری رفاقت کا آغاز ہوا تھا، لیکن وہاں بھی سنسان خاموشی اور مہیب اداسی کے سوا کچھ نہ تھا، البتہ قریبی قبرستان میں ایک تازہ قبر کی مٹی سے سوندھی سوندھی خوشبو پھوٹ رہی تھی۔ یہ مامتا تھی، جو آج بھی میرا استقبال کرنے کو بے قرار تھی۔
صدیق سالک ۔ ہمہ یارانِ دوزخ

Read Full Post | Make a Comment ( 4 so far )

Liked it here?
Why not try sites on the blogroll...